لبنان میں جاری صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ جنگ بندی ’صرف نام کی‘ رہ گئی ہے، کیونکہ اس پر عملدرآمد میں متعدد خامیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اگرچہ بمباری میں کمی آئی ہے، لیکن فائرنگ اور جھڑپیں مکمل طور پر نہیں رکیں، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں اسے ایرانی ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب لبنان میں جنگ شدت اختیار کر رہی ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی اس پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ پاکستان اور ایران اسے قابلِ عمل سمجھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، بدستور کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اسی دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اگرچہ اس جنگ میں فوجی نقصان اٹھا چکا ہے اور اس کے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کیے گئے ہیں، لیکن وہ انھیں دوبارہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے روس اور چین جیسے ممالک سے مزید مدد بھی مل سکتی ہے۔
چونکہ ایران اس جنگ میں نقصانات کے باوجود بچ نکلا اس لیے مبصرین کے مطابق وہ خطے میں اپنی روایتی حدود سے باہر نکل آیا ہے اور اس کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔
’ایران جغرافیے کو استعمال کرتے ہوئے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے‘
موجودہ صورتحال میں ایران اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ چھ ہفتے قبل تک ایران پابندیوں کے باعث محدود تھا اور آبنائے ہرمز کو نشانہ نہیں بنا رہا تھا، لیکن جنگ کے بعد اس کی پوزیشن تبدیل ہوئی ہے۔
اب ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی فوج کو جہازوں کے کارگو کی جانچ کا اختیار حاصل ہو۔ خلیجی ممالک کے لیے یہ مطالبات قابلِ قبول نہیں، لیکن ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا جغرافیہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر طاقت کے ذریعے کھلا رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس علاقے میں بے شمار چھوٹے راستے، غاریں اور ساحلی مقامات ہیں، جہاں ایران صرف ایک میزائل چھپا کر بھی حملے کے خطرے کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہی خطرہ کافی ہے کہ انشورنس کمپنیاں جہاز رانی کو انتہائی مہنگا یا غیر محفوظ قرار دے دیں۔
اسی لیے ایران کو اپنی بحریہ کی ضرورت نہیں پڑتی، اس کے لیے اس کا ساحل ہی کافی ہے۔