جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، شہریوں کے انخلا کی کوششیں تیز

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملتان کے علاقے جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جہاں شہریوں کے انخلا کے لیے ہیلی کاپٹر سمیت تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نو ستمبر کو گڈو بیراج پر سیلابی پانی اپنے عروج پر ہو گا جس کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خلاصہ

  • پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج، چناب اور رودکوہیوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
  • وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 'ہم آٹھ لاکھ کیوسک کے ریلے کے حساب سے تیاری کررہے ہیں، سیلاب متاثرین کی امداد ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔'
  • اب تک اس سیلاب سے 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی صورتحال کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 56 ہے
  • ادھر یوکرین کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ کے دوران روسی حملوں میں پہلی بار یوکرینی حکومت کی مرکزی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی فوج کا غزہ سٹی کے ’40 فیصد‘ حصے پر قبضے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ انھوں نے غزہ سٹی کے 40 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور اب اس کے بعد اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان اوی ڈیورین نے ایک پریس کانفرنس میں زیتون اور شیخ رادوان کے علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آج غزہ سٹی کا 40 فیصد حصے ہمارے قبضے میں ہے اور اب ہم حماس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے ایک بڑی اور طاقتور کارروائی کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم آنے والے دنوں میں غزہ سٹی اور اس کے اطراف میں جاری آپریشن کو بڑھانے اور اس میں شدت لانے کی تیاری اور منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر جگہ حماس کا تعاقب جاری رکھیں گے اور یہ مشن اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک باقی اسرائیلی قیدیوں کی واپسی اور حماس کی حکمرانی ختم نہیں ہو جاتی۔‘

    حالیہ دنوں میں اسرائیل نے غزہ سٹی کے ارد گرد اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کے ترجمان اوی ڈیورین نے تصدیق کی کہ آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف ایال ضمیر نے حکومتی وزرا کو آگاہ کیا ہے کہ جنگ کے بعد کے عرصے کے لئے کسی منصوبے کے بغیر، غزہ کی پٹی میں فوجی حکمرانی نافذ کرنا پڑے گی۔

    تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت کے انتہائی دائیں بازو کے ارکان غزہ میں فوجی حکمرانی اور وہاں ہاؤسنگ کمپلیکس کے قیام پر زور دے رہے ہیں، جس تجویز کو نیتن یاہو نے اب تک مسترد کر دیا ہے۔

  2. صوبہ پنجاب میں چھ سے نو ستمبر کر بارشوں کا الرٹ جاری

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے مون سون بارشوں کے 10 ویں سپیل سے متعلق ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق چھ سے نو ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔

    ترجمان کے مطابق نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاوالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا، اور میانوالی میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    تاہم سات سے نو ستمبر کے دوران ڈیرہ غازی خان کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کی صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کی گئی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے چناب راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں۔

    تاہم ڈی جی پی ڈی ایم اے کے لیے شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کر یں۔ دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں۔ آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

  3. صوبہ پنجاب میں سیلابی صورتحال کے باعث بلوچستان میں ’آٹے‘ کی قمیت میں اضافہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سیلاب کے بعد بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت اس کے دیگر علاقوں میں آٹے کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں 16سو روپے میں ملنے والے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 21سو سے 22سو روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    کوئٹہ میں آٹے کے کاروبار سے وابستہ تاجر اسرائیل خان نے بتایا کہ آٹے کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ دو سے تین ہفتوں کے دوران ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے تاہم مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی کی کمی کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    اگرچہ محکمہ خوراک کے حکام اس کی ایک بڑی وجہ سیلاب اور پنجاب سے آٹے کی نقل و حمل پر پابندی کو قرار دیا ہے تاہم فلور ملز ایسوسی ایشن کے عہدیدار اس کی بنیادی وجہ پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں کو قرار دے رہے ہیں۔

    ’بلوچستان کا 80 فیصد آٹے کے لیے انحصار پنجاب پر ہے‘

    دو تین ہفتوں میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمتوں میں پانچ سے چھ سو روپے تک اضافے کی ایک بڑی وجہ پنجاب سے آٹے کی بندش کو قرار دیتے ہوئے محکمہ خوراک بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر جابر بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان کا 80 فیصد آٹے کا انحصار پنجاب پر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پنجاب میں سیلاب سے راستے بند ہیں جبکہ پنجاب کی حکومت نے آٹے کی نقل وحمل پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کا گندم کا انحصار نصیر آباد ڈویژن پر بھی ہے لیکن سیلاب کی وجہ سے بولان میں بی بی نانی کا پل متائثر ہونے سے بڑی گاڑیاں وہاں سے نہیں آرہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے آٹے کی سپلائی کی کمی کی صورت میں پہلے محکمہ خوراک مارکیٹ میں قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے گندم کا اجرا کرتا تھا لیکن اس وقت محکمہ خوراک بلوچستان کے پاس گندم کا سٹاک نہیں ہے۔

    جابر بلوچ نے بتایا کہ محکمہ خوراک نے اس صورتحال کے حوالے سے محکمہ داخلہ کو ایک مراسلہ بھیجا ہے۔

    تاہم پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین بدرالدین کاکڑ نے بلوچستان اور خیبر پشتونخوا میں آٹے کی قلت اور اس کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ پنجاب کی موجودہ حکومت کی پالیسوں کو قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی موجودہ حکومت نے سستی شہرت کے لیے روٹی کی قیمت کو کم رکھنے کی پالیسی نے کسانوں کو مایوس کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ جب کسانوں کو ان گندم کی پیداوار کا مناسب معاوضہ نہیں ملا تو انھوں نے اس کی پیداوار میں کمی کی جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں گندم کی پیداوار میں کمی آئی ۔

    ’پہلے اگر کوئی کسان 6سو ایکڑ پر گندم کاشت کرتا تھا اب اس نے اس کو کم کرکے تین سو کردیا کیونکہ کسان کو پیداوار کا مناسب معاوضہ نہ ملنے سے نقصان ہورہا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے کسانوں کو فوڈ سکیورٹی کی خاطر گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے سپورٹ پرائس دیا جاتا تھا لیکن اب آئی ایم ایف کے کہنے پر وہ بھی ختم کردی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کمی کے پیش نظر اب پنجاب کی جانب سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی عائد کی گئی ہے جس کے باعث بلوچستان اور خیبر پشتونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔

  4. پنجاب کے دریاؤں کے ساتھ اب سندھ کے دریاؤں کی سطح میں بھی اضافہ

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سندھ کے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ اعداد و شمار جاری کردیے گئے ہیں۔

    محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی سطح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گذو بیراج میں اس وقت پانی کی آمد تیم لاکھ 59 ہزار کیوسک سے زیادہ جبکہ پانی کا اخراج تین لاکھ 27 ہزار کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    محکمے کے مطابق سکھر بیراج پر پانی کی آمد تین لاکھ 31 ہزار کیوسک سے زیادہ جبکہ پانی کا اخراج دو اکھ 77 ہزار کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سندھ کے تیسرے بڑے کوٹری بیراج پر پانی کی آمد دو لاکھ 33 ہزار کیوسک اور اخراج دو لاکھ نو ہزار کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ اطلاعات سندھ

    محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق تریموں پر آمد و اخراج اس وقت تین لاکھ 22 ہزار کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    تاہم پنجند میں پانی کی آمد دو لاکھ 94 ہزار کیوسک جبکہ اخراج دو لاکھ 80 ہزار کیوسک سے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    محکمہ سندھ اطلاعات کے مطابق سندھ میں سیلابی صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے اور متعلقہ ادارے ہر ممکن اقدامات کے لیے تیار ہیں۔

    سندھ کے دریاؤں اور بیراجوں کی تفصیل:

    گڈو بیراج پاکستان کے صوبہ سندھ میں کشمور کے قریب دریائے سندھ پر واقع ایک بیراج ہے۔

    سکھر بیراج پاکستان کے صوبہ سندھ میں سکھر شہر کے قریب دریائے سندھ پر واقع ایک بیراج ہے۔

    کوٹری بیراج پاکستان کے صوبہ سندھ میں حیدرآباد کے قریب دریائے سندھ پر واقع ایک بیراج ہے۔

    پنجند پنجاب اور سندھ کی سرحد پر واقع ہے اور اس مقام پر پنجاب سے گزرنے والے پانچ دریا یعنی دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے راوی، بیاس اور دریائے ستلج ملتے ہیں۔ جس کے بعد یہ تمام دریا پھر کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔

  5. افغانستان کے صوبہ کنڑ میں 5.2 شدت کا زلزلہ، جھٹکے پاکستان تک محسوس کیے گئے

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرقی افغانستان میں جمعے کی صبح آنے والے ایک اور زلزلے نے لوگوں میں پہلے سے پائے جانے والے خوف میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    زلزلہ مقامی وقت کے مطابق جمعہ پانچ ستمبر کی صبح چھ بجے کے قریب آیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق افغانستان کے صوبے کنڑ کے علاقے اسد آباد سے 39 کلومیٹر جنوب مغرب میں 5.2 شدت کا زلزلہ آیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 9.1 کلومیٹر تھی۔

    ننگرہار سے موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق جلال آباد اور آس پاس کے علاقے ایک بار پھر آج آنے والے زلزلے سے لرز اٹھے۔ کابل اور خوست سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے۔

    تاہم ابھی تک اس تازہ ترین زلزلے سے کوئی مالی یا ذاتی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

    افغانستان میں آنے والے اس حالیہ زلزلے کے جھٹکے ہمسایہ مُلک پاکستان کے متعدد علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

    یاد رہے کہ اتوار کی شب مشرقی افغانستان میں چھ شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کی وجہ سے سب سے زیادہ افغانستان کے صوبے کنڑ اور ننگرہار متاثر ہوئے تاہم زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت کابل اور پڑوسی ملک پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک محسوس کیے گئے تھے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 2205 اور زخمیوں کی تعداد 3640 تک پہنچ گئی ہے۔

  6. خیبرپختونخوا میں سات سے نو ستمبر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی، پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار

    PDMA Punjab

    ،تصویر کا ذریعہPDMA Punjab

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تین بڑے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق دریائے جناب میں چنیوٹ، راوی میں بلوکی اور سدھنائی میں اونچے درجے جبکہ ستلج میں گنڈاسنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    محکمے کے مطابق دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر پانی کی سطح پانچ لاکھ 54 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے اور اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔

    جبکہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 43 ہزار کیوسک سے زیادہ اور سدھنائی کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 26 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے اور راوی میں ان دونوں مقامات پر اس وقت اونچے درجے کا سیلاب کا سامنا ہے۔

    تاہم صوبہ پنجاب کے تیسرے بڑے دریا سیلج میں گزشتہ روز انڈیا کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کے بعد گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے جہاں پانی کی سطح تین لاکھ 19 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔

    مُلکی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز پنجاب کے دریائے ستلج میں سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ غیر معمولی طور پر بلند رہے گا۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب پاکستان کے سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا میں رواں ماہ 7 سے 9 ستمبر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اس حوالے سے ہائی الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔

    پی ڈی ای ایم اے خیبرپختونخوا نے محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کی روشنی میں 7 ستمبر سے 9 ستمبر تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے مزید بارشوں، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    الرٹ کے مطابق اس دوران تیز بارشوں کے باعث بالائی و وسطی اضلاع گلیات، مانسہرہ، کوہستان (بالائی و زیریں)، کولائی پالس، ایبٹ آباد، بونیر، باجوڑ، بٹگرام، ہنگو، تورغر، ہری پور، کرک، چترال (بالائی و زیریں)، دیر (بالائی و زیریں)، سوات، شانگلہ، خیبر، کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، مردان، کرم، لکی مروت، ملاکنڈ، مہمند، اورکزئی، بنوں، وزیرستان (شمالی و جنوبی) اور ٹانک میں مقامی نالوں، برساتی چشموں اور دریاؤں میں فلیش فلڈ کا خدشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں، برساتی چشموں اور دریاؤں میں فلیش فلڈ کا خدشہ ہے۔ جبکہ صوبہ کے شہری اور نیشبی علاقوں میں تیز بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے ایک مراسلے کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے باعث کمزور مکانات، بجلی کے کھمبے، اشتہاری بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ کو ضروری احتیاطی اقدامات، نکاسی آب کے نظام کی صفائی، اور مقامی آبادی، سیاحوں اور مسافروں کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے کاشتکاروں، مال مویشی پال حضرات اور سیاحوں کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فصلوں اور جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور سیاح خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔

    مزید براں، متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایمرجنسی سروسز، طبی امداد، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

  7. غزہ میں جنگ بندی کے بدلے اسرائیل نے حماس کی یرغمالیوں کی رہائی کی نئی پیشکش مسترد کر دی

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے غزہ جنگ کے خاتمے اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جامع معاہدے کی حماس کی نئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اس تجویز کو الفاظ کے ہیر پھیر سے تعبیر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    حماس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گروپ سے ’فوری طور پر 20 یرغمالیوں کو رہا کرنے‘ کا مطالبہ کیا گیا کہ اس کے بدل فوراً فلسطینی قیدیوں کو رہائی مل سکے گی۔

    حماس کے مطابق کل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پراس یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    ادھر اسرائیل نے غزہ شہر پر اپنے فوجی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

    غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 46 افراد ہلاک ہوئے۔

    غزہ شہر کے رہائشیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہاں جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔

    حالیہ دنوں میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ہزاروں اسرائیلی فوج کے ریزرو فورس کو بلا لیا ہے کیونکہ ملک نے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی زمینی کارروائی کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا ہے۔

    اسرائیلی زمینی افواج غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے شہر کے مضافات میں داخل ہو گئی ہیں۔ غزہ شہر شدید فضائی اور توپ خانے کے حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مکینوں سے فوری طور پر نکل کر جنوب کی طرف جانے کی اپیل کی ہے۔

    اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 20,000 افراد شہر چھوڑ چکے ہیں لیکن تقریباً دس لاکھ افراد اب بھی وہاں موجود ہیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر پر مکمل حملے شروع کرنے کے نتائج شہر کے مکینوں اور پوری غزہ پٹی کے لیے ’تصور سے کہیں زیادہ تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔

    گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’آپریشن گیڈونز چیریٹس 2‘ کے دوران تقریباً 60,000 ریزرو فوجی بلائے گی، زمینی کارروائی کا ایک نیا مرحلہ جو مئی میں شروع ہوا تھا اور اب تک غزہ کی پٹی کے کم از کم 75 فیصد پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔

    20,000 ریزر فورس جو پہلے متحرک تھی ان کی سروس کی مدت بھی بڑھا دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ حماس نے 48 اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمال بنائے ہوئے ہیں جن میں سے 20 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مغربی کنارے کے الحاق کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے: متحدہ عرب امارات کی تنبیہ

    متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی صورت میں سنگین نتائج سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا الحاق ایک ’ریڈ لائن‘ پار کرے گا اور ابراہیمی معاہدے کو نقصان پہنچائے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے۔

    ایک سینیئر اماراتی اہلکار لانا نسیبہ نے کہا کہ ایسا اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے ’موت کا پروانہ‘ ثابت ہو گا۔

    فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے موقف کا خیر مقدم کرتی ہے۔

    اسرائیلی حکومت نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    سنہ 1967 کی جنگ کے دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے، اسرائیل نے اس علاقے میں تقریباً 160 بستیاں تعمیر کیں، اور وہاں 700,000 یہودیوں کو آباد کیا۔

    ایک اندازے کے مطابق تقریباً 3.3 ملین فلسطینی بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں رہتے ہیں۔ مغربی کنارہ، غزہ کے ساتھ، فلسطینی علاقے ہیں، جو انھیں مستقبل کی ریاست کی امید دلاتے ہیں۔

    مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔

    یاد رہے کہ ابراہمی معاہدہ 2020 میں امریکی ثالثی سے طے پایا تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

    ابراہمی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اہم شرائط کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سابقہ ​​حکومت نے مغربی کنارے کے کچھ حصوں بشمول بستیوں اور وادی اردن کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو روک دیا تھا۔

    نیتن یاہو نے اس وقت کہا تھا کہ انھوں نے منصوبوں کو ’معطل‘ کرنے پر اتفاق کیا ہے، مگر وہ ابھی زیر غور ضرور ہیں۔

  8. یوکرین میں جنگ بندی کے لیے 26 ممالک فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں: فرانسیسی صدر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کا کہنا ہے کہ 26 مغربی اتحادیوں نے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے صورت میں اگلے دن ہی یوکرین میں ’زمینی، سمندری یا فضائی راستے‘ سے فوجیوں کو تعینات کرنے کا باضابطہ طور پر وعدہ کیا ہے۔

    فرانسیسی رہنما نے 35 ممالک کے سربراہ اجلاس کے بعد کہا کہ کئیو کے لیے سکیورٹی گارنٹی اس وقت نافذ العمل ہو جائے گی جب گولیاں چلنا رک جائیں گی۔

    تاہم گزشتہ ماہ الاسکا میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔

    پوتن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان براہ راست بات چیت کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ’ہم ایسا کرنے جا رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے بعد مغربی رہنماؤں سے فون پر بات چیت کی اور میخواں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ان کی سکیورٹی کے لیے بھیجی جانے والی ’فورس‘ کے لیے امریکی حمایت کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

    یوکرین کے معاملے میں امریکہ کی طرف سے براہ راست شامل ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم میخواں نے کہا تھا کہ انھیں یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں کا حصہ بننے کی امریکی آمادگی پر کوئی شک نہیں ہے۔

    ٹرمپ نے حال ہی میں اشارہ دیا تھا کہ امریکی حمایت ’ممکنہ طور پر‘ فضائی مدد کی شکل میں آ سکتی ہے اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ انھوں نے امریکی صدر سے ’یوکرین کی فضائی حدود کے لیے زیادہ سے زیادہ تحفظ‘ کے بارے میں بات کی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ کئیو نے امریکہ کے لیے غور کرنے کے لیے ایک پلان تجویز کیا تھا۔

    فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب کی فون کال کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کو روس کے تیل اور گیس کی درآمد کو روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

    27 رکنی یورپی یونین نے 2027 کے آخر تک گیس اور تیل کی تمام درآمدات ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نشاندہی کی کہ روس نے ایک سال میں یورپی یونین سے ایندھن کی فروخت کے طور پر 1.1 بلین یورو وصول کیے ہیں، حالانکہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

    10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان کے مطابق برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ مغربی اتحادیوں نے اب یوکرین کے ساتھ ’پختہ عہد‘ کیا ہے، جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور انھیں جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ معاہدے کی صورت میں کچھ ممالک نے یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا ببانگ دہل اعلان کر رکھا ہے اور امریکہ پہلے ہی اس طرح کے اقدام سے انکار کر چکا ہے۔

    یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس موقع پر فوجیوں کی تعیناتی سے شاید مغرب کے خلاف پوتن کے بیانیے میں مدد ملے گی۔

    ماسکو نے واضح کیا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی مغربی افواج کو تعینات نہیں کیا جانا چاہیے اور اس نے اصرار کیا ہے کہ اسے ’ضامن‘ کے طور پر کام کرنے والے ممالک میں سے ایک ہونا چاہیے۔ اس خیال کو کئیو اور اس کے اتحادیوں نے مسترد کردیا ہے۔

    فرانس کے صدر نے شکایت کی کہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق تازہ ترین کوششوں کے باوجود روس یوکرین میں اپنی فوجیں بھیجنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

  9. گزشتہ روز کی اہم خبریں

    آج دن کے آغاز پر آئیے گزشتہ روز کی چند اہم مُلکی اور بین الاقوامی خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کا کہنا ہے کہ 26 مغربی اتحادیوں نے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے صورت میں اگلے دن ہی یوکرین میں ’زمینی، سمندری یا فضائی راستے‘ سے فوجیوں کو تعینات کرنے کا باضابطہ طور پر وعدہ کیا ہے۔ فرانسیسی رہنما نے 35 ممالک کے سربراہ اجلاس کے بعد کہا کہ کئیو کے لیے سکیورٹی گارنٹی اس وقت نافذ العمل ہو جائے گی جب گولیاں چلنا رک جائیں گی۔
    • جمعرات کی شب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 111 کلومیٹر اور مرکز کوہ ہندوکش افغانستان ریجن تھا۔
    • پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد الیکشن کمیشن نے صوبے میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے نو حلقوں میں ضمنی انتخابات غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ایسے حالات میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے جب سیلاب کی وجہ سے سڑکیں بہہ گئی ہیں، آبادی متاثر ہوئی ہے اور عملہ ریسکیو کے کاموں میں مصروف ہے اور ان کی دستیابی نہیں ہے۔
    • پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں کیبل کار حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ بدھ کی شام سینٹرل لزبن میں کیبل کار پٹری سے اُتر کر تباہ ہو گئی تھی جس میں پرتگالی، ہسپانوی اور جرمن سیاح سوار تھے۔ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔ لیکن ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ ان میں سات مرد، آٹھ خواتین اور پرتگالی شہری اور غیر ملکی دونوں شامل ہیں۔ لزبن کے میئر نے حادثے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے پرتگال میں ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
    • بلوچستان کی چھ سیاسی جماعتوں نے منگل کی شب بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے میں خود کش دھماکے کے خلاف آٹھ ستمبر کو پہیہ جام ہڑتال اور احتجاج کی کال دے دی ہے۔ جمعرات کو کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اس جلسے میں ہم سب لوگ تھے اور جو بچے اس دھماکے میں مارے گئے ان کی جگہ اس میں ہم سب اُڑ سکتے تھے۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔