سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے شیخ حسینہ کو ایک ماہ کے اندر اندر واپس لایا جائے: ناہید اسلام کا مطالبہ

نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی کنوینر ناہید اسلام نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانیت کے خلاف جرم میں سزائے موت پانے والی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی انڈیا سے حوالگی اور عدالتی فیصلے پر ایک ماہ کے اندر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

خلاصہ

  • شاہ عبداللہ کا ٹلہ فائرنگ رینج کا دورہ: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اردن کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے پر زور
  • افغانستان نے پاکستان سے گندم کی درآمد صفر کر دی
  • بحریہ ٹاؤن سے جڑا ٹرپل اے ایسوسی ایٹس سکینڈل جس میں نیب نے ملزمان سے 12.7 ارب روپے کی پلی بارگین کر لی
  • برطانیہ میں سیاسی پناہ کے بعد مستقل رہائش کے لیے 20 سال انتظار کرنا پڑے گا

لائیو کوریج

  1. ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے کسی مسافر کو سفر کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی: محسن نقوی

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن میں ’ایف آئی اے یا کسی بھی ادارے کے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔‘

    انھوں نے اتوار کو وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کے ہمراہ لاہور ائرپورٹ کا دورہ کیا جس دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے کسی مسافر کو سفر کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ضروری دستاویزات کے بغیر کسی بھی مسافر کو سفر کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔ غیر قانونی امیگریشن قطعاً برداشت نہیں ہو گی۔‘

  2. برطانیہ میں سیاسی پناہ کے بعد مستقل رہائش کے لیے 20 سال انتظار کرنا پڑے گا

    برطانیہ میں سیاسی پناہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے افراد کو مستقل طور پر آباد ہونے کے لیے درخواست دینے سے پہلے 20 سال انتظار کرنا پڑے گا۔ اس بات کا اعلان پیر کو ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کی جانب سے کیا جائے گا۔

    پناہ گزینوں کی پالیسی میں بڑی تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سرحدیں عبور کر کے آنے والوں اور پناہ کی درخواستوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ان منصوبوں کے تحت جن لوگوں کو پناہ دی گئی ہے انھیں صرف عارضی طور پر ملک میں رہنے کی اجازت دی جائے گی، ان کی پناہ گزینوں کی حیثیت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور جن کے آبائی ممالک کو محفوظ سمجھا جاتا ہے انھیں واپس جانے کے لیے کہا جائے گا۔

    فی الوقت لوگوں کو پناہ گزین کی حیثیت پانچ سال تک ملتی ہے جس کے بعد وہ غیر معینہ مدت تک رہایش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

    تاہم اب ہوم سیکرٹری ابتدائی مدت کو پانچ سال سے کم کر کے ڈھائی سال کرنا چاہتی ہیں جس کے بعد پناہ گزینوں کی حیثیت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔

    لیکن وہ برطانیہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے میں لگنے والے وقت کو پانچ سال سے بڑھا کر 20 سال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    شبانہ محمود

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شبانہ محمود نے سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ ’یہ اصلاحات بنیادی طور پر لوگوں سے یہ کہنے کے لیے بنائی گئی ہیں کہ غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر اس ملک میں نہ آئیں، کشتی پر سوار نہ ہوں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’غیر قانونی ترکِ وطن ہمارے ملک کو توڑ رہا ہے۔ ہمارے ملک کو متحد کرنا‘ حکومت کا کام ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم اس کو حل نہیں کرتے ہیں تو ، مجھے لگتا ہے کہ ہمارا ملک بہت زیادہ منقسم ہوجائے گا۔‘

    اس پالیسی کو ڈنمارک سے نقل کیا گیا ہے جہاں پناہ گزینوں کو عارضی رہائشی اجازت نامہ دیا جاتا ہے جو عام طور پر دو سال کے لیے ہوتا ہے اور ان کی میعاد ختم ہونے پر انھیں دوبارہ پناہ کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے۔

    شبانہ محمود کے اس نئے نقطہ نظر کو یقینی طور پر کچھ لیبر ممبران پارلیمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پناہ گزینوں کی کونسل کے چیف ایگزیکٹیو انور سلیمان نے حکومت کے منصوبوں کو ’سخت اور غیر ضروری‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’ان لوگوں کو نہیں روک سکیں گے جو ظلم و ستم کا شکار ہیں، یا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا ان کے اہل خانہ وحشیانہ جنگوں میں مارے گئے۔‘

  3. عمران خان اور بشریٰ بی بی سے متعلق دی اکانومسٹ اپنی رپورٹ پر معافی مانگے ورنہ قانونی کارروائی کریں گے: پاکستان تحریکِ انصاف

    عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے مضمون پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے جریدے سے فوری طور پر عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور متنبہ کیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ تمام ملوث فریقین کے خلاف تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کریں گے۔

    پارٹی کا کہنا ہے کہ دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ حقائق کے منافی، غیر مصدقہ کہانیوں اور سیاسی پراپیگنڈے پر مبنی ہے۔

    یاد رہے کہ اکانومسٹ میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بشریٰ بی بی سے شادی اور بطور وزیراعظم ان کے دور حکومت میں ان کے فیصلہ سازی میں ان کے مبینہ کردار اور اثر و رسوخ کے بارے میں ذکر کیا گیا تھا۔

    پارٹی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے نام نہاد تجزیے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر ملکی تبصرے کے روپ میں پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    بیان میں اخبار کے تجزیے کو ’24 کروڑ پاکستانیوں کے رہنما اور دنیا بھر میں عمران خان کے لاکھوں حامیوں پر بے بنیاد اور ہتک آمیز حملہ قرار دیا گیا ہے۔‘

    پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ’حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کی اس کوشش کا مقصد پاکستان یا اس کے عوام کو آگاہ کرنا نہیں ہے بلکہ سیاسی انتقام کا جواز پیش کرنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، معاشی تباہی، آئینی خلاف ورزیوں اور منظم طریقے سے چوری شدہ انتخابات کے حقیقی بحرانوں سے توجہ ہٹانا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سب سے زیادہ حیرت انگیز بات عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نشانہ بنانا ہے جو دو سال تین ماہ سے قید ہیں جبکہ مضمون میں پاکستان میں گزشتہ تین سال اور سات ماہ سے جو کچھ ہو رہا ہے اس پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ‘

    ترجمان کے مطابق ’مضمون میں رہنما کی ذاتی زندگی پر توجہ مرکوز کرنے کا انتخاب کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کے خلاف مقدمات منصفانہ نہیں ہیں۔ یہ جیل کے اندر چلائے جا رہے ہیں۔ اور انھیں بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، جن میں عدالتی احکامات کے باوجود، اہل خانہ، دوستوں اور قانونی مشیر سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ ’مناسب کارروائی سے یہ منظم انکار ان کارروائیوں کی سیاسی طور پر حوصلہ افزا نوعیت کو بے نقاب کرتا ہے، پھر بھی مضمون میں واضح طور پر ان حقائق کو چھوڑ دیا گیا ہے۔‘

    پارٹی ترجمان وقاص اکرم نے کہا کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں وہ اس میں ملوث تمام فریقین بشمول مصنفین اور دی اکانومسٹ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے ایک رہنما شفیع جان نے بھی رپورٹ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’گھریلو معاملات سے متعلق افواہوں کو تجزیہ بنانا قابلِ مذمت ہے۔ سیاسی کردار کشی کے لیے اس نوعیت کی داستانیں تراشنا غیر سنجیدہ صحافت ہے۔ ‘

    انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’رپورٹ میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے طرزِ حکمرانی کو جانبدارانہ انداز میں مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں سنسنی خیز الزامات، گمنام ذرائع، گھریلو عملے کی افواہوں اور سیاسی مخالفین کے بیانات کو ”حقیقت“ بنا کر پیش کیا گیا ہے، جو صحافتی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔‘

  4. گدشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے اپنا چیمبر خالی کر کے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس شمس محمود مرزا کے تبادلے کا امکان تھا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے رُکن بھی تھے۔
    • اردن کے شاہ عبداللہ دوم پاکستان پہنچ گئے ہیں جہاں اسلام آباد میں وزیرِ اعظم ہاؤس میں انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق شاہ عبداللہ دوم کی آمد کے موقع پر مسلح افواج کے دستوں نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
    • بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے ’کم عمری کی شادیوں کی ممانعت کے قانون‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد کم عمری کی شادی کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جمعے کے روز منظور کیے گئے اس قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر کا فرد بچہ تصور ہوگا۔
    • پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
    • انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ سرینگر کے علاقے نوگام کے پولیس سٹیشن کے اندر ہونے والے دھماکے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سرینگر میں پولیس کے سربراہ نلین پربھات نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس دھماکے میں ہلاکتوں کے علاوہ 27 پولیس اہلکاروں سمیت 32 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے۔ سنیچر کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروانے والوں میں چوہدری قاسم مجید، سردار جاوید ایوب، ملک ظفر اقبال سمیت دیگر ممبران شامل ہیں۔
  5. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید 15 نومبر تک کی خبروں کے یہاں کلک کریں