پی ٹی
آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق دی اکانومسٹ میں
شائع ہونے والے مضمون پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری
اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے جریدے سے فوری طور پر عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور متنبہ
کیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ تمام ملوث فریقین کے خلاف تمام دستیاب قانونی راستے
اختیار کریں گے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والی
حالیہ رپورٹ حقائق کے منافی، غیر مصدقہ کہانیوں اور سیاسی پراپیگنڈے پر مبنی ہے۔
یاد
رہے کہ اکانومسٹ میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بشریٰ بی
بی سے شادی اور بطور وزیراعظم ان کے دور حکومت میں ان کے فیصلہ سازی میں ان کے
مبینہ کردار اور اثر و رسوخ کے بارے میں ذکر کیا گیا تھا۔
پارٹی
کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے
نام نہاد تجزیے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر ملکی تبصرے کے روپ میں پروپیگنڈے
کے سوا کچھ نہیں ہے۔
بیان
میں اخبار کے تجزیے کو ’24 کروڑ
پاکستانیوں کے رہنما اور دنیا بھر میں عمران خان کے لاکھوں حامیوں پر بے بنیاد اور
ہتک آمیز حملہ قرار دیا گیا ہے۔‘
پی ٹی آئی
کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ’حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے
کی اس کوشش کا مقصد پاکستان یا اس کے عوام کو آگاہ کرنا نہیں ہے بلکہ سیاسی انتقام
کا جواز پیش کرنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، معاشی تباہی، آئینی خلاف ورزیوں
اور منظم طریقے سے چوری شدہ انتخابات کے حقیقی بحرانوں سے توجہ ہٹانا ہے۔‘
انھوں نے
کہا کہ ’سب سے زیادہ حیرت انگیز بات عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نشانہ
بنانا ہے جو دو سال تین ماہ سے قید ہیں جبکہ مضمون میں پاکستان میں گزشتہ تین سال اور سات ماہ سے جو کچھ ہو رہا
ہے اس پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ‘
ترجمان
کے مطابق ’مضمون میں رہنما کی ذاتی زندگی پر توجہ مرکوز کرنے کا انتخاب کیا۔‘
انھوں
نے کہا کہ ’عمران خان کے خلاف مقدمات منصفانہ نہیں ہیں۔ یہ جیل کے اندر چلائے جا
رہے ہیں۔ اور انھیں بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، جن میں عدالتی احکامات کے
باوجود، اہل خانہ، دوستوں اور قانونی مشیر سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔‘
بیان
میں کہا گیا کہ ’مناسب کارروائی سے یہ منظم انکار ان کارروائیوں کی سیاسی طور پر حوصلہ
افزا نوعیت کو بے نقاب کرتا ہے، پھر بھی مضمون میں واضح طور پر ان حقائق کو چھوڑ دیا
گیا ہے۔‘
پارٹی
ترجمان وقاص اکرم نے کہا کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں وہ اس میں ملوث تمام فریقین بشمول
مصنفین اور دی اکانومسٹ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
پی ٹی
آئی کے ایک رہنما شفیع جان نے بھی رپورٹ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’گھریلو معاملات سے متعلق افواہوں کو تجزیہ
بنانا قابلِ مذمت ہے۔ سیاسی کردار کشی کے لیے اس نوعیت کی داستانیں تراشنا غیر
سنجیدہ صحافت ہے۔ ‘