شیخ حسینہ واجد ’مختصر نوٹس‘ پر انڈیا آئیں: وزیر خارجہ ایس جے شنکر

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ پیر کو بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بہت مختصر نوٹس پر انڈیا آنے کی درخواست کی۔ وزیر خارجہ نے پہلی بار یہ بتایا ہے کہ استعفیٰ دینے کے بعد شیخ حسینہ واجد گذشتہ روز انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی آئیں۔

خلاصہ

  • امریکی حکام کا الزام ہے کہ ایک پاکستانی شہری، جن کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں، نے امریکی سرزمین پر ’ایک سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کے قتل کی منصوبہ بندی‘ کی تھی
  • بنگلہ دیش کے صدر نے کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے الٹی میٹم دیے جانے کے بعد ملک کی پارلیمان تحلیل کی ہے
  • بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے ایوان صدر میں مشاورتی اجلاس، طلبہ سمیت تینوں افواج کے سربراہان کی شرکت

لائیو کوریج

  1. شیخ حسینہ سے تاریخی تعلق کے باوجود انڈیا سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھائے گا, یوگیتا لیمائے، بی بی سی

    آل انڈیا ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا بنگلہ دیشی طلبہ کے حق میں احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنآل انڈیا ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا بنگلہ دیشی طلبہ کے حق میں احتجاج

    شیخ حسینہ اور ان کے خاندان کے انڈیا سے تاریخی تعلقات ہیں۔

    1971 کی جنگ میں انڈیا نے مشرقی پاکستان میں آزادی پسند رہنماؤں کا ساتھ دیا تھا جس کے بعد شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان بنگلہ دیش کے بانی بنے تھے۔

    1975 میں والد کے قتل کے بعد کئی برسوں تک انھیں اپنی بہن کے ہمراہ انڈیا میں سیاسی پناہ حاصل رہی تھی۔

    انڈیا کی کئی سیاسی جماعتیں ان کی حمایت کرتی ہیں کیونکہ انڈین اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ ان کے ذریعے بنگلہ دیش میں انتہا پسند اسلامی گروہوں کو اقتدار میں آنے سے روکا جاسکتا ہے۔

    انڈیا بنگلہ دیش میں اس لیے بھی اثر و رسوخ چاہتا ہے تاکہ وہ علاقائی حریف چین کے خلاف سبقت حاصل کر سکے۔

    مگر انھی وجوہات کے باعث انڈیا اب چاہے گا کہ وہ اس موقع پر سوچ سمجھ کر کوئی حکمت عملی اپنائے کیونکہ یہ بنگلہ دیش کے اگلے رہنما کے ساتھ بھی قریبی تعلق کا خواہاں ہوگا۔

  2. جمہوریت کے تحفظ کے لیے اقدام ضروری: برطانیہ

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے جلد اقدام ضروری ہے۔

    لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کیئر سٹامر بنگلہ دیش میں گذشتہ ہفتوں کے دوران ’تشدد سے مایوس ہوئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ جلد اقدام سے جمہوریت بحال ہوگی اور بنگلہ دیش میں لوگوں کے لیے امن اور تحفظ کی جانب پیشرفت ہوگی۔‘

    انڈیا اور بنگلہ دیش کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ ممکنہ طور پر لندن آسکتی ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

  3. شیخ حسینہ: بنگلہ دیش کو معاشی طاقت بنانے والی وزیرِ اعظم جن کا ’آمرانہ رویہ‘ عوامی غصے کا باعث بنا

    hasina

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک میں ہفتوں پر محیط پُرتشدد مظاہروں کے بعد بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور ملک چھوڑ کر انڈیا چلی گئی ہیں۔

    شیخ حسینہ کو پچھلی دہائی میں بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے آمرانہ رویے کے باعث عوام میں ان کے خلاف غم و غصے میں بتدریج اضافہ ہوا۔

  4. شیخ حسینہ بہت مایوس ہیں: بیٹا

    شیخ حسینہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    شیخ حسینہ کے بیٹے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی والدہ اپنی سیاسی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق شیخ حسینہ ’اپنی سخت محنت کے بعد بہت مایوس ہیں کہ ایک اقلیت ان کے خلاف کھڑی ہوئی۔‘

    بی بی سی کے پروگرام نیوز آور سے بات کرتے ہوئے سجیب واجد نے کہا کہ ان کی والدہ گذشتہ روز سے استعفے پر غور کر رہی تھیں اور انھوں نے خاندان کے اصرار پر اپنے تحفظ کے لیے ملک چھوڑا ہے۔ سجیب واجد اپنی والدہ شیخ حسینہ کے مشیر کے طور پر بھی کام کرتے تھے۔

    اپنی والدہ کے دور کا دفاع کرتے ہوئے شیخ حسینہ کے صاحبزادے نے کہا کہ ’انھوں نے بنگلہ دیش کی تقدیر بدل دی۔ جب انھوں نے اقتدار سنبھالا تو یہ ریاست ناکامی سے دوچار تھی۔ یہ غریب ملک تھا۔ آج اسے ایشیا کا رائزنگ ٹائیگر سمجھا جاتا ہے۔ وہ بہت مایوس ہیں۔‘

    انھوں نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے دیکھا کہ گذشتہ روز 13 پولیس اہلکاروں پر تشدد کر کے انھیں ہلاک کر دیا گیا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ پولیس کو کیا کرنا چاہیے جب مشتعل مظاہرین انھیں مار رہے ہوں؟‘

    بنگلہ دیش کے پُرتشدد مظاہروں میں اب تک سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہلاک ہونے والے اکثر افراد مظاہرین ہیں۔

  5. بلوچ یکجہتی کمیٹی دہشتگرد تنظیموں، سمگلروں اور بھتہ خوروں کی ’پراکسی‘ ہے: ترجمان پاکستانی فوج, محمد کاظم، بی بی سی ارد، کوئٹہ

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا ہے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت دہشتگرد تنظیموں، غیرقانونی کام کرنے والے عناصر، سمگلرز اور بھتہ خوروں کی ’پراکسی‘ یعنی گماشتہ ہے، جو بیرون فنڈنگ لے کر فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرتی ہے۔

    منگل کو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ میں یہ واضح کردوں یہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی نام نہاد لیڈرشپ دہشتگرد تنظیموں، الیگل سپیکٹرم اور کریمنل مافیا کی ایک ’پراکسی‘ ہے اور اس کے علاوہ یہ کچھ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس (کمیٹی) کو کام یہ ملا ہے کہ جو قانون نافذ کرنے والے ادارے، یہ جو ایجنسیز دہشتگردی کے خلاف کریمنل مافیا، بھتہ خوروں کے خلاف کام کر رہے ہیں، ان کو بدنام کیا جائے، ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جائے، جو بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے ہو رہے ہیں ان کو متنازع بنایا جائے۔‘

    فوج کے ترجمان کے مطابق ’اس (کمیٹی) کا طریقہ کار یہ ہے کہ بیرونی بیانیے اور بیرون فنڈنگ پر ایک جتھا جمع کرو، اس جتھے کے گرد معصوم شہریوں کو ورغلاؤ، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرو، پتھراؤ کرو، آگ لگاو، بے جا مطالبات پیش کرو، اور جب ریاست آگے سے جواب دے تو معصوم بن جاؤ۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اور پھر (ان کے) ساتھ جو بیرونی ایجنڈا والے پیچھے بیٹھے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نام پر وہ ان کے حق میں بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وہ تماشا ہے جو آپ نے گذشتہ دنوں گوادر میں دیکھے۔‘

    انھوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کی ’فوٹیج‘ دکھاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ یہ کمیٹی پرتشدد مظاہروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور جھوٹ کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’انڈین سوشل میڈیا اور فتنہ خوارج ان کی حمایت میں آتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’حکومت بلوچستان نے کہا کہ احتجاج آپ کا حق ہے۔ سڑکیں بلاک نہ کریں۔ طے شدہ جگہ پر آئیں، اپنے مطالبات پیش کریں۔ انھوں نے سڑکیں بلاک کیں، لوگوں کو تکالیف ہوئیں، زائرین پر پتھراؤ کیا۔ آگ لگائی۔ اور اپنی ہی ایف سی پر حملہ کیا۔ سبی کا سپاہی بلوچ کو پرتشدد ہجوم نے شہید کر دیا۔‘

    فوجی ترجمان کے مطابق ’حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑے طریقے سے انھیں ہینڈل کیا، انھیں لاشیں نہیں دیں جو وہ لینے کے لیے آئے تھے۔‘ ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان نے کہا کہ ’گوادر میں اس وقت حکومت کی رٹ مکمل بحال ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘

    مذاکرات کا دوسرا دور، گوادر اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں دھرنے جاری

    بلوچ یکجہتی کونسل

    حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے باوجود تاحال بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور دیگر شہروں میں دھرنے جاری ہیں۔ گذشتہ روز مذاکرات بلوچستان کے سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں کے درمیان ہوئے تھے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ کا کہنا ہے کہ اگرچہ گذشتہ روز حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے لیکن تاحال مختلف مقامات پر ان کے پر امن دھرنے جاری ہیں۔

    گوادر شہر میں اگرچہ موبائل فون سروس تاحال بند ہے لیکن پی ٹی سی ایل کی لینڈ لائن کی سروس اور اس پر انٹرنیٹ کو بعض علاقوں میں بحال کردیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کی وجہ سے گوادر میں معمولات زندگی بری طرح سے متائثر ہو گئی تھیں۔

    تاہم مقامی صحافیوں کے مطابق گذشتہ روز سے گوادر شہر میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ روز نیشنل پارٹی کے رہنما اشرف حسین کی توسط سے حکومت بلوچستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔

    حکومت بلوچستان کی جانب سے مذاکرات کی قیادت بلوچستان کے سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی نے کی تھی۔

    موبائل فون سروس بند ہونے کی وجہ سے اگرچہ میرظہور بلیدی اور گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم بعض سرکاری حکام کے مطابق گرفتار افراد کی رہائی اور ایف آئی آرز کے اندراج کے حوالے سے بعض نکات ابھی تک طے ہونے باقی ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اہم مطالبات میں بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے تمام گرفتار افراد کی رہائی، تمام راستوں کا کھولنا اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کی ہلاکت اور زخمی کارکنوں کی ایف آئی آر گولی چلانے والے فورسز کے اہلکاروں کے خلاف درج کرنا شامل ہیں۔

    مذاکرات کے اس دوسرے دور کے باوجود تاحال بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دھرنوں کو ختم نہیں کیا بلکہ یہ بلوچستان میں پانچ مقامات پر جاری ہیں۔

    بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ اس وقت گوادر اور کوئٹہ کے علاوہ جن علاقوں میں دھرنے جاری ہیں ان میں تربت، نوشکی اور حب چوکی شامل ہیں ۔

    بیبرگ بلوچ نے بتایا اگرچہ مذاکرات ہورہے ہیں لیکن بعض نکات نے ابھی طے ہونا ہے اس لیے تا حال یکجہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت نے احتجاجی دھرنوں کو ختم نہیں کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات جائز ہیں جن کو تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ان کے بقول نہ صرف پر امن لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں بلکہ حالات بھی ان رکاوٹوں کی وجہ سے خراب ہوئے جو کہ حکومت اور اس کے اداروں کی جانب سے ڈالی گئی تھیں۔

    ’گوادر میں معمولات زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں‘

    بلوچستان

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 28 جولائی کو گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کے نام سے جس جلسے کا اعلان کیا گیا تھا اس میں گوادر کے باہر سے لوگوں کی شرکت کو روکنے کے لیے حکومت نے متعدد شاہراہوں کو بند کیا تھا۔

    سرکاری حکام کی جانب سے شاہراؤں کی بندش کی جواز کے حوالے سے سرکاری حکام نے یہ کہا تھا کہ یہ لوگوں کی تحفظ کے لیے اٹھائے گئے۔

    شاہراؤں کی بندش اور گوادر میں احتجاج کی وجہ سے معمولات زندگی سب سے زیادہ گوادر شہر اور ضلع کے دیگر علاقوں میں متاثر ہوئی تھیں جبکہ ان کی وجہ سے مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں میں بھی بڑی حد تک معمولات زندگی پر اثر پڑا تھا۔

    گوادر اور مکران ڈویژن کے تمام اضلاع کا زیادہ تر ضروریات زندگی کے لیے انحصار کراچی یا بلوچستان کے دیگر علاقوں پر ہے۔شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے ان علاقوں میں خوراکی اشیا کی قلت پیدا ہونے کے علاوہ اس سے بلوچستان کے متعدد علاقوں میں ایرانی تیل کی بھی قلت پیدا ہوگئی۔

    گذشتہ روز گوادر سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی سے خوراکی اشیا لانے والی گاڑیوں کو کیوں روکا جارہا ہے؟

    انھوں نے خود گوادر شہر میں بھی رکاوٹوں پر احتجاج کیا تھا۔

    تاہم گوادر شہر میں گذشتہ روز سے معمولات زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

    گوادر سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ گوادر شہر میں بازار اور مارکیٹیں کھل گئی ہیں۔ کوئٹہ کراچی ہائی وے بھی جزوی طور پر بحال ہوئی ہے اور وہاں سے راشن کی گاڑیاں آرہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگرچہ گوادر میں موبائل فون سروس تاحال بحال نہیں ہوئی ہے تاہم پی ٹی سی ایل کی لینڈ لائن اور اس پر انٹرنیٹ سروس بحال ہوگئی ہے۔

    دھرنے کو پر امن طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں

    Baloch

    ،تصویر کا ذریعہX/@BYCKECH

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے کہا ہے گوادر میں احتجاج شروع ہوا تو وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے کئی دن تک گوادر میں ہی موجود رہا۔

    اپنے ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے کہا کہ گوادر میں آل پارٹیز کے نمائندوں، رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہداہت الرحمان کی موجودگی میں مذاکرات کیے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ ’دھرنے میں موجود خواتین ہماری مائیں بہنیں اور بچے ہمارے ہی لوگ ہیں۔ ہم دھرنے کو پر امن طور پر ختم کروانا چاہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے وہ مطالبات بھی تسلیم کیے جو ماننے والے نہیں تھے اور ہم نے دھرنے والوں کے مطالبے پر تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا اور شاہراہیں بھی کھول دیں لیکن تحریری معاہدہ ہونے کے باوجود دھرنا ختم نہیں کیا گیا۔

    وزیر داخلہ نے بلوچستان اور گوادر کے عوام سے اپیل کی کہ احتجاجی اورنفرت کی سیاست کرنے والوں کو مسترد کرتے ہوئے بلوچستان کی ترقی کا سوچیں۔

    وزیر داخلہ کے مطابق ’جانے انجانے میں کچھ لوگ انڈین ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ سی پیک کے منصوبے ہماری ترقی کے ضامن منصوبے ہیں۔ انڈیا سی پیک کی تکمیل میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں مل کر بیرونی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔‘

  6. سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی ’انڈیا آمد‘

    اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے دلی میں ہندن ایئر بیس پر لینڈ کیا ہے۔

    ہمیں تاحال یہ معلوم نہیں کہ آیا وہ انڈیا میں ہی رہائش اختیار کریں گی یا مزید آگے کا سفر کریں گی۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کی بعض خبروں کے مطابق شاید وہ لندن جائیں۔ تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

  7. ’بنگلہ دیش میں رجیم چینج ناگزیر تھی‘

    بنگلہ دیش، نوجوان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر لطفے صدیقی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں رجیم چینج ’معاشی طور پر ناگزیر تھی۔ یہ بات محض کب کی تھی۔‘

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شیخ حسینہ کی حکومت نے بظاہر برسرِ اقتدار رہنے کا حق اور طاقت کھو دی تھی۔ جلد اس کے وسائل بھی ختم ہوسکتے ہیں۔‘

    ’بنگلہ دیش معاشی ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر ہے۔‘

    صدیقی کے مطابق بنگلہ دیش میں احتجاج کرنے والے نوجوان ہی اس کا قدرتی اثاثہ ہیں جو ’بے روزگاری، ناامیدی اور نمائندگی نہ ملنے پر باآسانی لائبلٹی بن سکتے ہیں۔‘

    بنگلہ دیش کے 40 فیصد شہریوں کی عمریں 15 سے 24 کے بیچ ہیں۔ یہ روزگار اور تعلیم کی عدم فراہمی سے متاثرہ ہیں۔

    صدیقی کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے ملک میں جاری مہنگائی کی لہر اور دیگر معاشی مشکلات کی وجہ سے یہ لاوا پک رہا تھا۔

  8. ڈھاکہ میں کئی مقامات پر توڑ پھوڑ، عوامی لیگ کے دفاتر نذرِ آتش

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہNAZAT

    ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر پر حملوں کے علاوہ مظاہرین نے شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے کئی دفاتر کو نذرِ آتش کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مشتعل افراد نے بنگ بندھو ایونیو پر واقع عوامی لیگ کے مرکزی دفتر پر دھاوا بول کر اسے نذرِ آتش کیا ہے۔ اب تک ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    سلہٹ میں ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپریٹنڈنٹ کے دفاتر سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے اور وہاں آگ لگائی گئی۔ بعض سکیورٹی چیک پوسٹوں کے علاوہ کونسلر رضوان احمد کے گھر کو بھی آگ لگائی گئی۔

    بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان سے جڑے ایک میوزیم میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی ہے اور اسے نذرِ آتش کیا گیا ہے۔

    پیر کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بعض مظاہرین وزیر داخلہ کی رہائش گاہ میں بھی داخل ہوئے اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ عینی شاہدین نے عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھا ہے۔

  9. مظاہرین نے بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کا مجسمہ گِرا دیا

    ،ویڈیو کیپشنوہ لمحہ جب مظاہرین نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا

    بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ گنابھابن میں شیخ مجیب الرحمان کا ایک مجسمہ تھا۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسے مشتعل افراد نے گِرا دیا ہے۔

    وزیر اعظم شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کو بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے سرگرم مرکزی رہنما اور ریاست کا بانی مانا جاتا ہے۔

    صائم فاروق کا کہنا ہے کہ یہ مناظر ایسے ہی ہیں جیسے 2003 میں جب عراق میں مظاہرین نے صدام حسین کا مجسمہ گِرایا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ لوگ اس مجسمے پر حملہ آور ہوئے تھے۔

    مشتعل مظاہرین نے وزرا کے جانے کے بعد ان کی ذاتی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ فاروق بتاتے ہیں کہ بعض لوگ ان بکتر بند گاڑیوں کی چھتوں پر چھڑ گئے اور ان میں توڑ پھوڑ کی۔

    وہ بتاتے ہیں کہ شیخ حسینہ کے جانے سے فوج کے دستوں کو اطمینان حاصل ہوا ہے جو سڑکوں پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  10. بنگلہ دیش میں آج سے تین روزہ تعطیلات

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بنگلہ دیشی حکومت نے اپنے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے تین روزہ تعطیلات کا اعلان کیا تھا جو کہ آج سے شروع ہو رہی ہیں۔

    ان تعطیلات کے دوران تمام نجی و سرکاری ادارے، بینک، عدالتیں اور تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    یہ خصوصی تعطیلات بدھ تک جاری رہیں گی اور اس دوران کرفیو بھی نافذ العمل رہے گا۔

    اتوار کی شب سے ملک میں موبائل انٹرنیٹ بند ہے۔ اگرچہ ملک میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ بحال ہے تاہم فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسی سروسز معطل کی گئی ہیں۔

    آج طلبہ سخت سکیورٹی کے باوجود ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔ اتوار سے پُرتشدد مظاہروں کے دوران کم از کم 90 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

  11. شیخ حسینہ واجد انڈیا ہی کیوں گئیں؟

    شیخ حسینہ واجد انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اطلاعات کے مطابق شیخ حسینہ واجد اپنے پڑوس میں سب سے محفوظ جگہ انڈیا چلی گئی ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے انڈیا شیخ حسینہ واجد کا بڑا اتحادی رہا ہے۔

    بنگلہ دیش کی سرحد متعدد مشرقی انڈین ریاستوں سے ملتی ہے۔ یہ ریاستیں گذشتہ کئی دہائیوں سے عسکریت پسندی کے خلاف لڑ رہی ہیں اور ایسے میں ڈھاکہ میں ایک ’فرینڈلی‘ حکومت اس میں مزید مددگار رہی ہے۔

    اپنے دورِِ اقتدار میں شیخ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش میں انڈین مخالف عسکریت پسند گروپس کے خلاف کارروائیاں کی، جس سے انھیں انڈیا کی مزید حمایت حاصل ہوئی۔ انھوں ان انڈین ریاستوں تک اشیا کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے نئی دلی کو اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت بھی دی۔

    سنہ 1996 میں پہلی بار منتخب ہونے کے بعد سے شیخ حسینہ واجد کے انڈیا سے قریبی تعلقات رہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات استوار رہے۔ سنہ 2022 میں انڈیا کے دورے کے دوران انھوں نے بنگلہ دیش کے عوام کو یاد دلایا کہ کیسے انڈیا، اس کی حکومت، عوام اور افواج نے سنہ 1971 کی جنگ آزادی میں مدد فراہم کی۔

    حزب اختلاف کی جماعتوں اور سماجی کارکنان نے شیخ حسینہ واجد کی انڈیا سے اس قربت پر تنقید کی اور انڈیا سے مطالبہ کیا کہ انڈیا صرف ایک سیاسی جماعت کی پشت پناہی کے بجائے بنگلہ دیشی عوام کی حمایت کرے۔

  12. بنگلہ دیش میں مظاہروں کے حالیہ مناظر

    بنگلہ دیش
    بنگلہ دیش
    بنگلہ دیش
    بنگلہ دیش
    بنگلہ دیش
    بنگلہ دیش
  13. ڈھاکہ میں بعض سڑکیں ویران، فوج کا گشت

    ڈھاکہ میں سڑکیں ویران

    ڈھاکہ کی طرف مظاہرین کے لانگ مارچ کے باعث بنگلہ دیشی دارالحکومت میں خوف پایا جا رہا تھا۔ اس حوالے سے حکومت نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔

    فوج کو مختلف مقامات کی طرف تعینات کیا گیا ہے۔ فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار کسی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گشت کر رہے ہیں۔

    صبح سے ڈھاکہ کی سڑکیں ویران ہیں۔

  14. بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم کی جائے گی، مظاہرین فوج سے تعاون کریں: آرمی چیف

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہYOUTUBE/SCREENSHOT

    بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ دینے کے بعد ملک کی فوج کے سربراہ وقار الزماں نے کہا ہے ملک میں ایک عبوری حکومت قائم کی جائے گی۔

    پیر کو ایک خطاب کے دوران بنگلہ دیشی فوج کے سربراہ وقار الزماں کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے استعفیٰ دے یا ہے۔ ہم ایک عبوری حکومت بنائیں گے، صبر کا مظاہرہ کریں۔‘

    انھوں نے احتجاجی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: ’ہمارے ساتھ تعاون کریں، ہم ساتھ مل کر ایک بہتر مستقبل کی سنگِ بنیاد رکھیں گے۔‘

    شیخ حسینہ عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک انڈیا پہنچ چکی ہیں۔

    بنگلہ دیش میں ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں اب تک 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوج کے سربراہ وقار الزمان نے احتجاجی مظاہرین کو یقینی دہانی کروائی ہے کہ ہر قتل کی تحقیقات کروائیں گے۔

    ’میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بات چیت کر چکا ہوں، میں نے سول سوسائٹی کے اراکین سے بات کی ہے۔ فوج ملک میں امن و امان برقرار رکھے گی۔‘

  15. بنگلہ دیش میں احتجاج کے بعد وزیراعظم مستعفی: اب تک کیا ہوا؟

    • بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ مستعفی ہو کر ملک چھوڑ چکی ہیں
    • بی بی سی بنگالی کے مطابق سنہ 2009 سے بنگلہ دیش کی حکمران رہنے والی شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر میں انڈین شہر اگرتلہ پہنچ گئی ہیں
    • آرمی چیف وقار الزمان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک میں عبوری حکومت بنائی جائے گی اور مظاہرین اب واپس گھروں کو چلے جائیں
    • مظاہرین شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہوگئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہاں توڑ پھوڑ کی گئی ہے
    • ڈھاکہ میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر جمع ہیں اور اتوار سے شیخ حسینہ کے استعفے تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہوئے ہیں
    • گذشتہ ایک ماہ کے دوران ان پُرتشدد مظاہروں میں 300 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے
    • یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب طلبہ نے سرکاری نوکریوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ یہ مظاہرے حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے جس میں شیخ حسینہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا
  16. مظاہرین کی وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں لوٹ مار

    ،ویڈیو کیپشنڈھاکہ میں مظاہرین کا وزیراعظم کی رہائش گاہ پر دھاوا

    بنگلہ دیشی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاجی مظاہرین شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ میں لوٹ مار کر رہے ہیں۔

    ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ مظاہرین ان کی سرکاری رہائش گاہ سے کُرسیاں اور صوفے اُٹھا کر کے جا رہے ہیں۔

  17. شیخ حسینہ کو مستعفی کیوں ہونا پڑا؟

    بی بی سی کے نامہ نگار اکبر حسین بتاتے ہیں کہ شیخ حسین کے استعفے پر لوگ جشن منا رہے ہیں اور اس حوالے سے ہزاروں لوگ نعرے بازی کر رہے ہیں۔

    گذشتہ کئی ہفتوں سے لوگ انھیں آمر کہہ رہے تھے یعنی مظاہرین کے مطابق یہ ایک آمر کے خلاف فتح ہے۔

    بنگلہ دیش بظاہر اب ایک جماعت کی ریاست بن رہی تھی جہاں اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور نقاد کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔

    ابتدائی طور پر شیخ حسینہ نے مظاہرین کے مطالبے کو نہیں سنا۔ انھوں نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا اور 300 افراد کی اب تک ہلاکت ہوئی ہے۔

    حکومت کے حامی گروہوں نے بھی طلبہ کے خلاف آپریشن کیا۔

    اس پر لوگ مشتعل ہوئے اور انھوں نے شیخ حسینہ سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

    ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ کا صرف ایک یہی مطالبہ تھا۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود لوگ باہر نکلے اور شیخ حسینہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے۔

    نامہ نگار اکبر حسین کے مطابق یہ بنگلہ دیش کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔

  18. طلبہ کا احتجاج شیخ حسینہ واجد کے خلاف سول نافرمانی تحریک میں کیسے بدلا

    بنگلہ دیش

    بنگلہ دیش میں سرکاری نوکری کو اچھی تنخواہ کی وجہ سے کافی اہمیت دی جاتی ہے تاہم تقریبا نصف نوکریاں، جن کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے، مخصوص گروہوں کے لیے مختص ہیں۔

    سرکاری نوکریوں کا ایک تہائی حصہ ان افراد کے اہلخانہ کے لیے مخصوص ہے جنھیں بنگلہ دیش میں ’آزادی کی جنگ کا ہیرو‘ مانا جاتا ہے تاہم طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ نظام متعصبانہ ہے اور سرکاری نوکری صرف میرٹ کی بنیاد پر ہی ملنی چاہیے۔

    احتجاج میں شریک طلبہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انھیں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے اس بیان نے طیش دلایا جس میں ان طلبا کے مطابق وزیر اعظم نے کوٹہ نظام کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو 1971 کی جنگ میں پاکستان کی مدد کرنے والے ’رضاکاروں‘ سے تشبیہ دی۔ بنگلہ دیش میں یہ اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جنھوں نے مبینہ طور پر 1971 کی جنگ میں پاکستان کی فوج کا ساتھ دیا تھا۔

    ایسے میں ملک کے دارالحکومت ڈھاکہ سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اس نظام کے مخالفین اور برسراقتدار عوامی لیگ کے طلبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران لاٹھیوں اور اینٹوں کا استعمال ہوا، پولیس کی جانب سے آنسو گیس برسائی گئی اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔

    مظاہرین نے حکومت کو نو نکاتی مطالبات کی فہرست دی اور پھر عدلیہ کی مداخلت سے بظاہر انتظامیہ نے یہ مطالبات تسلیم بھی کر لیے مگر پھر بھی احتجاج اور مظاہروں کا یہ سلسلہ رک نہ سکا۔

  19. آرمی چیف کے خطاب میں تاخیر

    ہمیں کچھ دیر قبل یہ بتایا گیا تھا کہ بنگلہ دیشی آرمی چیف خطاب کرنے جا رہے ہیں۔

    اب تک اس خطاب کا انتظار کیا جا رہا ہے اور اس میں 90 منٹ کی تاخیر ہوچکی ہے۔

    تاہم اب صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ شیخ حسینہ استعفیٰ دینے کے بعد ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق آرمی چیف اہم سٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

    ہم آپ کو اس خطاب کے حوالے سے معلومات دیتے رہیں گے۔

  20. بریکنگ, بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ مستعفی

    شیخ حسینہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار نے تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ مستعفی ہوچکی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق آرمی چیف وقار الزمان مختلف سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ خیال ہے کہ وہ جلد اس صورتحال پر خطاب کریں گے۔

    شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کی خبروں پر مظاہرین کی طرف سے جشن منایا گیا۔ انھوں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی ہے۔ یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ کرسیاں اور ٹیبلز لے کر باہر نکل رہے ہیں۔