آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شیخ حسینہ واجد ’مختصر نوٹس‘ پر انڈیا آئیں: وزیر خارجہ ایس جے شنکر

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ پیر کو بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بہت مختصر نوٹس پر انڈیا آنے کی درخواست کی۔ وزیر خارجہ نے پہلی بار یہ بتایا ہے کہ استعفیٰ دینے کے بعد شیخ حسینہ واجد گذشتہ روز انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی آئیں۔

خلاصہ

  • امریکی حکام کا الزام ہے کہ ایک پاکستانی شہری، جن کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں، نے امریکی سرزمین پر ’ایک سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کے قتل کی منصوبہ بندی‘ کی تھی
  • بنگلہ دیش کے صدر نے کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے الٹی میٹم دیے جانے کے بعد ملک کی پارلیمان تحلیل کی ہے
  • بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے ایوان صدر میں مشاورتی اجلاس، طلبہ سمیت تینوں افواج کے سربراہان کی شرکت

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, شیخ حسینہ بنگلہ دیش چھوڑ کر ’محفوظ مقام پر منتقل‘، آرمی چیف کا خطاب کچھ دیر میں

    بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 90 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک چھوڑ کر ایک محفوظ مقام پر منتقل ہوچکی ہیں۔

    ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایک ہیلی کاپٹر میں انڈین شہر اگرتلا روانہ ہوئی ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم ڈھاکہ چھوڑ کر ایک محفوظ مقام پر منتقل ہوچکی ہیں۔ جبکہ ذرائع نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ شیخ حسینہ اور ان کی بہن کو ’محفوظ مقام‘ پر لے جایا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ہزاروں مظاہرین نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں دھاوا بول دیا ہے۔

    بنگلہ دیشی وزیر اعظم وقار الزمان کا خطاب کچھ دیر میں متوقع ہے۔ ڈھاکہ سمیت ملک بھر میں فوج کے دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

    ملک میں طلبہ کی سول نافرمانی تحریک جاری ہے۔ شیخ حسینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ متوقع ہے جس دوران انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 13 پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ پورے ملک میں پُرتشدد واقعات روکنے کے لیے کرفیو نافذ ہے۔

    جولائی میں شروع ہونے والا طلبہ کا احتجاج بنیادی طور پر سرکاری نوکریوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف تھا مگر یہ جلد حکومت مخالف تحریک میں بدل گیا۔

    اب تک بنگلہ دیش کے پُرتشدد واقعات میں کم از کم 280 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

  2. عمران خان کی قید کا ایک سال: وہ مقدمات جو عدالتی ریلیف کے باوجود سابق وزیر اعظم کی رہائی ناممکن بنا رہے ہیں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پانچ اگست 2023 کے دن اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت تھی جہاں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں میں اثاثے ظاہر نہ کرنے کا معاملہ زیر سماعت تھا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان پر الزام تھا کہ انھوں نے توشہ خانہ سے مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے دیے گئے تحائف معمولی رقم دیکر حاصل کیے اور بعدازاں انھیں اپنے انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔

    عدالت نے ملزم عمران خان کو ذاتی حثیت میں طلب کر رکھا تھا لیکن وہ لاہور میں اپنے گھر زمان پارک میں موجود تھے۔ اس روز عدالت کے جج نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا کو متعدد بار اپنے موکل کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

    عمران خان کے وکلا کی جانب سے دلائل مکمل نہ ہونے کے باوجود عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور پھر دن 12 بجے اس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو 3 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔

    اس روز سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکلا نے عمران خان کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست بھی عدالت میں جمع نہیں کروائی تھی۔ جب عدالت نے فیصلہ سنایا تو عمران خان کے وکلا ایک دوسرے پر یہ الزام دھرتے رہے کہ انھوں نے عمران خان کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست عدالت میں دائر کیوں نہیں کی۔

    اسلام آباد پولیس کی قیادت شاید پہلے سے ہی تیار تھی۔ ایک ایس پی کی سربراہی میں اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور روانہ کر دی گئی تھی جنھوں نے فیصلہ سنائے جانے کے دو گھنٹے کے اندر اندر ہی عمران خان کو زمان پارک میں ان کے آبائی گھر سے گرفتار کرلیا۔

    گرفتاری کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کو پہلے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھنے کا فیصلہ ہوا اور پھر عمران خان کو اٹک جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ ایک ماہ اور 21 دن اٹک جیل میں گزارنے کے بعد انھیں ایک بار پھر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

    اگرچہ گرفتاری کے بعد یکے بعد دیگرے سابق وزیر اعظم کو عدالتی ریلیف ملتا چلا گیا تاہم عمران خان ساڑھے نو ماہ سے اڈیالہ جیل میں ہی ہیں۔ اس دوران انھیں صرف ان کے قریبی اہلخانہ اور رشتہ داروں، وکلا اور گنے چنے پارٹی رہنماوں کے علاوہ کچھ صحافیوں نے ہی دیکھا۔ اس دوران عمران خان نیب آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت کی طرف سے اپیل کی سماعت میں سکائپ کے ذریعے آن لائن بھی پیش ہوئے تھے۔

    ایک سال کے دوران عمران خان کو گزشتہ سال مارچ اور اس سے پہلے درج ہونے والے 13 مقدمات میں اسلام آباد کی مقامی عدالتوں نے بری کردیا ہے تاہم ابھی بھی درجنوں مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں جن کا فیصلہ ہونے میں بھی ایک عرصہ لگ سکتا ہے۔

    عمران خان پر گرفتاری کے بعد ہونے والے مقدمات

    سابق وزیر اعظم کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف جو پہلا مقدمہ درج کیا گیا وہ سائفر کیس تھا اور اس مقدمے میں سابق وفاقی وزیرِ خارجہ شاہ محمود کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے 29 اگست کو عمران خان کو توشہ خانہ کے مقدمے میں ملنے والی سزا کو معطل کرکے ان کو رہا کرنے کا حکم دیا لیکن چونکہ ان کی سائفر کے مقدمے میں گرفتاری ڈال دی گئی تھی اس لیے عمران خان کو رہا نہیں کیا جاسکا۔

    سائفر مقدمے کے بعد پھر عدت کے دوران نکاح کا معاملہ سامنے آگیا اور اس کے بعد توشہ خانہ کا ایک اور مقدمہ بھی درج کرلیا گیا اور اب اس مقدمے میں شریک ملزم کوئی اور نہیں بلکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی تھیں۔

    ان دونوں مقدمات میں اس سال جنوری میں عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی گئی جس کے بعد بشری بی بی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ تاہم ان دونوں مقدمات میں متعقلہ عدالتوں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتیں منظور کرلیں۔

    عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں متعقلہ عدالت نے 6 ماہ کے بعد ان دونوں کو بری کر دیا جبکہ توشہ خان کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم اپریل کو عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔

    تاہم احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپلیں ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں۔ سائفر کے مقدمے میں پہلے سپریم کورٹ نے 22 دسمبر 2023 کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سال 3 جون کو اس فیصلے کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کردیا۔

    دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابھی تک ان اپیلوں پر تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اس سال سائفر کے مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس

    سابق وزیر اعظم کے خلاف 9 مئی کے مقدمات کے علاوہ 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمات ہیں۔ 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سال 15 مئی کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر رکھی ہیں تاہم احتساب عدالت میں اس مقدمے کی سماعت چل رہی ہے۔

    احتساب عدالت میں 190 ملین پاونڈ کا مقدمہ اپنے حتمی مراحل میں پہنچ چکا ہے اور اس مقدمے کے پراسکیوٹر کے مطابق اگلے دو ہفتوں میں اس مقدمے کی عدالتی سماعت مکمل ہونے کا امکان ہے۔

    عمران خان اور بشری بی بی ایک اور نئے توشہ خانہ کیس میں گرفتار ہیں جن میں ان کا آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا گیا ہے۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو 8 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے واقعات کے مقدمات کی تفتیش بھی اڈیالہ جیل میں ہوئی اور اس کے علاوہ توہین الیکشن کمیشن کی سماعت بھی اڈیالہ جیل میں ہوتی رہی ہے۔

  3. بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں میں 83 سے زائد ہلاکتیں: ’تخریب کاری کرنے والے طالبِ علم نہیں دہشت گرد ہیں‘ شیخ حسینہ

    بنگلہ دیش میں اتوار کے روز پرتشدد ہنگاموں میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت 83 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ملک کی وزیر اعظم حسینہ واجد کے مستعفی ہونے سمیت تمام مطالبات کی منظوری کے لیے مظاہرین نے آج یعنی 5 اگست سے ’لانگ مارچ ٹو ڈھاکہ‘ کے نام سے ایک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو لوگ اب تخریب کاری کررہے ہیں، وہ طالبِ علم نہیں، دہشت گرد ہیں۔

    بنگلہ دیش انتظامیہ کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ اتوار کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سراج گنج نامی مقام پر 13 پولیس اہلکار اور 18 مظاہرین ہلاک ہوئے۔

    تاہم حکومت کی جانب سے جاری ایگزیکٹو آرڈر میں سرکاری اور نجی دفاتر میں مسلسل تین دن عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ پیر، منگل اور بدھ تین دن تمام نجی اور سرکاری ادارے بند رہیں گے۔

    مظاہرین کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کے بعد طلبہ تحریک کی رہنما ناہید اسلام نے پیر کے روز لانگ مارچ ٹو ڈھاکہ کے نام سے احتجاج کو مزید آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اس پروگرام کے انعقاد کے لیے چھ اگست کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اتوار کے روز اسے ایک دن پیچھے کرنے کا اعلان کیا گیا۔

    اسی دن ڈھاکہ کے شاہ باغ میں صبح 11 بجے کارکنوں کا جلسہ اور شام پانچ بجے مرکزی شہید مینار پر خواتین کا جلسہ بلایا گیا ہے۔ مظاہرین نے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سے اس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ آنے کی اپیل کی ہے۔

  4. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    • بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام دھرنوں اور احتجاج کا سلسلہ اتوار کو آٹھویں روز بھی جاری رہا۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں سے مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
    • امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور اردن نے اپنے شہریوں کو جلد از جلد لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی انخلا میں مدد کے لیے اضافی فوجی اہلکار، قونصلیٹ کا عملہ اور سرحدی فورس کے اہلکاروں کو بھیج رہا ہے۔ دو برطانوی فوجی جہاز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں اور رائل ایئر فورس نے ٹرانسپورٹ والے ہیلی کاپٹروں کو سٹینڈ بائی پر رکھا ہوا ہے۔
    • بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان اتوار کو بھی پُرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم حسینہ واجد اپنے عہدے سے فوری مستعفی ہوں۔
  5. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    اس لائیو پیج میں پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کی جائیں گی۔

    4 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔