آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شیخ حسینہ واجد ’مختصر نوٹس‘ پر انڈیا آئیں: وزیر خارجہ ایس جے شنکر

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ پیر کو بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بہت مختصر نوٹس پر انڈیا آنے کی درخواست کی۔ وزیر خارجہ نے پہلی بار یہ بتایا ہے کہ استعفیٰ دینے کے بعد شیخ حسینہ واجد گذشتہ روز انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی آئیں۔

خلاصہ

  • امریکی حکام کا الزام ہے کہ ایک پاکستانی شہری، جن کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں، نے امریکی سرزمین پر ’ایک سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کے قتل کی منصوبہ بندی‘ کی تھی
  • بنگلہ دیش کے صدر نے کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے الٹی میٹم دیے جانے کے بعد ملک کی پارلیمان تحلیل کی ہے
  • بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے ایوان صدر میں مشاورتی اجلاس، طلبہ سمیت تینوں افواج کے سربراہان کی شرکت

لائیو کوریج

  1. بنگلہ دیش میں سیاسی بحران پر انڈیا میں بڑی سیاسی جماعتوں کا اہم اجلاس

    بنگلہ دیش میں جاری کوٹہ مخالف طلبہ تحریک اور مُلک میں جاری سیاسی عدم استحکام پر انڈیا میں وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو بنگلہ دیش کی تازہ ترین صورتحال اور سیاسی عدم استحکام سے متعلق آگاہ کیا۔

    وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اجلاس میں شرکت کی۔

    شیخ حسینہ کے دہلی پہنچنے کے کچھ گھنٹوں بعد جے شنکر نے پیر کی شام کو وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی تھی۔

    انڈیا نے ابھی تک بنگلہ دیش کے بحران پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن توقع ہے کہ وزیر خارجہ آج پارلیمنٹ میں اس بارے میں اظہارِ خیال کریں گے۔

    تاہم دوسری جانب انڈیا کی کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق سفارت کار ششی تھرور کا کہنا ہے کہ دہلی اپنے پڑوسی مُلک میں ’سیاسی عدم استحکام‘ نہیں چاہتا۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ’جہاں تک انڈیا کا تعلق ہے، ہمیں بنگلہ دیش کے لوگوں کو پہلا اور سب سے اہم اشارہ یہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    جُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا کو سب کو اس بات کا یقین دلانا ہوگا کہ انڈیا بنگلہ دیش کہ ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اور بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی عدم استحکام سے فائدہ اُٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں، اس کے برعکس انڈیا بنگلہ دیش کی اس نازک صورتحال میں مدد کرنا چاہتا ہے۔‘

  2. بریکنگ, کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کا تین بجے تک بنگلہ دیشی پارلیمان تحلیل کرنے کا الٹی میٹم

    بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے والی کوٹہ سسٹم مخالف طلبہ تحریک نے صدر کو منگل کی شام تین بجے تک پارلیمان تحلیل کرنے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

    ناہید اسلام، جو کہ امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ کی تحریک کے رابطہ کاروں میں شامل ناہید اسلام نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ منگل کی دوپہر نشر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’صدر نے کل کہا کہ وہ فوری طور پر قومی پارلیمان تحلیل کر دیں گے لیکن ہم اب بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ فاشسٹ حسینہ پارلیمنٹ بغاوت کے بعد بھی موجود ہے۔‘

    انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر صدر نے شام تین بجے تک ’پارلیمنٹ کی تحلیل‘ کا اعلان نہ کیا تو طلبہ تحریک ’سخت ردعمل دینے پر مجبور ہو جائے گی۔‘

    خیال رہے کہ پیر کو شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کے بعد بھی ملک بھر میں مختلف مقامات سے حملوں، لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کی خبریں آ رہی ہیں اور پیر کے دن بھی ان واقعات میں 41 افراد مارے گئے ہیں۔

    اس مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ناہید اسلام کا کہنا تھا کہ ’پورے ملک میں لوٹ مار، تشدد اور فرقہ وارانہ حملے ہو رہے ہیں۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہم آزادی پسند طلبہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے واقعات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کسی کو بھی ایسا واقعہ کرنے کا موقع نہ ملے، ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور احتیاط برتنی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ طلبہ ایک نئے بنگلہ دیش کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن ان کے مقصد کو ناکام بنانے کے لیے مختلف قوتیں پہلے ہی سرگرم ہیں اور اس کے لیے طرح طرح کی سازشیں اور منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

    ’ہم آزادی پسند طلبہ کی جانب سے واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے طلبہ اس بنگلہ دیش کو فاشسٹ سلطنت سے آزاد کرانے اور ایک نئے اور عوامی بنگلہ دیش کے قیام کے لیے ہر قسم کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔‘

    خیال رہے کہ اس سے قبل منگل کی صبح ناہید اسلام اور ان کے ساتھیوں نے صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات پروفیسر محمد یونس کی زیرِ نگرانی ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے اور انھیں فوج کی حمایت یافتہ یا صدارتی نظام کی حکومت قبول نہیں ہو گی۔

  3. عبوری حکومت کی تشکیل میں تاخیر سیاسی بحران میں اضافہ کر سکتی ہے: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے کہا ہے کہ اگر آج دوپہر تک عبوری حکومت تشکیل نہ دی گئی تو ملک میں سیاسی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    منگل کو ڈھاکہ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ عبوری حکومت کے لیے صدر کو ان کی جانب سے کوئی نام تجویز نہیں کیا گیا ہے۔ صدر کی جانب سے بلائے جانے پر بی این پی نام بھیجے گی۔

    بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے یہ بات طلبہ تحریک کی جانب سے محمد یونس کی نامزدگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہی۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں طلبہ پر پورا بھروسہ ہے۔ لیکن کُل جماعتی معاملات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے تین ماہ کے اندر ملک میں انتخابات کرانے اور اقتدار کی منتقلی پر بھی زور دیا۔

    سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمٰن سے پارٹی کی جانب سے جلد وطن واپسی کی درخواست کی گئی ہے۔

    بریفنگ میں عالمگیر کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ مختلف اداروں پر حملے اور لوٹ مار کر رہے ہیں، انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ تحریک چلانے والے لوگ نہیں ہیں، بلکہ تحریک مخالف لوگ ہیں۔

  4. بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے صنعتیں غیر معینہ مدت کے لیے بند

    بنگلہ دیش کی گارمنٹس مینوفیکچررز کی تنظیم کی جانب سے تمام گارمنٹس فیکٹریوں کو بند رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    بنگلہ دیش میں جاری سیاسی عدم استحکام اور مظاہروں کے دوران تشدد کی وجہ سے صنعتوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ انھیں دوبارہ کھولنے کے بارے میں لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

    بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی ایم ای اے) کے مطابق بنگلہ دیش کی کل برآمدی آمدنی میں ریڈی میڈ گارمنٹس انڈسٹری کا حصہ 83 فیصد ہے۔

    ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، بنگلہ دیش نے 2023 میں 38.4 بلین ڈالر (29.7 بلین پاؤنڈ) کے کپڑے برآمد کیے، جس سے یہ چین اور یورپی یونین کے بعد کپڑوں کا تیسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا۔

  5. اقوام متحدہ کا بنگلہ دیش میں اقتدار کی پرامن منتقلی اور احتساب کا مطالبہ

    اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش میں اقتدار کی پرامن منتقلی کے حوالے سے کہا ہے کہ اس دوران انسانی حقوق کو مدِ نظر رکھا جائے اور پرتشدد واقعات کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    شیخ حسینہ واجد کے وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے اور طلبا کے احتجاج کے پیشِ نظر بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ سیکڑوں افراد کی ہلاکت اور بڑی تعداد میں زخمی ہونے والوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اقتدار کی منتقلی کو شفاف اور جوابدہ طریقے سے انجام دیا جانا چاہیے اور بنگلہ دیش کے تمام شہریوں کی اس عمل میں بامعنی شرکت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اس دوران دوران تشدد یا انتقامی کارروائی نہ ہو۔‘

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے یہ بھی کہا کہ جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی کو جلد از جلد یقینی بنایا جانا چاہیے اور ایسے میں بین الاقوامی قوانین کا بھی خیال رکھا جائے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’موجودہ حالات میں اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ایک آزادانہ انکوائری کی جانی چاہیے اور ہم اس عمل کی حمایت کے لیے تیار ہے۔‘

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ ’انصاف اور اصلاحات کے مطالبات پر توجہ دی جانی چاہیے۔‘

  6. محمد یونس: ’غریبوں کے بینکر‘ جو حسینہ واجد کے ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل رہے

    83 سالہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو، جو عالمی سطح پر ’غریبوں کے بینکر‘ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، مائیکرو فنانس قرضوں کا ایک ایسا نظام قائم کرنے کا کریڈٹ جاتا ہے جس کی مدد سے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالنے میں مدد ملی ہے۔

    یہ بینک، جسے پروفیسر یونس نے 1983 میں شروع کیا تھا، غریب لوگوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے چھوٹے اور طویل مدتی قرضے فراہم کرتا ہے۔ 2006 میں اس کام پر پروفیسر یونس کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔

    جہاں دنیا پروفیسر یونس کی مداح ہے وہیں پیر کو مستعفی ہونے والی بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد انھیں عوام دشمن سمجھتی رہی ہیں۔ انھوں نے پروفیسر یونس کو بار بار غریبوں کا ’خون چوسنے والا‘ قرار دیا اور ان کے گرامین بینک پر بہت زیادہ شرح سود وصول کرنے کا الزام لگایا۔

    حسینہ واجد کے دور میں رواں برس جنوری میں بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے محمد یونس کو ملک کے لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

    پروفیسر یونس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔

    بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پروفیسر یونس کی جانب سے 2007 میں فوج کی حمایت یافتہ نگران حکومت کی بظاہر حمایت سے ایک سیاسی جماعت بنانے کی کوشش نے حسینہ واجد کو ناراض کر دیا تھا، خاص طور پر اس لیے کہ وہ اس وقت جیل میں تھیں۔

    محمد یونس نے بعدازاں سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ ترک کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں۔

  7. بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کا نوبیل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات پروفیسر یونس کی زیرِ نگرانی عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ

    بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کا باعث بننے والی طلبہ تحریک کے رہنما ناہید اسلام نے ملک کے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد ملک کے نوبیل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات پروفیسر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت تشکیل دیں۔

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق ناہید اسلام نے منگل کی صبح فیس بک پر شائع ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں محمد یونس کا نام بطور چیف ایڈوائزر تجویز کیا۔

    ناہید اسلام نے کہا کہ وہ پہلے ہی پروفیسر یونس سے عبوری حکومت کا سربراہ بننے کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔ ’ڈاکٹر محمد یونس سے بھی بات ہوئی ہے۔ انھوں نے طلبہ کی کال پر بنگلہ دیش کی حفاظت کے لیے یہ اہم ذمہ داری سنبھالنے پر اتفاق کیا ہے۔‘

    امتیازی سلوک مخالف طلبہ تحریک نے یہ بھی کہا کہ مشاورتی کونسل کے بقیہ ارکان کے ناموں کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔

    اس سے قبل گذشتہ روز پریس کانفرنس میں ناہید اسلام نے کہا تھا کہ ’ہم کسی بھی قسم کی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے جب تک کہ اسے طلبہ اور بنگلہ دیشی عوام کی طرف سے تجویز نہ کیا جائے۔ یہ فوج کی حمایت یافتہ حکومت ہو سکتی ہے یا صدراتی نظام۔ طلبہ ایسی حکومت کو قبول نہیں کریں گے۔

  8. عراق میں امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملہ، متعدد امریکی فوجی زخمی

    امریکی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں ایک امریکی فوجی اڈے پر مشتبہ راکٹ حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے ایک بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ حماس اور حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں کی ہلاکتوں کے بعد مشرق وسطیٰ ایک نازک موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صدر جو بائیڈن کو عراق میں امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے مشتبہ حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    ایک بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ انھیں اور نائب صدر کملا ہیرس کو ’مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت‘ کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    صدر نے کہا کہ ہمیں ایران اور اس کے آلہ کاروں کی جانب سے درپیش خطرات، علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کی سفارتی کوششوں اور اسرائیل پر دوبارہ حملے کی صورت میں اس کی حمایت کرنے کی تیاریوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات موصول ہوئی ہیں۔

    امریکی حکام نے بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ مغربی عراق میں الاسد ایئر بیس پر راکٹ حملہ ہوا اور ابھی امریکی فوجی اڈے پر حملے سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

    تاہم اس حملے کا ذمہ دار کون ہے یا اس کے پیچھے کون ہے اس بارے میں تاحال کوئی بیان امریکہ کی جانب سے سامنے نہیں آیا ہے۔

    سکیورٹی ذرائع نے سی بی ایس کو بتایا کہ بیس پر دو کٹیوشا راکٹ داغے گئے اور ایک راکٹ بیس کے اندر گرا۔

    امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ عراق کے الاسد ایئر بیس پر امریکی اور اتحادی افواج پر مشتبہ راکٹ حملہ کیا گیا۔‘

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد امریکی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت کسی کے شدید زخمی یا کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

  9. بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد کے مُلک چھوڑنے کے بعد صدر کے حکم پر سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا رہا

    بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے چند گھنٹوں بعد صدر محمد شہاب الدین نے جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء اور سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف حالیہ احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام طلبہ کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

    صدر شہاب الدین نے کہا کہ انھوں نے آرمی چیف اور سیاسی نمائندوں کے اجلاس کی صدارت کی جس میں یہ اہم فیصلہ لیا گیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی، نئے انتخابات کرائے جائیں گے اور کرفیو جلد اٹھا لیا جائے گا۔

    بنگلہ دیش میں اس سیاسی بحران پر اب تک شیخ حسینہ واجد کے حمائیتی اور ہمسایہ مُلک انڈیا کی جانب سے کوئی سرکاری ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو مِلر کی جانب سے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بنگلہ دیش کی صورتحال سے متعلق کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام بنگلہ دیشی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔‘

    حسینہ واجد کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں واپس نہیں آئیں گی۔ سابق وزیر اعظم نے 1996 میں پہلی بار اقتدار میں آنے کے بعد مجموعی طور پر 20 سال اقتدار میں گزارے۔

    ان کے بیٹے سجیب واجد جوئے نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام میں اپنی والدہ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ 70 سال کی ہو چُکی ہیں، وہ اس سب کی وجہ سے بہت مایوس ہوئی ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان نے اس مُلک کے لیے بہت کُچھ کیا اب بس۔‘

    ناقدین کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد کے دور حکومت میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور حزب اختلاف کی شخصیات اور حکومتی ناقدین کو کچلنا شامل تھا۔

    لیکن حسینہ واجد کے بیٹے جو ٹیکنالوجی کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے (حسینہ واجد) گزشتہ 15 سالوں میں بنگلہ دیش کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔‘

    یاد رہے کہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف ایک ماہ قبل شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک تقریبا 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور مُلک میں حکومت مظاہرے ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئے جن میں شیخ حسینہ واجد کے وزارتِ اعظمیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔

  10. بنگلہ دیش: وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر مظاہرین کی لوٹ مار کے چند مناظر

    بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 5 اگست کو ملک چھوڑنے کے بعد، مظاہرین نے ڈھاکہ میں اُن کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا جس کے بعد وہ وہاں رکھی اشیا لوٹتے دکھائی دیے۔

    مظاہرین میں شامل افراد میں سے جس کے ہاتھ جو لگا وہ اُسے اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دکھائی دیا۔

    بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ پر مظاہرین کے گزشتہ روز کے حملے کی چند تصاویر۔

  11. امریکہ بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو مِلر کی جانب سے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بنگلہ دیش کی صورتحال سے متعلق کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام بنگلہ دیشی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔‘

    ترجمان امریکی دفترِ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش میں ہنگاموں اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں پر شدید افسوس ہوا اور امریکہ اس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔‘

    بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کے عہدے سے استعفیٰ دے کر بنگلہ دیش چھوڑ کر انڈیا جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان امریکی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ مزید تشدد سے گریز کریں۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران بہت سی جانیں ضائع ہوئی ہیں، اور ہم آنے والے دنوں میں پرسکون اور تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہیں۔ ہم عبوری حکومت کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی کو بنگلہ دیش کے قوانین کے مطابق عمل میں لایا جائے۔‘

    ترجمان دفترِ خارجہ میتھو ملر کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ہم جس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ تشدد کے خاتمے اور احتساب کا ہے۔ جہاں تک احتساب کی بات ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے جو بنگلہ دیشی قانون کے تحت ہونی چاہیے۔ پر تشدد کی کارروائیوں، مُلک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ذمہ داری کسی نہ کسی پر تو عائد ہو گی اور اس سب کے لیے کسی نہ کسی کو تو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہئے۔ مگر یہاں یہ بھی ہم کہ رہے ہیں کہ جو بھی قانونی عمل ہو وہ بنگلہ دیش کے قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

    تاہم دوسری جانب بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ناہید اسلام نے گزشتہ شب ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران عبوری قومی حکومت کی تجاویز پیش کریں گے اور وہ کسی ایسی حکومت کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی تجاویز اور حمایت کے بغیر بنائی گئی ہو۔

    طلبہ تحریک کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’اگلے 24 گھنٹوں کے دوران میں ایک عبوری قومی حکومت کی تجاویز پیش کروں گا۔ اس میں تحریک چلانے والوں کا ایک حصہ ہو گا اور میں ان لوگوں کے نام ظاہر کروں گا جو حکومت میں شامل ہوں گے۔ اس میں سول سوسائٹی سمیت سب کی نمائندگی یقینی بنائی جائے گی۔‘

    اس کے ساتھ ہی انھوں نے اعلان کیا کہ چاہے فوجی حمایت یافتہ حکومت ہو یا ہنگامی حالات کے تحت قائم کیا گیا صدارتی نظام، طلبہ ایسی کسی حکومت کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی تجویز کردہ نہ ہو۔

  12. بنگلہ دیش میں دن بھر ہونے والے واقعات کا خلاصہ:

    • شیخ حسینہ نے طلبہ تحریک کے ’مارچ ٹو ڈھاکہ‘ پروگرام کے تحت ہونے والے احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنے خاندان کے ہمراہ ملک چھوڑ کر انڈیا چلی گئی ہیں۔
    • شیخ حسینہ کے استعفے کے اعلان کے بعد ہزاروں شہری وزیراعظم کے دفتر اور پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہو گئے جہاں انھوں نے توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔
    • آرمی چیف وقار الزمان نے قوم سے خطاب میں عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
    • پیر کی شب قوم سے خطاب میں صدر محمد صحاب الدین نے کہا ہے کہ جلد ہی عبوری حکومت قائم ہو جائے گی جو قبل از وقت انتخابات کرائے گی۔
    • صدر نے کہا ہے کہ خالدہ ضیا کو رہا کرنے اور طلبہ تحریک سمیت دیگر مقدمات میں زیر حراست تمام قیدیوں کو بھی رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا اور زخمیوں کا علاج کیا جائے گا۔
    • بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ناہید اسلام کا کہنا ہے کہ وہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران عبوری قومی حکومت کی تجاویز پیش کریں گے اور وہ کسی ایسی حکومت کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی تجاویز اور حمایت کے بغیر بنائی گئی ہو۔
    • آئی ایس پی آر کے مطابق بنگلہ دیش میں 17 دن بعد منگل کی صبح سے کرفیو ختم کیا جا رہا ہے۔ منگل سے سرکاری و نجی دفاتر، عدالتیں، تعلیمی ادارے، کارخانے کھل رہے ہیں۔
    • انڈین سیکورٹی ذرائع کے مطابق انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے شیخ حسینہ سے دہلی کے قریب ایک فوجی ہوائی اڈے پر تفصیلی ملاقات کی ہے۔
    • شیخ حسینہ کے بیٹے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی والدہ سیاست میں واپسی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق شیخ حسینہ ’اپنی سخت محنت کے بعد بہت مایوس ہیں کہ ایک اقلیت ان کے خلاف کھڑی ہوئی۔‘
    • ڈھاکہ میں عوامی لیگ کے کئی دفاتر میں توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگا دی گئی۔ پولیس ہیڈ کوارٹر سمیت کئی تھانوں پر حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف اضلاع میں عوامی لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں پر حملوں کی ابھی طلاعات ہیں۔
    • صدر محمد صحاب الدین، آرمی چیف وقار الزماں، بیگم خالدہ ضیا اور طلبہ تحریک کے رہنماؤں نے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
    • پیر کو ڈھاکہ، جیسور اور باریسال سمیت مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہو گئے۔
    • بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ہوائی اڈے کا آپریشن مبینہ طور پر روک دیا گیا ہے۔
  13. ڈھاکہ اور جیسور میں پیر کو پرتشدد واقعات کے دوران کم از کم 41 افراد ہلاک ہوئے

    ڈھاکہ اور جیسور میں پیر کو پرتشدد واقعات میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں سے ڈھاکہ میں کم از کم 35 اور جیسور میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

    پیر کے روز طلبہ تحریک کی جانب سے بلائے گئے ’مارچ ٹو ڈھاکہ‘ کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں امن و امان قائم کرنے والے دستوں اور حکومت کے حامیوں کے ساتھ مشتعل افراد کی جھڑپیں ہوئیں۔

    ان جھڑپوں میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے کئی ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال میں دورانِ علاج وفات پا گئے۔

    ہسپتال کے حکام نے بتایا ہے کہ متاثرین میں سے کئی کے جسم پر گولیوں کے نشانات ہیں۔

    دوسری جانب عوامی لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد جیسور میں پارٹی رہنما کے ملکیتی ہوٹل میں توڑ پھوڑ ہوئی اور آگ لگنے سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے جن میں سے پانچ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ ایک اور شخص علاج کے دوران فوت ہوا۔

    اس سے قبل اتوار کو پرتشدد واقعات میں کم از کم 90 افراد مارے گئے تھے۔ طلبہ تحریک میں اب تک تقریباً ساڑھے تین سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  14. بنگلہ دیش میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت قبول نہیں، عبوری حکومت کا خاکہ ہم دیں گے: طلبہ تحریک

    بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ناہید اسلام کا کہنا ہے کہ وہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران عبوری قومی حکومت کی تجاویز پیش کریں گے اور وہ کسی ایسی حکومت کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی تجاویز اور حمایت کے بغیر بنائی گئی ہو۔

    طلبہ تحریک کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’اگلے 24 گھنٹوں کے دوران میں ایک عبوری قومی حکومت کی تجاویز پیش کروں گا۔ اس میں تحریک چلانے والوں کا ایک حصہ ہو گا اور میں ان لوگوں کے نام ظاہر کروں گا جو حکومت میں شامل ہوں گے۔ اس میں سول سوسائٹی سمیت سب کی نمائندگی یقینی بنائی جائے گی۔‘

    اس کے ساتھ ہی انھوں نے اعلان کیا کہ چاہے فوجی حمایت یافتہ حکومت ہو یا ہنگامی حالات کے تحت قائم کیا گیا صدارتی نظام، طلبہ ایسی کسی حکومت کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی تجویز کردہ نہ ہو۔

  15. بنگلہ دیش میں منگل کی صبح کرفیو ختم ہوجائے گا: آئی ایس پی آر

    بنگلہ دیش میں 17 روز سے جاری کرفیو کو منگل کی صبح سے ختم کیا جا رہا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پیر کی شب ایک نوٹیفیکیشن میں اعلان کیا ہے کہ منگل کی صبح چھ بجے کرفیو کا اختتام ہوجائے گا۔ اس اعلان میں بتایا گیا ہے کہ تمام دفاتر، عدالتیں، تعلیمی ادارے اور فیکٹریاں کھول دی جائیں گی۔

    19 جولائی میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا اور ملک میں جاری پُرتشدد واقعات کو روکنے کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا تھا۔

    اس دوران کئی بار کرفیو کی شرائط میں نرمی بھی کی گئی تھی۔ تاہم مظاہرین نے کرفیو کی سختیوں کے باوجود اپنا احتجاج جاری رکھا تھا۔

    پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ

    سینکڑوں مظاہرین نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈنڈوں سے لیس مظاہرین مرکزی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ اس عمارت میں پولیس اہلکار موجود تھے تاہم اب تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔ ملک بھر میں کئی پولیس سٹیشنز پر حملے کیے گئے ہیں۔

    انڈیا کی ریاست میگھالیہ نے بنگلہ دیشی سرحد کے قریب علاقوں میں کرفیو نافذ کیا ہے۔

    یورپی یونین نے ملک میں اقتدار کی جمہوری منتقلی کا مطالبہ کیا ہے

  16. خالدہ ضیا کی لوگوں سے پُرامن رہنے کی اپیل

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا اور قائم مقام چیئرمین طارق رحمان نے ملک میں جاری صورتحال کے تناظر میں عوام کو پُرامن رہنے کا کہا ہے۔

    بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام کا کہنا تھا کہ عوامی لیگ کی حکومت گِرنے سے ان کا مطالبہ پورا ہوچکا ہے لہذا اب وہ پُرامن رہیں۔

    انھوں نے یہ پیغام آرمی چیف جنرل وقار الزمان سے ملاقات کے بعد دیا۔

    شیخ حسینہ کے استعفے کے بعد آرمی چیف نے فوج کے ہیڈکوارٹر میں متعدد سیاستدانوں سے ملاقات کی تھی۔ دریں اثنا بی این پی کی جانب سے طلبہ کے مظاہرے کی حمایت کی گئی تھی۔

  17. اجیت دوول کی ایئرپورٹ پر شیخ حسینہ سے ملاقات

    انڈیا کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے دلی کے قریب ایک فوجی اڈے پر ملاقات ہوئی۔

    اطلاعات کے مطابق دلی کے قریب غازی آباد میں ہندن ایئر بیس پر اجیت دوول نے شیخ حسینہ کا استقبال کیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق شیخ حسینہ کو لے جانے والا فوجی طیارے نے ہندن ایئر پورٹ پر مقامی وقت کے مطابق قریب پانچ بجے لینڈ کیا تھا۔

    دلی میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ انڈیا میں قیام نہیں کریں گی بلکہ وہ یہاں عارضی طور پر رُکی ہیں۔ وہ یہ عندیہ دیتے ہیں کہ شیخ حسینہ ممکنہ طور پر برطانیہ جائیں گی۔

    اس حوالے سے کوئی مصدقہ تفصیلات نہیں ہیں کہ آیا وہ انڈیا میں دو سے تین گھنٹے رُکیں گی یا دو سے تین دن۔

    دریں اثنا شام کو انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات ہوئی اور انھیں بنگلہ دیش کی صورتحال کے حوالے سے بریفننگ دی گئی۔

  18. ’میرا ملک دوبارہ آزاد ہوگیا‘

    بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں مظاہرین شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔

    17 سالہ طالبہ فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں یہاں اپنی آزادی کا جشن منا رہی ہوں۔ میرا ملک دوبارہ آزاد ہوچکا ہے۔‘

    ’میں، میرے بھائیوں اور بہنوں نے اس کے لیے جدوجہد کی ہے۔ اور بالآخر ہمیں آزادی مل گئی ہے۔ ہم وہ کریں گے جو کرنا ہمیں پسند ہے۔ وہ نہیں جو دوسرے ہمیں کہیں گے۔‘

    رسووا نامی کاروباری شخصیت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گذشتہ ہفتوں نے ہمیں بہت مایوس کیا۔۔۔ ہماری اظہار رائے کی آزادی کھو چکی تھی۔‘

    ’اور آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سب باہر آچکے ہیں۔ ہم فتح سے ہمکنار ہوئے ہیں۔‘

    مظاہرے میں شریک خاتون کا کہنا تھا کہ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کے خلاف جنگ اب پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

  19. بنگلہ دیش میں اب تک کیا ہوا ہے؟

    • شیخ حسینہ سنہ 2009 سے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں مگر کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بعد وہ مستعفی ہوچکی ہیں
    • خیال ہے کہ شیخ حسینہ انڈیا پہنچ چکی ہیں جبکہ ڈھاکہ میں مشتعل مظاہرین نے وزیر اعظم آفس سمیت کئی اہم مقامات پر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا ہے
    • ڈھاکہ میں حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ پیر کو پُرتشدد واقعات میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں
    • مظاہرین نے پولیس کی کئی عمارتوں کو نذرِ آتش کیا جبکہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے مجسمے کو بھی گِرا دیا
    • سرکاری ٹی وی پر خطاب کے دوران بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے عبوری حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ تاحال جنرل وقار الزمان نے یہ نہیں بتایا کہ اس عبوری حکومت کی سربراہی کون کرے گا۔ اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں
    • گذشتہ ماہ بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اب تک سینکڑوں اموات ہوئی ہیں۔ یہ مظاہرے شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف ایک تحریک میں بدل چکے تھے
  20. ڈھاکہ میں پُرتشدد واقعات کے دوران 20 افراد ہلاک: اے ایف پی

    بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پیر کے روز پُرتشدد واقعات میں کم از کم 20 افراد کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

    ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال کے پولیس انسپکٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں اب تک یہاں 20 لاشیں موصول ہوئی ہیں۔‘ انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دی ہیں۔

    ہلاکتوں کی اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔