مذاکرات تاحال ہو رہے ہیں اور بلوچ ’راجی مچی‘ کا دھرنا بھی جاری ہے: بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے راجی مچی دھرنا یعنی قومی اجتماع کے ختم ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنا اس وقت گوادر میں جاری ہے اور حکومت کے ساتھ دو دن سے مذاکرات ہو رہے ہیں، جواب تک جاری ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما نادیہ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے آفیشل اکاؤنٹس سے عوام کو مطلع کیا جائے گا۔
دوسری جانب بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ جب تک اس اجتماع کے حوالے سے تمام گرفتار اور جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کو رہا نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک ان کا کوئٹہ میں دھرنا جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان میں محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔
بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گوادر میں میرین ڈرائیو پر جاری دھرنا ختم کر دیا جائے گا اور آج سے صوبے بھر کی تمام قومی شاہراہیں کھول دی جائیں گی۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ موبائل نیٹ ورک جلد بحال کر دیے جائیں گے جبکہ تمام راستوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی جائیں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دھرنا ختم کیے جانے کے بعد بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار کیے جانے والے تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں 28 جولائی کو ہونے والے جلسے کو میرین ڈرائیور پر دو مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنے میں تبدیل کر دیا تھا۔
ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا کہ گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور راستوں میں روکے جانے والے افراد کو گوادر آنے دیا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطالبات
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں نے اپنے دھرنے کے مقاصد اس طرح بیان کیے
- بلوچ راجی مچی میں شہید اور زخمی ہونے والے لوگوں کی ایف آئی آر بی وائی سی اور لواحقین کی مدعیت میں درج کی جائے گی
- بلوچ راجی مچی میں گرفتار تمام لوگوں کو رہا کیا جائے گا
- تمام ایف آئی آرز ختم کی جائیں گی
- دھرنا ختم ہونے کے بعد بلوچ راجی مچی میں شریک کسی بھی شہری کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی راجی مچی کے متعلق ایف آئی آرز کی جائیں گی
- تمام راستے فوری طور پر کھولے جائیں گے
- انٹرنیٹ کو بحال کیا جائے گا۔
’بلوچ قومی اجتماع‘ کے انعقاد کےمقاصد
’بلوچی قومی اجتماع‘ کے انعقاد کا اعلان کئی ہفتوں پہلے یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ عرف شاہ جی نے کیا تھا۔
اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والےبلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ بلوچوں کی نسل کشی کے علاوہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے علاوہ ان کے وسائل پر بھی قبضہ کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس پُرامن اجتماع کے انعقاد کا مقصد ان اقدامات کی روک تھام کے لیے ایک لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔