آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں میں 80 سے زائد ہلاکتیں، مظاہرین کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان: ’تخریب کاری کرنے والے دہشت گرد ہیں‘ شیخ حسینہ

بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان اتوار کو ہونے والی حالیہ تازہ ترین جھڑپوں میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کئی مقامات پر سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم حسینہ واجد اپنے عہدے سے فوری مستعفی ہوں۔

خلاصہ

  • بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مظاہروں میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت 80 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد وہاں تین روزہ تعطیل اور غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ مظاہرین نے سوموار کے روز ’لانگ مارچ ٹو ڈھاکہ‘ کے نام سے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔
  • بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام دھرنوں اور احتجاج کا سلسلہ اتوار کو آٹھویں روز بھی جاری رہا۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں سے مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
  • امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور اردن نے اپنے شہریوں کو جلد از جلد لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
  • برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی انخلا میں مدد کے لیے اضافی فوجی اہلکار، قونصلیٹ کا عملہ اور سرحدی فورس کے اہلکاروں کو بھیج رہا ہے۔ دو برطانوی فوجی جہاز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں اور رائل ایئر فورس نے ٹرانسپورٹ والے ہیلی کاپٹروں کو سٹینڈ بائی پر رکھا ہوا ہے۔

لائیو کوریج

  1. مذاکرات تاحال ہو رہے ہیں اور بلوچ ’راجی مچی‘ کا دھرنا بھی جاری ہے: بلوچ یکجہتی کمیٹی

    بلوچ یکجہتی کمیٹی نے راجی مچی دھرنا یعنی قومی اجتماع کے ختم ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنا اس وقت گوادر میں جاری ہے اور حکومت کے ساتھ دو دن سے مذاکرات ہو رہے ہیں، جواب تک جاری ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما نادیہ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے آفیشل اکاؤنٹس سے عوام کو مطلع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ جب تک اس اجتماع کے حوالے سے تمام گرفتار اور جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کو رہا نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک ان کا کوئٹہ میں دھرنا جاری رہے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان میں محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔

    بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گوادر میں میرین ڈرائیو پر جاری دھرنا ختم کر دیا جائے گا اور آج سے صوبے بھر کی تمام قومی شاہراہیں کھول دی جائیں گی۔

    وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ موبائل نیٹ ورک جلد بحال کر دیے جائیں گے جبکہ تمام راستوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی جائیں گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دھرنا ختم کیے جانے کے بعد بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار کیے جانے والے تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں 28 جولائی کو ہونے والے جلسے کو میرین ڈرائیور پر دو مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنے میں تبدیل کر دیا تھا۔

    ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا کہ گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور راستوں میں روکے جانے والے افراد کو گوادر آنے دیا جائے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطالبات

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں نے اپنے دھرنے کے مقاصد اس طرح بیان کیے

    • بلوچ راجی مچی میں شہید اور زخمی ہونے والے لوگوں کی ایف آئی آر بی وائی سی اور لواحقین کی مدعیت میں درج کی جائے گی
    • بلوچ راجی مچی میں گرفتار تمام لوگوں کو رہا کیا جائے گا
    • تمام ایف آئی آرز ختم کی جائیں گی
    • دھرنا ختم ہونے کے بعد بلوچ راجی مچی میں شریک کسی بھی شہری کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی راجی مچی کے متعلق ایف آئی آرز کی جائیں گی
    • تمام راستے فوری طور پر کھولے جائیں گے
    • انٹرنیٹ کو بحال کیا جائے گا۔

    ’بلوچ قومی اجتماع‘ کے انعقاد کےمقاصد

    ‎’بلوچی قومی اجتماع‘ کے انعقاد کا اعلان کئی ہفتوں پہلے یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ عرف شاہ جی نے کیا تھا۔

    ‎اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والےبلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    ‎ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ بلوچوں کی نسل کشی کے علاوہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔

    ‎ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے علاوہ ان کے وسائل پر بھی قبضہ کیا جارہا ہے۔

    ‎انھوں نے کہا کہ اس پُرامن اجتماع کے انعقاد کا مقصد ان اقدامات کی روک تھام کے لیے ایک لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔

  2. پاکستان کی قومی اسمبلی میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی نے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل اوراسرائیلی جارحیت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اورحماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

    قرارداد کے متن کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں۔

    • یہ ایوان اسرائیلی مظالم کو مسترد کرتا ہے اور فلسطینی عوام سے مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے۔
    • اسرائیلی مظالم کے باعث 40 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
    • پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا ہے۔

    قومی اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فلسطین میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

    قرارداد کے مطابق

    • اسرائیلی بربریت سے خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے۔
    • تمام پارلیمانی جماعتیں گزشتہ نو ماہ سے فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جبر و بربریت پر متحد ہو کر غم و غصے کا اظہار کرتی ہیں۔
    • ایسے واقعات کو فلسطینیوں کے خلاف جاری ظلم و بربریت کو روکنے اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سوچی سمجھی سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    • پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ جس میں محرکات سے قطع نظر ماورائے عدالت اور ماورائے عدالت قتل، اور خطے میں بڑھتی ہوئی مہم جوئی پر شدید تشویش کے ساتھ خیالات شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فلسطین کے ایشو پر ہونے والے اجلاس میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کے روز ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    فلسطین کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے اراکین نے شرکت کی تھی۔

    جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیاتھا کہ فلسطینیوں سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف کل ملک بھر میں یوم سوگ منایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں بدھ کے روز ایک حملے میں مارے گئے تھے۔

    حماس کے مطابق، ہنیہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے جہاں انھیں نشانہ بنایا گیا۔

  3. گلگت بلتستان اور چترال میں بارشوں کے باعث گلیشیئر پر بننے والی جھیل کے پھٹنے کا خطرہ ہے: محکمہ موسمیات

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال میں گلوف (گلیشیئر پر بننے والی جھیل کے پھٹنے) کا خطرہ ہے اور اس کے باعث سیلاب آسکتا ہے۔

    ادارے کی جانب سے جاری انتباہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ 3 اگست کی شام سے چترال میں بارشوں کا امکان ہے جبکہ 3 سے 6 اگست کے دوران گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں اور بلند و بالا برفانی جھیلوں کے پگھلنے کی وجہ سے علاقے میں گلوف اور سیلاب کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ اور مقامی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ گلوف اور سیلاب سے متعلقہ واقعات سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مُلک میں حالیہ بارشوں کی وجہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال میں بننے والا مون سون کا سلسلہ ہے جو 31 جولائی کو ملک میں داخل ہوا ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ مون سون کے اس سلسلے کے نتیجے میں 2 تا 5 اگست ملک کے بیشتر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

  4. اسلام آباد ہائی کورٹ نے شبلی فراز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

    جمعے کے روز شبلی فراز کی جانب سے بیرون ملک جانے پر پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی۔

    شبلی فراز اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت شبلی فراز کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان مؤکل کے خلاف چار 4 ایف آئی آرز درج ہیں اور وہ ان تمام کیسز میں ضمانت پر ہیں۔

    عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آیا ان کے پاس شبلی فراز کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا کوئی جواز ہے۔ اس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت جو حکم کرے گی ہم اس پر عمل کریں گے۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ اور ڈائیریکٹر جنرل پاسپورٹس شبلی فراز کا نام ای سی ایل میں رکھنے کے بارے میں عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے شبلی فراز کا نام ایک ہفتے میں ای سی ایل سے نکال کر رپورٹ عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے عملدرآمد کی رپورٹ پیش کریں۔

  5. سرد جنگ کے بعد مغرب اور روس کے درمیان قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ، 24 افراد رہا

    امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کے روز روس اور مغربی دنیا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں 24 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

    یہ سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی دنیا کے درمیان قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روس نے 16 قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ ان میں امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے رپورٹر ایوان گرشکووچ بھی شامل ہیں۔

    ان قیدیوں کے بدلے میں امریکہ، ناروے، جرمنی، پولینڈ اور سلووینیا کی جیلوں میں قید آٹھ روسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

    رہا کیے جانے والے روسی قیدیوں میں انٹیلی جنس سرگرمیوں میں ملوث افراد بھی شامل ہیں۔

    قیدیوں کا تبادلہ جمعرات کو ترکی کے شہر انقرہ کے ہوائی اڈے کے رن وے پر ہوا تھا۔

    رہا کیے جانے والوں میں تین امریکی شہری ایوان گرشکووچ، پال وہیلان، السو کرماشیوا شامل ہیں۔ ان تینوں کو واپس امریکہ لایا جا رہا ہے۔

    ولادیمیر کارا مرزا برطانوی اور روسی شہریت کے حامل ہیں جبکہ ان کے پاس امریکہ کا ورک ویزا بھی ہے۔ انھیں جرمنی بھیجا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ بارہ جرمن اور روسی سیاسی قیدی جرمنی جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب آٹھ روسی شہریوں کو امریکا، جرمنی، سلووینیا، ناروے اور پولینڈ سے رہائی کے بعد واپس ماسکو لے جایا جا رہا ہے۔

    ’ایوان کی رہائی کے لیے 491 دن انتظار کیا‘

    جب اس بات کی تصدیق ہوئی کہ روسی قید سے رہائی پانے والوں میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ایوان گیرشکووچ بھی شامل ہیں تو ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’ایوان کی رہائی کے لیے 491 دن انتظار کیا ہے۔‘

    ایوان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ انھیں ’گلے لگانے اور ان کی مسکراہٹ کو قریب سے دیکھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

  6. انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب، گوادر دھرنا ختم کرنے پر اتفاق: بلوچستان حکومت کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد گوادر میں پانچ روز سے جاری دھرنا ختم کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گوادر میں میرین ڈرائیو پر جاری دھرنا ختم کر دیا جائے گا اور آج سے صوبے بھر کی تمام قومی شاہراہیں کھول دی جائیں گی۔

    وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ موبائل نیٹ ورک جلد بحال کر دیے جائیں گے جبکہ تمام راستوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی جائیں گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دھرنا ختم کیے جانے کے بعد بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار کیے جانے والے تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں 28 جولائی کو ہونے والے جلسے کو میرین ڈرائیور پر دو مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنے میں تبدیل کر دیا تھا۔

    ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا کہ گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور راستوں میں روکے جانے والے افراد کو گوادر آنے دیا جائے۔

  7. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ یہاں پڑھیے

    گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ آج سے صوبے بھر کی تمام قومی شاہراہیں کھول دی جائیں گی۔
    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فلسطین کے ایشو پر ہونے والے اجلاس میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کے روز ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فلسطینیوں سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف جمعے کے روزملک بھر میں یوم سوگ منایا جائے گا۔
    • ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کی بارشیں زور پکڑ گئیں۔ خیبرپختونخوا میں تین روز میں 24 جبکہ پنجاب میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
    • ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔
    • صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرّم میں دو قبائل کے درمیان زمین کے تنازعہ پر جرگے کے بعد فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔
  8. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    اس لائیو پیج میں پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کی جائیں گی۔

    یکم اگست کی خبروں کو جاننے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کیجئے۔