فیض آباد دھرنا کیس: کمیشن کی رپورٹ پڑھ کر مایوسی ہوئی، بظاہر یہ رپورٹ کہ فیض حمید کے بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ رپورٹ تیار کرنے والوں کے ذہن میں کیا تھا، کیونکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کمیشن کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اُن کی ذمہ داری کیا تھی۔
پیر کے روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر اعوان پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ نے فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس پر سماعت کا آغاز کیا تو کمیشن کی جانب سے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
سماعت کے دوران کمیشن کے تینوں ممبران میں سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا اور اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ کمیشن کے سربراہ اختر علی شاہ کو آج سپریم کورٹ آنے کا کہا گیا تھا تاہم ان کی جانب سے معطلع کیا گیا کہ ان کی طبعیت ناساز ہے چنانچہ وہ عدالت نہیں آ سکتے۔
دوران سماعت کمیشن کی رپورٹ پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بظاہر کمیشن نے یہ رپورٹ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے بیان کی بنیاد پر تیار کی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انھیں یہ رپورٹ پڑھ کر مایوسی ہوئی اور بظاہر یہ کمیشن وقت ہی ضائع کرتا رہا ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ بس آگے بڑھو، ماضی سے سیکھے بغیر کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے؟
انھوں نے ریمارکس دیے کہ کمیشن کہہ رہا ہے جو کر رہے ہیں وہ ذمہ دار نہیں، بلکہ پنجاب حکومت ذمہ دار ہے، کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ حلف کی خلاف ورزی کس نے کی۔
انھوں نے استفسار کیا کہ کمیشن کیسے کہہ سکتا ہے کہ مظاہرین کو پنجاب میں روکنا چاہیے تھا، پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ انھیں معلوم نہیں کہ کمیشن کو کس بات کا خوف تھا اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انکوائری کمیشن کو پنجاب حکومت سے کوئی بغض ہے۔
دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیے کہ کمیشن کا سارا فوکس صرف اس بات پر تھا کہ مظاہرین کو پنجاب سے اسلام آباد کیوں آنے دیا گیا، کمیشن نے سارا نزلہ پنجاب حکومت پر گرایا ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن نے ساری رپورٹ پنجاب حکومت کے خلاف لکھ دی ہے، اس رپورٹ میں سنجیدگی کہیں نظر نہیں آ رہی۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کمیشن کو فریم ورک کی سفارشات کا کہا تھا، مگر وہ نہیں دی گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر 2019 والے فیصلے پر عمل کرتے تو شاید نو مئی کے واقعات بھی نہ ہوتے۔
کیس کی سماعت جاری ہے جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔