وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز
بگٹی نے 11 اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری مقرر کر دیا ہے۔
پارلیمانی سیکریٹریز میں سے دس کا
تعلق پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مُسلم لیگ ن سے ہے۔
ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق
مسلم لیگ ن کے سردار مسعود لونی کو پارلیمانی سیکریٹری برائے جنگلات وجنگلی حیات
اور برکت علی کو ماہی گیری و ساحلی ترقی کا پارلیمانی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے اسفند یار کاکڑ کو
اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور مینہ مجید بلوچ بین الصوبائی رابطے کی پارلیمانی سیکرٹری
مقرر کی گئی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے لیاقت لہڑی ایس اینڈ
جی اے ڈی اور عبید اللہ گورگیج کو پراسیکیوشن کے پارلیمانی سیکرٹری بنایا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے صمد خان گورگیج
قانون و پارلیمانی امور اور اصغر رند محکمہ توانائی کے پارلیمانی سیکرٹری مقرر کیئے
گئے ہیں۔
نواز لیگ کے محمد خان لہڑی کو ایکسائز
اینڈ ٹیکسیشن اور جماعت اسلامی کے عبد المجید بادینی کو ٹرانسپورٹ کا پارلیمانی سیکریٹری
مقرر کیا گیا ہے جبکہ اقلیتی رکن سنجے کمار کو اقلیتی امور کا پارلیمانی سیکرٹری
بنایا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین نے اتنی بڑی تعداد میں
پارلیمانی سیکریٹریز کی تقرری کی وجہ اراکین اسمبلی کی ناراضگی کو قرار دیا ہے۔
تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا
کہنا ہے کہ چونکہ دونوں بڑی جماعتوں میں ایک بڑی تعداد الیکٹیبلز کی تھی جو کہ وزیر
اور مشیر نہ بننے کی وجہ سے ناراض تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پر
دبائو زیادہ تھا اس لیے انھوں نے 11 اراکین کو پارلیمانی سیکریٹری بنا کر ان کو
محکمے الاٹ کر دیے ہیں۔
تجزیہ کار رضاءالرحمان نے بتایا
کہ دونوں بڑی جماعتوں نے نہ صرف الیکٹیبلز بلکہ بعض آزاد اراکین کو اس شرط پر شامل
کرایا تھا کہ ان کو کابینہ میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے محکمے بھی دیئے جائیں
گے۔
انھوں نے بتایا کہ آئینی قدغنوں کی
وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے اراکین اسمبلی کی ایک بڑی تعداد کو پارلیمانی
سیکریٹری بناکر ان کی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب بھی بہت
سارے اراکین ناراض ہیں کیونکہ پارلیمانی سیکریٹری کے طور پر ان کو ان کی خواہش کے
مطابق محکمے نہیں دیئے گئے ہیں۔