لائیو, پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی سے ہاتھ کھڑے نہیں کیے: دفتر خارجہ
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث ثالثی کا عمل چیلنجز سے دوچار ضرور ہے تاہم پاکستان نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں اور امن کی جانب واپسی اسی خاکے کے ذریعے ہو گی جو اسلام آباد ایم او یو میں فراہم کیا گیا ہے۔
کویت اور بحرین کی افواج کا کہنا ہے
کہ جمعرات کو دونوں ممالک ایک بار پھر ایرانی فضائی حملوں کا نشانہ بنے، جبکہ
آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع پر ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کا تبادلہ
جاری ہے۔
کویتی فوج نے کہا کہ اس نے ڈرون
حملوں کی ایک نئی لہر کو ناکام بنایا اور اسے ’ایرانی جارحیت‘ قرار دیا۔ خبر رساں
ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق کویت کے دار الحکومت کے قریب دھماکوں کی
آوازیں بھی سنی گئیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت کے
علی السالم فضائی اڈے پر ریڈار نظام، ایک فضائی دفاعی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے
کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تہران کے مطابق بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود
امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ
شروع ہونے والی لڑائی کے بعد سے کویت اور بحرین کئی مرتبہ ایرانی حملوں کا نشانہ
بن چکے ہیں۔
ایران
کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم کویت اور
بحرین کی حکومتوں نے الزام لگایا ہے کہ ایران شہری تنصیبات پر حملے کر رہا ہے۔
امریکہ، ایران کشیدگی بڑھنے سے ثالثی کا عمل چیلنجز کا شکار ہے لیکن ہتھیار نہیں ڈالے: پاکستان
،تصویر کا ذریعہx.com/ForeignOfficePk
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے
کہا ہے کہ امریکہ اور ایران میں کشیدگی بڑھنے سے ثالثی کا عمل چیلنجز کا شکار ضرور
ہے لیکن پاکستان نے ہتھیار نہیں ڈالے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے
دوران طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرانے والے
پاکستان نے کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد کیا ’ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں؟‘
اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہوئے ترجمان
دفتر خارجہ نے کہا: ’امید ہے کہ بالآخر امن اور مذاکرات کی منطق غالب آ جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امن کا عمل کبھی
ختم نہیں ہوتا۔ اسے وقتی طور پر پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے، لیکن وہ جاری رہتا ہے۔
طاہر اندرابی کے مطابق جس منطق پر
امریکہ اور ایران میں مفاہمت کی یادداشت ہوئی تھی وہ اب بھی موجود ہے، ’جب بھی
فریقین یہ محسوس کریں گے کہ کشیدگی بڑھانے کی منطق اپنی افادیت کھو چکی ہے، تو امن
کی جانب واپسی اسی خاکے کے ذریعے ہو گی جو اسلام آباد ایم او یو میں فراہم کیا گیا
ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار
بریفنگ میں کہا: ’پاکستان ایک بار پھر تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا
مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے میں امن اور استحکام کو
مزید نقصان پہنچا سکتا ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں
طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) امن، باہمی احترام اور
مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک دیر پا فریم ورک ہے اور پاکستان تمام فریقوں کو
’تکنیکی سطح کے مذاکرات بحال کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔‘
انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’کہ
تمام فریق بقایا مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے راستے سے وابستہ
رہیں گے۔‘
امریکہ
اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش پر تبصرہ کرتے ہوئے
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’ہم آبنائے ہرمز میں صورتحال جلد معمول پر آنے کی امید
کا اظہار کرتے ہیں اور بحری جہاز رانی کی مسلسل حفاظت، سلامتی اور آزادی کو یقینی
بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔‘
پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود، مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: وزیر اعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم
مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری
بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیرِ صدارت خطے میں کشیدگی کے ملکی معیشت پر اثرات کے
جائزے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں ایندھن کی فراہمی، کفایت شعاری اقدامات اور ممکنہ
معاشی چیلنجز پر غور کیا گیا۔
بیان میں اجلاس کے دوران دی گئی
بریفنگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کے وافر
ذخائر موجود ہیں اور آئندہ کے لیے بھی ان کی فراہمی یقینی بنا دی گئی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا
ہے جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئل
کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو خط میں
لکھا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے کیونکہ فروخت کے لیے
دستیاب ذخائر کم ہو گئے ہیں۔
جبکہ روزنامہ
ایکسپریس ٹریبیون نے صنعتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں صرف 14 دن کا
پیٹرول کا ذخیرہ رہ گیا ہے۔
ایکسپریس
ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق صنعت سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرول کے ذخائر کم ہو کر تقریباً تین
لاکھ 79 ہزار 442 ٹن رہ گئے ہیں، جن میں مقامی ریفائنریوں کی پیداوار بھی شامل ہے۔
موجودہ طلب کے مطابق یہ ذخائر صرف 14 روز کے لیے کافی ہیں۔
رپورٹ میں صنعتی اعداد و شمار کے حوالے سے کہا
گیا ہے کہ جولائی کے پہلے 13 دنوں کے دوران پیٹرول کی یومیہ فروخت اوسطاً 25 ہزار
ٹن رہی، جو اندازوں سے تقریباً 16 فیصد اور گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 26
فیصد زیادہ ہے۔
کھپت
میں اضافے کو اس بات سے جوڑا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور
ممکنہ اضافے کی توقع کے باعث صارفین اور ڈیلرز نے خریداری بڑھا دی ہے۔
کشیدگی کے دوران ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں: روس
روس نے کہا ہے کہ ’عدم استحکام کے
ایک نئے دور‘ کے باعث عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور وہ ایرانی حکام سے
رابطے میں ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان رابطوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
روس
متعدد مواقع پر ایران اور امریکہ دونوں سے کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے کی
اپیل کر چکا ہے۔
یوکرین میں وزیرِ دفاع کی برطرفی کے خلاف مظاہرے, کیئو سے لورا گوزی، اناستاسیا لیوچینکو اور نامہ نگار برائے مشرقی و جنوبی یورپ سارہ رینزفورڈ
،تصویر کا ذریعہGlobal Images Ukraine via Getty Images
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی
جانب سے مقبول وزیرِ دفاع میخائیلو فیڈوروف کو اچانک برطرف کیے جانے کے خلاف ملک
کے کئی شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
مظاہرین نے جو بینر اٹھا رکھے ہیں ان
پر درج ہے ’فیڈوروف سے دور رہو‘ اور ’فتح کو
سبوتاژ کرنا بند کرو۔‘
زیلنسکی نے تا حال اپنے فیصلے کی
وضاحت نہیں کی ہے، جس پر مبصرین، فوجی حلقوں اور سول سوسائٹی کے بعض طبقات میں
شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
35 سالہ
فیڈوروف کو جنوری میں وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ انھیں وزارت کو متحرک کرنے، بد
عنوانی کے خلاف اقدامات اور محاذِ جنگ پر کارکردگی کا تجزیہ اور بہتری لانے کے لیے
ڈیٹا کے استعمال کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔
افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ
میخائیلو فیڈوروف کی برطرفی ان کے اور مسلح افواج کے سربراہ اولیکساندر سرسکی کے
درمیان کشیدگی سے جڑی ہے۔
جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں
فیڈوروف نے تقریباً اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے زیلنسکی کو مشورہ
دیا تھا کہ سرسکی اور چیف آف جنرل سٹاف آندری ہناتوف کو تبدیل کیا جائے۔
فیڈوروف نے کہا: ’جب صدر نے کہا کہ
ان کا سرسکی کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تو میں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ
کام کرنا سیکھ لوں گا۔‘
سرسکی
کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ’روس کو غیر روایتی انداز میں شکست دینے کا راستہ
تلاش کرنے کے بجائے، جو کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری ہے، انھوں نے ہمارے ملک کو
تقسیم کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔‘
انڈیا نے اپنے جہاز ران آبنائے ہرمز نہ بھیجنے کی ہدایت کر دی
،تصویر کا ذریعہElke Scholiers/Getty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی
ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر انڈیا نے بحری جہازوں کے مالکان اور جہاز ران بھرتی کرنے
والی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ آئندہ اطلاع تک انڈین جہاز رانوں کو ان بحری جہازوں
پر تعینات نہ کریں جو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں۔
یہ ہدایت انڈین حکام کی اس تصدیق کے
بعد جاری کی گئی ہے کہ گذشتہ ہفتے سے خطے میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں
میں کم از کم دو بھارتی جہاز ران ہلاک ہو چکے ہیں۔
انڈیا کا شمار دنیا میں تجارتی جہاز
رانی کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ انڈین
وزارتِ جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 میں اس صنعت میں تین لاکھ 20
ہزار سے زائد انڈین جہاز ران کام کر رہے تھے۔
انڈیا کے میری ٹائم ڈائیریکٹوریٹ جنرل نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا: ’اگلے حکم تک کسی بھی انڈین جہاز ران کو ایسے بحری جہاز پر تعینات نہ کیا جائے جس کے سفر کے راستے میں آبنائے ہرمز شامل ہو۔‘
شام نے حزب اللہ کے لیے لبنان سمگل کیے جانے والے اسلحے کی کھیپ ضبط کر لی
،تصویر کا ذریعہAmir Levy/Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا
نے جمعرات کو ملک کی وزارتِ داخلہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ شامی
حکام نے عراق کی سرحد سے شام میں سمگل کیے جانے والے اسلحے اور جدید میزائلوں کی
ایک کھیپ پکڑ لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی
تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے یہ کھیپ لبنان کی جماعت حزب اللہ کو بھیجی جانی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں
بتایا تھا کہ انھوں نے شامی صدر احمد الشرع کے ساتھ حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے
حوالے سے بات چیت کی تھی۔
لبنانی
صدر جوزف عون کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ احمد الشرع نے انھیں یقین
دہانی کرائی ہے کہ شام لبنان کے داخلی معاملات میں کسی فریق کا ساتھ نہیں دے گا۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 2800 سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو
تیزی کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 2837 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ
کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 178124 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی انڈیکس میں 1767 پوائنٹس کا اضافہ
ہوا تھا۔
مسلسل دو روز کی تیزی سے قبل، رواں
ہفتے کے ابتدائی دو کاروباری دنوں کے دوران انڈیکس میں 8000 سے زائد پوائنٹس کی
کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی اور
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور
ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں نمایاں مندی دیکھی گئی، تاہم گذشتہ دو
روز کے دوران مارکیٹ نے خاطر خواہ ریکوری کی ہے۔
تجزیہ کار جبران سرفراز کا کہنا ہے
کہ سٹاک مارکیٹ پر موجود کمپنیاں مالیاتی نتائج کا اعلان کرنے والی ہیں اور بہتر نتائج
کی توقعات کے باعث حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
ان
کے مطابق مارکیٹ میں حالیہ بڑی گراوٹ کے بعد حصص نسبتاً کم قیمتوں پر دستیاب تھے،
جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بڑھی اور مارکیٹ کی ریکوری میں مدد
ملی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہBYC
بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک ڈویژن بینچ
نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما
صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے
استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
یہ اپیلیں انسدادِ دہشت گردی عدالت
کوئٹہ ون کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں جس میں دونوں رہنماؤں کو سزا سنائی
گئی تھی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ
بلوچ کو فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا
سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق سکیورٹی اہلکار جولائی 2024 میں ’بلوچ راجی مچی‘
نامی جلسے میں پتھر لگنے سے ہلاک ہوئے تھے۔
بی وائی سی کے دونوں رہنماؤں پر
الزام تھا کہ ان کے اکسانے پر ایک ہجوم نے ایف سی کی گاڑی پر حملہ کیا، جس کے
نتیجے میں ایک اہلکار جان سے گیا۔
اپیل میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ ون کے
فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہائیکورٹ کے جسٹس گل حسن ترین اور جسٹس نجم الدین
مینگل پر مشتمل بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
کی جانب سے خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ، شعیب ایڈووکیٹ اور نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ عدالت
میں پیش ہوئے۔
خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو بے
بنیاد الزامات کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔
ان کے مطابق سیشن کورٹ گوادر نے اسی
مقدمے میں استغاثہ کی پیش کردہ شہادتوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک ملزم کو بری کر دیا
تھا، جبکہ انھی شہادتوں کی بنیاد پر بی وائی سی کے رہنماؤں کو سزا سنائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی
رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہونے والا ٹرائل قانون اور انصاف کے
تقاضوں کے مطابق نہیں تھا، کیونکہ درخواست گزاروں کے اپنے وکلا موجود ہونے کے
باوجود عدالت نے ان کے لیے سٹیٹ کونسل مقرر کیا۔
خالد خان بلوچ کے مطابق مبینہ غیر
منصفانہ ٹرائل کے خلاف نہ صرف درخواست گزاروں نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی
کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا بلکہ فیصلے سے قبل اس حوالے سے ہائیکورٹ میں ایک
درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ سزا کے خلاف
اپیلوں پر ہائیکورٹ کے بینچ نے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ان
کے مطابق سزا سنائے جانے سے قبل غیر منصفانہ ٹرائل اور جج کی تبدیلی کے لیے ایک
آئینی درخواست بھی ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی، تاہم وہ درخواست تاحال سماعت کے
لیے مقرر نہیں ہو سکی ہے۔
میانمار کے ساحل کے قریب پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتیاں ڈوب گئیں، 500 افراد سوار تھے: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ میانمار
کے ساحل کے قریب 500 سے زائد افراد کو لے جانے والی دو کشتیاں ممکنہ طور پر ڈوب
گئی ہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری اقوام
متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے بیان میں کہا گیا کہ کشتیوں
پر سوار زیادہ تر مسافر روہنگیا تھے جو تحفظ کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر کر رہے
تھے۔
تہران کے خلیجی ہمسایہ ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر نئے حملے
،تصویر کا ذریعہReuters
تہران نے خلیجی خطے کے ہمسایہ ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر تازہ حملے شروع کر دیے ہیں، جبکہ واشنگٹن نے رات بھر ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
تہران کا کہنا ہے کہ اس نے خطے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں اردن، کویت اور بحرین بھی شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے ابتدائی معاہدے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے چھٹے روز کی گئیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے، جبکہ جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششوں کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
پاکستان کا جنگ کے خاتمے اور ایران۔امریکہ مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کو تشدد روکنے اور گذشتہ ماہ اپنی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت، ایم او یو، کی بنیاد پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں درپیش چیلنجز کے باوجود، پاکستان تمام فریقوں کو تشدد کے خاتمے اور اس یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال جلد از جلد معمول پر آجائے گی اور اس اہم بحری گزرگاہ میں مسلسل تحفظ، سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔‘
ایرانی وزارتِ تعلیم کا جنوبی صوبوں میں حتمی امتحانات منسوخ کرنے کا اعلان
ایران کی وزارتِ تعلیم نے ہرمزگان، بوشہر، خوزستان اور سیستان و بلوچستان صوبوں میں حتمی امتحانات منسوخ کر دیے ہیں۔
اس حوالے سے وزارتِ تعلیم کے سپریم امتحانی ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی موجودہ خصوصی صورتحال کے پیشِ نظر ہرمزگان، بوشہر، خوزستان اور سیستان و بلوچستان صوبوں میں بارہویں جماعت کے تمام تعلیمی شعبوں کے آج ہونے والے حتمی امتحانات اور گیارہویں جماعت کے سنیچر کو ہونے والے امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ وزارت تعلیم کے مطابق امتحانات کے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
امریکی حملوں کے ایک نئے سلسلے میں گذشتہ چند روز کے دوران ایران کے جنوبی صوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
امریکہ نے سعودی عرب اور کویت کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب کو تقریباً 1.96 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں تنازعات بڑھ رہے ہیں۔
امریکی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فروخت ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کی سلامتی کو مضبوط بنا کر امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرتی ہے۔ سعودی عرب خلیج فارس کے علاقے کے سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے‘۔
وزارت نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے لیے مجوزہ معاہدے میں لانچرز، وار ہیڈز، سپیئر پارٹس، ٹریننگ اور لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ ساتھ فضا سے فضا اور ہوا سے زمینی آپریشنز میں استعمال کے لیے ’جدید درستگی کے ہتھیاروں کے نظام‘ کے لیے 20,000 رہنمائی یونٹ شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کویت کو طیاروں کی تکنیکی مدد کے لیے 484 ملین ڈالر کے علیحدہ پیکج کی بھی منظوری دی ہے۔
کویت کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے میں C-17 طیاروں کے لیے تکنیکی معاونت اور متعلقہ سامان بھی شامل ہے، جس میں پُرزے، دیکھ بھال کی خدمات، سافٹ ویئر، تربیت اور لاجسٹک خدمات شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کی فروخت کو حتمی شکل دی جائے گی اور کانگریس کے جائزے کے بعد لاگو کیا جائے گا۔
ہم نے آٹھ ایرانی میزائل حملوں کو ناکام بنایا: اردن
،تصویر کا ذریعہReuters
اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پیٹرا کے مطابق ملک کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ اردن کی جانب داغے گئے آٹھ ایرانی میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
پیٹرا کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے بتایا کہ میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا گیا، جس کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
اس سے قبل ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے حملہ آور ڈرونز نے اردن کے الازرق ایئر بیس میں موجود مواصلاتی نظام، ایک مستقل ریڈار تنصیب اور امریکی فوج کے ایندھن ذخیرہ کرنے کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔
تاہم اردنی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی فضائی دفاعی صلاحیتوں نے ایرانی حملے کو ناکام بنا دیا اور ملک کے اندر کسی قسم کے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ایران نے ایک امریکی خاتون کو رہا کر دیا، ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ایک ایسی امریکی خاتون کو رہا کر دیا ہے جنھیں ٹرمپ کے بقول، دسمبر 2024 میں بلاوجہ حراست میں لیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران نے خاتون امریکی شہری کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔
امریکی صدر نے زیرِ حراست فرد کا نام ظاہر نہیں کیا تاہم انھوں نے بتایا کہ ’یہ خاتون اب محفوظ ہیں، مکمل صحت مند ہیں اور ایران سے باہر جا چکی ہیں۔‘
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ خاتون کو دسمبر 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب جو بائیڈن امریکی صدر تھے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
بریکنگ, ایرانی شہر سیمنان کا ایئرپورٹ امریکی حملوں کا نشانہ بنا، تاحال نقصان کی اطلاعات نہیں: ارنا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ رات کے وقت ہونے والے امریکی حملوں میں سیمنان ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی نے ارنا کا حوالہ دے کر رپورٹ کیا ہے کہ سیمنان کے حکام نے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ متعدد پروجیکٹائل سیمنان ایئرپورٹ کے احاطے میں آ کر گرے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سرکاری اہلکار کے مطابق ’سیمنان ایئرپورٹ سے ٹکرانے والے کئی پروجیکٹائل ہی شہر میں دھماکوں کی آوازوں کی وجہ بنے۔‘
ارنا کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے تحت اس حملے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یاد رہے کہ سیمنان ایران کے شمالی حصے میں واقع ایک اہم صوبہ ہے تاہم تاحال حملے کی نوعیت یا نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
اقوام متحدہ کا امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو سے لیے گئے اس منظر میں 15 جولائی کو ایران کے بندرگاہی شہر چابہار سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
اپنے بیان میں انھوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جاتی ہے تو اس کی قیمت عام شہریوں کو ادا کرنا پڑے گی۔
سٹیفن ڈوجارک کے مطابق ’مکمل اور بڑے پیمانے کی جنگ شہری آبادی کے لیے ناقابل برداشت نتائج لائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی تنازع کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی اور عالمی معیشت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کے ایران پر نئے حملے، ٹرمپ کی تہران کو ’بہتر رویہ اختیار کرنے‘ کی تنبیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنامریکہ نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے
امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’بہتر رویہ اختیار کرے‘۔
امریکی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال ہونے والی ’ایرانی فوجی صلاحیتوں‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے ایک ایسے جہاز پر فائرنگ کی جو ایران کی بندرگاہوں پر عائد کردہ نئی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین اور کویت سمیت خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے ابتدائی معاہدے کے باوجود پانچویں روز بھی کشیدگی برقرار رہی۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدے سے ایران کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو تہران کے پاس اس کی پابندی کرنے کی ’کوئی وجہ نہیں‘۔
منگل کی شب ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران اگلے ہفتے مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
بدھ کی شام صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ کارروائی سے قبل کوئی حتمی مہلت دیں گے تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’مجھے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں، لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے۔۔۔ انھیں بہتر رویہ اختیار کرنا ہوگا۔‘
بعد ازاں ایک دفاعی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران ’اس وقت خوش نہیں ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت شدت سے تصفیہ چاہتے ہیں۔ انھیں ہماری کارروائیاں پسند نہیں آ رہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ہم ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں یا معاملے کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔‘
تاہم محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں ’ایرانی انتظامات‘ برقرار رکھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات اور جنگ، دونوں ایران کی مزاحمتی حکمت عملی کا حصہ ہیں کیونکہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک ’وجودی‘ نوعیت کے تنازع میں مصروف ہے۔
ٹرمپ کے سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب انھوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد کیے جانے والے 20 فیصد ٹول ٹیکس کی بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ ’بہت بڑے‘ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جائیں گے۔
،تصویر کا ذریعہTABNAK
یاد رہے کہ اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی دھمکی پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔‘
امریکی فوج کے مطابق بدھ کے روز یہ حملوں کی دوسری لہر تھی۔
فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا ہے۔
امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق 90 منٹ تک جاری رہنے والے حملوں میں گریٹر تنب جزیرے پر ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخائر اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
بدھ کو رات 9 بجے سینٹ کام نے اعلان کیا کہ امریکی حملوں کی دوسری لہر مکمل ہو چکی ہے۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکہ نے بندر عباس سمیت مختلف مقامات پر ایرانی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور ساحلی نگرانی کی سہولیات کو نشانہ بنایا۔ بندر عباس آبنائے ہرمز پر واقع ایران کا اہم شہر ہے۔
امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ منگل کی شام ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کیے جانے کے بعد دو تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔ اس ناکہ بندی کے تحت ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب یا وہاں سے آنے جانے والے بحری جہازوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ ناکہ بندی گذشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ختم کر دی گئی تھی، جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری تنازع کا خاتمہ تھا۔
تاہم آبنائے ہرمز کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
امریکی ناکہ بندی کی بحالی کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اسے ’تیل اور گیس کی دیگر برآمدی گزرگاہوں کی بندش‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی گزرگاہیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے، جبکہ اہم بحری گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک جانے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم جمعرات کے روز خبروں اور اہم تجزیوں کو شامل کرنے سے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں کے خلاصے پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے پہاڑی علاقے میں مسلح افراد کے حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران میں اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے حملوں کے مقام، ممکنہ اہداف یا نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ ’حقیقی جنگ‘ کی صورتحال میں ہے۔ اگر مفاہمتی یادداشت سے ایران کو فائدہ نہیں تو اس کی کوئی ضرورت نہیں
بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شعبان سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں سے دو لاشیں حاضر سروس اور دو ریٹائرڈ سکیورٹی اہلکاروں کی تھیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کیے جانے کے بعد ایران نے خطے کی دیگر اہم بحری تجارتی گزرگاوں کو بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایک حاضر سروس فوجی اہلکار کو ایک ایرانی ایجنٹ کو میزائل حملوں کو روکنے کی ویڈیوز بھیجنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ جنوبی ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔