پیر کی شام انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ کے میٹرو سٹیشن
کے باہر ایک زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت اور 20
افراد کے زحمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
یہ دھماکہ شام تقریباً سات بجے کے لگ بھگ ہوا اور ابتدائی طور پر
دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ
تفتیش کا عمل جاری ہے اور نتائج سامنے آنے پر ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
ایسے میں اس دھماکے کے متعلق کئی ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات ابھی بھی ملنا باقی
ہیں۔
دھماکے کے بعد دہلی پولیس کے کمشنر ستیش گولچہ نے میڈیا کو بتایا، ’دھماکے سے قریبی گاڑیوں کو بھی نقصان
پہنچا ہے۔ اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، ایف ایس ایل، این آئی اے اور این ایس جی کی
ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہی ہیں، اس دھماکے کی تحقیقات
کی جا رہی ہیں اور جلد ہی اس کا جائزہ لینے کے بعد اس متعلق بتایا جائے گا۔‘
تاہم اب تک واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ گاڑی میں دھماکہ
کیوں ہوا۔
یہ دھماکہ کیسے ہوا؟ کیا گاڑی میں کوئی دھماکہ خیز مواد یا بم پہلے سے
نصب تھا؟ کیا گاڑی کا فیول ٹینک یا سی این جی ٹینک پھٹا ہے جس نے دوسری گاڑیوں کو بھی
اپنی لپیٹ میں لے لیا؟ کیا گاڑی میں سوار افراد کو اس بارے میں کوئی پیشگی اطلاع تھی؟
اب تک اس بارے میں کچھ واضح نہیں۔
کیا یہ دہشت گردانہ حملہ تھا؟
پولیس انتظامیہ نے حملے کے حوالے سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا ہے۔
تاہم، دہلی پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ متعدد ادارے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
فرانزک سائنس لیبارٹری کے اہلکار محمد واحد نے صحافیوں کو بتایا، ’جائے وقوعہ سے اکٹھے کیے گئے نمونے
لیب بھجوائے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد ہی ہمیں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ ہم
نمونوں کی جانچ کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔‘
دھماکے کے بارے میں میڈیا میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
بعض عینی شاہدین نے تو یہاں تک بھی دعویٰ کیا کہ دھماکہ سی این جی کی وجہ سے ہوا
حالانکہ پولیس نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
تاہم منگل کی صبح دہلی نارتھ کے ڈی سی پی راجہ بنتھیا نے میڈیا کو
بتایا، ’دہلی
دھماکے کا ایکسپلوسیو ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دیگر دفعات کے تحت مقدمہ
درج کر لیا گیا ہے۔ فرانزک ماہرین، ایف ایس ایل ٹیم اور دیگر ماہرین کی ٹیمیں بھی
موقع پر موجود ہیں۔ ہم تمام شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔‘
انڈین میڈیا دھماکے میں ملوث گاڑی کے حوالے سے مختلف خبریں چلا رہا ہے
تاہم ابھی تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ گاڑی کس کی تھی؟ یہ کہاں سے آ
رہی تھی؟ اس کی منزل کیا تھی؟ کار میں کتنے افراد سوار تھے اور دھماکے میں کتنے
افراد ہلاک ہوئے ہیں، اب تک اس میں سے کچھ بھی واضح نہیں ہے۔
تفتیشی افسران گاڑی کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کئی ذرائع ابلاغ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جہاں دھماکہ ہوا، گاڑی اس علاقے میں کئی گھنٹوں
سے موجود تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ گاڑی ایک پارکنگ میں کھڑی تھی اور دھماکے سے کچھ
دیر قبل آہستہ آہستہ چلتے ہوئے لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب دھماکے کی جگہ پہنچی تھی۔
لیکن نہ تو پولیس نے اس کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی بی بی سی اس کی آزادانہ
طور پر تصدیق کر سکا ہے۔
ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا دھماکہ جائے وقوعہ پر حادثاتی طور پر
ہوا یا اسے جان بوجھ کر وہاں کیا گیا۔
اگر یہ دانستہ دھماکہ تھا تو اس کا نشانہ کون تھا؟ کیا صرف عام شہری
ہی اس کا ہدف تھے؟ کیا اس واقعے کے تانے بانے مقامی طور پر جڑے ہوئے ہیں یا اس کے
پیچھے غیر ملکی ہاتھ بھی ملوث ہے؟
ان تمام چیزوں کے بارے میں ابھی معلومات موصول ہونا باقی ہیں۔