آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سری لنکن کرکٹ بورڈ کی ٹیم کو دورہِ پاکستان جاری رکھنے کی ہدایت: ’چند کھلاڑیوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث وطن واپسی کی درخواست کی تھی‘

سری لنکن کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے دورے پر موجود قومی ٹیم کے چند کھلاڑیوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث وطن واپسی کی درخواست کی تھی۔ تاہم بورڈ نے ٹیم کو دورہِ پاکستان جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

خلاصہ

  • مجھ پر ذمہ داری بنتی ہے کہ تقریر کی ایڈیٹنگ پر بی بی سی کے خلاف مقدمہ کروں: ڈونلڈ ٹرمپ
  • حالیہ حملوں کے بعد پاکستان کی افغانستان میں کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا: خواجہ آصف
  • جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل غزہ میں 1500 سے زائد عمارتیں تباہ کر چکا ہے: بی بی سی ویریفائی
  • پاکستان کی روس سے دفاعی ساز و سامان کی معلومات سمگل کرنے سے متعلق انڈین ذرائع ابلاغ کی خبروں کی تردید
  • طالبان کا خواتین کو ہسپتال جانے کے لیے برقعہ پہننے کا حکم، خیراتی ادارے کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. وانا کیڈٹ کالج کے تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا: سکیورٹی ذرائع

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج کے تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تمام بچوں اور عملے کو کالج کے احاطے سے نکال لیا گیا ہے جن کی تعداد 540 بنتی ہے۔

    تاہم بعض ذرائع کا کہنا تھا کہ عملے سمیت یہ تعداد زیادہ تھی۔

    عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ کالج کے اندر چھپے تین شدت پسندوں کے خلاف آپریشن اب بھی جاری ہے۔

  2. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، انڈیکس میں 3600 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ میں آج صبح کاروبار کا آغاز منفی رجحان ہوا اور کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 3667 پوائنٹس کمی کے بعد 157870 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    یاد رہے گذشتہ روز مارکیٹ میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا تھا جب انڈیکس میں 1945 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ تاہم منگل کے روز مارکیٹ میں حصص کی تجارت فروخت کے دباؤ کا شکار رہی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ نے گذشتہ روز 27ویں ترمیم کی وجہ سے ملک میں موجودہ نظام کے تسلسل کی وجہ سے اضافہ دیکھا تھا تاہم گذشتہ روز پڑوسی ملک کے دارلحکومت دہلی میں ہونے والے دھماکے کے بعد صبح سے مارکیٹ میں رجحان منفی تھا۔

    ان کے مطابق آج اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے کے بعد مارکیٹ میں پینک سیلنگ یعنی سرمایہ کاروں کی جانب سے گھبراہٹ میں حصص کی فروخت ہوئی جس کا اثر انڈیکس پر منفی انداز میں ہوا۔

    تجزیہ کار ندیم نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے آج کاروبار کے آغاز سے ہی محتاط رویہ اپنایا گیا تھا اور اسلام آباد دھماکے کے بعد ان کی جانب سے زیادہ فروخت دیکھی گئی۔

    ندیم نوید نے بتایا کہ دہلی اور اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے کشیدگی کی جانب سے اشارہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میوچل فنڈز‘ کی جانب سے بھی فروخت دیکھی گئی ہے جو منافع کمانے کے لیے تھی کیونکہ مارکیٹ میں حصص کی قیمتیں اوپر کی سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

  3. امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اسلام آباد کچہری پر خود کش حملے کی مذمت

    امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے اسلام آباد کچہری پر خود کش حملے کی مذمت کی ہے۔

    پاکستان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ’امریکہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ ہے۔‘

    سفارتخانے کی طرف سے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ آج کے حملے میں جان کی بازی ہارنے والوں کے خاندانوں سے ہم دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

    امریکی سفارتکار نیٹلی بیکر کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اس حملے اور دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کرتے ہیں اور پاکستان کی حکومت کی امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہیں۔‘

    اسلام آباد میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ ’ہم اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے سے آگاہ ہیں۔ جس میں مبینہ طور پر متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’ہم قریب سے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم برطانوی شہریوں کو سفری ایڈوائس پر نظر رکھیں۔ جین میریٹ نے کہا کہ ’میری ہمدردیاں ان لوگوں کے پیاروں کے ساتھ ہیں جو اس حملے میں مارے گئے ہیں۔‘

    افغان طالبان نے بھی اسلام آباد اور وانا میں اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان خود کش حملوں کی مذمت کی ہے۔

  4. اسلام آباد کچہری میں حملہ کرنے والے شخص کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا: پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ، اسلام آباد

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد کچہری پر خود کش حملہ کرنے والے شخص کے اعضا کے نمونے شناخت کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق حملہ آور کے سر، بازو اور دیگر اعضا کے نمونے لیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شناخت معلوم کرنے کے لیے ’نادرا سے بھی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے‘۔

  5. اسلام آباد میں خودکش حملے کے بعد سندھ میں پولیس کو ’الرٹ‘ رہنے کے احکامات جاری

    اسلام آباد کی جی 11 کچہری میں خودکش حملے کے تناظر میں سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار صوبے بھر میں سندھ پولیس کو ’آئندہ احکامات تک الرٹ‘ رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    منگل کو محکمہ داخلہ سندھ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ضیا الحسن لنجار نے احکامات جاری کیے ہیں کہ ’صوبے کے داخلی و خارجی پوائنٹس، اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر چیکنگ و نگرانی کو مزید سخت کیا جائے۔‘

    خیال رہے منگل کو اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے باہر ہونے والے حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ دو درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

    ملک کے دارالحکومت میں ہونے والے خودکش دھماکے کے تناظر میں سندھ کے وزیرِ داخلہ نے ’آئندہ دنوں اور مہینوں میں منعقد ہونے والے اہم ایونٹس کی سکیورٹی پلانز کا ازِ سرنو جائزہ‘ لینے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

  6. اسلام آباد میں خودکش حملے کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    اسلام آباد میں منگل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے باہر ہونے والے حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ دو درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    پاکستانی حکام اس حملے کے بارے میں کیا بتا چکے ہیں؟

    • پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس دھماکے کو خودکش حملہ قرارد دیتے ہوئے 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
    • محسن نقوی کے مطابق خودکش حملہ 12 بجکر 39 منٹ پر ہوا تھا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ آور کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    • اس دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی شدت پسند تنظیم نے قبول نہیں کی ہے، تاہم پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے میں ’انڈیا کی پشت پناہی میں سرگرم‘ گروہ ملوث ہیں۔
    • دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ ’کابل کے حکمران پاکستان میں دہشتگردی کو روک سکتے ہیں لیکن اسلام آباد تک اس جنگ کو لانا کابل سے ایک پیغام ہے، جس کا بھرپور جواب دینے کی پاکستان بھرپور قوت رکھتا ہے۔‘
  7. اسلام آباد دھماکے میں ’انڈیا کی پشت پناہی میں سرگرم‘ گروہ ملوث ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا الزام

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام کی جی 11 کچہری میں ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ’انڈیا کی پشت پناہی میں سرگرم‘ شدت پسند گروہ ان حملوں میں ملوث ہیں۔

    منگل کو ایک بیان میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی دہشتگرد پراکسیوں کی جانب سے پاکستان کے نہتے شہریوں پر دہشتگردانہ حملے قابلِ مذمت ہیں۔‘

    خیال رہے کچھ دیر قبل پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تصدیق کی تھی کہ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ: ’انڈیا کو خطے میں پراکسیوں کے ذریعے دہشتگردی پھیلانے کے مکروہ فعل سے باز رہنا چاہیے۔‘

    پاکستانی حکام کی جانب سے الزامات پر انڈیا کی طرف سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شرف کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسلام آباد میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کر دی ہے اور اس میں ملوث ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  8. اسلام آباد میں کچہری کے باہر ہوئے خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک، 27 زخمی ہوئے: وزیر داخلہ محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہوئے ہیں۔

    اُن کے مطابق ابتدائی تفتیش میں پتا چلا ہے کہ خودکش حملہ آور کچہری میں جانا چاہتا تھا مگر موقع نہ ملنے پر اس نے پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا۔

    وزیر داخلہ کے مطابق یہ خودکش حملہ 12 بج کر 39 منٹ پر ہوا اور اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہلی ترجیح خودکش حملہ آور کو شناخت کرنا ہے۔

    دوسری جانب پمز ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود ڈاکٹر عدنان نے نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد 12 ڈیڈ باڈیز ہسپتال لائی گئی ہیں جنھیں اب ایمرجنسی وارڈ سے مردہ خانے منتقل کیا جا رہا ہے۔

    وکلا کے نمائندوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چند وکلا بھی شامل ہیں جو دھماکے کے وقت کچہری کے باہر سائلین کے ساتھ موجود تھے۔

    محسن نقوی نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’آج اسلام آباد میں ہونے والے حملے کے ساتھ بہت سی چیزیں لنک ہیں اور اس ضمن میں جلد شواہد سامنے لائے جائیں گے۔ جو، جو ملوث ہو گا، چاہے وہ دوسرے ملک سے بھی ہو، کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ دو ہفتے بعد کوئی بھی گاڑی ای ٹیگ کے بغیر اسلام آباد میں داخل نہیں ہو سکے گی۔

  9. اسلام آباد کچہری میں خودکش حملہ ویک اپ کال ہے، یہ سارے پاکستان کی جنگ ہے: خواجہ آصف

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کچہری کے باہر ہونے والے دھماکے کے ردعمل میں پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’کابل حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں لیکن اسلام آباد تک اس جنگ کو لانا کابل سے ایک پیغام ہے جس کا پاکستان بھر پور جواب دینے کی قوت رکھتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں آج کچہری کے باہر دھماکہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم پولیس ابھی تک اس دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں کر سکی ہے۔

    سوشل میڈیا ایکس پر اپنے پیغام میں خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں، کوئی یہ سمجھے کہ پاکستان فوج یہ جنگ افغان پاکستان سرحدی علاقے میں اور بلوچستان کے دور دراز علاقے میں لڑ رہی ہے تو آج اسلام آباد کچہری میں خود کش حملہ ویک اپ کال (جاگ اٹھنے کا وقت) ہے کہ یہ سارے پاکستان کی جنگ ہے۔ جس میں پاکستان فوج روز قربانیاں دے رہی ہے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلا رہی ہے۔‘

    خواجہ آصف نے مزید لکھا ہے کہ ’اس ماحول میں کابل حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات سے زیادہ امید رکھنا عبث ہو گا۔ کابل حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں لیکن اسلام آباد تک اس جنگ کو لانا کابل سے ایک پیغام ہے جس کا پاکستان بھر پور جواب دینے کی قوت رکھتا ہے۔‘

  10. اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں کچہری کے باہر دھماکہ، کم از کم 10 افراد زخمی

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں کچہری کے باہر دھماکہ ہوا ہے۔

    پولیس کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس ابھی تک اس دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں کر سکی تاہم کچہری کو وکلا، ججز اور سائلین سے خالی کروا لیا گیا ہے۔

    جائے وقوعہ پر پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موجود ہیں جو شواہد جمع کر رہی ہیں جبکہ زحمیوں کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

  11. پاکستانی فاسٹ بالر نسیم شاہ کے گھر پر فائرنگ کا مقدمہ درج: ’واقعہ دہشت گردی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر علاقائی عناد کا نتیجہ ہے،‘ پولیس

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے لوئر دیر میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر نسیم شاہ کے گھر پر فائرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    تھانہ معیار میں درج ایف آئی آر کے مطابق، فائرنگ کا واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو پیش آیا۔

    ظفر شاہ کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے وہ اہنے اہلخانہ کے ساتھ حاجی آباد، معیار میں واقع اپنے گھر پر سو رہے تھے کہ رات تقریباً ایک بج کر 45 منٹ پر فائرنگ کی اواز سنائی دی۔

    ان کا کہنا ہے کہ صبح تقریباً آٹھ بجے اٹھ کر انھوں نے دیکھا تو ان کے حجرے کے مین گیٹ، حجرے کی برامدہ دیوار اور دروازوں پر گولیوں کے نشانات تھے جبکہ شیشے بھی ٹوٹے ہوئے تھے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

    ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 324 (اقدامِ قتل) اور دفعہ 426 شامل کی گئی ہے۔

    دوسری جانب، لوئر دیر پولیس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ دہشت گردی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر اراضی تنازعہ یا علاقائی عناد کا نتیجہ ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ تفتیش ہر زاویے سے جاری ہے۔

  12. ’ہماری ایجنسیاں اس سازش کی تہہ تک جائیں گی اور دہلی دھماکے کے ذمہ داران بچ نہیں پائیں گے‘: انڈین وزیراعظم

    انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ دہلی دھماکے کی سازش کرنے والے بچ نہیں پائیں گے۔

    بھوٹان کے دو روزہ دورے پر پہنچنے کے موقع پر نریندر مودی نے کہا کہ وہ بہت بھاری دل کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اس دھماکے کی تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں اور متعلقہ افراد کے ساتھ رات بھر رابطے میں رہے۔

    ’ہماری ایجنسیاں اس سازش کی تہہ تک جائیں گی اور اس کے پیچھے موجود افراد بچ نہیں پائیں گے۔

    یاد رہے کہ پیر کی شام انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ کے میٹرو سٹیشن کے باہر ایک زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت اور 20 افراد کے زحمی ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

    دوسری جانب انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ دہلی دھماکے کی تحقیقات کو جلد سامنے لایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ’میں اپنے شہریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ملک کی ایجنسیاں مکمل تحقیقات کر رہی ہیں اور اس سانحے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

  13. 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش: آئینی عدالت کا سوموٹو کا اختیار ختم کر دیا گیا، وفاقی وزیرِ قانون

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کر دیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق، آئینی عدالت کا سوموٹو کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔

    اسمنبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ایوان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں عوام سے کیے گئے وعدوں میں کچھ ایڈجسمنٹ کی جس میں سے ایک بنیادی نکتہ آئینی عدالت کے قیام کے متعلق تھا۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر آئینی عدالت کے بجائے آئینی بینچوں کی تشکیل پر اتفاق کیا اور پھر وہ ترمیم منظور ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد تنقید سامنے آئی کہ عدالت کے اندر ایک عدالت قائم کر دی گئی ہے، یہ نظام چلتا نظر نہیں آتا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کچھ اہم آئینی معاملات ایسے آئے جن پر عدالت کا 30 سے 40 فیصد وقت صرف ہو رہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد حلیف جماعتوں سے مشاورت کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ آئینی عدالت میں تمام وفاقی اکائیوں اور دارالحکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کی برابر کی نمائندگی ہو گی۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی میں اس بارے میں جب بحث کی گئی تو آئین کے آرٹیکل 184 اور سوموٹو نوٹس پر بھی بات ہوئی۔

    ’وہ ایک ایسے عفریت کے طور پر ہمارے عدالتی نظام میں آیا کہ اس سوموٹو کی نظر کبھی کوئی وزیرِاعظم ہو گیا، کبھی کوئی سرکاری ملازم ہو گیا، کبھی اداکار یا اداکارہ ہو گیا اور کبھی ملک کا معاشی نظام ہی بٹھا دیا اس سوموٹو نے۔‘

    ان کا کہنا تھا سینیٹ سے پاس ہونے والے بل میں آئینی عدالت کا سوموٹو کا اختیار ختم کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اگر باقاعدہ درخواست آتی ہے اور عدالت مطمئن ہوتی ہے کہ 184(3) میں درج تمام تقاضے پورے ہوتے ہیں اور عوامی مفاد کا معاملہ ہونا چاہیے۔

    جوڈیشل کمیشن کو ججوں کے تبادلے کا اختیار

    وفاقی وزیرِ قانون کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 200 کے تحت صدر کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کے تبادلے کے احکامات جاری کر سکتے تھے بشرطیکہ مذکورہ جج کے ساتھ ساتھ جس ہائی کورٹ سے ان کا تبادلہ ہو رہا ہے اور جہاں ان کا تبادلہ کیا جا رہا ہے وہاں کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی اس کے منظوری دیں۔ اس کے بعد وزیرِاعظم کے مشورے پر یہ کام ہو جاتا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں آرٹیکل 200 کے تحت کیے گئے تبادلوں کو چیلنج بھی کیا گیا۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مشاورت کے بعد ججوں کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو دے دیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر کمیشن چاہے تو مذکورہ جج کو بلا کر ان کا موقف بھی لے سکتی ہے۔ تاہم اگر فیصلے کے بعد کوئی جج عملدرآمد سے انکار کرتا ہے تو آرٹیکل 209 کے تحت معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کے پاس وہی اختیارات ہوں گے جو آئینی بینچ کو دیے گئے تھے۔

    جوڈیشل کمیشن

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں پانچ ججوں میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے علاوہ ان دونوں عدالتوں کے سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔ جبکہ پانچویں رکن کا انتخاب دونوں چیف جسٹس کریں گے۔

  14. نئی دہلی میں لال قلعہ کے نزدیک دھماکہ: وہ چار سوالات جن کے جوابات ابھی ملنا باقی ہیں

    پیر کی شام انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ کے میٹرو سٹیشن کے باہر ایک زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت اور 20 افراد کے زحمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    یہ دھماکہ شام تقریباً سات بجے کے لگ بھگ ہوا اور ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور نتائج سامنے آنے پر ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ ایسے میں اس دھماکے کے متعلق کئی ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات ابھی بھی ملنا باقی ہیں۔

    دھماکہ کیسے ہوا؟

    دھماکے کے بعد دہلی پولیس کے کمشنر ستیش گولچہ نے میڈیا کو بتایا، ’دھماکے سے قریبی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، ایف ایس ایل، این آئی اے اور این ایس جی کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہی ہیں، اس دھماکے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد ہی اس کا جائزہ لینے کے بعد اس متعلق بتایا جائے گا۔‘

    تاہم اب تک واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ گاڑی میں دھماکہ کیوں ہوا۔

    یہ دھماکہ کیسے ہوا؟ کیا گاڑی میں کوئی دھماکہ خیز مواد یا بم پہلے سے نصب تھا؟ کیا گاڑی کا فیول ٹینک یا سی این جی ٹینک پھٹا ہے جس نے دوسری گاڑیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا؟ کیا گاڑی میں سوار افراد کو اس بارے میں کوئی پیشگی اطلاع تھی؟ اب تک اس بارے میں کچھ واضح نہیں۔

    کیا یہ دہشت گردانہ حملہ تھا؟

    پولیس انتظامیہ نے حملے کے حوالے سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، دہلی پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ متعدد ادارے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    فرانزک سائنس لیبارٹری کے اہلکار محمد واحد نے صحافیوں کو بتایا، ’جائے وقوعہ سے اکٹھے کیے گئے نمونے لیب بھجوائے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد ہی ہمیں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ ہم نمونوں کی جانچ کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔‘

    دھماکے کے بارے میں میڈیا میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض عینی شاہدین نے تو یہاں تک بھی دعویٰ کیا کہ دھماکہ سی این جی کی وجہ سے ہوا حالانکہ پولیس نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    تاہم منگل کی صبح دہلی نارتھ کے ڈی سی پی راجہ بنتھیا نے میڈیا کو بتایا، ’دہلی دھماکے کا ایکسپلوسیو ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ فرانزک ماہرین، ایف ایس ایل ٹیم اور دیگر ماہرین کی ٹیمیں بھی موقع پر موجود ہیں۔ ہم تمام شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔‘

    گاڑی کا مالک کون ہے؟

    انڈین میڈیا دھماکے میں ملوث گاڑی کے حوالے سے مختلف خبریں چلا رہا ہے تاہم ابھی تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ گاڑی کس کی تھی؟ یہ کہاں سے آ رہی تھی؟ اس کی منزل کیا تھی؟ کار میں کتنے افراد سوار تھے اور دھماکے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں، اب تک اس میں سے کچھ بھی واضح نہیں ہے۔

    تفتیشی افسران گاڑی کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی ذرائع ابلاغ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جہاں دھماکہ ہوا، گاڑی اس علاقے میں کئی گھنٹوں سے موجود تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ گاڑی ایک پارکنگ میں کھڑی تھی اور دھماکے سے کچھ دیر قبل آہستہ آہستہ چلتے ہوئے لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب دھماکے کی جگہ پہنچی تھی۔

    لیکن نہ تو پولیس نے اس کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی بی بی سی اس کی آزادانہ طور پر تصدیق کر سکا ہے۔

    ہدف کون تھا؟

    ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا دھماکہ جائے وقوعہ پر حادثاتی طور پر ہوا یا اسے جان بوجھ کر وہاں کیا گیا۔

    اگر یہ دانستہ دھماکہ تھا تو اس کا نشانہ کون تھا؟ کیا صرف عام شہری ہی اس کا ہدف تھے؟ کیا اس واقعے کے تانے بانے مقامی طور پر جڑے ہوئے ہیں یا اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ بھی ملوث ہے؟

    ان تمام چیزوں کے بارے میں ابھی معلومات موصول ہونا باقی ہیں۔

  15. امریکی سینیٹ سے حکومتی فنڈنگ کا بل منظور، شٹ ڈاؤن ختم ہونے کی راہ ہموار

    امریکی سینیٹ نے حکومتی فنڈنگ کے متعلق ​​اہم بل منظور کر لیا ہے جس کے بعد تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے ختم ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    یہ بل پیر کے روز40 کے مقابلے میں 60 ووٹوں سے منظور ہوا۔ تقریباً تمام ریپبلکن سینیٹرز اور آٹھ ڈیموکریٹ ممبران نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ ریپبلیکن سینیٹر انگس کنگ نے بل کے خلاف ووٹ دیا۔

    اب امریکی ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پر دستخط کر دیں گے۔

    اس بل کے تحت اگلے سال اگست تک امریکی فوج کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت اور قانون سازی کے امور کے لیے مکمل طور پر فنڈز دستیاب ہوں گے جبکہ جنوری تک تمام دیگر سرکاری پروگراموں کو بھی عارضی طور پر فنڈ حاصل ہوں گے۔

    سینیٹ میں ریپبلیکن پارٹی کو 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے برتری حاصلے ہے تاہم انھیں اس بل کی منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار تھے۔

    یاد رہے کہ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں لاکھوں سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں جبکہ حکومتی امور میں بھی خلل پڑ رہا ہے۔

  16. 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

    قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ کی جانب سے جاری ایجنڈے کے مطابق، قومی اسمبلی کا اجلاس آج (منگل) کے روز صبح 11 بجے شروع ہو گا۔

    ایجنڈے کے مطابق، وفاقی وزیرِ قانون 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کریں گے۔ حکومت کو اس بل کی منظوری کے لیے قومی اسمببلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی تھی، مقامی میڈیا کے مطابق اس ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے۔

    رائے شماری کے بعد چئیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس ترمیم کے خلاف کوئی ووٹ نہیں آیا۔ واضح رہے کہ اپوزیشن نے اس ترمیمی بل پر ووٹنگ کی مخالفت کی تھی اور اجلاس میں احتجاج کیا تھا۔

    سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بارے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف ’آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔‘

    ایکس پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور عمران خان کا ’اجتماعی اتفاق ہے کہ ہم 27ویں آئینی ترمیم کے نام نہاد آئینی عمل میں کوئی حصہ نہیں لیں گے۔‘

  17. 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے سینیٹرز پارٹی سے باہر

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے پاکستان کی ایوانِ بالا سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کے متعلق بل پر رائے شماری کے دوران پارٹی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بل کے حق میں ووٹ دینے والے سینیٹرز کو اپنی جماعتوں سے نکال دیا ہے۔

    پیر کے روز ہونے والی رائے شماری کے دوران پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیے تھے۔

    پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پارٹی کی جانب سے سیف اللہ ابڑو کو نکالے جانے کے متعلق نوٹیفکیشن کی کاپی شیئر کی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے سیف اللہ ابڑو نے جان بوجھ کر پارٹی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 10 نومبر کو سینیٹ میں ووٹ دیا۔

    ’آپ کا یہ عمل پارٹی ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے جس سے پی ٹی آئی کے جمہوری اصولوں اور پارلیمانی حکمت عملی کو نقصان پہنچا ہے۔‘

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی ڈسپلنری نے سیف اللہ ابڑو کو پی ٹی آئی سے فوری طور پر نکالنے کی سفارش کی ہے۔

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سیف اللہ ابڑو اس فیصلے کے خلاف 72 گھنٹوں کے اندر پارٹی کے جنرل سیکریٹری سے تحریری طور پر اپیل کر سکتے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو یہ فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا اور ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہے پارٹی انھیں ڈی سیٹ کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرے گی۔

    خیال رہے کہ پیر کے روز سینیٹ میں بات کرتے ہوئے سیف اللہ ابڑو نے اپنی نشست سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں جنرل عاصم منیر کی وجہ سے ووٹ دینے آیا ہوں، کسی اور کی وجہ سے نہیں۔ کسی کو بھول ہے شاید۔‘

    دوسری جانب، جے یو آئی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم کے حکومتی بل کے حق میں ووٹ دینے پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے خارج کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں سینیٹر احمد خان سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہو جائیں ورنہ جے یو آئی ان کی سینیٹ کی رکنیت ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرے گی۔

  18. انڈیا: ہریانہ پولیس کا 360 کلو گرام آتش گیر مواد برآمد کرنے کا دعوی، مقامی امام مسجد سمیت دو افراد گرفتار

    انڈیا کی ریاست ہریانہ کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ فرید آباد ضلع میں آپریشن کے دوران ایک کرائے کے مکان سے بڑی مقدار میں آتش گیر مواد اور ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق، گذشتہ 15 دنوں سے ہریانہ اور انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی پولیس ایک مشترکہ آپریشن کر رہی ہے۔

    ہریانہ پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی چیزوں میں سے کئی اشیا ایسی ہیں جنھیں آئی ای ڈیز بنانے میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔

    فریدآباد کے پولیس کمشنر ستیندر کمار نے میڈیا کو بتایا کہ مکان سے برامد ہونے والے ہتھیاروں میں ایک اسالٹ رائفل اور اس کی تین میگزین اور 83 گولیاں، ایک پستول اور اس کی آٹھ گولیاں اور دو میگزین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آٹھ بڑے سوٹ کیس، چار چھوٹے سوٹ کیس اور ایک بالٹی برآمد ہوئی ہے۔

    ’اس کے علاوہ، تقریباً 360 کلو گرام آتش گیر مواد برآمد ہوا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ امونیم نائٹریٹ ہو سکتا ہے۔ 20 ٹائمر بیٹریاں، 24 ریموٹ، تقریباً 5 کلو گرام ہیوی میٹل، واکی ٹاکی سیٹ، بجلی کی تاریں، بیٹریاں، اور دیگر ممنوعہ مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔‘

    پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ مزمل نامی ایک شخص کو بھی موقع سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملزم الفلاح نامی یونیورسٹی میں ملازم تھا۔

    اس کے علاوہ پولیس نے ایک مقامی مسجد کے امام کو بھی گرفتار کیا ہے۔

    انڈیا کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے امام کی بیوی کا کہنا تھا کہ ’پولیس امام صاحب کو گرفتار کر کے لے گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ انھیں کیوں لے کر گئے ہیں۔ اس سے قبل پولیس کبھی ہمارے گھر نہیں آئی تھی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے شوہر گذشتہ 20 سال سے مسجد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ’ڈاکٹر صاحب بھی روزانہ یہاں نماز پڑھنے آتے تھے۔ وہ کشمیر کا رہنے والا ہے۔‘

  19. مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی وفات پا گئے، وزیر اعظم کا اظہار افسوس

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی وفات پا گئے ہیں۔ وہ 2021 میں پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

    عرفان صدیقی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرپرسن تھَے۔ اس کے علاوہ وہ سینیٹ کی بزنس ایڈوائزری، انسانی حقوق، اطلاعات و نشریات، داخلہ اور نارکوٹکس کنٹرول، اور نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن سے متعلق کمیٹیوں کے رکن بھی تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج ایک سنجیدہ مفکر، معلم اور اصول پسند دانشور سے محروم ہو گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عرفان صدیقی مسلم لیگ ن کے ایک اہم رکن اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے وفادار ساتھیوں میں سے ایک تھے۔

    صدر آصف علی زرداری سینیٹر عرفان صدیقی کے کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی نے جمہوریت کے لیے خدمات سرانجام دیں۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافت کے ساتھ سیاست میں بھی اعلی روایات کے علمبردار تھے۔

    پیر کے روز وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا تھا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔

    اہل خانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عرفان صدیقی گذشتہ کچھ دنوں سے سانس کی تکلیف کے باعث اسلام آباد کے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

  20. وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کی کوشش، دو شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ 10 نومبر کو ایک گھناؤنی اور ’بزدلانہ دہشت گردی‘ کی کارروائی میں شدت پسندوں نے جنوبی وزیرستان ضلع کے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے اندر آنے کی کوشش کی۔ تاہم ان کے مذموم عزائم کو فوجیوں کے چوکس اور پرعزم ردعمل نے تیزی سے ناکام بنا دیا۔

    بیان کے مطابق حملہ آوروں نے اپنی مایوسی میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو مین گیٹ پر ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں مین گیٹ منہدم ہو گیا اور ملحقہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

    فوج کے مطابق غیر متزلزل ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ہمارے فوجیوں نے دراندازوں کو درستگی کے ساتھ مشغول کیا، جس سے دو شدت پسندوں ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تاہم تین شدت پسند کالج کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے جنھیں کالج کے انتظامی بلاک میں گھیرے لیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ان شدت پسندوں نے ایک بار پھر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی کو دہرانے کی کوشش کی ہے۔

    ان کے مطابق ’اس کا مقصد سابقہ قبائلی علاقوں کی نوجوان نسل میں خوف پیدا کرنا ہے جو زندگی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور نہ صرف اپنے اور اپنے خاندانوں بلکہ اپنی برادریوں کے لیے بھی بہتر مستقبل حاصل کرنے کے لیے اپنی دہلیز پر معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ اس کالج کے احاطے میں چھپے شدت پسند افغانستان میں اپنے ’آقاؤں‘ اور ’ہینڈلرز‘ سے رابطے میں ہیں اور ہدایات حاصل کر رہے ہیں۔

    فوج کے مطابق ’افغانستان سے خوارج کی طرف سے کی جانے والی بربریت کی یہ کھلی کارروائییہ افغان طالبان حکومت کے ان دعووں کے برعکس ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان دہشت گرد گروہوں کی اپنی سرزمین پر ان کی موجودگی نہیں ہے۔‘

    آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں موجود شدت پسندوں اور ان کی قیادت کے خلاف جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ’انڈیا کی سرپرستی میں بچ جانے والے شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے۔‘