ٹرمپ کا انڈیا سمیت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ’500 فیصد تک ٹیرف‘ لگانے کا منصوبہ زیر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکتا ہے۔
یہ بل وائٹ ہاؤس کو انڈیا اور چین جیسے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا موقع دے گا تاکہ وہ روس سے سستا تیل خریدنا بند کر دیں۔
یاد رہے کہ انڈیا پر ٹیکس ٹرمپ نے انڈیا پر 50 فیصد ٹیرف لگا رکھا ہے، اس میں روسی تیل کی خریداری پر عائد ہونے والا 25 فیصد محصول بھی شامل ہے۔
سینیٹر لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلیومینتھال نے روس پر پابندیوں کا قانون 2025 متعارف کرایا ہے جو ان ممالک پر محصولات اور پابندیاں عائد کرے گا جو 'یوکرین پر روس کی ظالمانہ جنگ کو مالی مدد دے رہے ہیں۔'
یہ بل روس سے تیل خریدنے اور اسے آگے بیچنے پر 500 فیصد محصول عائد کرنے کی تجویز دیتا ہے۔
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے تقریباً ہر رکن نے ہی اس کی حمایت کی ہے۔
لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلیومینتھال نے گزشتہ سال اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’روس یوکرین خوں ریزی روکنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے ایک نیا جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ تاہم اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے حتمی حل یہی ہے کہ چین، انڈیا اور برازیل پر ٹیکس لگایا جائے کیوں کہ روس سے سستا تیل اور گیس خرید کر یہ ملک پوتن کی جنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔‘
اس ہفتے کے آغاز میں لنڈسے گراہم نے امریکہ میں انڈین سفیر ونے موہن کواترا سے ہوئی اپنی گفتگو کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
لنڈسے گراہم کے مطابق ونے موہن نے انھیں بتایا کہ انڈیا نے روسی تیل کی خریداری کم کر دی ہے اور ان کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ انڈیا پر عائد محصولات میں نرمی کریں۔
اتوار کے روز ٹرمپ کے ساتھ ان کے صدارتی طیارے ائیرفورس ون میں سفر کرتے ہوئے سینیٹر لنڈسے گراہم نے بل کے بارے میں بات کی۔
انھوں نے کہا کہ روس یوکرین تنازع ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے کلائنٹس پر دباؤ ڈالا جائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ پابندیاں روس کو بہت نقصان پہنچا رہی ہیں اور پھر انھوں نے انڈیا کا ذکر کیا۔ انڈیا کے سفیر سے ملاقات س کے بعد گراہم نے کہا کہ امریکہ نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ایک ماہ پہلے میں انڈین سفیر کے گھر تھا اور وہ صرف یہ بات کرنا چاہتے تھے کہ انڈیا روس سے کم تیل خرید رہا ہے۔‘
لنڈسے گراہم کے مطابق اس وقت انڈین سفیر نے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ ٹیرف میں استثنیٰ دینے کے لیے صدر سے درخواست کریں گے؟‘
امریکی سینیٹر نے بتایا کہ ’یہ حکمت عملی کارآمد ہے۔ لیکن اگر آپ سستا روسی تیل خرید کر پوتن کی جنگی مشین کو چالو رکھ رہے ہیں تو ہم صدر کو یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ ٹیرف کے ذریعے ان ممالک کے لیے مشکل پیدا کر سکیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے انڈیا کے ساتھ جو کیا اسی وجہ سے انڈیا روس سے کہیں کم تیل خرید رہا ہے۔‘
امریکہ میں انڈین سفیر ونے کواترا نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر گزشتہ ماہ کئی امریکی سینیٹرز کی میزبانی کی۔ ان میں گراہم، بلیومینتھال، شیلڈن وائٹ ہاؤس، پیٹر ویلچ، ڈین سلیوان اور مارک وین ملن شامل تھے۔
انڈین سفیر نے ایکس پر لکھا ’توانائی، دفاعی تعاون سے لے کر تجارت اور اہم عالمی امور تک ہم نے انڈیا امریکہ شراکت داری پر مفید گفتگو کی۔ میں مضبوط انڈیا امریکہ تعلقات کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘