آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران میں دو ہفتوں کے دوران 114 سرکاری اہلکار ہلاک، ایرانی نیوز ایجنسی

ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے ایران میں جاری مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تازہ فہرست شائع کی ہے، جس میں تمام صوبوں میں ہونے والی اموات کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ تسنیم نے کہا ہے کہ اس فہرست کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • ہلاکتوں کی منصوبہ بندی ناقابل برداشت ہے، عوام 'افراتفری' کو روکیں: ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی اپیل
  • ایران میں کم از کم 192 افراد ہلاک، انٹرنیٹ کی بندش سے مزید ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہ ہو سکی: ناروے میں قائم ایرانی ہیومن رائٹس آرگنائزیشن
  • ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز 'جائز اہداف' تصور کیے جائیں گے۔
  • ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسرائیل میں ہائی الرٹ
  • رکاوٹوں کے باوجود کراچی میں جلسہ ہر صورت ہو گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کا انڈیا سمیت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ’500 فیصد تک ٹیرف‘ لگانے کا منصوبہ زیر غور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکتا ہے۔

    یہ بل وائٹ ہاؤس کو انڈیا اور چین جیسے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا موقع دے گا تاکہ وہ روس سے سستا تیل خریدنا بند کر دیں۔

    یاد رہے کہ انڈیا پر ٹیکس ٹرمپ نے انڈیا پر 50 فیصد ٹیرف لگا رکھا ہے، اس میں روسی تیل کی خریداری پر عائد ہونے والا 25 فیصد محصول بھی شامل ہے۔

    سینیٹر لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلیومینتھال نے روس پر پابندیوں کا قانون 2025 متعارف کرایا ہے جو ان ممالک پر محصولات اور پابندیاں عائد کرے گا جو 'یوکرین پر روس کی ظالمانہ جنگ کو مالی مدد دے رہے ہیں۔'

    یہ بل روس سے تیل خریدنے اور اسے آگے بیچنے پر 500 فیصد محصول عائد کرنے کی تجویز دیتا ہے۔

    سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے تقریباً ہر رکن نے ہی اس کی حمایت کی ہے۔

    لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلیومینتھال نے گزشتہ سال اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’روس یوکرین خوں ریزی روکنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے ایک نیا جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ تاہم اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے حتمی حل یہی ہے کہ چین، انڈیا اور برازیل پر ٹیکس لگایا جائے کیوں کہ روس سے سستا تیل اور گیس خرید کر یہ ملک پوتن کی جنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

    اس ہفتے کے آغاز میں لنڈسے گراہم نے امریکہ میں انڈین سفیر ونے موہن کواترا سے ہوئی اپنی گفتگو کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

    لنڈسے گراہم کے مطابق ونے موہن نے انھیں بتایا کہ انڈیا نے روسی تیل کی خریداری کم کر دی ہے اور ان کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ انڈیا پر عائد محصولات میں نرمی کریں۔

    اتوار کے روز ٹرمپ کے ساتھ ان کے صدارتی طیارے ائیرفورس ون میں سفر کرتے ہوئے سینیٹر لنڈسے گراہم نے بل کے بارے میں بات کی۔

    انھوں نے کہا کہ روس یوکرین تنازع ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے کلائنٹس پر دباؤ ڈالا جائے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ پابندیاں روس کو بہت نقصان پہنچا رہی ہیں اور پھر انھوں نے انڈیا کا ذکر کیا۔ انڈیا کے سفیر سے ملاقات س کے بعد گراہم نے کہا کہ امریکہ نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ایک ماہ پہلے میں انڈین سفیر کے گھر تھا اور وہ صرف یہ بات کرنا چاہتے تھے کہ انڈیا روس سے کم تیل خرید رہا ہے۔‘

    لنڈسے گراہم کے مطابق اس وقت انڈین سفیر نے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ ٹیرف میں استثنیٰ دینے کے لیے صدر سے درخواست کریں گے؟‘

    امریکی سینیٹر نے بتایا کہ ’یہ حکمت عملی کارآمد ہے۔ لیکن اگر آپ سستا روسی تیل خرید کر پوتن کی جنگی مشین کو چالو رکھ رہے ہیں تو ہم صدر کو یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ ٹیرف کے ذریعے ان ممالک کے لیے مشکل پیدا کر سکیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے انڈیا کے ساتھ جو کیا اسی وجہ سے انڈیا روس سے کہیں کم تیل خرید رہا ہے۔‘

    امریکہ میں انڈین سفیر ونے کواترا نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر گزشتہ ماہ کئی امریکی سینیٹرز کی میزبانی کی۔ ان میں گراہم، بلیومینتھال، شیلڈن وائٹ ہاؤس، پیٹر ویلچ، ڈین سلیوان اور مارک وین ملن شامل تھے۔

    انڈین سفیر نے ایکس پر لکھا ’توانائی، دفاعی تعاون سے لے کر تجارت اور اہم عالمی امور تک ہم نے انڈیا امریکہ شراکت داری پر مفید گفتگو کی۔ میں مضبوط انڈیا امریکہ تعلقات کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

  2. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • بلوچستان کے سرکاری حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے گذشتہ سال کے دوران بلوچستان میں 90 ہزار انٹیلیجینس بیسڈ آپریشنز کیے۔ ‎بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ کے ہمراہ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان آپریشنز میں مبینہ طور پر کالعدم عسکریت پسند اور شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے سات سو سے زائد افراد مارے گئے۔
    • جمعرات کے روز تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی پر سیاست نہ کرنے کے حوالے سے شروع سے موقف واضح ہے کہ دہشتگردی کو ہرحال میں جڑ سے اکھاڑنا قومی فریضہ ہے۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت گڈ گورننس میں اعلیٰ مقام رکھتی ہے، آج کی پریس کانفرس میں کچھ باتوں پر وضاحت ضروری ہے۔
    • وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ اس شدت پسندی کے پیچھے خوارجی ہیں جنھیں ہمسایہ ملکوں کی سپورٹ حاصل ہے تاہم اس کے خاتمے تک چین سے نہيں بیٹھیں گے۔
    • پاکستان ریلوے نے صوبہ سندھ میں چھ اہم روٹس کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے جس میں کوٹڑی سے دادو، دادو سے لاڑکانہ، حیدرآباد سے میرپور خاص، روہڑی سے جیکب آباد اور حیدرآباد تا بدین سمیت دیگر روٹس شامل ہیں۔