دنیا کے مختلف شہروں میں ایرانی مظاہرین کی حمایت میں مظاہرے, بی بی سی فارسی
ایران میں دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں میں اب شدت آگئی ہے۔ ایران کے متعدد شہروں تک پھیل جانے والے یہ احتجاج میں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
ایران کے علاوہ اب دُنیا کے متعدد شہروں میں آباد ایرانی بھی اب حکومت مخالف ان مظاہروں کی حمایت میں احتجاج کر رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے شہر اوکلینڈ میں ایرانیوں نے حکومتِ ایران کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اوکلینڈ سے بی بی سی فارسی کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو حکومت مخالف نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض مناظر میں مظاہرین انقلاب سے قبل کا ایرانی جھنڈا تھامے دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ مظاہرہ ایران کے اندر جاری ملک گیر احتجاجات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر ہوا۔ گزشتہ دو روز میں ایرانیوں نے بیرونِ ملک بھی مختلف شہروں میں حکومت مخالف اجتماعات کیے، جن میں سٹاک ہوم، ہیمبرگ، بوداپست، لندن اور نیویارک شامل ہیں۔
ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ایک پیغام میں ایران بھر میں عوام کے دوبارہ سڑکوں پر آنے پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بیرونِ ملک ایرانیوں کے کردار کو موجودہ حالات میں اہم قرار دیا۔
دوسری جانب ہالینڈ کے شہر لاهے میں بھی ایرانی مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
اس احتجاجی مظاہرہ میں ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے متعدد نمائندوں نے خطاب کیا اور ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اعلان کیا۔
ایرانی مقررین نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ ایران کے سفیر کو ہالینڈ سے نکالا جائے۔
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بھی سنیچر کے روز ایران میں جاری مظاہروں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔
مظاہرین نے سنہ 1979 کے انقلابِ ایران سے قبل والے جھنڈے اُٹھا رکھے تھے کہ جن پر شیر و سورج بنا ہوا تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ بعض مظاہرین نے رضا پہلوی کی تصاویر بھی اٹھا رکھیں تھیں اور وہ ایران کے مظاہرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور شدید پابندیوں کے باعث درست اور بروقت خبر تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود، منظر عام پر آنے والی تصاویر، ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب بھی ایران کے مختلف شہروں، بشمول تہران، کرج، قم، مشہد، اصفہان، رشت، تبریز اور یزد میں بڑی تعداد میں مظاہرے ہوئے۔
ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور دو مختلف ہسپتالوں میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر اور عملے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے طبی مراکز زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔