ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں شدت آ رہی ہے اور سنیچر کی شب مشتعل مظاہرین حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے باوجود سڑکوں پر نکلے۔
رپورٹس کے مطابق گذشتہ تین روز میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی کی طرف سے دیکھی گئی تصدیق شدہ ویڈیوز اور عینی شاہدین کے اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنا ردِعمل تیز کر رہی ہے، کیونکہ اس نے انٹرنیٹ پر مکمل بلیک آؤٹ جاری رکھا ہوا ہے۔
ملک کے اٹارنی جنرل نے سنیچر کے روز کہا کہ جو بھی احتجاج کرے گا اسے ’خدا کا دشمن‘ سمجھا جائے گا۔ ایسا جرم جس کی سزا موت ہے۔‘
خیال کیا جاتا ہے کہ دو ہفتے سے زیادہ عرصہ قبل مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ مظاہرے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے شروع ہوئے اور ایران کے ہر صوبے کے 100 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں پھیل چکے ہیں۔ اب مظاہرین ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مذہبی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
خامنہ ای کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’خوش‘ کرنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو ایرانی عوام نے مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی حکومت نے مظاہروں کو روکنے کی کوشش میں انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔ ایران کا ڈیٹا انفراسٹرکچر ریاست اور سکیورٹی حکام کے ذریعے سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
پچھلے کچھ سالوں میں، حکومت نے عالمی انٹرنیٹ تک رسائی کو آہستہ آہستہ کم کر دیا ہے۔ تاہم، احتجاج کی اس لہر کے دوران، حکام نے پہلی بار نہ صرف دنیا بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی کو بند کر دیا ہے بلکہ مقامی انٹرنیٹ کو بھی سختی سے محدود کر دیا ہے۔
ایک ماہر نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ موجودہ شٹ ڈاؤن تین سال قبل مہسا امینی کی پولیس تحویل میں ہونے والی ہلاکت کے بعد بغاوت کے دوران لگائی گئی پابندیوں سے زیادہ شدید ہے۔
ایک انٹرنیٹ ماہر علی رضا نے کہا کہ ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی، کسی بھی شکل میں، اب تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ بیرونی دنیا سے جڑنے کا واحد ممکنہ طریقہ سٹار لنک کے ذریعے تھا، لیکن صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں، کیونکہ اس طرح کے رابطوں کا سراغ حکومت کے ذریعے ممکن ہے۔
بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں ادارے بھی ایران کے اندر سے رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے معلومات کا حصول اور تصدیق مشکل ہو جاتی ہے۔
بہر حال، کچھ ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہیں اور بی بی سی نے کچھ لوگوں سے بات کی ہے۔
سنیچر کی شب تصدیق شدہ ویڈیومیں مظاہرین کو تہران کے ضلع گیشا میں سڑکوں پر قبضہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ متعدد ویڈیوز، جن کی تصدیق بی بی سی ویریفائی نے کی ہے میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے وکیل آباد بلیوارڈ پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
نقاب پوش مظاہرین آگ کے ایک الاؤ کے پیچھے چھپے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے کئی اہلکار کچھ فاصلے پر موجود ہیں۔ قریب ہی ایک گاڑی آگ کی لپیٹ میں ہے۔
اس دوران ایک سے زیادہ گولیاں چلنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
دارالحکومت تہران سے دیگر ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی ویریفائی کے ذریعے تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں مغربی تہران کے پنک سکوائر میں مظاہرین برتن پٹخ رہے ہیں۔ یہ علاقہ رواں ہفتے مظاہروں کا گڑھ رہا ہے۔
ایک اور کلپ، جسے شمال مشرقی تہران کے ضلع ہیروی میں فلمایا گیا ہے اور جس کی تصدیق بی بی سی فارسی اور بی بی سی ویریفائی نے کی ہے۔ اس میں مظاہرین کے ایک ہجوم کو سڑک پر مارچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔