آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران میں دو ہفتوں کے دوران 114 سرکاری اہلکار ہلاک، ایرانی نیوز ایجنسی

ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے ایران میں جاری مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تازہ فہرست شائع کی ہے، جس میں تمام صوبوں میں ہونے والی اموات کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ تسنیم نے کہا ہے کہ اس فہرست کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • ہلاکتوں کی منصوبہ بندی ناقابل برداشت ہے، عوام 'افراتفری' کو روکیں: ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی اپیل
  • ایران میں کم از کم 192 افراد ہلاک، انٹرنیٹ کی بندش سے مزید ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہ ہو سکی: ناروے میں قائم ایرانی ہیومن رائٹس آرگنائزیشن
  • ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز 'جائز اہداف' تصور کیے جائیں گے۔
  • ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسرائیل میں ہائی الرٹ
  • رکاوٹوں کے باوجود کراچی میں جلسہ ہر صورت ہو گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

لائیو کوریج

  1. ایرانی قوم جلد ہی ظلم سے نجات حاصل کر لے گی: نتن یاہو

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے امید ظاہر کی کہ ایران جلد ہی ’ظالم کی قید‘ سے آزاد ہو جائے گا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا کہ ’ہم سب امید کرتے ہیں کہ ایرانی قوم جلد ہی ظلم کے بندھن سے آزاد ہو جائے گی اور جب وہ دن آئے گا، اسرائیل اور ایران ایک بار پھر دونوں قوموں کے لیے خوشحالی اور امن سے بھرے مستقبل کی تعمیر کے لیے وفادار شراکت دار ہوں گے۔‘

    ایران میں مظاہرے شروع ہونے کے 15 دنوں میں امریکی اور اسرائیلی حکام نے ان کی حمایت کی ہے۔

    ایرانی حکام ان مظاہروں کا ذمہ دار اسرائیل کی طرف سے تربیت یافتہ افراد کو قرار دیتے ہیں، چاہے وہ اندرون ملک ہو یا بیرون ملک، اور اسے 12 روزہ جنگ کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔

    آج پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ فوجی حملے کی صورت میں، اسرائیل اور ’امریکی فوجی اور جہاز رانی کے مراکز ہمارے لیے جائز اہداف ہوں گے۔‘

  2. پُرامن احتجاج عوام کا حق ہے مگر مسلح گروہوں سے سختی سے نمٹا جائے گا: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران اپنی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا دفاع کیا ہے۔ یہ ان کا پہلا ٹیلی وژن انٹرویو تھا جو 11 جنوری کو سرکاری نیوز چینل آئی آر آئی این این پر نشر ہوا۔

    ایرانی صدر نے اعتراف کیا کہ عوام میں معیشت کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور اندازہ لگایا کہ ’شاید 80 یا 90 فیصد‘ لوگوں کے خدشات جائز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معیشت میں موجود ’ساختی عدم توازن‘ درست کیا جائے گا اور ایران موجودہ بحران پر قابو پا لے گا۔

    ان کے دفاع کا مرکزی نکتہ حکومت کا وہ فیصلہ تھا جس کے تحت ترجیحی زرِمبادلہ کے ترجیحی نرخ ختم کر دیے گئیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں کرنسی کی قدر میں شدید اتار چڑھاؤ آیا اور تاجروں و کاروباری افراد میں غصہ پایا گیا۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ زرِمبادلہ کے متعدد نرخوں نے بدعنوانی کو فروغ دیا اور طاقتور حلقوں کو عوام کی قیمت پر فائدہ پہنچایا۔ ان کے مطابق اس طرح کے نرخوں کو ختم کرنا انصاف اور مساوات قائم کرنے کے لیے ضروری تھا۔

    انھوں نے تسلیم کیا کہ یہ پالیسی قلیل مدتی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، لیکن بالآخر ایک مسابقتی منڈی قائم کرے گی، بدعنوانی کم کرے گی اور عوامی زندگی بہتر بنائے گی، چاہے اس سے وہ افراد متاثر ہوں جو پرانے نظام سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔

    انھوں نے زور دیا کہ حکومت بڑھتی ہوئی شرحِ مبادلہ کے باوجود اصلاحات جاری رکھے گی اور کہا کہ کم آمدنی والے خاندان بالآخر اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت نے احتجاج شروع ہوتے ہی فوری اقدامات کیے، تاجروں سے ملاقات کی اور صوبائی حکام کو مظاہرین سے رابطے کی ہدایت دی۔

    انھوں نے کا کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی احتجاج جائز ہے۔‘ انھوں نے مزید کہ ’حکومت اقتصادی شعبے سے متعلق شکایات سن رہی ہے اور انھیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

    انٹرویو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کی مزاحمت اندرونی اور بیرونی دونوں حلقوں سے آ رہی ہے، جن کے مفادات کو خطرہ لاحق ہے۔ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایران کی اقتصادی مشکلات کو ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’احتجاج عوام کا حق ہے اور ہمیں اسے سننا چاہیے۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ ’فسادات، عوامی املاک پر حملے، مساجد کو جلانا اور خدا کی کتاب کو جلانا امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کا حصہ ہیں۔‘

    مسعود پزشکیان نے ان واقعات اور ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسے اقدامات کو امریکہ یا یورپ میں احتجاج کہا جائے گا؟ ان کا اصرار تھا کہ ذمہ دار افراد ’فسادی ہیں، مظاہرین نہیں۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ مسلح گروہوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، جبکہ عوام خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ’فریب‘ میں نہ آئیں اور ایسے انتشار کا حصہ نہ بنیں جو دیرپا نقصان چھوڑ سکتا ہے۔

  3. ایران میں دو ہفتوں کے دوران 114 سرکاری اہلکار ہلاک، ایرانی نیوز ایجنسی

    ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے جاری بدامنی کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تازہ فہرست شائع کی ہے۔

    تسنیم کے مطابق 11 جنوری تک مجموعی طور پر 114 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صوبہ بہ صوبہ ایک فہرست کی صورت میں دیے گئے ہیں، جسے تسنیم نے کہا ہے کہ مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں پولیس، پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) اور اس کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے اہلکار شامل ہیں۔

    مرکزی صوبہ اصفہان میں سب سے زیادہ 30 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، اس کے بعد قزوین میں نو، جبکہ کئی دیگر صوبوں میں ایک سے آٹھ ہلاکتیں درج کی گئیں۔ دارالحکومت تہران میں مرنے والوں کی فہرست میں یہ تعداد ’غیر متعین‘ بتائی گئی ہے کیونکہ تسنیم کے مطابق وہاں کے اعداد و شمارکا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے نے تشدد کو ’مسلح دہشت گردوں‘ اور غیر ملکی حمایت یافتہ گروہوں کا کام قرار دیا اور امریکہ، اسرائیل اور اپوزیشن تنظیموں پر ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

    ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد پر ’محاربہ‘ یعنی ’خدا کے خلاف جنگ‘ کا مقدمہ چلایا جائے گا، جس کی سزا موت ہے۔

    پولیس اور سکیورٹی اداروں نے خاندانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’اپنے بچوں کا خیال رکھیں‘ کیونکہ بعض اجتماعات میں مسلح گروہوں کی موجودگی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

  4. اسلام آباد میں شادی والے گھر میں سلینڈر دھماکے سے دلہا دلہن سمیت آٹھ افراد ہلاک, عثمان زاہد، بی بی سی نیوز، اسلام آباد

    اسلام آباد میں ایک گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے سے دلہا دلہن سمیت آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شادی کی تقریب کے بعد دلہا دلہن اور مہمان گھر میں سو رہے تھے۔

    دھماکہ اتوار کی صبح سات بجے ہوا جس سے مکان کی چھت گر گئی۔ دیواروں کے کچھ حصے اڑ گئے اور ملبے میں اینٹیں، بڑے کنکریٹ کے ٹکڑے اور فرنیچر بکھر گیا۔ زخمی افراد ملبے تلے دب گئے جنھیں ریسکیو اہلکار سٹریچر پر نکال کر ہسپتال منتقل کرتے رہے۔

    ایمرجنسی حکام نے بتایا کہ دھماکہ گیس لیکیج کے باعث ہوا، کمرہ گیس سے بھر گیا اور پھر دھماکہ ہوا۔ اس واقعے میں تین قریبی مکانات بھی متاثر ہوئے۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر اپنے دکھ کا اظہار کیا اور سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے اسے ’دل دہلا دینے والا واقعہ‘ قرار دیا جس نے خوشی کو غم میں بدل دیا۔

    دلہا کے والد حنیف مسیح نے کہا کہ ان کے بیٹے کی شادی ایک روز قبل ہوئی تھی اور دلہا دلہن سمیت اہلِ خانہ اور مہمان گھر میں سو رہے تھے۔ ان کے مطابق سب لوگ اتوار کی صبح تین بجے سوئے اور چند گھنٹے بعد یہ تباہی ہوئی۔ دھماکے میں ان کے بیٹے، بہو، بیوی اور بھابھی سمیت کئی افراد ہلاک ہوئے۔

    پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    فارنزک ماہرین حفاظتی لباس میں ملبے کی جانچ کر رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر پولیس صاحبزادہ یوسف نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو کے دوران ’سراغ رساں کتے‘ اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تاکہ کوئی شخص ملبے تلے نہ رہ جائے۔

    پاکستان میں گھریلو سطح پر ایل پی جی سلنڈر عام طور پر ایندھن اور کھانا پکانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی گیس لیکیج کے باعث ایسے مہلک حادثات پیش آتے رہے ہیں۔

    یوسف رضا گیلانی نے اس واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’گیس سلنڈروں کے غیر محفوظ استعمال کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔‘ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے ادا کرنی چاہئیں اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔

  5. پوپ کی ایرانی مظاہروں کے متاثرین کے لیے دعا

    دنیا کے کیتھولکس کے رہنما پوپ لیو چہار دہم نے اتوار کے روز اپنی ہفتہ وار دعا میں ایران میں مظاہروں اور شام میں ہونے والے تنازعات میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا کی اور مذاکرات کرنے اور امن کے قیام کی اپیل کی۔

    کیتھولکس کے مذہبی پیشوا نے ویٹی کن میں کہا کہ ’میری توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ان دنوں مشرق وسطیٰ میں کیا ہو رہا ہے، خاص طور پر ایران اور شام میں، جہاں جاری کشیدگی بہت سے لوگوں کی جان لے رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ امید کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ سب کے فائدے کے لیے تحمل اور تدبر کے ساتھ معاشرے میں مکالمہ اور امن بڑھے۔ پوپ نے یوکرین کے عوام کے لیے بھی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حملے عام شہریوں کو اور بھی زیادہ متاثر کر رہے ہیں کیونکہ موسم سرد ہو رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں ان لوگوں کے لیے دعا کرتا ہوں جو مصیبت میں مبتلا ہیں اور ایک بار پھر تشدد کے خاتمے اور امن کے حصول کے لیے کوششوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہیں۔‘

  6. ہلاکتوں کی منصوبہ بندی ناقابل برداشت ہے، عوام ’افراتفری‘ کو روکیں: ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی اپیل

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل کا مقصد حالیہ 12 روزہ جنگ کے ذریعے ملک کو ’افراتفری‘ کی طرف دھکیلنا تھا۔

    ایرانی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ لوگ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تربیت یافتہ ہیں، کچھ دہشت گردوں کو باہر سے ملک میں داخل کیا گیا، مساجد کو آگ لگائی گئی اور رشت میں بازاروں کو جلایا گیا۔‘

    ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’کچھ لوگ جو ’عوام میں سے نہیں ہیں اور اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے‘ نے لوگوں کو رائفلوں اور مشین گنوں سے قتل کیا۔ انھوں نے کچھ کے سر قلم کیے، کچھ کو آگ لگا دی‘۔

    ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ان ’فساد بپا‘ کرنے والوں کو کہہ رہے ہیں کہ ’آگے بڑھو، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔‘

    مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محلوں میں جمع ہوں اور ’افراتفری‘ کو روکیں۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’ہدایت یافتہ‘ اور ’تربیت یافتہ‘ افراد عوام پر گولیاں چلا رہے ہیں اور گھروں و املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    نیشنل سکیورٹی فورسز کے سربراہ احمد رضا رادان اور میڈیکل سسٹم آرگنائزیشن کے سربراہ محمد رئیسہ نے اسی طرح کی زبان استعمال کرتے ہوئے آج ایرانی ٹیلی ویژن پر اس بیانیے کو دہرایا۔

    دریں اثنا، ایران میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش جاری ہے، اور معلومات کی ترسیل اور تصدیق کے امکانات کو کم سے کم کر دیا گیا ہے۔

    جبکہ ناروے میں قائم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں کم از کم 190 افراد مارے گئے ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ ان ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔‘

  7. رکاوٹوں کے باوجود کراچی میں جلسہ ہر صورت ہو گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کراچی کے عوام کے نام ایک خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ وہ جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں اور ان کے مطابق آج کراچی کی تاریخ کا ایک بڑا جلسہ منعقد ہوگا۔

    سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ جلسہ روکنے کے تمام اقدامات ناکام ہوں گے اور یہ ہر صورت منعقد ہوگا۔ ان کے مطابق ان کا قافلہ بلدیہ ٹاؤن سے کیماڑی کی طرف عوامی طاقت کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ قافلہ کیماڑی سے بنارس چوک ڈسٹرکٹ ویسٹ، پھر گولی مار ڈسٹرکٹ سینٹرل اور اس کے بعد گرو مندر کی طرف جائے گا۔ سہیل آفریدی کے مطابق گرو مندر سے قافلہ مزارِ قائد پہنچے گا اور وہاں سے جلسہ گاہ کا رخ کرے گا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کارکنوں سے اپیل کی کہ کراچی کے ہر کونے سے نکل کر ان کے قافلے کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد عوام کے درمیان موجود ہوں گے۔

  8. ایران میں کم از کم 192 افراد ہلاک، انٹرنیٹ کی بندش سے مزید ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہ ہو سکی: انسانی حقوق کی تنظیم

    ناروے میں قائم ایرانی ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے اتوار کو اعلان کیا کہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں میں کم از کم 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو کہ گذشتہ 51 ہلاکتوں کی تعداد سے نمایاں اضافہ ہے۔

    تنظیم کے مطابق کم از کم 192 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ایک دن تک انٹرنیٹ کی بندش نے اعداد و شمار کی تصدیق کے عمل میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔

    ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی بعض ذرائع کے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے اور شاید 2000 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

    انسانی حقوق کی اس تنظیم نے مظاہرین کی ہلاکتوں میں اضافے اور تسلسل اور قیدیوں کو بڑے پیمانے پر سزائے موت دینے کے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔

  9. ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسرائیل میں ہائی الرٹ

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اسرائیل ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

    اسرائیلی ویب سائٹ دی یروشلم پوسٹ نے 11 جنوری کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل اس امکان کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے کہ امریکہ ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو تہران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ’جائز اہداف‘ تصور کرے گا۔

    ادھر وائی نیٹ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 10 جنوری کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا۔

    ایرانی حکام بارہا مظاہروں کو ’فسادات‘ اور ’امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح دہشت گردوں‘ کی کارروائیاں قرار دے چکے ہیں۔

    9 جنوری کو صدر ٹرمپ نے ایرانی حکام کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہ لوگوں کو اسی طرح قتل کرنا شروع کریں جیسے ماضی میں کیا ہے تو ہم مداخلت کریں گے۔‘

  10. حملہ کیا گیا تو اسرائیل اور امریکی فوجی اڈے ’جائز اہداف‘ ہوں گے: ایران

    ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز ’جائز اہداف‘ تصور کیے جائیں گے۔

    پارلیمان کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی سپیکر نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ ’واضح اور عملی خطرات‘ کی بنیاد پر پیشگی اقدام بھی کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ پیغام صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے لیے ہے کہ وہ ’غلط اندازے‘ نہ لگائیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت چار محاذوں۔۔ اقتصادی، فکری، عسکری اور دہشت گردی۔۔ پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف برسرِپیکار ہے۔

    ادھر امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کے خلاف کارروائی کے بعد فوجی آپشنز پر غور کیا ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    صدر ٹرمپ نے سنیچر کے روز سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ایران ’آزادی چاہتا ہے‘ اور امریکہ ’مدد کے لیے تیار‘ ہے۔

  11. حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود ایران میں پرتشدد مظاہرے، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟, بی بی سی نیوز

    ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں شدت آ رہی ہے اور سنیچر کی شب مشتعل مظاہرین حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے باوجود سڑکوں پر نکلے۔

    رپورٹس کے مطابق گذشتہ تین روز میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی کی طرف سے دیکھی گئی تصدیق شدہ ویڈیوز اور عینی شاہدین کے اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنا ردِعمل تیز کر رہی ہے، کیونکہ اس نے انٹرنیٹ پر مکمل بلیک آؤٹ جاری رکھا ہوا ہے۔

    ملک کے اٹارنی جنرل نے سنیچر کے روز کہا کہ جو بھی احتجاج کرے گا اسے ’خدا کا دشمن‘ سمجھا جائے گا۔ ایسا جرم جس کی سزا موت ہے۔‘

    خیال کیا جاتا ہے کہ دو ہفتے سے زیادہ عرصہ قبل مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    یہ مظاہرے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے شروع ہوئے اور ایران کے ہر صوبے کے 100 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں پھیل چکے ہیں۔ اب مظاہرین ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مذہبی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    خامنہ ای کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’خوش‘ کرنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو ایرانی عوام نے مسترد کر دیا ہے۔

    ایرانی حکومت نے مظاہروں کو روکنے کی کوشش میں انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔ ایران کا ڈیٹا انفراسٹرکچر ریاست اور سکیورٹی حکام کے ذریعے سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

    پچھلے کچھ سالوں میں، حکومت نے عالمی انٹرنیٹ تک رسائی کو آہستہ آہستہ کم کر دیا ہے۔ تاہم، احتجاج کی اس لہر کے دوران، حکام نے پہلی بار نہ صرف دنیا بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی کو بند کر دیا ہے بلکہ مقامی انٹرنیٹ کو بھی سختی سے محدود کر دیا ہے۔

    ایک ماہر نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ موجودہ شٹ ڈاؤن تین سال قبل مہسا امینی کی پولیس تحویل میں ہونے والی ہلاکت کے بعد بغاوت کے دوران لگائی گئی پابندیوں سے زیادہ شدید ہے۔

    ایک انٹرنیٹ ماہر علی رضا نے کہا کہ ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی، کسی بھی شکل میں، اب تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ بیرونی دنیا سے جڑنے کا واحد ممکنہ طریقہ سٹار لنک کے ذریعے تھا، لیکن صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں، کیونکہ اس طرح کے رابطوں کا سراغ حکومت کے ذریعے ممکن ہے۔

    بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں ادارے بھی ایران کے اندر سے رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے معلومات کا حصول اور تصدیق مشکل ہو جاتی ہے۔

    بہر حال، کچھ ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہیں اور بی بی سی نے کچھ لوگوں سے بات کی ہے۔

    سنیچر کی شب تصدیق شدہ ویڈیومیں مظاہرین کو تہران کے ضلع گیشا میں سڑکوں پر قبضہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ متعدد ویڈیوز، جن کی تصدیق بی بی سی ویریفائی نے کی ہے میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے وکیل آباد بلیوارڈ پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

    نقاب پوش مظاہرین آگ کے ایک الاؤ کے پیچھے چھپے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے کئی اہلکار کچھ فاصلے پر موجود ہیں۔ قریب ہی ایک گاڑی آگ کی لپیٹ میں ہے۔

    اس دوران ایک سے زیادہ گولیاں چلنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

    دارالحکومت تہران سے دیگر ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی ویریفائی کے ذریعے تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں مغربی تہران کے پنک سکوائر میں مظاہرین برتن پٹخ رہے ہیں۔ یہ علاقہ رواں ہفتے مظاہروں کا گڑھ رہا ہے۔

    ایک اور کلپ، جسے شمال مشرقی تہران کے ضلع ہیروی میں فلمایا گیا ہے اور جس کی تصدیق بی بی سی فارسی اور بی بی سی ویریفائی نے کی ہے۔ اس میں مظاہرین کے ایک ہجوم کو سڑک پر مارچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

  12. ’یہ خدا سے جنگ ہے اور اس کی سزا صرف موت ہے‘: ایرانی پراسیکیوٹر جنرل کی ’فسادیوں‘ کے خلاف تیزی سے مقدمات چلانے کی ہدایت, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران کے پراسیکیوٹر جنرل محمد موحدی آزاد نے ملک میں جاری فسادات کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف مقدمات تیز رفتاری سے چلانے کے لیے خصوصی عدالتیں تشکیل دینے اور جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کی ہدایت کی ہے۔

    10 جنوری کو سرکاری ٹیلیگرام چینل آئی آر آئی بی کے مطابق مواحدی آزاد نے ملک بھر کے پراسیکیوٹرز کے دفاتر سے ’احتیاط کے ساتھ اور تاخیر کے بغیر فردِ جرم عائد کرنے اور مقدمات کی سماعت کے لیے تیزی سے تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’تمام فسادیوں کے خلاف الزامات یکساں ہیں۔ چاہے کسی نے عوامی سلامتی اور املاک کو نقصان پہنچانے میں فسادیوں اور دہشت گردوں کی مدد کی ہو یا کرائے کے فوجی جنھوں نے ہتھیار اٹھا کر شہریوں میں خوف و ہراس پھیلایا ہو۔ یہ خدا کے خلاف جنگ ہے اور اس کی سزا صرف موت ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ان افراد کو دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ اُن کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ کیونکہ اُنھیں دُشمن کے ارادوں کے بارے میں بہت پہلے ہی بتا دیا گیا تھا۔

    اپنے حکم میں اُنھوں نے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی میں نرمی، ہمدردی یا سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اُنھوں نے عوامی مقررین اور سوشل میڈیا کارکنوں کو بھی متنبہ کیا کہ وہ اپنے بیانات پر دھیان دیں۔

    ایرانی حکام مظاہرین کو فساد پسند اور دہشت گرد عناصر کہتے رہے ہیں۔

    28 دسمبر کو شروع ہونے والے مظاہرے اب ملک بھر میں پھیل گئے ہیں اور ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کی جانب سے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کے بعد آٹھ اور نو جنوری کو ان میں مزید شدت آ گئی تھی۔

  13. اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں سلنڈر دھماکہ، پانچ افراد ہلاک, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں سلنڈر دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد گھر بھی متاثر ہوئے ہیں۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق گھروں سے 15 افراد کو بحفاظت باہر نکالا گیا جبکہ بعض زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ شادی والے گھر میں ہوا اور دھماکے کے وقت گھر میں شادی پر آنے والے مہمان بھی موجود تھے۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق پولیس افسران اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق دھماکہ گیس لیکج کی وجہ سے ہوا اور اس سے تین گھر مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد صاحبزادہ یوسف کے مطابق گھروں سے مجموعی طور پر 15 افراد کو باہر نکالا گیا، جن میں سے پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    اُن کے بقول 10 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے سلنڈر دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  14. صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کے نئے فوجی آپشنز سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے: امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے ردِعمل میں ایران پر حملے کے نئے آپشنز سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔

    بی بی سی فارسی نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ کوئی قدم اُٹھانا چاہتے ہیں، لیکن اُنھوں نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ جون میں امریکہ نے ایران-اسرائیل جنگ کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔

    امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ 'ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکہ ایران کی مدد کے لیے تیار ہے۔'

    ٹرمپ نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی اور انھیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکہ ان کی حمایت کے لیے آئے گا۔

    امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ کہ جب عمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔

    جمعے کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین ایسے شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں، جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

    صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر ایرانی حکومت کو خبردار کیا کہ 'اگر اُنھوں نے ماضی کی طرح اپنے لوگوں کا مارنا شروع کیا تو ہم کارروائی کریں گے۔ ہم اُنھیں ایسی شدت سے ماریں گے کہ اُنھیں بہت تکلیف ہو گی۔ اس کا مطلب فوجی موجودگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم انہیں پوری شدت سے ماریں گے۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔'

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

  15. امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت: منیپولس میں مظاہروں کے دوران 29 افراد گرفتار

    امریکہ کے شہر منیپولس میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس نے اس دوران 29 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مظاہروں کے دوران ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

    منیپولس پولیس نے جمعے کی شب لوگوں کو جمع ہونے پر پابندی عائد کی تھی، تاہم اس دوران سینکڑوں مظاہرین کینوپی ہوٹل کے باہر جمع ہو گئے، جہاں خیال کیا جا رہا تھا کہ امیگریشن ایجنٹس وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق کچھ افراد نے ایک گلی کے داخلی راستے سے ہوٹل میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔

    آن لائن پوسٹ کی گئی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین علاقے میں موبائل فون کی لائتیں آن کر کے سیٹیاں اور ڈھول بجا رہے ہیں۔

    پولیس کے مطابق علاقے میں ایک ہزار سے زائد مظاہرین موجود تھے اور کچھ نے پولیس اہلکاروں اور اُن کی گاڑیوں کی طرف برف کے گولے پھینکے۔

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق، ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار کو معمولی چوٹیں آئیں لیکن اسے کسی طبی امداد کی ضرورت نہیں تھی۔

    مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنھوں نے ان کی کار کو گھیر رکھا تھا۔

    واقعہ بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10:25 بجے پیش آیا۔

    واقعے کی فوٹیج میں ایک نقاب پوش امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی میں تین بار گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر کھڑی گاڑیوں سے ٹکراتی دیکھی گئی جبکہ خوفزدہ عینی شاہدین وفاقی افسران کو ٹوکتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ویڈیو میں مظاہرین سڑک کے کنارے موجود ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں قریب دکھائی دیتی ہیں۔

    اس واقعے کے بعد سے شہر بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ شہر کے ڈیموکریٹک میئر جیکب فری نے امیگریشن اہلکاروں سے شہر چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب منیپولس پولیس چیف برائن او'ہارا کا کہنا تھا کہ خاتون ڈرائیور اپنی گاڑی میں موجود تھی اور سڑک پر رکاوٹ کا سبب بن رہی تھی۔ ایک وفاقی اہلکار پیدل اس کے قریب آیا، جس پر خاتون نے گاڑی آگے بڑھانے کی اور انھیں مارنےکی کوشش کی۔

    امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا ہے کہ رینی نیکول گوڈ دن بھر امیگریشن اہلکاروں کا پیچھا کرتی رہیں اور رکاوٹ ڈالتی رہیں اور اپنی گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی، جسے انھوں نے ڈومیسٹک ٹیررازم قرار دیا۔

    نوم کے مطابق وفاقی اہلکار نے دفاع کے طور پر فائرنگ کی اور خود بھی زخمی ہوا، تاہم اسے مقامی سپتال میں علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا۔

  16. وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سندھ کے دورے کے دوران بھی حکومت پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا الزام

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ کے دورے کے دوران بھی اُن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

    ایکس پر اپنے بیان میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حیدر آباد سے واپسی پر اُن کے قافلے کے لیے تمام راستے بند کر دیے گئے اور تین گھنٹوں تک مختلف راستے تبدیل کرتے رہے۔

    سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ اتوار کی صبح سوا چار بجے وہ ایک سنسان سڑک پر کراچی کی طرف روانہ ہوئے۔ سندھ حکومت نے نہ صرف میری بلکہ میری ٹیم کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالا۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’جو روایات ایک صوبے کے وزیراعلی کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بنائی جا رہی ہے یہ مستقبل قریب میں نقصاندہ ثابت ہوگی۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ اس میں نفرتوں کو اتنا مت پھیلائیں جس سے پھر واپسی ممکن نا ہو۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’جعلی جمہوری قوتیں اس میں کوئی کثر بھی نہیں چھوڑ رہی ہے۔ یہ انتہائی شرمناک ہے۔‘

    خیال رہے کہ سہیل آفریدی چار روزہ دورے پر سندھ میں موجود ہیں۔ جمعے کو اُن کی کراچی آمد پر ایئر پورٹ پر صوبائی وزیر سعید غنی نے روایتی سندھی ٹوپی اور اجرک پہنا کر سہیل آفریدی کا استقبال کیا تھا۔

    سہیل آفریدی کے اس الزام پر تاحال سندھ حکومت کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم جمعے کو سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر سعید غنی نے اُن کا خیر مقدم کیا تھا۔

    سندھ سے قبل وزیر اعلی سہیل آفریدی کا دورہ لاہور متنازع ہو گیا تھا اور اُنھوں نے شکوہ کیا تھا کہ پنجاب میں اُن کی آمد پر مہمان نوازی کے آداب کا خیال نہیں رکھا گیا۔

  17. ایران کا مظاہرین کو بھڑکانے والے 600 ’موساد کے ایجنٹوں‘ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایک ایران نواز ہیکر نے ایسے 600 افراد کی شناخت کی ہے، جن کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ موساد کے ایجنٹ ہیں اور ایران میں احتجاج کو بھڑکانے میں ملوث ہیں۔

    ایران میں اس وقت بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں، جو 28 دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہو کر ملک بھر میں پھیل گئے تھے۔

    ایران کا الزام ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ مسلح دہشت گرد گروپ تشدد کے پیچھے ہیں اور ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے ٹیلیگرام چینل نے 10 جنوری کو رپورٹ کیا کہ ایران سے منسلک گروپ حنظلہ (ہنڈالہ) نے موساد کے 600 کارندوں کی شناخت ظاہر کرنے والی دستاویزات شائع کیں۔

    رپورٹ کے ساتھ ایک پی ڈی ایف دستاویز بھی تھی جس میں ایران، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور اسرائیل سمیت کئی ممالک کے ناموں اور فون نمبروں کی فہرست موجود تھی۔ اس فہرست میں عبرانی میں لکھے گئے کچھ نام اور انگریزی میں لکھے گئے کئی ایرانی نام شامل تھے۔

    حنظلہ (ہنڈالہ)، جو خود کو سائبر مزاحمتی گروپ کے طور پر بیان کرتا ہے، نے 8 جنوری کو دعویٰ کیا کہ اس نے مظاہرین سے اسرائیلی موساد کے روابط کا پردہ فاش کیا ہے۔

    گروپ نے کہا کہ اس نے مہرداد رحیمی نامی شخص کو ہیک کیا تھا، جسے موساد کا افسر بتایا جاتا ہے، اور احتجاج کے دوران اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی تھی۔

  18. امریکہ کے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے شام میں نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔

    ایکس پر سینٹ کام کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز ان حملوں کی ہدایت کی تھی، جو آپریشن ’ہاک آئی سٹرائیک‘ کا حصہ ہیں۔ یہ آپریشن گذشتہ ماہ شام میں امریکی فوج پر حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

    13 دسمبر کو شام کے شہر پالمیرا میں امریکی اور شامی افواج پر داعش کے حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی شہری مترجم ہلاک ہو گئے تھے۔

    سینٹ کام کے مطابق حملے دہشت گردی سے نمٹنے اور خطے میں امریکی اور شراکت دار افواج کے تحفظ کے لیے گئے ہیں۔

    سینٹ کام کے مطابق ’ہمارا پیغام مضبوط ہے: اگر آپ ہمارے لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، تو ہم آپ کو دنیا میں کہیں بھی ڈھونڈیں گے اور مار ڈالیں گے، چاہے آپ انصاف سے بچنے کی کتنی ہی کوشش کریں۔‘

    سینٹ کام کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا کہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے ایک آپریشن میں 35 سے زیادہ اہداف پر 90 سے زائد حملے کیے اور ان کارروائیوں میں 20 طیاروں نے حصہ لیا۔

    حملوں کے مقام اور کسی جانی نقصان کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔

  19. ’اشتعال انگیزی اور تخریب کاری میں کمی آ رہی ہے‘: ایرانی وزیرِ داخلہ کا دعویٰ

    ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بدامنی کم ہو رہی ہے اور تخریب کاری میں کمی آ رہی ہے۔

    سنیچر کی شب اُنھوں نے ایرانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ملک میں سکیورٹی کے حالات مناسب ہیں اور اشتعال انگیزی میں بھی کمی آ رہی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، تاکہ اپنے ہم وطنوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے، بلکہ وہ خود اس دوران شہید ہو رہے ہیں۔‘

    ایرانی وزیر داخلہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ مظاہرین نے کئی شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘

    ایران میں بعض طبی ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ رشت اور تہران کے صرف دو ہسپتالوں کے مردہ خانے ہی مظاہرین کی لاشیں محفوظ کر رہے ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرنے کے بدلے میں 700 ملین تومان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    مظاہرین ملک میں کرنسی کی قدر میں تیزی سے کم اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اس دوران کئی شہروں میں ملک کے رہبر اعلیٰ کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی ہے۔

    ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر سخت تنقید کرتے ہوئے انھیں 'چند شرپسندوں کا گروہ' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 'خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

  20. بریکنگ, ایران آزادی چاہتا ہے اور امریکہ مدد کے لیے تیار ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ’ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکہ ایران کی مدد کے لیے تیار ہے۔‘

    ٹرمپ نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی اور انھیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکہ ان کی حمایت کے لیے آئے گا۔

    امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ کہ جب عمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔

    اس سے قبل دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس کے دوران عباس عراقچی نے عمان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’ہر ملک کے داخلی معاملات اسی ملک سے متعلق ہیں اور کسی فریق کو حق نہیں کہ وہ دوسرے ملک کے اندرونی امور میں مداخلت کرے یا ان پر فیصلہ مسلط کرے۔‘

    انھوں نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا عمان امریکہ کا پیغام ایران تک پہنچا رہا ہے یا نہیں۔

    یاد رہے کہ عمان کئی دہائیوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچاتا رہا ہے۔