برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے، غزہ میں ’ناقابل برداشت‘ فوجی کارروائی پر اسرائیلی سفیر کی طلبی

وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’امداد روکنا، جنگ کو وسعت دینا، دوستوں اور شراکت داروں کے خدشات کو مسترد کرنا ناقابل دفاع ہے اور اس سب کو اب روکنا چاہیے۔‘

خلاصہ

  • حکومتِ پاکستان نے بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کے ساتھ ساتھ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بطور پاکستانی ایئرفورس کے سربراہ اپنی خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
  • غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 53,573 ہو گئی ہے۔
  • اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ 'ادارے کو غزہ میں 'تقریباً 100' امدادی ٹرک بھیجنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔'
  • انڈیا بھر میں 'پہلگام حملے' اور 'آپریشن سندور' پر تبصرہ کرنے پر 116 افراد گرفتار
  • سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی موت کی سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ان کو سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
  • پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے آج بیجنگ میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے وزیر لیو جیان چاو سے ملاقات کی ہے
  • پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 20 سے 24 مئی کے دوران ممکنہ ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. ’پاکستان کو حملے کی پہلے اطلاع کیوں دی گئی؟‘ کانگریس نے ایس جے شنکر کے بیان پر حکومت سے جواب طلب کر لیا

    انڈیا کی کانگریس پارٹی نے انڈیا کے ’آپریشن سندور‘ کے بارے میں ’پاکستان کو معلومات دینے‘ کے بارے میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے بیان پر پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔

    کانگریس لیڈر پون کھیرا نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ’ایس جے شنکر کے بیان کی وجہ سے پاکستان اور پوری دنیا میں ہمارا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔‘

    پون کھیرا نے کہا ’وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خود میڈیا ایجنسیوں کو بتایا کہ ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا، اب ان معلومات کا کیا مطلب ہے؟ کیا وزیر خارجہ کو پاکستان پر اتنا اعتماد ہے کہ دہشت گرد ان کے حکم پر خاموشی سے بیٹھ جائیں گے؟ وزیر خارجہ نے حملے سے پہلے پاکستان کو کیوں اطلاع دی؟‘

    تاہم انڈیا کے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ کے بیان کو غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس پر ’جعلی خبریں پھیلانے‘ کا الزام لگایا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر پر کانگریس کا الزام

    کانگریس لیڈر پون کھیرا نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ پر کئی سنگین الزامات لگائے۔

    انھوں نے کہا کہ کیا یہی وجہ ہے کہ مسعود اظہر اور حافظ سعید زندہ بچ گئے؟ کیا ملک کو یہ جاننے کا حق نہیں ہے کہ پاکستان کو حملے کی اطلاع دے کر مسعود اظہر کو دوبارہ بچایا گیا، کیونکہ اس سے قبل قندھار ہائی جیکنگ کے وقت مسعود اظہر کو رہا کیا گیا تھا۔

    وزیر خارجہ کے بیان پر پون کھیرا نے کہا ’وزیر خارجہ کا یہ بیان حساس ہے، کیونکہ اس بیان سے لگتا ہے کہ دہشت گرد اپنے ٹھکانوں سے بھاگ گئے ہوں گے۔ وزیر اعظم مودی اور وزیر خارجہ کو جواب دینا پڑے گا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔‘

    اس معاملے پر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بیان طلب کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ غلطی نہیں بلکہ جرم ہے اور ملک کو سچ جاننے کا حق ہے۔

    راہل گاندھی نے پہلے بھی ایس جے شنکر کے بیان پر سوالات اٹھائے تھے۔

    راہول گاندھی نے سوال کیا کہ ’ہماری طرف سے حملہ کرتے وقت پاکستان کو اطلاع دینا جرم تھا۔ وزیر خارجہ نے کھلے عام مان لیا ہے کہ حکومت نے یہ کیا ہے۔ ایسا کرنے کو کس نے کہا؟ اس کی وجہ سے ہماری فضائیہ کو کتنے طیارے کھونے پڑے؟‘

    ایس جے شنکر نے کیا کہا؟

    صحافیوں کے ساتھ ان کی بات چیت کی ایک ویڈیو میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ’آپریشن کے آغاز میں ہم نے پاکستان کو پیغام بھیجا کہ ہم دہشت گرد کے ڈھانچوں پر حملہ کر رہے ہیں، ہم فوج پر حملہ نہیں کریں گے۔ اس لیے فوج کے پاس اس سے دور رہنے اور مداخلت نہ کرنے کا اختیار ہے۔ انھوں نے اس مشورے پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

  2. ’یوکرین میں جنگ بندی شروع کرنے کے لیے ٹائم فریم پر بات نہیں ہوئی‘

    پوتن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی خبر رساں ادارے ٹاس کی رپورٹ کے مطابق کریملن کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یوکرین میں جنگ بندی شروع ہونے کے ٹائم فریم کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ’فوری طور پر‘جنگ بندی مذاکرات شروع کریں گے۔

    اوشاکوف نے یہ بھی کہا کہ پوتن نے یوکرین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ یہ دونوں بات چیت جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  3. ’زیلنسکی نے ناقابلِ قبول مطالبات پھر واضح کر دیے‘, جیمز واٹر ہاؤس، یوکرین کے نامہ نگار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو فون کالز کے بعد ولادیمیر زیلنسکی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ انھیں کیا چیزیں ناقابلِ قبول ہوں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ان مسلسل مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے جن میں یوکرین کے پانچ علاقوں کا مکمل کنٹرول بھی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یوکرین اپنی سرزمین سے اپنی افواج واپس نہیں بلائے گا۔

    یوکرین کے صدر نے ایک بار پھر جنگی قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا اور کہا کہ ماسکو کے ساتھ مزید براہ راست مذاکرات کی تیاریاں پہلے ہی کی جا رہی ہیں لیکن دو چیزیں ہیں جو وہ چاہتے ہیں انھیں اب بھی نہیں مل رہی ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مسلسل حملوں کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی انھوں نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرنے کے لیے مزید پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

    صدر زیلنسکی مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جنگ بندی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

    آج ہونے والی پیش رفت سے پتہ چلتا ہے کہ لڑائی میں کسی بھی تعطل سے پہلے مذاکرات کے حوالے سے مزید بات چیت ہوگی۔

  4. یوکرین کے صدر کی جنگ بندی کے لیے ممکنہ ملاقاتوں کی تصدیق

    زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے روس، امریکہ، یورپی یونین کے ممالک اور برطانیہ کے درمیان ایک اعلٰی سطحی ملاقات پر غور کر رہے ہیں۔

    امریلکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ ملاقات جلد از جلد ہو اور اس کی میزبانی ترکی، ویٹیکن یا سوئٹزرلینڈ کر سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں بہت پُر عزم ہوں، یہ ہمارے لیے چیلنجنگ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کا بڑا تبادلہ بھی چند دنوں یا ہفتوں میں ہو سکتا ہے۔

  5. بریکنگ, روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جلد مذاکرات شروع کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جلد مذاکرات شروع کریں گے۔

    ایکس پر ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ دو گھنٹے فون پر بات کی۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ بات چیت اچھی رہی۔ روس اور یوکرین فوری طور پر جنگ بندی اور سب سے اہم جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔‘

    ’اس کے لیے شرائط فریقین طے کریں گے۔ ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ وہ مذاکرات کی تفصیلات جانتے ہیں جس کے بارے میں کسی اور کو علم نہیں ہوگا۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’جب یہ تباہ کن ’خونریزی‘ ختم ہوجائے گی تو روس امریکہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارت کرنا چاہتا ہے اور میں نے اس سے اتفاق کیا ہے۔ روس کے لیے بڑے پیمانے پر ملازمتیں اور دولت پیدا کرنے کا زبردست موقع ہے۔‘

    اپنے تفصیلی بیان میں امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’اسی طرح یوکرین اپنے ملک کی تعمیر نو کے عمل میں تجارت پر ایک بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔‘ امریکہ کے صدر نے دہرایا کہ ’روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات فوری طور پر شروع ہوں گے۔‘

    ’میں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن، فرانس کے صدر ایمانوئل میخوان ، اٹلی کے وزیر اعظم جارجیا میلونی، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب کو صدر پوتن سے فون پر بات چیت کے فوراً بعد مطلع کیا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’ویٹیکن نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔‘

  6. جنگ بندی اور کشمیر پر بیان تک صدر ٹرمپ نے ایک خیر خواہ دوست کا کردار ادا کیا: پاکستان

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی میں پاکستانی بحریہ کے فوجی جوانوں اور افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خیرخواہ دوست کا کردار ادا کیا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’سلگتی آگ کو صدر ٹرمپ نے بھانپا اور ’مین آف پیس‘ بن کر سامنے آئے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے میں صدر ٹرمپ، ان کے ساتھیوں اور ٹیم نے صدق دل سے کام کیا اور جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے متعلق بتایا کہ ’یہاں تک کہ انھوں نے کہا کہ وہ کشمیر سے متعلق بھی اپنا مخلصانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ آپ کی بہادری کے بدولت پاکستان کو اس مقام پر دوبارہ لا کھڑا کیا ہے۔ اب دنیا ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کا موازنہ کر رہی ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’ہماری افواج نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یاد رکھے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح پوری اپنی افواج کے ساتھ کھڑی تھی اور کھڑی ہے۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’آج ہمارا دشمن خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ پاکستان نیوزی نے خلیج فارس، بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے، یہ آپ سب کی اور پوری قوم کی فتح ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری بحریہ اس بار بھی تیار تھی کہ دوارکا کی تاریخ کو دوبارہ دہرایا جائے مگر ہماری بحریہ کی تیاری دیکھ کر دشمن کی ہمت نہیں ہوئی، اور جس طرح بری فوج اور فضائیہ نے مل کر اس کی پٹائی کی تو شاید وہ مزید رسوا ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ تاریخ کا ایک قابل فخر واقعہ ہے جس نے پاکستان کو پہلے بھی اور آئندہ کے لیے بھی ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں اور اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں لیکن اگر ہم پر جنگ دوبارہ مسلط کی گئی تو دشمن ہمیں ہمیشہ تیار پائے گا، ہم جارحانہ عزائم نہیں رکھتے لیکن ہم اپنے وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا تحفظ کرنا بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’سپہ سالاروں کی زبردست حکمت عملی، دلیرانہ فیصلے، پرکشش قیادت، آرمڈ فورسز کا ایک صفحے پر ہونے سے بھی یہ کامیابی ممکن ہو سکی۔ انھوں نے کہا کہ اب سبز پاسپورٹ کی عزت ہر جگہ اور خاص طور پر دوست ممالک میں بڑھ گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب ہم معاشی اور سماجی میدان میں بھی پاکستان کو ترقی دے کر اس کی عزت میں مزید اضافہ کریں گے۔

  7. عزہ میں 20 لاکھ بچے فاقے کا شکار ہیں: عالمی ادرہ صحت کے سربراہ کا انتباہ

    Gaza

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں 20 لاکھ بچے فاقے کا شکار ہیں۔ گذشتہ 11 ہفتوں سے اسرائیل نے غزۃ تک خوراک کی رسد بند کر رکھی ہے۔

    اسرائیل نے آج محدود پیمانے پر خوراک کی فراہمی کی اجازت دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

    تیدروس ادھانوم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر تیدروس ادھانوم گیبرائسس کا ڈبلیو ایچ او کے وفود سے خطاب

    ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر تیدروس ادھانوم گیبرائسس نے دنیا بھر سے آئے ہوئے ڈبلوچ ایچ او کے وفود سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں خوراک کی فراہمی نہ کرنے دینا، شہریوں کو انخلا جیسے احکامات اور انسانی بنیادوں پر کام کے ہوتے مواقع ایسی وجوہات ہیں جو صحت کے نظام کو مفلوج کر رہی ہیں، جو کہ پہلے سے ہی درہم برہم ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ لوگ سرحد پر دوائیوں کے انتظار میں مر رہے ہیں۔

    تیدروس ادھانو نے کہا کہ 2023 سے ڈبلیو ایچ او نے غزہ سے 7300 مریضوں کو نکالا ہے مگر ابھی بھی 10 ہزار سے زائد مریض موجود ہیں جنھیں غزہ کی پٹی سے باہر لے جانے کی ضرورت ہے۔

  8. اسرائیلی حملے کا الٹی میٹم، خان یونس سے فلسطینی شہریوں کا انخلا جاری

    خان یونس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مکمل کنٹرول کے اعلان کے بعد خان یونس سے بڑی تعداد میں شہریوں نے انخلا شروع کر دیا ہے۔

    Palestine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہریوں کو خان یونس اور دیگر دو علاقوں سے فوری نکلنے کی ہدایت کی تھی۔

    Khan Younus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے مطابق فوج کے حملوں کا مقصد ’دہشتگرد‘ تنظیموں کی کمر توڑنا ہے۔

    Israeli attack

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  9. پاکستان کی انڈیا کے خلاف ’آپریشن بنیان مرصوص‘ میں شاہین میزائل استعمال کرنے کے الزام کی تردید

    ’پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں میں جدت لانے کا مقصد انڈیا کے علاوہ کسی دور دراز کے ملک کو نشانہ بنانا نہیں بللکہ انڈیا کے تیزی سے ترقی پذیر میزائل ڈیفینس نظام کا سدباب کرنا یا ناکام بنانا ہے‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے انڈین فوج اور میڈیا کے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران اسلام آباد کی جانب سے شاہین میزائل کا استعمال کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کا زمین سے زمین پر مار کرنے والا شاہین ٹو میزائل ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انڈیا کے بعض ذرائع ابلاغ نے انڈین فوج کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے دوران جوہری صلاحیت کے حامل شاہین میزائل انڈیا کی جانب داغے تھے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دعوے انڈین فوج کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے جاری کردہ ایک ویڈیو کے بعد سامنے آئے، جس میں مبینہ طور پر پاکستان کے شاہین میزائل کا استعمال دکھایا گیا تھا، حقیقت واضح ہونے پر انڈین فوج نے فوری طور پر اس گمراہ کن ویڈیو کو حذف کر دیا۔

    شاہین میزائل

    ،تصویر کا ذریعہIndian Army

    ،تصویر کا کیپشنانڈین فوج کے ایک ایکس اکاؤنٹ کی حذف شدہ ویڈیو میں ’پاکستان کی طرف سے میزائل حملے‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے شاہین ٹو میزائل کی یہ تصویر دکھائی گئی تھی

    تاہم تب تک انڈین میڈیا کے کچھ چینلز نے بغیر تصدیق کے اس ’جھوٹی خبر‘ کو پھیلا دیا تھا، افسوس کی بات ہے کہ بعض انڈین ادارے اب بھی اس غلط معلومات کو پھیلا رہے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈین فوج کے آفیشل ہینڈل نے اس معاملے پر خاموشی اختیار رکھی ہے اور اس غلط پوسٹ کے لیے نہ تو کوئی وضاحت پیش کی ہے اور نہ ہی اسے واپس لیا ہے۔

    Shaheen II Missile

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنواضح رہے کہ پاکستان کا زمین سے زمین پر مار کرنے والا شاہین ٹو میزائل ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے

    دفتر خارجہ کے مطابق ’تجزیہ کاروں کا مشاہدہ ہے کہ اس طرح کی غلط اطلاعات کی مہمات آپریشن سندور میں انڈیا کو ہونے والی شکست پر پردہ ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش کا حصہ ہیں، جو پاکستان کی جانب سے دکھائی جانے والی روایتی فوجی صلاحیتوں کا نتیجہ تھی۔‘

    دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ من گھڑت کہانیاں نئی دہلی کی جانب سے جنگ بندی کے حوالے سے ایک گمراہ کن بیانیہ اور پاکستان کی طرف سے نام نہاد ’جوہری بلیک میلنگ’ کے بے بنیاد الزامات کو فروغ دینے کی جاری کوششوں کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے استعمال کیے گئے ہتھیاروں کی تفصیلات آئی ایس پی آر کی 12 مئی 2025 کی پریس ریلیز میں درج ہیں۔ پاکستانی افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فتح سیریز کے میزائل، ایف 1 اور ایف 2 کے ساتھ ساتھ جدید گولہ بارود کا استعمال کیا۔

    اس کے علاوہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے لوئٹرنگ کِلر ڈرون اورطویل فاصلے تک مار کرنے والی توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔

    بیان کے مطابق انڈیا اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں ان ہتھیاروں سے نشانہ بنائے گئے فوجی مقامات کی فہرست بھی آئی ایس پی آر کے 12 مئی کے پریس ریلیز میں موجود ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق غیر تصدیق شدہ اور اشتعال انگیز مواد پھیلانا نہ صرف علاقائی استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ سرکاری اداروں کی پیشہ ورانہ ساکھ کو بھی مجروح کرتا ہے۔

    Hataf

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے پاس کون کون سے میزائل ہیں؟

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 400 کلومیٹر تک کے فاصلے پر مار کرنے والے اس میزائل میں اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے۔

    ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں میں ہتف سیریز کے ہتف ون اور نصر میزائل شامل ہیں جو 60 سے 100 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    اس کے بعد مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی باری آتی ہے جن میں 200 کلومیٹر رینج والا ابدالی، 300 کلومیٹر تک مار کرنے والا غزنوی، 350 کلومیٹر کی رینج والا رعد، 700 کلومیٹر کی رینج والا بابر اور ساڑھے سات سو سے ایک ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا شاہین ون میزائل شامل ہیں۔

    اپریل 2025 میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد شروع ہونے والی انڈو پاک کشیدگی کے دوران پاکستان نے ابدالی میزائل کے ایک اور ورژن کا تربیتی تجربہ کیا ہے اور آئی ایس پی آر کے مطابق زمین سے زمین تک مار کرنے والے یہ میزائل 450 کلومیٹر فاصلے پر اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاکستان کے میڈیم رینج میزائلوں میں غوری ون اور ٹو، ابابیل اور شاہین ٹو اور شاہین تھری شامل ہیں۔ ان میں سے غوری ون 1500 کلومیٹر جبکہ غوری ٹو دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر نشانہ لگا سکتے ہیں جبکہ ابابیل میزائل کی رینج 2200 کلومیٹر ہے۔

    شاہین ٹو اور تھری پاکستان کے سب سے زیادہ فاصلے پر نشانہ بنانے والے میزائل ہیں جن کی رینج 2500 سے 2750 کلومیٹر تک ہے۔

    ابابیل اور شاہین تھری ملٹیپل ری انٹر وہیکل یا ایم آر وی کہلاتے ہیں جو دشمن کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈ کو شکست دینے اور بے اثر کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں اور ماہرین کے خیال میں یہ پاکستان کے میزائل ہتھیاروں میں یہ سب سے بہترین صلاحتیوں والے میزائل سسٹمز ہیں۔

  10. اسرائیل کا پورے غزہ کو اپنے کنٹرول میں لینے کا اعلان

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ٹیلیگرام پر پوسٹ کی گئی اپنی ویڈیو میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل پورے غزہ کو اپنے کنٹرول میں لے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ غزہ میں آنے والی امداد کو حماس نہ لوٹے۔

    اس سے قبل اسرائیلی حکومت نے یہ کہا تھا کہ وہ غزہ میں بنیادی ضرورت کی خوراک کی فراہمی کی اجازت دیں گے۔ اسرائیل نے غزہ میں 11 ہفتوں سے فوڈ سپلائی روکی ہوئی تھی۔

    اسرائیلی فوج کا فلسطینی شہریوں کو خان یونس سے انخلا کا حکم

    اسرائیلی فوج نے اپنے حملے سے قبل فلسطینی شہریوں کو فوری طور پر خان یونس، بنی سہیلا اور عبسان کے علاقوں سے نکلنے کی ہدایات کی ہیں۔

    جبری انخلا کا حکم اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویچائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا کہ اسرائیلی افواج ان علاقوں میں دہشتگرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

    حکمنامے میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مغرب کی طرف واقع علاقے المواسی منتقل ہو جائیں۔

    پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ا خان یونس کو فوری طور پر ایک ’خطرناک جنگی زون‘ تصور کیا جائے گا۔

  11. ’منشیات استعمال کرنے والے بچے قصور وار نہیں‘: تعلیمی اداروں میں منشیات استعمال کرنے والے بچوں کو سزائیں دینے کا بل سینیٹ سے مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کی سینیٹ کی داخلہ امور سے متعلق قائمہ کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں منشیات استعمال کرنے والے طالب علموں کو سکول سے بے دخل کرنے اور قصور وار ثابت ہونے پر ان پر جرمانے عائد کرنے سے متعلق بل کو کثرت رائے سے مسترد کردیا ہے۔

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام سے متعلق بل پیش کیا گیا۔

    بل میں تجویز دی گئی کہ اگر کسی طالبعلم کا منشیات کا ٹیسٹ مثبت آئے تو پہلی بار اسے تنبیہ کی جائے، دوسری بار 15 دن کے لیے معطل کیا جائے جبکہ تیسری بار ٹیسٹ مثبت آنے پر اسے جرمانے کے ساتھ سزا دی جائے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں موجود انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے حکام نے بل پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے معاملے میں بچوں کو متاثرہ فریق سمجھا جاتا ہے اور اصل مجرم وہ افراد ہیں جو منشیات کی فروخت میں ملوث ہوتے ہیں۔

    اے این ایف حکام نے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ 80 فیصد تعلیمی اداروں میں سکیننگ مکمل کر لی گئی ہے، تاہم بچوں کے منشیات ٹیسٹ کروانا اے این ایف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

    کمیٹی کے رکن سینیٹر شہادت اعوان نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون صوبائی اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے، جبکہ وزارت قانون نے بھی مقف اپنایا کہ اس معاملے کو اے این ایف کے بجائے محکمہ تعلیم کے سپرد کرنا چاہیے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے واضح کیا کہ نہ تو کوئی صوبائی حکومت، نہ ہی تعلیمی ادارے اور نہ ہی وزارت تعلیم اس بل کی حمایت کرتی ہے۔

    بل پیش کرنے والے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اُن کی نیت بچوں کو منشیات کی لت سے بچانا ہے اور وہ بل واپس نہیں لیں گے، چاہے کمیٹی اسے مکمل طور پر مسترد کر دے۔

    بعد ازاں کمیٹی نے بل کو کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا۔

  12. ’آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا‘: پرتگال میں انڈین سفارتخانے کا پاکستانی مظاہرین کو جواب

    x/IndiainPortugal

    ،تصویر کا ذریعہx/IndiainPortugal

    پرتگال میں انڈیا کے سفارتخانے کے باہر پاکستانیوں کی جانب سے احتجاج کے جواب میں سفارتخانے نے عمارت کے باہر ’آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا‘ کے بینرز آویزاں کر دیے۔

    انڈین سفارتخانے کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین چانسری کی عمارت کے قریب پاکستانی شہریوں کی طرف سے منعقد کیے گئے احتجاج کا ’آپریشن سندور‘ کے ساتھ سختی سے جواب دیا گیا ہے۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے انڈیا مرعوب نہیں ہوگا۔

    ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی تصاویر میں انڈین چانسری کی عمارت پر پوسٹر آویزاں دکھائی دے رہے ہیں جن پر لکھا ہے کہ ’آپریشن سندور ختم نہیں ہوا۔‘

    بیان میں سفارت خانے کی عمارت اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے میں تعاون کے لیے پرتگال کی حکومت اور اس کی پولیس کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

    x/IndiainPortugal

    ،تصویر کا ذریعہx/IndiainPortugal

  13. ’انڈیا نے کتنے طیارے صرف اس لیے کھوئے کیونکہ پاکستان کو حملے کا علم تھا؟‘ راہل گاندھی کا انڈین وزیرِ خارجہ سے سوال

    انڈیا کی پارلیمان میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا کی پارلیمان میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو حملے کے بارے میں پہلے سے آگاہ کرنا کوتاہی نہیں بلکہ جرم ہے۔

    انڈیا کی پارلیمان میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے سوال کیا ہے کہ وہ بتائیں کہ انڈیا نے کتنے طیارے صرف اس لیے کھوئے کیونکہ پاکستان کو حملے کا پہلے سے علم تھا۔

    سوموار کے روز، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو حملے کے بارے میں پہلے سے آگاہ کرنا کوئی کوتاہی نہیں بلکہ جرم ہے۔

    کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ قوم کو سچ جاننے کا حق ہے۔

    اس سے قبل سنیچر کے روز راہل گاندھی نے ایس جے شنکر کے سات مئی کے حملے سے قبل پاکستان سے معلومات شیئر کرنے کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’حملے سے قبل پاکستان کو آگاہ کرنا جرم ہے۔ جے شنکر بتائیں اس کی اجازت انھیں کس نے دی؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’حملہ شروع کرنے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔‘

    راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ ’وزیر خارجہ کھلے عام تسلیم کر رہے ہیں کہ انڈین حکومت نے یہ کام کیا ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’وزیر خارجہ بتائیں کہ اس کی اجازت انھیں کس نے دی اور یہ بھی بتائیں کہ ان کے اس اعلان کے باعث ہماری فضائیہ کے کتنے طیارے ضائع ہوئے؟‘

    گذشتہ ہفتے جمعے کے روز انڈین وزیر خارجہ کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں ان کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران پاکستان کے خلاف حملوں میں کامیابی کا دعویٰ کرتے سنا گیا۔

    اسی ویڈیو کلپ میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’ہم نے پاکستانی حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ ہم دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے آنے لگے ہیں اورہمارا مقصد ملٹری کو نشانہ بنانا نہیں ہے تو ان کے پاس آپشن ہے کہ وہ اس میں مداخلت نہ کریں۔ تاہم انھوں نے اس کو قبول نہ کیا۔‘

    یہ بھی یاد رہے کہ راہل گاندھی کی جانب سے جے شنکر کے بیان پر سوالات اٹھانے کے بیان سے قبل انڈیا کی فیکٹ چیک ایجنسی پریس انفارمیشن بیورو نے اپنے ایک بیان میں جے شنکر سے منسوب کیے جانے والے بیان کی تردید کی تھی۔

    جے شنکر کے ویڈیو بیان پر وضاحت دیتے ہوئے پی آئی بی نے کہا تھا کہ ’وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے بیان کو توڑ موڑ کر اور غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔‘

    اتوار کے روز نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ جے شنکر حملے کے متعلق کسے بتایا تھا۔

    ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد کچھ ملکوں نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ انڈیا حملہ کر سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا پاکستان تیار تھا اور جب نور خان ائیربیس کو نشانہ بنانےکی کوشش کی گئی تو حرکت میں آیا۔

  14. جنوبی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے اسحاق ڈار تین روزہ دورے پر چین روانہ: دفترِ خارجہ

    پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کو دورے کی دعوت چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دی تھی۔

    ،تصویر کا ذریعہX/ForeignOfficePk

    ،تصویر کا کیپشنپاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کو دورے کی دعوت چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دی تھی۔

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار چین کے تین روزہ دورے کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق انھیں دورے کی دعوت چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دی تھی۔

    19 سے 21 مئی تک جاری رہنے والے اس دورے میں اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ اور دیگر سینیئر چینی رہنماؤں سے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام کی کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے باہمی تعلقات، علاقائی و عالمی پیشرفت پر بھی بات چیت ہوگی۔

    خیال رہے کہ 20 مئی کو افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھی بیجنگ پہنچ رہے ہیں۔

    اس سے قبل 11 مئی کو کابل میں افغانستان کے وزیر خارجہ سے چین کے خصوصی ایلچی یو شیاؤونگ اور پاکستان کے خصوصی ایلچی محمد صادق نے ملاقات کی تھی۔

  15. پاکستان نے 8 مئی کو امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی: انڈین فوج کا دعویٰ

    انڈین فوج نے دعویٰ کیا کہ آٹھ مئی کو پاکستان نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشنانڈین فوج نے دعویٰ کیا کہ آٹھ مئی کو پاکستان نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔

    انڈیا کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے حالیہ فوجی تصادم کے دوران پاکستان نے ڈرونز اور میزائلوں سے امرتسر میں واقع سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی انڈیا نے پاکستان پر سکھوں کے مذہبی مقامات کو نشانہ کا الزام لگایا جاتا رہا ہے تاہم پاکستانی ریاست اور فوج کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ہے۔

    انڈین فوج کی 15 انفینٹری ڈویژن کے میجر جنرل کارتک سی شیشادری نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انڈیا کی جانب سے سات مئی کو پاکستان میں مبینہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے قبل ہی ارلی وارننگ اور ایئر ڈیفنس نظام کو فعال کر دیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈین فوج کو اندازہ تھا کہ پاکستانی فوج انڈین حملوں کے جواب میں فوجی اور سول تصیبات بشمول مذہبی مقامات کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ ’ہمارے پاس انٹیلیجنس معلومات موجود تھی کہ گولڈن ٹیمپل بھی ممکنہ بڑے ایداف میں سے ایک ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ گولڈن ٹیمپل کی حفاظت کے لیے انڈین فوج نے ایئر ڈیفنس سسٹم کو فعال کر دیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ آٹھ مئی کو پاکستان نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔

    انڈین فوج کے مطابق پاکستانی ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے کے لیے انڈیا نے آکاش میزائل سسٹم اور ایل-70 ایئر ڈیفنس بندوقیں استعمال کیں۔

    گذشتہ ماہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اس وقت باقاعدہ فوجی تصادم کا رخ اختیار کر گئی جب 7 مئی کو انڈیا نے پاکستان اور اس کے زیرِانتظام کشمیر میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ انڈیا نے دعویٰ کیا کہ اس نے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان اس دعوے کی تردید کرتا آیا ہے۔

    چار روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد بالآخر 10 مئی کو امریکہ کی ثالثی میں انڈیا اور پاکستان نے سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔

  16. دس ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد اسرائیل کا غزہ میں ’خوراک کی ضروری مقدار‘ کے داخلے کی اجازت دینے کا اعلان

    امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی قحط کا شکار ہو سکتی ہے

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنامدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی قحط کا شکار ہو سکتی ہے۔

    تقریباً 10 ہفتوں سے جاری غزہ کی ناکہ بندی کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’خوراک کی ضروری مقدار‘ غزہ میں پہنچانے کی اجازت دے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ’قحط کا کوئی بحران پیدا نہ ہو۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی سفارش اور حماس کے خلاف اس کے نئے فوجی حملے کی مدد کے لیے کیا گیا ہے۔

    یہ اعلان اسرائیلی فوج کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے پورے غزہ میں ’وسیع پیمانے پر زمینی آپریشن‘ شروع کر دیا ہے۔

    اسرائیل پر غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے جس کے دوران خوراک، ایندھن یا دوائیاں غزہ میں جانے کی اجازت نہیں۔

    امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی قحط کا شکار ہو سکتی ہے۔ غزہ سے غذائی قلت کے شکار بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آرہی ہیں۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول بیروٹ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے لیے ’فوری، بڑے پیمانے پر اور بلا روک ٹوک‘ امداد کی بحالی کی اجازت دے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی آبادی کے لیے ’ضروری مقدار میں خوراک لانے‘ کی اجازت دے گا تاکہ ’اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غذائی قلت کا کوئی بحران پیدا نہ ہو-‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی صورت حال اسرائیلی فوج کے غزہ میں چل رہے نئے آپریشن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل ’انسانی امداد کی تقسیم پر کنٹرول حاصل کرنے کی حماس کی کوششوں کو روکنے کے لیے بھی کارروائی کرے گا۔‘

  17. بریکنگ, سابق امریکی صدر جو بائیڈن میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص

    سابق صدر جو بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے سابق صدر جو بائیڈن میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔

    82 سالہ بائیڈن میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص جمعے کے روز وقت ہوئی۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے پیشاب سے متعلق تکلیف کی چند علامات سامنے آنے کے بعد ایک ڈاکٹر سے رابطہ کیا تھا جس نے انھیں چند ٹیسٹ تجویز کیے تھے۔

    جو بایئڈن کے دفتر نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ان کے کینسر کی نوعیت کافی سنجیدہ ہے۔ ان کے اہل خانہ اس وقت ممکنہ علاج کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ کینسر کی یہ قسم ایسی ہے جس پر کچھ خاص دوائیں یا علاج (جو ہارمونز کو کنٹرول کرتے ہیں) اثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹروں کو امید ہے کہ اسے روکا یا قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

  18. قلعہ عبداللہ میں بم دھماکہ، کم ازکم دو افراد ہلاک، 11 زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں بم دھماکے میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور 11زخمی ہو گئے ہیں۔

    دھماکہ گلستان بازارمیں اتوارکی شب سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے قریب ایک مارکیٹ میں ہوا۔

    ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ ریاض خان داوڑ نے بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے کم از کم دو افراد ہلاک اور 11زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک تھی۔

    ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد تین شدید زخمیوں کو ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم ابتدائی شواہد کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں نصب تھا۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس واقعے میں محفوظ رہے۔

    لیویز فورس کے رسالدار گلاب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت فرید خان کے نام سے ہوئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فرید خان گلستان میں نجی سکول کے پرنسپل تھے اور ان کا تعلق پشین سے تھا

    وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی سلامتی کی جنگ ہے جسے آخری شدت پسند کے خاتمے تک لڑا جائے گا۔

    گلستان ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان کا ہیڈ کوارٹر ہے ۔ رواں سال جنوری کے مہینے میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر ہونے والے ایک حملے میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار مارے گئے تھے جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔

    ضلع قلعہ عبداللہ کوئٹہ کے شمال میں افغانستان سے متصل ضلع ہے جس کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

    ادھر کوئٹہ شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے سریاب کے علاقے میں حجام کی ایک دکان پر فائرنگ کی ۔ سریاب پولیس کے مطابق فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔

  19. انڈیا اور پاکستان کی افواج رابطے میں ہیں، دہشتگردی سمیت ہر موضوع پر بات چیت کے لیے تیار ہیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

    Ishaq Dar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی افواج مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نئی دہلی سے دہشتگردی سمیت ہر موضوع پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’سیز فائر جاری ہے، 10 مئی سے ہاٹ لائن ایکٹو ہو چکی ہے پاکستان اور انڈیا کی فوجیں آپس میں رابطے میں ہیں۔‘ ان کے مطابق ڈی جی ایم اوز کی بات چیت ہو رہی ہے اور امید ہے کہ آج بھی ہوگی۔

    انڈیا کے مستقل جنگ بندی سے متعلق بیان پر انھوں نے کہا کہ ڈی جی ایم اوز کی بات چیت میں اب صرف سیز فائر کی بات نہیں ہو رہی بلکہ دونوں فوجی قیادتیں تناؤ میں کمی کے سلسلے میں اپنے گول پوسٹ متعین کر رہی ہیں۔ دونوں کا شیڈول ہوگا جو آپس میں طے ہوگا اور اس پر عمل ہوگا کہ اتنے دنوں میں آپ یہاں سے واپس چلے جائیں گے۔ سیز فائر کے بعد دونوں کو پیس پوائنٹ پر واپس جانا ہوتا ہے، وہ پراسس کامیابی سے جاری ہے۔

    ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر انڈیا مس ایڈونچر کرے گا تو اسے اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ہم نے پہلے بھی دنیا کو اپنی بارے میں سب بتایا تھا اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ جب انڈیا نے ہمارے نور خان ایئربیس، جیکب آباد، رحیم یار خان، سکھر اور دیگر جگہوں کو نشانہ بنایا تو پھر دنیا نے دیکھا جو پاکستان نے کیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ اس کے بعد انھیں دس مئی کی صبح امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا فون آیا اور انھوں نے کہا کہ انڈیا جنگ بندی کے لیے تیار ہے تو ہم نے بھی کہا کہ ہم بھی امن چاہتے ہیں اور اب عوام کے معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

    دنیا کو پاکستان کا مؤقف بتانے، وفود مختلف ممالک کا دورہ کریں گے: اسحاق ڈر

    اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ چین کی دعوت پر کل بیجنگ کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں ان کی ملاقات افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ سے بھی ہوگی۔ ان کے مطابق یہ ان کا نہ صرف دو طرفہ نہیں بلکہ سہ فریقی دورہ ہے۔

    جیو نیوز سے گفتگو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے انڈیا سے قبل ہی اپنے وفود تشکیل دے دیے ہیں جو امریکہ، برطانیہ، فرانس، برسلز اور روس سمیت دیگر ممالک کا دورہ کریں گے۔

    امریکہ سے ٹیرف سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ابھی زیرو ٹیرف والی بات درست نہیں ہے۔ جب آگے چل کر بات ہو گی تو یہ سب معاملات زیرغور آئیں گے۔

    انڈیا سے مذاکرات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلام آباد دہشتگردی سمیت تمام امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ کوئی ہمیں نہ بتائے کہ دہشتگردی کیا ہوتی ہے کیونکہ سب سے زیادہ دہشتگردی سے متاثرہ ملکوں میں ہم شامل ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ہم نے 90000 سے زیادہ جانیں قربان کی ہیں اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ قرآن بھی یہ حکم دیتا ہے کہ دشمن سے جنگ کی خواہش نہ کرو، مگر جب جنگ کی طرف دھکیل دیے جاؤ تو پھر پوری قوت سے مقابلہ کرو۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیا کے مقابلے میں ’ہم نے بہت احتیاط کا مظاہرہ کیا۔‘ اسحاق ڈار کے مطابق بلوچستان میں جب جعفر ایکسپریس کے اغوا کے تانے انڈیا سے مل رہے تھے مگر ہم نے تو انڈیا پر حملہ نہیں کیا، طیارے آسمان پر نہیں اڑائے اور نہ کسی دوسرے ملک میں میزائل مارے۔‘

    اسحاق ڈار سے جب پوچھا گیا کہ وزیردفاع خواجہ آصف نے بیان دیا ہے کہ اسرائیل اور افغانستان میں طالبان یہ دو ہی ملک تھے جو انڈیا کے ساتھ کھڑے نظر آئے اس پر انھوں نے کہا کہ ان کی افغان قیادت سے جو ملاقاتیں ہوئی ہیں اس کے بعد ان پر دونوں اطراف سے مثبت پیشرفت جاری ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان کے وزیر خارجہ سے انھوں نے ٹی ٹی پی سے متعلق بھی کھل کر بات کی اور اس متعلق بھی اچھی پیشرفت ہے مگر سب کچھ ٹی وی پر نہیں بتایا جا سکتا۔

  20. حماس کی جنگ بندی کے لیے شرائط، اسرائیل کا غزہ میں نیا فوجی آپریشن

    اسرائیل، غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حماس کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں ایک ہسپتال کا محاصرہ کر لیا ہے اور اس کی غزہ کی پٹی پر قبضے کے لیے مسلح کارروائیاں جاری ہیں۔

    وزرات کے مطابق بیت لاہیا میں واقع انڈونیشین ہسپتال کا میڈیکل سٹاف اور مریض بھی اسرائیلی فوج کی فائرنگ کی زد میں ہیں، جس سے ہسپتال میں طبی عملہ اور مریض نہیں آ پا رہے ہیں اور نہ ضروری سامان ہسپتال تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے سنیچر کے روز ایک نیا فوجی آپریشن ’عرباتِ جِدعون‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں حماس نے سنیچر کو 60 روزہ جنگ بندی کے بدلے نو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی پیشکش کی ہے۔

    وزات صحت کے مطابق غزہ کے شمال میں واقع تینوں ہسپتال اس وقت فعال نہیں ہیں یعنی ٹھپ ہو گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق جمعرات سے اب تک کم از کم 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں غزہ کے شمال اور جنوب میں ہسپتالوں اور پناہ گزینوں کے کیمپ بھی شامل ہیں۔

    حماس کے زیرانتظام وزارت صحت اور شہری دفاع کی فورسز نے بتایا کہ سنیچر کے روز ہونے والے حملوں میں غزہ کے شمال میں واقع قصبوں بشمول بیت لاہیا اور جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے ساتھ ساتھ جنوبی شہر خان یونس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    دو ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کی مہم میں توسیع کا مقصد یرغمالیوں کی رہائی اور ’حماس کی شکست‘ سمیت ’جنگ کے تمام مقاصد کو حاصل کرنا‘ ہے۔

    امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ غزہ کی انسانی صورت حال بھی ابتر ہو گئی ہے کیونکہ اسرائیل نے 10 ہفتوں سے علاقے میں خوراک اور دیگر امداد کی سپلائی روک رکھی ہے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس ماہ کے شروع میں غزہ کے بڑے حصے پر قبضہ اور کنٹرول کرنے، فلسطینی آبادی کو علاقے کے جنوب میں جانے پر مجبور کرنے اور حماس کو ’تباہ‘ کرنے کے لیے بڑی فوجی کارروائی کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

    نیتن یاہو نے پانچ مئی کو کہا تھا کہ اسرائیل ’غزہ میں بھرپور داخلے‘ اور اسے اپنے قبضے میں لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے چار روزہ دورے کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔