’پاکستان کو حملے کی پہلے اطلاع کیوں دی گئی؟‘ کانگریس نے ایس جے شنکر کے بیان پر حکومت سے جواب طلب کر لیا
انڈیا کی کانگریس پارٹی نے انڈیا کے ’آپریشن سندور‘ کے بارے میں ’پاکستان کو معلومات دینے‘ کے بارے میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے بیان پر پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔
کانگریس لیڈر پون کھیرا نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ’ایس جے شنکر کے بیان کی وجہ سے پاکستان اور پوری دنیا میں ہمارا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔‘
پون کھیرا نے کہا ’وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خود میڈیا ایجنسیوں کو بتایا کہ ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا، اب ان معلومات کا کیا مطلب ہے؟ کیا وزیر خارجہ کو پاکستان پر اتنا اعتماد ہے کہ دہشت گرد ان کے حکم پر خاموشی سے بیٹھ جائیں گے؟ وزیر خارجہ نے حملے سے پہلے پاکستان کو کیوں اطلاع دی؟‘
تاہم انڈیا کے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ کے بیان کو غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس پر ’جعلی خبریں پھیلانے‘ کا الزام لگایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر خارجہ ایس جے شنکر پر کانگریس کا الزام
کانگریس لیڈر پون کھیرا نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ پر کئی سنگین الزامات لگائے۔
انھوں نے کہا کہ کیا یہی وجہ ہے کہ مسعود اظہر اور حافظ سعید زندہ بچ گئے؟ کیا ملک کو یہ جاننے کا حق نہیں ہے کہ پاکستان کو حملے کی اطلاع دے کر مسعود اظہر کو دوبارہ بچایا گیا، کیونکہ اس سے قبل قندھار ہائی جیکنگ کے وقت مسعود اظہر کو رہا کیا گیا تھا۔
وزیر خارجہ کے بیان پر پون کھیرا نے کہا ’وزیر خارجہ کا یہ بیان حساس ہے، کیونکہ اس بیان سے لگتا ہے کہ دہشت گرد اپنے ٹھکانوں سے بھاگ گئے ہوں گے۔ وزیر اعظم مودی اور وزیر خارجہ کو جواب دینا پڑے گا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔‘
اس معاملے پر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بیان طلب کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ غلطی نہیں بلکہ جرم ہے اور ملک کو سچ جاننے کا حق ہے۔
راہل گاندھی نے پہلے بھی ایس جے شنکر کے بیان پر سوالات اٹھائے تھے۔
راہول گاندھی نے سوال کیا کہ ’ہماری طرف سے حملہ کرتے وقت پاکستان کو اطلاع دینا جرم تھا۔ وزیر خارجہ نے کھلے عام مان لیا ہے کہ حکومت نے یہ کیا ہے۔ ایسا کرنے کو کس نے کہا؟ اس کی وجہ سے ہماری فضائیہ کو کتنے طیارے کھونے پڑے؟‘
ایس جے شنکر نے کیا کہا؟
صحافیوں کے ساتھ ان کی بات چیت کی ایک ویڈیو میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ’آپریشن کے آغاز میں ہم نے پاکستان کو پیغام بھیجا کہ ہم دہشت گرد کے ڈھانچوں پر حملہ کر رہے ہیں، ہم فوج پر حملہ نہیں کریں گے۔ اس لیے فوج کے پاس اس سے دور رہنے اور مداخلت نہ کرنے کا اختیار ہے۔ انھوں نے اس مشورے پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
























