لبنان اور شام کی سرحد کے درمیان ایک اہم شاہراہ اسرائیلی فضائی حملے کی زد میں آ گئی ہے، جہاں سے لوگ شام کا رخ کرتے ہیں۔ اسرائیلی حملے سے قبل بھی اس شاہراہ پر گڑھوں اور ملبے کے ڈھیر تھے مگر اس سب کے باوجود بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں نے اپنے سامان کے ساتھ شام کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مسنا کراسنگ کے قریب حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حزب اللہ اس کراسنگ سے لبنان کو اسلحے کی سمگلنگ کرتا ہے۔
جمعے کو کیے جانے والے حملے میں اسرائیل نے اس گزرگاہ کے ایک حصے کو تباہ کیا ہے اوراب اس شاہراہ پر گاڑیاں نہیں چل سکتیں۔ ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں کہ تمام تر مشکلات کے باوجود لوگ یہاں سے شام کی طرف جا رہے ہیں۔ جہاں پر حملہ ہوا ہے یہ جگہ لبنان کی جانب چیک پوائنٹ سے 700 میٹر فاصلے پر واقع تھی اور اس کا سرحد سے پانچ کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے۔
لبنان کے سرکاری اعددوشمار کے مطابق گذشتہ دن دنوں میں بمباری سے بچنے کے لیے تین لاکھ سے زائد لوگ لبنان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
امداد بہم پہنچانے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ منسا کے قریب سڑک کی تباہی سے جہاں لوگوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے وہیں لبنان میں خوراک اور دیگر انسانی امداد کی اشیا لے جانے میں بھی رکاوٹ آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ میتھیو ہولینگورتھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ اب جس مقام سے لبنان کے لیے کم سے کم وقت اور ارزاں نرخوں پر جو اشیا لائی جاتی تھیں اب ایسا ممکن نہیں ہوگا۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ شاہراہ لبنان کے دیگر حصوں خاص طور پر شمالی علاقوں تک پہنچنے کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتی تھی۔
بی بی سی ریڈیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہم اس بات پر ہی زور دیں گے کہ یہ رستہ کھلا رکھا جائے کیونکہ یہ لوگوں کی نقل مکانی کے لیے بھی اہم ہے اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔
لبنان سے شام، سوڈان اور دیگر خلیجی ممالک میں جانے کے لیے مسنا کراسنگ اہم مقام رہا ہے۔ لبنان کے دارالحکومت بیروت کو جانے والی شاہراہ پر بھی حالیہ دنوں میں شدید بمباری کی گئی ہے۔
جمعے کو اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بارڈر کراسنگ پر ایک ایسے مقام کو ہدف بنایا ہے جہاں سے حزب اللہ کے لیے ہتھیار بھیجے جاتے تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے لبنان اور شام کے درمیان زیر زمین ایک ساڑھے تین کلومیٹر طویل سرنگ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس خاص جگہ کا نام نہیں بتایا کہ کہاں پر یہ سرنگ واقع تھی۔
حملے سے قبل اسرائیل فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیاروں کے لیے استعمال کرتا ہے اور وہ عام ٹرکوں اور گاڑیوں کو بھی اپنی سمگلنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے لبنان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹرکوں کی جامع نگرانی کریں۔
لبنان سے جنگ سے بچ کر لوگ شام کا رخ کرتے ہیں۔ بی بی سی نے بیروت میں ایک خاتون سے بات کی ہے جنھوں نے اس ہفتے اپنے بیٹے کو واپس شام بھیج دیا ہے کیونکہ لبنان کے دارالحکومت میں رہنا بہت خطرناک ہوچکا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’ان کے پڑوس سے بہت سے لوگ شام کی طرف جا رہے تھے تو میں نے بھی اپنا بیٹا ان کے ہمراہ شام بھیج دیا۔‘
اتوار کو شام کی حکومت نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے سے سرحد سے داخل ہونے کے لیے لوگوں کو 100 ڈالر کی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔
جمعے کو حملوں میں لبنان کے واحد کمرشل ایئرپورٹ ’بیروت ریفک حریری‘ کے قریب بھی حملے کیے ہیں۔
حزب اللہ کا ’حیدر‘ یونٹ مشرقی بقاع وادی میں جب کہ ضحیہ یونٹ بیروت کے گنجان آباد مضافات میں تعینات ہے جہاں حزب اللہ کا ہیڈ کوارٹر تھا اور اسی علاقے میں اسرائیلی حملے سے جمعے کو حسن نصر اللہ کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اسرائیل نے ایک ہفتہ قبل یہاں فضائی حملوں میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو ہدف بنایا ہے۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ اسرائیل کی طرف سے نئے حملوں کا مقصد حزب اللہ کی نئی قیادت جس میں ممکنہ نئے سربراہ ہاشم سیف الدین کو نشانہ بنانا تھا۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے زمینی اور فضائی حملوں میں جمعرات کو 37 افراد مارے گئے ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 151 بنتی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں اب تک لبنان میں 200 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ جمعے کو اسرائیلی افواج نے جنوب میں مقامی مرکز نباتیح سمیت دو درجن سے زائد قصبو اور گاؤں کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ علاقے خالی کر دیں۔
یہ علاقے دریائے لیطانی کے شمال میں اسرائیل کی سرحد سے 30 کلومیٹر دوری پر واقع ہیں۔
یہ وہ علاقہ ہے جو اقوام متحدہ کی جانب سے قائم کردہ سرحدی زون کا شمالی کنارہ ہے۔ سلامتی کونسل نے 2006 کی جنگ کے بعد ایک قرارداد میں، دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات کے بعد یہ زون قائم کیا تھا۔
مگر اب لبنان میں اس حوالے سے یہ تحفظات بھی پائے جاتے ہیں کہ اسرائیل شہریوں کے انخلا کی صورت میں ان جنوبی علاقوں پر پھر قابض ہو جائے گا۔