’اسرائیل شام میں حالات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے‘، عرب ممالک کی بفر زون پر قبضے کی مذمت
کچھ عرب ممالک نے گولان کی پہاڑیوں میں بفر زون میں اسرائیلی فوج کے قبضے کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اب تک شام میں اہم اہداف پر 480 فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کے وزیراعظم نے شامی باغیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو شام میں قدم نہ جمانے دیں ورنہ ان کا بھی وہی حشر ہو گا جو پہلی حکومت کے ساتھ ہوا۔
خلاصہ
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ تفتیش بھی کی جا رہی ہے، ان پرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں۔
اصغر خان کیس: آئینی بینچ نے سیاسی سیل کے خاتمے سے متعلق حساس اداروں کے سربراہان کے بیان حلفی مانگ لیے
'اسرائیل صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے'، عرب ممالک کی اسرائیلی فوج کی بفر زون پر قبضے کی مذمت
شامی باغی رہنما نے اعلان کیا ہے کہ جنگی جرائم میں ملوث افسران کے بارے میں معلومات دینے والوں کو انعامات دیے جائیں گے
اقوام متحدہ کے شامی کمیشن کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے حراستی مراکز کے حالات کو ظاہر کرنے والی فوٹیج اور تصاویر ’تکلیف دہ‘ تو ہیں مگر ’حیران کر دینے والی نہیں‘ ہیں۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شام میں 100 سے زائد فوجی اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔
لائیو کوریج
پیشکش: اعظم خان
ہم سے کسی بھی قسم کی کوئی مدد نہیں مانگی گئی: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے
مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ معزول شامی صدر بشار الاسد کے اتحادی
ایران کو مداخلت کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا کیونکہ باغی دمشق کی جانب طرف بڑھ
رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم سے کبھی مدد
نہیں مانگی گئی، بنیادی طور پر یہ ذمہ داری شامی فوج کی تھی یہ نہ تو ہماری ذمہ
داری تھی اور نہ ہی ہم نے کبھی اسے اپنا فرض سمجھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حیرت انگیز
طور پر شامی فوج باغیوں کی دمشق کی جانب اس پیش قدمی کو روکنے میں ناکام رہی۔‘
’معزول شامی صدر اپنی حکومت کے خاتمے کے خود ذمہ دار ہیں،‘ امریکہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن
نے شام کی صورتحال پر کہا ہے کہ ’اسد حکومت کی جانب سے ’قابلِ اعتماد سیاسی عمل‘
میں شامل ہونے سے انکار اور روس اور ایران کی حمایت پر بے جا انحصار اس کے خاتمے
کا باعث بنا۔‘
بلنکن نے کہا کہ ’امریکہ شام کی
صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور باغی رہنماؤں کے اقدامات کا جائزہ بھی لے رہا
ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ شامی عوام
کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے لئے اسد حکومت کو جوابدہ بنانے کی کوششوں کی حمایت
کرے گا۔‘
شام میں روسی فوجی اڈوں کا اب کیا ہو گا؟, اولگا اوشینا، بی بی سی روسی سروس
روس کا کہنا ہے کہ وہ شامی حزبِ اختلاف کے گروہوں کے ساتھ روابط بحال رکھے ہوئے ہے اور ان کی جانب سے روس کے فضائی اڈوں کی سکیورٹی کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ تاہم صورتحال اتنی بھی آسان نہیں ہے۔
اس وقت شام میں کُل 7500 روسی فوجی تعینات ہیں جن میں سے اکثر اہم روسی ملٹری تنصیبات پر موجود ہیں جن میں طرطوس اور لاذقیہ شامل ہیں۔
تاہم کئی درجن روسی فوجی جن میں سے اکثر ایلیٹ سپیشل فورسز کے آپریٹرز ہیں شام میں مختلف جگہوں پر ہیں۔ ان میں سے کچھ یونٹس باغیوں کی پیش قدمی کے دوران روسی اڈوں کے قریب آنے میں کامیاب ہو گئی تھیں تاہم درجنوں اب بھی مرکزی گروپ سے الگ ہو گئے تھے۔
ان معلومات کی تصدیق دو ریٹائرڈ روسی افسران نے کی ہے جو شام میں فوجیوں کے براہ راست رابطے میں ہوتے ہیں۔ ان دونوں نے ہی اس بارے میں اپنے بلاگز میں لکھا ہے۔
تاہم فجوی اڈوں کا مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے۔ بی بی سی روسی کی جانب سے جن سیٹیلائٹ امیجز کا جائزہ لیا گیا ہے ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تارتوس میں بحری اڈے سے اکثر روسی بحری جہاز تین دسمبر تک جا چکے تھے۔
دوسری جانب لاذقیہ میں جنگی طیارے ایئرفیلڈ میں اب بھی موجود ہیں۔ اس حوالے سے غیر مصدقہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ کل سے یہاں سے طیاروں اور فوجیوں کا انخلا شروع ہو گا۔
روسی حکام نے تاحال ان رپورٹس کے بارے میں بات نہیں کی ہے۔
بشار الاسد کے اقتدار کا تختہ الٹنا ایک تاریخی موقع ہے: جو بائیڈن
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کے اقتدار کا تختہ الٹنا ایک تاریخی موقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس، ایران اور نہ ہی حزب اللہ اس ریجیم کو بچانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔
بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ تمام شامی گروہوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
معزول شامی صدر بشار الاسد ماسکو میں ہیں، روسی سرکاری میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی سرکاری خبر رساں اداروں نے کریملن میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ معزول شامی صدر بشارالاسد اور ان کی فیملی ماسکو پہنچ چکے ہیں۔
روسی خبررساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق بشارالاسد اور ان کے خاندان کو روس میں پناہ دے دی گئی ہے۔
بی بی سی تاحال ان معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پایا۔
محمد ابوالاجولانی مسجدِ اموی میں: ایک ایسا لمحہ جس کا تصور شاید ہی کسی نے کیا ہو, فارس کیلانی، بی بی سی عربی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس کا 24 گھنٹے پہلے تک کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ پیشگی اطلاع اور انتظامات کے بغیر ہیئت تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے پرانے دمشق میں تاریخی مسجدِ اموی کا اچانک دورہ کیا۔
عسکریت پسند تنظیم کے سربراہ کو اتنے قریب سے دیکھنا خاصا غیر معمولی تھا۔ یہ مسجد کئی دہائیوں سے ایک ایسی علامتی جگہ تھی جہاں بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد عید کی نماز پڑھنے جایا کرتے تھے۔
آج الجولانی کے گرد ان کے سینکڑوں جنگجو اور ذاتی گارڈز موجود تھے جب وہ مسجد میں داخل ہوئے جہاں انھوں نے مغرب کی نماز پڑھی اور وہاں موجود نمازیوں سے مختصر خطاب کیا تو اس دوران فتح اور اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوئے۔
اس سے قبل جولانی نے شہر کے اہم علاقوں کا دورہ کیا تھا جن میں اموی سکوائر بھی شامل تھا جس کے گرد شام کی اہم سرکاری عمارتیں موجود ہیں جیسا کہ سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت اور جنرل سٹاف ہیڈکوارٹر۔ یہاں بھی انھوں نے نماز پڑھی اور اس کے بعد اپنا بقیہ دورہ جاری رکھا۔
میں اس وقت سکوائر میں موجود تھا تاہم ان کے گارڈز نے ہر کسی کو ان سے دور ہی رکھا۔
جہاں اکثر شامیوں نے ان کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے اہم ترین موڑ قرار دیا، وہیں ان کے جشن میں اضطراب کی جھلک بھی موجود تھی اور وہ اس غیر یقینی کا باعث تھی جو انھیں مستقبل میں دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
جب جولانی کا دورہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا تو آسمان پر گہرے دھوئیں کے بادل تھے جو مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا رہے تھے اور آنے والے دنوں اور ہفتوں کے بارے میں سوالات کو جنم دے رہے تھے۔
فوجی لباس میں ملبوس جولانی نے اس دورے کے ذریعے خود کو دمشق کے سربراہ کے طور پر دکھانے کی کوشش کی، وہ ایک ایسے شہر اور ایسی قوم سے مخاطب تھے جو بشارالاسد اور البعث ریجیم کے ہاتھوں دہائیوں سے مظالم کا سامنا کر رہی تھی۔ صرف دو ہفتوں میں یہ ریجیم ختم ہو گئی اور صرف اس کی یاد ہی باقی رہ گئی۔
تاہم جولانی کے متنازع جہادی ماضی کے باعث سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا وہ دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر کامیابی سے حکمرانی کر پائیں گے؟
’طیارے نے یوٹرن لیا، پھر ریڈار سے غائب‘: بشار الاسد دمشق چھوڑ کر کہاں گئے؟
،تصویر کا ذریعہBBC/Getty Images
شام کے دارالحکومت دمشق پر باغیوں کی جانب سے قبضہ کرنے کے چند گھنٹوں بعد اس کے اتحادی ملک روس نے اعلان کیا ہے کہ صدر بشار الاسد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد شام چھوڑ چکے ہیں۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں لیکن یہ سرکاری طور پر پہلی تصدیق تھی کہ وہ ملک چھوڑ چکے ہیں۔
آخری مرتبہ بشار الاسد کی تصویر ایک ہفتہ قبل ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے دوران سامنے آئی تھی۔ اس روز انھوں نے تیزی سے ملک کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے والے باغیوں کو 'کچلنے' کا اعادہ کیا تھا۔
اتوار کو علی الصبح جب جنگجوؤں نے دمشق شہر میں بغیر کسی مزاحمت میں داخل ہو رہے تھے تو عسکریت پسند گروہ ہیئت تحریر الشام اور ان کے اتحادیوں نے اعلان کیا کہ 'ظالم بشار الاسد (شام) چھوڑ گئے ہیں۔'
بشار الاسد کا زوال ان ضربوں کا نتیجہ ہے جو ہم نے ایران اور حزب اللہ کو دی تھیں: بنیامن تنن یاہو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے شام میں بشار الاسد کے ’زوال‘ کو مشرق وسطیٰ کے لیے ’تاریخی دن‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’ایران کی مزاحمت کے محور کی مرکزی کڑی‘ توڑ دی گئی ہے۔
انھوں نے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ان حملوں کا براہ راست نتیجہ ہے جو ہم نے اسد کے اہم حامیوں ایران اور حزب اللہ پر کیے ہیں۔ اس اقدام نے پورے مشرق وسطیٰ میں ایک سلسلہ وار ردِعمل شروع کر دیا ہے اور اس جابرانہ حکومت سے آزادی کے خواہاں لوگوں کو بااختیار بنایا ہے۔‘
بنیامن نیتن یاہو نے یہ بھی اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو گولان کی پہاڑیوں میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون پر قبضہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل اور شام کے درمیان 1974 کا علیحدگی کا معاہدہ 50 سال سے جاری تھا، لیکن یہ کل رات ٹوٹ گیا۔ شامی فوج نے اپنی پوزیشنز چھوڑ دیں۔ ہم نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا کہ وہ ان پوزیشنوں پر قبضہ کر لیں تاکہ اسرائیلی سرحد کے ساتھ دشمن افواج کی ممکنہ دراندازی کو روکا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایک عارضی دفاعی پوزیشن ہے جب تک کہ اس مسئلے کا کوئی مناسب حل نہیں مل جاتا۔‘
بشار الاسد: لندن میں امراض چشم کے ڈاکٹر سے شام کے آمر تک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کے صدر بشار الاسد کی زندگی میں بہت سے اہم لمحات ہیں لیکن شاید سب سے زیادہ متاثر کن وہ کار حادثہ تھا جو اس مقام سے ہزاروں کلومیٹر دور پیش آیا جہاں وہ رہ رہے تھے۔
بشار الاسد کو ابتدائی طور پر اپنے والد سے وراثت میں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ 1994 کے اوائل میں دمشق کے قریب ایک کار حادثے میں ان کے بڑے بھائی باسل کی موت کے بعد شروع ہوا۔
اس وقت بشار لندن میں امراض چشم کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
باسل کی موت کے بعد چھوٹے بھائی کو شام میں اقتدار کے وارث کے طور پر تیار کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔ بعد میں انھوں نے ایک جنگ کے ذریعے ملک کی قیادت کی۔۔۔ ایک ایسی جنگ جس میں لاکھوں جانیں گئیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔
لیکن بشار الاسد ڈاکٹر سے ایک ایسے آمر رہنما میں کیسے تبدیل ہوئے جس پر جنگی جرائم کا الزام ہے؟