یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس کا 24 گھنٹے پہلے تک کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ پیشگی اطلاع اور انتظامات کے بغیر ہیئت تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے پرانے دمشق میں تاریخی مسجدِ اموی کا اچانک دورہ کیا۔
عسکریت پسند تنظیم کے سربراہ کو اتنے قریب سے دیکھنا خاصا غیر معمولی تھا۔ یہ مسجد کئی دہائیوں سے ایک ایسی علامتی جگہ تھی جہاں بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد عید کی نماز پڑھنے جایا کرتے تھے۔
آج الجولانی کے گرد ان کے سینکڑوں جنگجو اور ذاتی گارڈز موجود تھے جب وہ مسجد میں داخل ہوئے جہاں انھوں نے مغرب کی نماز پڑھی اور وہاں موجود نمازیوں سے مختصر خطاب کیا تو اس دوران فتح اور اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوئے۔
اس سے قبل جولانی نے شہر کے اہم علاقوں کا دورہ کیا تھا جن میں اموی سکوائر بھی شامل تھا جس کے گرد شام کی اہم سرکاری عمارتیں موجود ہیں جیسا کہ سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت اور جنرل سٹاف ہیڈکوارٹر۔ یہاں بھی انھوں نے نماز پڑھی اور اس کے بعد اپنا بقیہ دورہ جاری رکھا۔
میں اس وقت سکوائر میں موجود تھا تاہم ان کے گارڈز نے ہر کسی کو ان سے دور ہی رکھا۔
جہاں اکثر شامیوں نے ان کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے اہم ترین موڑ قرار دیا، وہیں ان کے جشن میں اضطراب کی جھلک بھی موجود تھی اور وہ اس غیر یقینی کا باعث تھی جو انھیں مستقبل میں دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
جب جولانی کا دورہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا تو آسمان پر گہرے دھوئیں کے بادل تھے جو مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا رہے تھے اور آنے والے دنوں اور ہفتوں کے بارے میں سوالات کو جنم دے رہے تھے۔
فوجی لباس میں ملبوس جولانی نے اس دورے کے ذریعے خود کو دمشق کے سربراہ کے طور پر دکھانے کی کوشش کی، وہ ایک ایسے شہر اور ایسی قوم سے مخاطب تھے جو بشارالاسد اور البعث ریجیم کے ہاتھوں دہائیوں سے مظالم کا سامنا کر رہی تھی۔ صرف دو ہفتوں میں یہ ریجیم ختم ہو گئی اور صرف اس کی یاد ہی باقی رہ گئی۔
تاہم جولانی کے متنازع جہادی ماضی کے باعث سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا وہ دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر کامیابی سے حکمرانی کر پائیں گے؟