آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’اسرائیل شام میں حالات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے‘، عرب ممالک کی بفر زون پر قبضے کی مذمت

کچھ عرب ممالک نے گولان کی پہاڑیوں میں بفر زون میں اسرائیلی فوج کے قبضے کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اب تک شام میں اہم اہداف پر 480 فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کے وزیراعظم نے شامی باغیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو شام میں قدم نہ جمانے دیں ورنہ ان کا بھی وہی حشر ہو گا جو پہلی حکومت کے ساتھ ہوا۔

خلاصہ

  • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ تفتیش بھی کی جا رہی ہے، ان پرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں۔
  • اصغر خان کیس: آئینی بینچ نے سیاسی سیل کے خاتمے سے متعلق حساس اداروں کے سربراہان کے بیان حلفی مانگ لیے
  • 'اسرائیل صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے'، عرب ممالک کی اسرائیلی فوج کی بفر زون پر قبضے کی مذمت
  • شامی باغی رہنما نے اعلان کیا ہے کہ جنگی جرائم میں ملوث افسران کے بارے میں معلومات دینے والوں کو انعامات دیے جائیں گے
  • اقوام متحدہ کے شامی کمیشن کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے حراستی مراکز کے حالات کو ظاہر کرنے والی فوٹیج اور تصاویر ’تکلیف دہ‘ تو ہیں مگر ’حیران کر دینے والی نہیں‘ ہیں۔
  • برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شام میں 100 سے زائد فوجی اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔

لائیو کوریج

پیشکش: اعظم خان

  1. برطانیہ اور یورپی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کی درخواستوں پر فیصلے روک دیے

    برطانیہ، جرمنی، فرانس، آسٹریا اور کئی دیگر ممالک نے شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی زیر التوا درخواستوں پر فیصلے روکنے کا اعلان کیا ہے۔

    برلن اور دیگر حکومتوں کا کہنا ہے کہ وہ دمشق میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کو دیکھ رہے ہیں لیکن شامی باغیوں کی جانب سے صدر بشار الاسد کو معزول کیے جانے کے ایک دن بعد آسٹریا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد ہی مہاجرین کو شام واپس بھیج دے گا۔

    سویڈن، ڈنمارک اور ناروے نے بھی پیر کو کہا ہے کہ وہ شامی پناہ گزینوں کی پناہ کی درخواستوں کی جانچ معطل کر رہے ہیں۔

    گذشتہ سالوں میں ملک میں جاری خانہ جنگی نے لاکھوں شامیوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔

    جرمنی نے تقریباً 10 لاکھ شامی باشندوں کو پناہ دی ہے جن میں سے زیادہ تر 2015-16 میں سابق چانسلر انجیلا مرکل کے دور میں وہاں پہنچے تھے۔

    وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا ہے کہ بہت سے شامی پناہ گزینوں کو ’اب بالآخر اپنے وطن واپس جانے کی امید ہے‘ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ’شام کی صورت حال اس وقت بہت غیر واضح ہے۔‘

    ادھر برطانیہ نے بھی شام سے تعلق رکھنے والے افراد کے سیاسی پناہ کے کیسز پر فیصلوں کو روک دیا ہے۔

    برطانیہ کی ہوم سکریٹری یوویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے ’شام سے تعلق رکھنے والے افراد کے سیاسی پناہ کے کیسز پر فیصلوں کو روک دیا ہے‘ ان کا کہنا ہے کہ ہوم آفس موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں صورتحال انتہائی تیزی سے بدیل ہو رہی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کچھ لوگ شام واپس جا رہے ہیں اور برطانوی حکومت وہاں ہونے والی پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

  2. مغربی ممالک کا شام میں اقتدار کی پُرامن منتقلی کا مطالبہ، باغیوں کا فوج کے لیے عام معافی کا اعلان

    مغربی ممالک نے شام میں اقتدار کی پرامن منتقلی کا مطالبہ کیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل سے آگے بڑھنے کی درخِواست کی ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے والے باغیوں نے تمام فوجیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔

    موجودہ ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے ایک ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ تمام فوجیوں کی زندگیاں محفوظ ہیں اور کوئی بھی انھیں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکتا۔

    عرب اور شامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق محمد البشیر شام میں نئے عبوری وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔ محمدالبشیر ادلیب میں ہیئت تحریر الشام کے سابق منتظم رہ چکے ہیں۔

    یہی وہ جگہ ہے جہاں سے شام کے معزول صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

  3. روس نے اب شامی باغیوں کو ’دہشتگرد‘ کے بجائے ’اپوزیشن‘ کہنا شروع کر دیا

    روس نے شام میں بدلتی صورتحال کے پیش نظر اب باغیوں کو دہشتگرد کے بجائے اپوزیشن کہہ کر پکارنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف بھی باغیوں کو دہشتگرد کہہ کر پکارتے تھے مگر اب روس کے حکام اور میڈیا کے بیانیے میں واضح تبدیلی آ چکی ہے۔

    ماسکو کے دفتر خارجہ نے اپنی سرکاری پریس ریلیز میں باغیوں کو اپوزیشن لکھا گیا ہے۔ اس سے قبل روس نے شام کے معزول صدر بشار الاسد کو روس میں پناہ دی۔

    اس حوالے سے روسی حکام نے واضح کیا کہ یہ پناہ صدر ولادیمیر پوتن کی ذاتی اجازت سے دی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک صدر پوتن اور بشارالاسد کے درمیان ملاقات کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

    ابھی روس نے یہ نہیں بتایا کہ شام کے معزول صدر کہاں پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ روس کے سرکاری ٹی وی نے کہا کہ روس نے بشار الاسد سے متعلق اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے اب اسے اپنی سکیورٹی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

  4. امریکہ نے بشار الاسد کی حکومت گِرانے کا کوئی حکم نہیں دیا: امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر

    امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے وضاحت جاری کی ہے کہ بشار الاسد کی حکومت گِرانے کا کوئی حکم نہیں دیا۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے شام میں باغیوں کے حملے میں براہ راست کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔ جیک سولیوان نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر میڈیا گروپ سی بی ایس کو بتایا کہ ’ہم نے اس حملے کے لیے کوئی ہدایات نہیں دی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ آگے بہت بہتری کے لیے اب ایک موقع موجود ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اب شام میں تمام گروہوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    اگرچہ ابھی تک صدر جو بائیڈن نے شام کی صورتحال پر نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بات نہیں کی ہے۔ تاہم جیک نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن نے ان کے جانشین مائیک والٹز کو شام کی صورتحال پر بریفنگ کے لیے بہت وقت دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس شام کی صورتحال پر غور کر رہا ہے اور سنہ 2012 میں دمشق کی ایک چیک پوسٹ سے لاپتہ ہونے والے امریکی صحافی آسٹن ٹائس سے متعلق بھی معلومات حاصل کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس رہا ہونے والے قیدیوں کی شناخت سے متعلق ترکی سمیت خطے میں دیگر ممالک اور شام میں موجود لوگوں سے رابطے میں ہے۔

  5. شام سے پاکستانی شہریوں کے انخلا کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی لبنانی وزیراعظم سے ذاتی مداخلت اور مدد کی درخواست

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بیروت کے راستے شام میں پھنسے پاکستانی شہریوں کے فوری انخلا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ان سے ذاتی مداخلت اور مدد کی درخواست کی۔

    پاکستان کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ لبنان کے وزیراعظم نے پاکستان کے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ لبنان شام سے پاکستانیوں کے انخلا میں ہر ممکن مدد کرے گا۔

    پریس ریلیز کے مطابق دونوں رہنماؤں نے شام کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے نے شام اور لبنان میں تعینات پاکستانی سفرا سے بھی رابطہ کیا اور انھیں شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا کے حوالے سے ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

  6. صیدنایا جیل میں زیر زمین کوٹھریوں سے کوئی قیدی نہیں ملا: قیدیوں اور لاپتہ افراد سے متعلق سرگرم گروپ کا بیان

    آج شام کی سول ڈیفینس فورس ’وائٹ ہیلمٹس‘ کا کہنا ہے وہ بدنامِ زمانہ صیدنایا جیل میں زیرِ زمین خفیہ کوٹھڑیوں میں لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ مگر اب یہ پتا چلا ہے کہ اس جیل میں کوئی بھی قیدی نہیں ہے۔ یہ بیان صیدنایا جیل کی طرف سے ایک آگاہی پر کام کرنے والے گروپ نے جاری کیا ہے۔

    واضح رہے کہ باغیوں کی جانب سے دمشق پر شام پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد صیدنایا جیل میں قید لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وائٹ ہیلمٹس کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے لیے انھوں نے پانچ ایمرجنسی ٹیمیں تعینات کیں تھیں۔ ان کی مدد ایک گائیڈ کر رہا تھا جو جیل کے نقشے سے بخوبی واقف ہے۔

    دوسری جانب دمشق کی انتظامیہ صیدنایا جیل میں کام کرنے والے افراد سے اپیل کی تھی کہ وہ باغی فورسز کو زیر زمین الیکٹرانک دروازوں کے کوڈ فراہم کریں۔

    دمشق سے 30 کلومیٹر فاصلے پر واقع صیدنایا جیل کو ایسی جگہ کہا جاتا ہے جہاں ’سیاسی قیدی داخل تو ہوتے ہیں لیکن کبھی باہر نہیں آتے۔‘

    قیدیوں اور لاپتہ افراد سے متعلق کام کرنے والے ’اے ڈی ایم ایس پی‘ نامی گروپ نے کہا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ اس جیل میں ابھی بھی کوئی قیدی موجود ہیں۔

    اس گروپ کے مطابق وہ اس وقت اس جیل کے اندر موجود ہیں اور یہ جیل مکمل طور پر خالی ہے، یہاں کوئی قیدی نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آخری قیدیوں کو بھی گذشتہ روز ریسکیو کر لیا گیا تھا۔

  7. ماسکو میں شامی سفارتخانے پر باغیوں کا جھنڈا نصب کر دیا گیا

    روس کے دارالحکومت شام کے سفارتخانے میں شامی باغیوں کا جھنڈا نصب کر دیا گیا ہے۔ یہ جھنڈا ملک سے باہر رہنے والے شامی شہریوں نے نصب کیا۔

    یہ پشرفت علامتی طور پر اس وجہ سے بھی ہے کہ شام میں 13 برس کی خانہ جنگی میں روس بشار الاسد کا بڑا خاص اتحادی رہا ہے اور ان کی حکومت کی مدد کرتا رہا ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بشار الاسد اور ان کے خاندان کو روس میں پناہ دے رکھی ہے۔

  8. شام میں ’کیمیائی ہتھیار‘ اسرائیل کے نشانے پر، ’گولان کی پہاڑیوں کے بفر زون کا قبضہ عارضی ہے‘

    یروشلم میں اپنی میڈیا کانفرنس میں اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون سار نے کہا ہے کہ اسرائیل اور شام کے درمیان تقسیم گولان ہائٹس پر قبضہ محدود اور عارضی اقدام ہے تا کہ اسرائیل کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    گذشتہ روز اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے فوج کو بفر زون کا انتظام سنبھالنے کی ہدایات دی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ بشار الاسد کی بےدخلی کے بعد اب شام سے 1974 میں کیا جانے والا معاہدہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اس علاقے کو جسے بفر زون بھی کہا جاتا ہے میں دونوں طرف سے فوج تعینات نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

    اسرائیل نے شام میں گولان کے علاقے پر سنہ 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور پھر سنہ 1981 میں اسے یکطرفہ اسرائیل میں ضم کر دیا تھا۔ اسرائیل کے اس اقدام کو بین الاقوامی منظوری حاصل نہ سکی۔ اگرچہ سنہ 2019 میں امریکہ نے یکطرفہ طور پر اسرائیل کے اس قبضے کو تسلیم کر لیا ہے۔

    تصاور میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوج بفر زون میں داخل ہو کر آگے کی طرف پیشقدمی کر رہے ہیں۔

    اسرائیل کے شام میں مشکوک کیمیائی ہتھیاروں والی سائٹس پر حملے

    اسرائیل کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے شام میں مشکوک کیمیائی ہتھیاروں اور میزائلوں کے سٹورز پر حملے کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے اس وجہ سے یہ کیا تا کہ یہ خطرناک ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمارا اس میں صرف اسرائیل اور اس کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی حد تک دلچسپی ہے۔‘

    میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ان سائٹس پر درجن سے زائد حملے کیے ہیں۔ ان میں سے ایک سائٹ وہ بھی شامل ہے جہاں مبینہ طور پر ایرانی سائنسدان راکٹ تیار کرتے تھے۔ اسرائیل کی فوج نے ایسی تصاویر بھی شیئر کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی بفر زون میں ان جگہوں میں بھی داخل ہو گئے ہیں جو ڈی ملٹریزائزڈ یا غیر فوجی علاقے کہلاتے ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شام کی سرکاری فوج نے جو پوسٹیں خالی کر دی ہیں ہم ان کا بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کیا وہ شام کے زیر انتظام علاقوں میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ 7 اکتوبر جیسے حملے سے بچنے کے لیے ان کی فوج اسرائیلی علاقوں میں بھی عارضی طور پر داخل ہو گئی ہیں۔

  9. دمشق میں آج کیسا ماحول ہے؟ تصویری جھلکیاں۔۔۔

  10. پوتن نے ’ذاتی طور پر‘ بشار الاسد کو روس میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق معزول شامی صدر بشار الاسد اور ان کی فیملی کو روس میں پناہ دی گئی ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکو نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے ذاتی طور پر اسد کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا کہ اسد اس وقت کہاں ہیں۔

    پیسکو نے اس بارے میں بھی تصدیق نہیں کی کہ آیا پوتن اور اسد کی کوئی ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کے بیچ مستقبل قریب میں کسی ملاقات کا منصوبہ نہیں ہے۔

    پیسکو نے زور دیا کہ روس نے ’شام میں ان سے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں جو اقتدار میں آئیں گے۔‘

    دریں اثنا ماسکو میں شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا ہے۔ یہ ایک علامتی اقدام ہے کیونکہ اسد روس کے اتحادی ہوا کرتے تھے اور روس کی مدد سے ہی وہ 13 سالہ خانہ جنگی کے دوران اقتدار میں رہے۔

  11. شام کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا

    شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور باغیوں کے دمشق پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔

    اس اجلاس کی درخواست روس کی جانب سے دی گئی تھی۔

    اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نائب نمائندے دمتری پولیانسکی نے ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ بشارالاسد کی حکومت جانے کا روس اور مشرق وسطیٰ پر کیا اثر پڑتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں میں اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی قائم غیر فوجی زون پر عارضی قبضے پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔

    خیال رہے کہ روسی سرکاری خبر رساں اداروں نے کریملن میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ معزول شامی صدر بشارالاسد اور ان کی فیملی ماسکو پہنچ چکے ہیں۔

    روسی خبررساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق بشارالاسد اور ان کے خاندان کو روس میں پناہ دے دی گئی ہے۔

    بی بی سی تاحال ان معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پایا۔

  12. شامی فوج نے اتنی جلدی ہتھیار کیوں ڈال دیے؟, سميہ نصر، بی بی سی عربی

    حال ہی میں جب شام میں ہیئت تحریر الشام کی قیادت میں باغی فورسز نے پیش قدمی شروع کی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ صدر بشارالاسد کی فوج محض چند دنوں میں باغیوں کے آگے ہتھیار ڈال دے گی۔

    شامی فوج کے اتنے جلدی پسپا ہونے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسے عوامل تھے جن کی وجہ سے شامی فوج نے اتنی جلدی گھٹنے ٹیک دیے۔

    شامی فوج کی صلاحیت

    سال 2024 کے گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق فوجی لحاظ سے شام عرب دنیا میں چھٹے اور بین الاقوامی سطح پر 60ویں نمبر پر ہے۔

    شامی فوج کو نیم فوجی دستوں اور ملیشیاؤں کی مدد حاصل ہے۔ ہتھیاروں کی بات کی جائے تو اس کے پاس سوویت دور کے خستہ حال آلات اور روس جیسے اتحادیوں سے حاصل کیے گئے نئے آلات موجود ہیں۔ گلوبل فائر پاور کے مطابق شام کی فوج کے پاس 1500 سے زیادہ ٹینک اور 3000 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔ اس کے پاس توپ خانے اور میزائل سسٹم بھی موجود ہیں۔

    فضائی طاقت کی بات کی جائے تو شام کی فوج کے پاس لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور تربیتی طیارے موجود ہیں جب کہ اس کے پاس ایک چھوٹا بحری بیڑا بھی ہے۔

    کاغذوں پر دیکھا جائے تو یہ ایک مضبوط فوج دکھائی دیتی ہے لیکن کئی عوامل نے اسے کمزور کر دیا تھا۔

    13 سالس سے جاری خانہ جنگی

    خانہ جنگی کے ابتدائی سالوں میں ہی شامی فوج کی تعداد کم ہوکر تقریباً نصف کے قریب رہ گئی تھی۔ بہت سے فوجیوں نے اپنی فوج کو چھوڑ کر باغی گروہوں میں شمولیت اختیار کر لی جب کہ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد اس خانہ جنگی میں ماری گئی۔

    اس کے علاوہ امریکی حملوں اور خانہ جنگی میں بھی شام کی فضائیہ کو کافی نقصان پہنچا۔

    ’ایک سپاہی کی تنخواہ تین دن کے لیے بھی ناکافی ہے‘

    لندن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر فواز جرجس کہتے ہیں کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران شام کی معاشی صورتحال کافی خراب ہوئی ہے جس کی ایک بڑی وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق فوجیوں کو مناسب خوراک نہیں ملتی ہے۔

    متعدد ایسی رپورٹس موجود ہیں جن میں فوجیوں کی کم تنخواہوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سپاہیوں کی تنخواہ تقریباً 15 سے 17 ڈالر ماہانہ کے برابر ہے۔ ایک شامی شہری کے مطابق یہ ’تین دن کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔‘

    گذشتہ ہفتے بشارالاسد نے فوجیوں کی تنخواہ 50 فیصد بڑھانے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد بظاہر فوج کا مورال بلند کرنا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ قدم اٹھانے میں شامی حکومت نے کافی دیر کر دی تھی۔

    اتحادیوں کی جانب سے فوجی امداد روک دیا جانا

    بیروت میں کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے سینئر فیلو ڈاکٹر یزید صیغ کہتے ہیں ایران، حزب اللہ اور روس کی طرف سے براہ راست فوجی امداد روک دیے جانے کی وجہ سے بھی شامی فوج کا مورال نمایاں طور پر گرا ہے۔ ان کے مطابق شام کے اتحادی اب کی بار اس کی جنگ میں مداخلت بھی نہیں کر پائے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ فوری امداد کے حقیقت پسندانہ وعدوں کے بغیر فوج میں لڑنے کا جذبہ بھی نہیں رہا تھا۔

  13. بشارالاسد کی معزولی کے بعد دمشق کی سڑکوں پر لوگوں کا جشن: ’اب آپ سانس لے سکتے ہیں‘, باربرا پلیٹ، بی بی سی نیوز

    اتوار کے روز جب بی بی سی کی ٹیم لبنان سے شام میں داخل ہوئی تو دارالحکومت دمشق جانے والی سڑکوں پر کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔

    جب ٹیم شہر کے نزدیک پہنچی تو وہاں شامی فوج کی پسپائی کے واضح آثار موجود تھے جیسے راستے میں کھڑی فوجی جیپیں، ٹینک اور پھٹے ہوئے فوجی یونیفارم۔ یہ سب اس بات کی جانب اشارہ تھے کہ کہ شامی فوج باغیوں کے آنے پر سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلی۔

    دمشق کے اندر سڑکوں پر ٹریفک تو بہت تھا لیکن تقریباً تمام ہی دوکانیں بند تھیں۔

    کچھ روز پہلے تک کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ بشارالاسد کی حلومت کا ایسے اچانک خاتمہ ہو جائے گا۔

    لوگ جشن منانے کی خاطر شہر کی اُمیہ سکوائر پر جمع تھے۔ چوک میں کچھ مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے بھی دکھائی دیے۔

    شہری امن کا اشارہ کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں میں گھوم رہے تھے۔ ان میں سے اکثر کو امید تھی کہ بشارالاسد کے جانے کے بعد حالات بہتر ہوجائیں گے۔

    ایک عمر رسیدہ خاتون روتی ہوئی دکھائی دیں۔ وہ کہے جا رہی تھیں، ’ظالم کی حکومت چلی گئی، ظالم کی حکومت چلی گئی۔‘ ان کے مطابق ان کے خاندان کے کئی افراد بشارالاسد کے دورِ حکومت میں مارے گئے تھے جن میں سے کچھ کی ہلاکت جیل میں ہوئی تھی۔

    وہیں سکوئر میں ایک جوڑا اپنے چار بچوں کے ہمراہ موجود تھا۔ دونوں والدین کافی خوش دکھائی دے رہے تھے۔

    ’ہم اپنے جذبات بیان نہیں کر سکتے۔ ہم بہت خوش ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اب تک اپنی پوری زندگی آمرانہ دورِ حلومت میں گزاری ہے۔ ’2014 میں ہم جیل میں تھے، اور خدا کا شکر ہے کہ اب ہم باہر ہیں۔ ہم اپنے جنگجووں کی وجہ سے جیتے ہیں اور اب ہم ایک عظیم ترین شام بنانے جا رہے ہیں!‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے ان تمام بہن، بھائیوں سے جو ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے درخواست کرتے ہیں کہ واپس آجائیں۔

    لوگ سابق صدر کے دمشق میں واقع گھر سے سامان لے جاتے دکھائی دیے۔ انھوں نے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔

    باغیوں کی وجہ سے آزادی تو مل گئی ہے لیکن حفاظت کا احساس ابھی دور ہے۔

    لوٹ مار کرنے والوں نے آس پاس کی عمارتوں میں بھی گھسنے کی کوشش کی تھی۔ ایسے میں جب کوئی حکومت نہیں تو لوگوں میں موجود بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہاہے۔

    36 سالہ الا دادوش کہتے ہیں باضابطہ طور پر اقتدار کی منتقلی ضروری ہے۔

    ’وہ ایسے ہی سب کچھ چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔‘

    بی بی سی کے نامہ نگار نے دادوش سے سوال کیا کہ آیا ان کا اشارہ بشارالاسد کی طرف ہے تو ان کا کہنا تھا کہ جی، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں اب بھی نام لینے میں خوف محسوس کر رہا ہوں۔

    ’جیسے وہ سب کچھ چھوڑ کر چلا گیا، یہ تو خوغرضی ہے۔ ہمارے صدر کو باقاعدہ اقدامات کرنے چاہیے تھے تاکہ کم از کم اگلے صدر کے اقتدار سنبھالنے تک فوج یا پولیس کے پاس اختیارات ہوتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا، ’کیا آپ جانتے ہیں، دو دن پہلے تک میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ خودغرض ہے، اس سے مسئلہ کھرا ہوجاتا ۔ مگر اب کافی کچھ بدل گیا ہے۔

    ’اب آپ سانس لے سکتے ہیں، آپ آگے پیچھے جا سکتے ہیں۔ آپ اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اب آپ بنا ڈرے جو آپ کو برا لگتا ہے اس کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ یقینی طور پر تبدیلی تو آئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ تبدیلی اچھی ہوگی۔ لیکن ہم پچھلے 13 سالوں سے ایک جھوٹی امید [خانہ جنگی] کے سائے تلے جی رہے تھے۔‘

  14. صیدنایا جیل میں زیر زمین کوٹھریوں میں لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات

    شام کی سول ڈیفینس فورس ’وائٹ ہیلمٹس‘ کا کہنا ہے وہ بدنامِ زمانہ صیدنایا جیل میں زیرِ زمین خفیہ کوٹھڑیوں میں لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    باغیوں کی جانب سے دمشق پر شام پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد صیدنایا جیل میں قید لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وائٹ ہیلمٹس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے انھوں نے پانچ ایمرجنسی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔ ان کی مدد ایک گائیڈ کر رہا ہے جو جیل کے نقشے سے بخوبی واقف ہے۔

    دوسری جانب دمشق کی انتظامیہ صیدنایا جیل میں کام کرنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ باغی فورسز کو زیر زمین الیکٹرانک دروازوں کے کوڈ فراہم کریں۔

    دمشق سے 30 کلومیٹر فاصلے پر واقع صیدنایا جیل کو ایسی جگہ کہا جاتا ہے جہاں ’سیاسی قیدی داخل تو ہوتے ہیں لیکن کبھی باہر نہیں آتے۔‘

    صیدنایا جیل منظم تشدد، غیر انسانی حالات، اور اجتماعی پھانسیوں کے لیے بدنام ہے۔ اس بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کی رپورٹس موجود ہیں۔

    سنہ 2022 میں صیدنایا میں قید اور لاپتا افراد کی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے یہ جیل ایک ’ڈیتھ کیمپ‘ بن چکا ہے۔

    تنظیم کا دعویٰ ہے کہ 2011 سے 2018 صیدنایا میں 30 ہزار کے قریب قیدی سزائے موت یا تشدد، طبی امداد کے فقدان اور بھوک کے باعث مارے گئے تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جیل سے رہا ہونے والے قیدیوں نے بتایا ہے کہ 2018 سے 2021 کے درمیان اس جیل میں 500 قیدیوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔

  15. امریکہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کو شام کی صورتحال کا فائدہ نہیں اٹھانے دے گا: صدر جو بائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ کی شام سے متعلق پالیسی کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل ہوا ہے۔

    روزویلٹ روم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے شام کے لیے تین جہتی پالیسی کا احاطہ کیا جس میں ’اتحادیوں کے لیے امداد، پابندی اور سفارتکاری، اور فوجی قوت کا استعمال‘ شامل ہے۔ فوجی قوت سے ان کی مراد شام میں موجود امریکی فوج ہے۔

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ بشارالاسد کی حکومت کے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

    اتوار کے روز امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ خطے میں موجود امریکی فورسز نے آپریشن کیا تھا۔

    بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا ہدف شام کے مشرق میں صحرا بادیہ میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے ٹھکانے تھے۔

  16. شام کی صورتحال پر سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے: روس

    روس نے شام کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کر دی۔

    اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نائب نمائندے دمتری پولیانسکی نے ٹیلی گرام پر لکھا ہے کہ انھیں امید ہے کہ سوموار کے روز سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے گا۔

    پولیانسکی کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ بشارالاسد کی حکومت جانے کا روس اور مشرق وسطیٰ پر کیا اثر پڑتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں میں اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی قائم غیر فوجی زون پر عارضی قبضے پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔

  17. بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ: کیا خطرہ ٹل گیا ہے؟, جیمز لینڈیل، سفارتی نامہ نگار

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے پر شاید ہی کسی نے آنسو بہائے ہوں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا تھا کہ ایک جابر حکومت کا خاتمہ ہوا۔

    جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ شام کی عوام نے بہت ظلم سہے ہیں اور بشارالاسد حکومت کا خاتمہ ایک اچھی خبر ہے۔ مگر اس اطمینان سے زیادہ لوگوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اب آگے کیا ہوگا۔

    شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن کا کہنا تھا کہ امید کے اس موقع پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت مستحکم طریقے سے اقتدار کی منتقلی ہے۔

    خطے کے وہ عرب ممالک جنھوں نے حال ہی میں بشارالاسد سے اپنے تعلقات بحال کیے تھے مضطرب انداز میں اسلام پسند گروہوں کی سربراہی میں چلنے والے شام کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    قطر کے وزیرِ خارجہ نے اس بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے شام کو متحد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    سینیئر اماراتی سفارتکار انوار گارگش نے ماناما ڈائیلوگ کو بتایا ہے کہ شام میں ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مختلف گروہ ہم آہنگی قائم رکھ پائیں گے۔

    وہ ممالک جن کے مفادات شام سے جڑے ہیں وہ تسلسل پر زور دے رہے ہیں۔

    امریکی فورسز مشرقی شام میں موجود ہیں۔ پینٹاگون کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نام نہاد دولتِ اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے وہاں موجود رہیں گی۔انھیں خدشہ ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ اس ساری صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کارروائیوں میں تیزی لانے کی کوشش کر سکتی ہے۔

    تیس لاکھ سے زائد شامی پناہ گزین ترکی میں مقیم ہیں۔ ترکی کے وزیرِ خارجہ حقان فدان کا کہنا ہے کہ اب یہ پناہ گزین اپنے ملک واپس جا سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی شام میں موجود کرد گروہوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا جنھیں وہ شدت پسند مانتے ہیں۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے چیف کایا کلاس کا کہنا ہے کہ اس وقت شام کے دونوں اتحادی روس اور ایران کمزور پڑ چکے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ شام میں موجود اس کے دو فوجی اڈے اس وقت ہائی الرٹ پر ہیں۔ تاہم ماسکو کے مطابق ان اڈوں کو فی الحال کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔

    امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا مطلب ہے کہ روسی صدر پوتن کو یوکرین میں جنگ بندی کے لیے فوری طور پر راضی ہو جانا چاہیے۔

    ایران جس کا اب لبنان میں موجود حزب اللہ سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے کا کہنا ہے کہ شام کی عوام کو کسی بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہیے۔

  18. شام کی تازہ ترین صورتحال: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آئے واقعات کا خلاصہ

    • ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے ایران سے کسی بھی قسم کی مدد نہیں مانگی گئی۔
    • شام کے معزول صدر بشار الاسد دمشق چھوڑنے کے بعد اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ماسکو میں موجود ہیں جہاں انھیں سیاسی پناہ دی جائے گی۔
    • امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنا ایک تاریخی موقع ہے۔
    • امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ ’اسد حکومت کی جانب سے قابلِ اعتماد سیاسی عمل میں شامل ہونے سے انکار اور روس اور ایران کی حمایت پر بے جا انحصار اس کے خاتمے کا باعث بنا۔‘
    • گذشتہ ہفتے کے آخر میں باغی گروپ ایچ ٹی ایس کے دارالحکومت میں داخل ہونے کے بعد بشار الاسد مُلک چھوڑ کر روس روانہ ہو گئے تھے۔ اس سے قبل باغی رہنما ابو محمد الجولانی نے دمشق کی ایک مسجد میں پُرجوش ہجوم سے خطاب بھی کیا تھا۔
    • بی بی سی کے نامہ نگاروں نے شام کی سڑکوں پر جشن منانے والے ہجوم کو دیکھا ہے، تاہم اسی دوران معزول شامی صدر بشار الاسد کی رہائش گاہ پر لوٹ مار بھی ہوئی۔
    • بی بی سی کے نامہ نگاروں نے دمشق میں گزشتہ روز دھماکوں کی آوازیں بھی سنی، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شہر میں اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم اسرائیل نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
  19. معزول شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ: گذشتہ چند دنوں کے دوران کیا اہم واقعات ہوئے؟

    شامی صدر بشار الاسد کی حکومت 15 دن سے بھی کم عرصے میں ختم ہوئی ہے۔ یہاں اُن چھ اہم لمحات کو تذکرہ کیا جا رہا ہے جو شام میں باغیوں کی کامیابی کا سبب بنے:

    27 نومبر: باغی گروہ ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) اور اس کے اتحادیوں نے شامی حکومت پر شمال مغرب میں شہریوں پر حملوں میں اضافے کا الزام عائد کرتے ہوئے شام کے شہروں کی جانب پیش قدمی شروع کی۔

    30 نومبر: شامی فوج نے تصدیق کی کہ باغی حلب کے ’بڑے حصے‘ میں قابض ہو گئے ہیں۔

    5 دسمبر: کئی دنوں کی لڑائی کے بعد حما نامی اہم علاقے پر باغیوں نے قبضہ کر لیا۔

    6 دسمبر: وہ دن جب جنوبی شام میں باغی افواج نے دیرا کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کر لیا، یہ علاقہ بشار الاسد کے خلاف 2011 کی بغاوت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

    7 دسمبر: باغیوں کی جانب سے ایک اعلان کیا گیا کہ انھوں نے شام کے تیسرے سب سے بڑے شہر حمص پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    8 دسمبر: صبح سویرے باغیوں نے دمشق میں داخل ہو کر حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ جس کے بعد دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں اُن کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ’جابر صدر بشار الاسد مُلک سے فرار ہو گئے ہیں۔‘

  20. بشارالاسد کے بعد شام کا مستقبل کیا ہے؟, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ مشرق وسطیٰ میں قائم پرانے نظام میں آنے والی ایک اور پرتشدد تبدیلی ہے۔ یہ حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے بعد خطے میں آنے والی تازہ ترین تبدیلی ہے تاہم اسے آخری نہیں کہا جا سکتا۔

    محلِ وقوع کے اعتبار سے شام مشرقِ وسطیٰ کے عین درمیان میں واقع ہے اور یہاں جو بھی ہوتا ہے اس کا اثر نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑتا ہے۔

    14 برس تک جاری رہنے والی شام کی جنگ میں روس، ترکی، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، امریکہ، ایران سمیت اتنی عالمی طاقتیں ملوث تھیں کہ یہ خانہ جنگی کم اور ایک چھوٹی سی عالمی جنگ زیادہ لگنے لگی تھی۔

    اب باغی رہنما ابو محمد الجولانی، شامی عوام اور بیرونی طاقتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس جنگ کو ختم کرنا ہے تاکہ یہ کوئی اور شکل نہ لے لے۔

    شام کی عوام کی حق میں سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ شامی باغی انتقامی کارروائیوں سے باز رہتے ہوئے ملک میں امن و امان قائم کریں اور ایک ایسا سیاسی عمل شروع کریں جس میں تمام شامی عوام حصہ لے سکیں۔ دوسری جانب بیرونی طاقتوں کو بھی شام کی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے بجائے شام کے مفادات کا سوچنا پڑے گا۔

    شام کے لیے سب سے ڈراؤنی صورتحال تو یہ ہو گی کہ شام بھی دیگر عرب آمریتوں کے راستے پر چل پڑے اور یہاں بھی ویسی ہی خونریزی شروع ہو جائے جیسے عراق میں صدام حسین اور لیبیا میں معمر قذافی کے جانے کے بعد ہوا تھا۔

    بشارالاسد کی حکومت کو اس بات پر ناز تھا کہ شام عرب دنیا کا دل ہے۔ بشار الاسد نے اس بات کا اعادہ اس وقت دوبارہ کیا جب گذشتہ سال شام کو عرب لیگ میں دوبارہ شامل کر لیا گیا۔

    انھیں امید تھی کہ وہ شام کی بحالی کے ساتھ باغیوں پر اپنی فتح کی مہر ثبت کر پائیں گے۔لیکن جب باغیوں نے پیش قدمی شروع کی تو پندرہ دن بھی نہیں لگے اور ان کی حکومت گر گئی۔