آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا کا یوم جمہوریہ کی پریڈ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپر سونک میزائل کی نمائش کا اعلان

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق انڈین حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل جدید ہتھیاروں کے نظام کے حصول کے لیے انڈین نیوی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • وفاقی حکومت یا فوج نے وادی تیراہ خالی کروانے کا کوئی حکم نہیں دیا، وزارتِ اطلاعات
  • خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا سیاحوں کو بالائی علاقوں کا رخ نہ کرنے کا مشورہ
  • پاکستان حکومت کا کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے عام بولی کا اعلان
  • افغانستان میں نیٹو کے کردار پر تنقید کے بعد ٹرمپ کی برطانوی سپاہیوں کی تعریف: 'وہ بہترین جنگجوؤں میں سے ہیں'
  • چین میں صدر شی جنپنگ کے قریبی سمجھے جانے والے اعلیٰ ترین فوجی جنرل کے خلاف تحقیقات کا آغاز

لائیو کوریج

  1. گرین لینڈ کے ایسے معاہدے پر بات چیت جاری ہے جس کے تحت ہم جو چاہے کر سکیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے مجوزہ معاہدے کے متعلق کہنا ہے کہ اس معاہدے پر بات چیت ابھی جاری ہے۔

    سوئڑٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس سے واپسی پر سرکاری جہاز ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم جو چاہے کر سکیں۔ ہم فوج [تعینات] کر سکیں، ہم جو چاہیں کر سکیں گے، اور اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کچھ اچھا ہی ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں، یہ ہمیشہ کے لیے ہو گا۔

    ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا مجوزہ معاہدے سے امریکہ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جو چاہے کریں گے۔ ہم سب مل کر کام کرنے جا رہے ہیں، اور درحقیقت نیٹو بھی ہمارے ساتھ شامل ہونے جا رہا ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نیٹو کے ساتھ مل کر کام کرنے جا رہے ہیں اور اصل میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں امریکہ کا گولڈن ڈوم کی تعمیر کے علاوہ کوئی خرچہ نہیں ہوگا۔

    ایک سوال پر کہ مجوزہ گرین لینڈ معاہدہ موجودہ صورتحال سے کتنا مختلف ہوگا، ’یہ بہت زیادہ تفصیلی ہے.. یہ ایک بہت زیادہ فراخدل معاہدہ ہے جو کہ اسے ہونا بھی چاہیے۔ ہم گولڈن ڈوم بنا رہے ہیں، اور آپ دیکھیں کہ یہ جیسے کام کرتا ہے یہ ہمارے اور یورپ کے لیے بہت بہتر ہے - برف کے اس ٹکڑے کو گولڈن ڈوم سے تحفظ فراہم کرنا۔

    ایک صحافی کی جانب سے سوال پر کہ کیا گرین لینڈ کے کچھ حصوں پر امریکہ کو خودمختاری حاصل ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں بہت سی بہترین چیزیں شامل ہیں جو کہ نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ کے لیے بھی بہتر ہوں گی۔ ’کیونکہ جب ہم اچھے ہوں گے، تو وہ بھی اچھے ہوں گے۔ اور اگر ہم اچھے نہیں ہوں گے، تو یہ ان کے لیے صحیح نہیں ہو گا.... ہم سب اس میں ایک ساتھ ہیں۔‘

  2. ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف جارہا ہے لیکن امید ہے اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایک بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔

    سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلد اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے بعد امریکہ واپسی سے پہلے ایئر فورس پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک بڑی فوج ایران کی طرف جارہی ہے لیکن کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا لیکن ہم ان پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے ایران میں 800 سے زائد پھانسی رکوانے کا دعویٰ کیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایران میں جمعرات کو 837 افراد جن میں زیادہ تر مرد نوجوان شامل تھے کی پھانسیاں رکوائی ہیں۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے [ایران سے] کہا تھا کہ اگر آپ ان لوگوں کو پھانسی دیتے ہیں، تو آپ پر اتنا سخت حملہ ہو گا جتنا آپ پر آج تک نہیں ہوا ہے اور اس کے مقابلے میں ایرانی جوہری پروگرام پر حملہ بالکل معمولی محسوس ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران نے پھانسی سے محض ایک گھنٹہ قبل اس خوفناک اقدام کو منسوخ کر دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب جا رہا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں اسے استعمال نہ کرنا پڑے، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

  3. روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات آج متحدہ عرب امارات میں، ’جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات تقریباً تیار ہیں‘: زیلنسکی

    ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سب کو تیار ہونا ہوگا، صرف یوکرین نہیں۔ یہ کسی بھی قسم کے مکالمے نہ ہونے سے بہتر ہے۔‘

    زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کو اپنی ملاقات کو ’انتہائی اہم‘ اور مثبت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امن کے حصول کے لیے امریکہ کا ’بہت مضبوط‘ کردار ضروری ہے، جبکہ یورپ بھی اثرانداز ہو سکتا ہے مگر اسے وقت درکار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات ’تقریباً تیار‘ ہیں۔‘

    زیلنسکی نے کہا کہ اپنے ملک کا دفاع کرنا ایک ’انتہائی مہنگا کام‘ ہے۔ انھوں نے عالمی کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ یوکرین میں سرمایہ کاری کریں اور اس یقین کے ساتھ آئیں کہ امن قائم ہوگا۔

    زیلنسکی نے کہا کہ ’نوکریاں، سرمایہ، سرمایہ کاری – یہ سب یوکرین کو پیش کریں۔‘

    یورپ اور امریکہ پر تنقید

    زیلنسکی نے یورپ اور امریکہ کو روس کو میزائل پرزہ جات فروخت کرنے سے نہ روکنے پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’یورپ خاموش ہے، امریکہ تقریباً خاموش ہے، اور پوتن میزائل بنا رہا ہے۔‘

    زیلنسکی کے مطابق یورپ ایک ’خوبصورت مگر منتشر کالیڈوسکوپ‘ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کی طاقتوں میں بٹا ہوا ہے۔

    یورپ کو اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی

    زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کو اپنی حفاظت کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ کئی ممالک نے دفاعی وعدے اس وقت پورے کیے جب ٹرمپ نے دباؤ ڈالا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ پیغام پوتن اور چین کو کیا دیتا ہے؟‘ اور مزید کہا کہ صرف چند فوجی بھیجنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

    ’اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی‘

    یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی تیل کی آمدنی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ’اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو، تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی۔‘ انھوں نے تجویز دی کہ یورپ کو اپنی مسلح افواج قائم کرنی چاہئیں کیونکہ نیٹو صرف اس یقین پر قائم ہے کہ امریکہ مدد کرے گا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’لیکن اگر امریکہ (مدد) نہ کرے تو کیا ہوگا؟‘

  4. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک نے نیٹو سے آرکٹک خطے میں زیادہ موجودگی کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق ’ہمیں آرکٹک خطے میں، بشمول گرین لینڈ کے ارد گرد، نیٹو کی مستقل موجودگی کی ضرورت ہے۔
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کوئی اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔افغانستان میں شدید برفباری کی وجہ سے کابل کو مختلف صوبوں سے ملانے والی کئی رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ کابل اور مختلف صوبوں میں دو روز سے جاری شدید برف باری کی وجہ سے کابل اور ملحقہ اضلاع میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
    • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے جانے والی انڈین فوج کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں 10 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
  5. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔