نئی امریکی دفاعی حکمتِ عملی: چین کے بجائے داخلی خطرات اولین ترجیح، نیٹو اتحادیوں سے زیادہ ’بوجھ بانٹنے‘ کا مطالبہ
پینٹاگون نے امریکہ کی نئی نیشنل ڈیفینس سٹریٹیجی جاری کر دی ہے جس میں چین کے بجائے داخلی خطرات کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اب اپنے اتحادیوں کو پہلے کے مقابلے میں محدود پیمانے پر مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جمعہ کے روز سامنے آنے والی نئی حکمتِ عملی کے تحت اب امریکی محکمہ دفاع کی اولین ترجیح امریکہ اور مغربی نصف کرہ کی سلامتی ہو گی۔
چار سال قبل شائع ہونے والی نیشنل ڈیفینس سٹریٹیجی میں چین کی طرف سے لاحق خطرات کو امریکہ کی اولین دفاعی ترجیح قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات اب محاذ آرائی کے بجائے طاقت کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔
پینٹاگون کی نئی دفاعی حکمت عملی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور شمالی کوریا کی طرف سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحادیوں سے زیادہ ’بوجھ بانٹنے‘ کے مطالبے کی عکاسی کرتی ہے۔
34 صفحات پر مشتمل رپورٹ گذشتہ سال امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی کی اشاعت کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہا گیا تھا کہ یورپ کو تہذیبی زوال کا سامنا ہے جبکہ رپورٹ میں روس کو امریکا کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا گیا۔
امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے موقع پر روسی حکام کا کہنا تھا کہ یہ دستاویز اب کے وژن کے ساتھ ’بڑی حد تک ہم آہنگ‘ ہے۔
نئی دفاعی حکمت عملی میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے آگے بڑھ کر بوجھ بانٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اتحادی شراکت دار اپنے دفاع کے لیے واشنگٹن پر زیادہ انحصار کر رہے تھے۔ رپورٹ میں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ حکمتِ عملی میں تبدیلی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ امریکہ ’آئسولیشن ازم‘ یا تنہائی پسندی کی پالیسی اپنا رہا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اب امریکہ کی توجہ اپنی عوام کو لاحق حقیقی خطرات پر ہو گی۔
نئی امریکی دفاعی حکمتِ عملی میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن امریکی مفادات کو ’باقی دنیا کے مفادات کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتا‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں موجود کسی شخص کو لاحق خطرے اور کسی امریکی شہری کے لیے خطرے میں فرق ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اب اتحادی، خاص طور پر یورپ، ’ان خطرات کے خلاف قیادت کریں گے جو ہمارے لیے کم لیکن ان کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔‘
نئی حکمتِ عملی میں روس کو نیٹو کے مشرقی ارکان کے لیے ایک مستقل لیکن ایک ایسا خطرہ قرار دیا گیا ہے جس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس مرتبہ امریکی دفاعی حکمتِ عملی میں تائیوان کا ذکر نہیں۔ چین اس جزیرے (تائیوان) کو ایک باغی صوبے کے طور پر دیکھتا ہے جو جلد یا بدیر چین میں دوبارہ ضم ہو جائے گا، بھلے اس کے لیے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑے۔