آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سڈنی کے ساحل بونڈائی پر ’دہشت گردی‘: حملہ آور باپ بیٹا تھے، ایک حملہ آور ہلاک دوسرا شدید زخمی، 15 عام شہری حملے میں مارے گئے: پولیس

سڈنی پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 15 ہے اور ان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں

خلاصہ

  • سڈنی پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 15 ہے اور ان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں جبکہ بچوں سمیت 42 افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں
  • امریکی ریاست روڈ آئی لینڈ کے مرکزی شہر پروویڈنس کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور مزید نو افراد زخمی ہوئے ہیں
  • امریکی افواج کا کہنا کہ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مبینہ حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی مترجم ہلاک ہو گیا ہے
  • اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں ایک حملے میں القسام بریگیڈ کے سینیئر رہنما رائید سعد کو ہلاک کر دیا ہے

لائیو کوریج

  1. اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس: ’یہ یہودی خاندانوں پر سفاکانہ حملہ ہے‘

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آسٹریلیا کے بونڈائی کے ساحل پر فائرنگ کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ’سفاکانہ اور مہلک حملے‘ سے ’بہت زیادہ خوفزدہ‘ ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’میں آج سڈنی میں ہنوکا کی تقریب کے دوران یہودی خاندانوں پر ہونے والے سفاکانہ اور مہلک حملے کی مذمت کرتا ہوں۔‘

    انتونیو گوتریس نے مزید کہا: ’میرا دل دنیا بھر کی یہودی برادری کے ساتھ ہے، خاص طور پر ہنوکا کے پہلے دن، جو امن اور روشنی کے اندھیروں پر غالب آنے کے معجزے کا جشن ہے۔‘

  2. بلوچستان میں رواں سال 78 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، حکام کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    کوئٹہ میں اتوار کے روز انسپیکٹر جنرل پولیس بلوچستان کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورائیہ نے بتایا کہ رواں سال اب تک صوبے کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 78 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ہیں۔

    ان کے مطابق ان کارروائیوں میں 707 شدت پسند ہلاک ہوئے، جبکہ کالعدم تنظیموں کی کارروائیوں میں 202 سیکورٹی اہلکار اور 280 شہری بھی جان سے گئے۔

    اس پریس کانفرنس میں نجی میڈیا کے کیمرہ مین مدعو نہیں تھے۔ اس کانفرنس میں شریک صحافیوں نے بھی معمول کے مطابق فوری طور پر مندرجات جاری نہیں کیے بلکہ انھیں اس کے لیے کچھ دیر تک انتظار کرنا پڑا۔

    ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس بہتر حکمت عملی کے باعث سکیورٹی فورسز پر حملے کم ہوئے ہیں، تاہم کالعدم تنظیموں نے عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔

    ان کے مطابق رواں برس کی سب سے بڑی کامیابی امریکہ کی جانب سے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دینا ہے۔

    حمزہ شفقات نے کہا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کرانے والوں کے خلاف انٹرپول کے ذریعے کارروائیاں کی جائیں گی۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورائیہ نے بتایا کہ اکتوبر میں خاران کے ایس ایچ او کو ہلاک کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے تین مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا۔

    ان کے مطابق شدت پسند ایس ایچ او کو اغوا کر کے پروپیگنڈا کرنا چاہتے تھے، لیکن مزاحمت پر اسے قتل کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس گروہ کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

  3. ’میں اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگا‘، سڈنی کے بونڈائی ساحل پر موجود عینی شاہد نے کیا دیکھا؟

    بونڈائی کے ساحل پر ایک دن گزارنے کے بعد اپنا سامان سمیٹ کر واپس جانے کی تیاری کرنے والے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو ابتدا میں انھوں نے سمجھا کہ یہ آتشبازی ہے۔

    مارکوس کاروالیو کا کہنا تھا کہ ’میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بونڈی میں ایسا کوئی واقعہ پیش آ سکتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی لوگوں کو حقیقت کا اندازہ ہوا ’سب دوڑنے لگے‘۔

    مارکوس کاروالیو کے مطابق ’میں اپنی جان بچانے کے لیے نارتھ بونڈائی کے ایک گھاس والے ٹیلے کی طرف دوڑنے لگا، پھر چند افراد کے ساتھ ایک آئس کریم وین کے پیچھے چھپ گیا۔‘

    ایمرجنسی سروسز کے پہنچنے اور فائرنگ رکنے کے بعد انھوں نے گھر جانے کی کوشش کی لیکن اس مقام سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ ’لاشیں زمین پر بکھری پڑی تھیں‘۔

  4. ’جیل سے عمران خان کا پیغام آچکا ہے: آزادی یا موت، ہم حقیقی آزادی لے کر رہیں گے‘ وزیر اعلی سہیل آفریدی

    خیبر پحتونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت اور ادارے عمران خان کو جھکانے اور پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کی بہنوں کے خلاف واٹر کینن کا استعمال کیا گیا اور مینڈیٹ کی حفاظت کرنے والے ادارے خود مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔

    کوہاٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ’ ’جیل سے عمران خان کا پیغام آچکا ہے: آزادی یا موت، ہم حقیقی آزادی لے کر رہیں گے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے مذاکرات اور احتجاج کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو دی ہے اور ان رہنماؤں سے ملاقات کے بعد مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ اور گڈ گورننس پر عمل پیرا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 16 ہزار بھرتیاں سو فیصد میرٹ پر کی گئی ہیں اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں چیلنج کرتا ہوں کہ بھرتیوں کے عمل میں کوئی ایک سیاسی سفارش ثابت کرے۔‘

    وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے تمام محکموں، نیم سرکاری اور خودمختار اداروں میں بھرتیاں ایٹا کے ذریعے میرٹ پر ہوں گی اور خیبر پختونخوا میں کوئی نوکری سیاسی سفارش پر نہیں ملے گی۔

    وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی ہے اور پاکستان کا قرضہ 80 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ’یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیں مشورے دیتے ہیں لیکن پاکستان کو ڈبو رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ڈالر کو مصنوعی طور پر روکا گیا ہے اور جب اسے آزاد چھوڑا جائے گا تو قیمت 300 روپے سے اوپر جائے گی۔

    وزیرِاعلیٰ نے کوہاٹ میں گرلز کیڈٹ کالج اور کوہاٹ یونیورسٹی میں گرلز کیمپس قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ 1000 بستروں پر مشتمل ہسپتال اور پینے کے پانی کے مسئلے کے حل کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔

  5. دھماکہ خیز مواد محفوظ طریقے سے ہٹایا جا رہا ہے: پولیس

    پولیس کے مطابق کئی ریسکیو وینز کار پارک میں پہنچ گئی ہیں، جو اس پل کے قریب ہے جہاں حملہ آوروں نے فائرنگ کی تھی، اور اسی مقام کے قریب ایک گاڑی میں دھماکہ خیز مواد بھی ملا تھا۔

    حکام نے بتایا ہے کہ یہ مواد محفوظ کر لیا گیا ہے اور اسے ہٹایا جا رہا ہے۔ اب یہ علاقہ ممنوعہ زون نہیں رہا بلکہ ایک ’کرائم سین‘ ہے۔ تاہم پولیس تفتیش کاروں کی یہاں رات بھر موقع پر موجود رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  6. بونڈائی کے ساحل پر صدمہ، پولیس کی بھاری نفری موجود

    سڈنی میں رات 11 بجنے کو ہیں۔ تقریباً پانچ گھنٹے بعد جب بونڈائی کے ساحل پر فائرنگ کے واقعے میں 11 عام شہری اور ایک حملہ آور ہلاک ہوا ہے۔

    تازہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مشہور ساحل پر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور علاقے کو سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

  7. آسٹریلوی پولیس کی بریفنگ: بونڈائی کے ساحل پر حملے سے متعلق ابھی تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    نیو ساوتھ ویلز کے حکام نے بونڈی بیچ پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کی ہیں:

    • وزیرِاعلیٰ کرس منز کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملہ ’سڈنی کی یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بند تھا‘۔
    • پولیس کمشنر میل لینین نے اس واقعے کو باضابطہ طور پر ’دہشت گردی کا واقعہ‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق حملے والی جگہ پر ایک ہزار سے زائد افراد موجود تھے، جن میں سے کئی یہودی تہوار ہنوکا جشن منا رہے تھے۔
    • لینین نے بتایا کہ 29 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار بھی ہیں جو ’انتہائی تشویشناک حالت‘ میں ہیں اور دونوں کا آپریشن جاری ہے۔
    • دو حملہ آوروں میں سے ایک ہلاک ہو چکا ہے جبکہ دوسرا ’شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیرِ علاج‘ ہے۔
    • پولیس نے فی الحال حملہ آوروں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم لینین نے کہا کہ اس امکان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اس حملے میں کوئی تیسرا حملہ آور بھی شامل ہو سکتا ہے۔
    • پولیس کو دھماکہ خیز مواد ایک کار میں ملا ہے جو ہلاک ہونے والے حملہ آور سے جوڑا جا رہا ہے۔ بم ڈسپوزل یونٹ کی ٹیم کیمبل پیریڈ، بونڈائی میں موجود ہے۔
    • وزیرِاعلیٰ کرس منز نے اس شخص کو خراجِ تحسین پیش کیا جسے ایک حملہ آور سے کشتی کرتے اور اس کا اسلحہ چھینتے ہوئے ویڈیو میں دکھایا گیا ہے۔
  8. آسٹریلیا کے بونڈائی حملے میں ایک بچہ بھی زخمی، ہسپتال منتقل

    پولیس کمشنر میل لینین نے کہا ہے کہ متاثرین کی عمروں کی تصدیق فی الحال ممکن نہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ ایک بچہ زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ صورتحال مسلسل بدل رہی ہے‘ اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    انسدادِ دہشت گردی یونٹ تحقیقات کرے گا کمشنر لینین کے مطابق اس واقعے کی ’بڑی تحقیقات‘ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے کی قیادت میں کی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ اس متعلق ’کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی‘۔

    ان کے مطابق دوسرا حملہ آور شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، جبکہ ایک حملہ آور پہلے ہی ہلاک ہو چکا ہے۔

    ’پولیس کو اپنا کام کرنے دیں‘

    صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کمشنر لینین نے کہا کہ وہ ’خوب جانتے ہیں‘ کہ سوشل میڈیا پر ایک نام گردش کر رہا ہے جسے حملہ آور کی شناخت بتایا جا رہا ہے، لیکن انھوں نے عوام سے تحمل کی اپیل کی۔ ان کے مطابق ’یہ انتقام کا وقت نہیں، بلکہ پولیس کو اپنا فرض ادا کرنے کا وقت ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ پولیس دو حملہ آوروں کے بارے میں جانتی ہے اور مکمل طور پر‘ اس امکان کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کوئی تیسرا حملہ آور یا دیگر افراد بھی اس واقعے سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

    گن اصلاحات کے دور میں آسٹریلیا میں سب سے ہلاکت خیز حملہ

    پولیس کے مطابق سنہ 1996 کے پورٹ آرتھر حملے کے بعد یہ واقعہ ملک میں سب سے ہلاکت خیز فائرنگ کا واقعہ بن گیا ہے۔

    پورٹ آرتھر میں ایک مسلح شخص نے تاریخی مقام پر فائرنگ کر کے 35 افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا تھا۔ یہ واقعہ ایک سنگِ میل ثابت ہوا اور حکومت نے دنیا کے سخت ترین اسلحہ قوانین متعارف کرائے۔

    اس کے تحت اسلحہ واپس خریدنے کا منصوبہ بنایا گیا اور مالکان پر مزید سخت جانچ پڑتال کی گئی، جس کے بعد حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    اس کے بعد ملک میں چند ہی بڑے حملے ہوئے، جن میں زیادہ تر گھریلو تشدد کے واقعات شامل تھے، عوامی مقامات پر اس نوعیت کے حملے نہیں ہوئے۔

  9. آسٹریلوی ساحل پر حملہ: ’ہدف سڈنی کی یہودی کمیونٹی تھی‘ پولیس

    نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِاعلیٰ کرس منز نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں پولیس کی حراست میں ہے۔

    آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے بونڈائی کے ساحل پر فائرنگ کے واقعے کو آسٹریلوی عوام پر ایک منصوبہ بندی والا حملہ قرار دیا ہے، جو ایک ایسے دن پر ہوا جو ’خوشی کا دن ہونا چاہیے تھا‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہودیوں کے خلاف سفاکانہ دہشت گردی اور شر انگیز یہود دشمنی کا عمل ہے جس نے ہماری قوم کے دل پر ضرب لگائی ہے۔‘

    وزیرِاعظم البانیز نے مزید کہا کہ اس ’نفرت اور تشدد کے گھناؤنے عمل‘ کے لیے آسٹریلیا میں کوئی جگہ نہیں۔

    نیو ساوتھ ویلز پولیس کمشنر میل لینین کے مطابق اس موقع پر ایک ہزار سے زائد افراد موجود تھے جو یہودی تہوار ہنوکا کا جشن منا رہے تھے۔

    پولیس نے اسے دہشتگردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔ حملہ آوروں کے محرکات کے بارے میں فی الحال کچھ واضح نہیں۔

    یہ یہودیوں پر نہایت سفاکانہ حملہ: اسرائیلی صدر

    اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے بونڈائی پر پیش آنے والے واقعے کو ’یہودیوں پر نہایت سفاکانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔

    صدر نے کہا کہ ’ہمارے سڈنی میں موجود بہن بھائیوں کو بدترین دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے، یہودیوں پر نہایت سفاکانہ حملہ کیا گیا ہے جو بونڈائی بیچ پر ہنوکا کی پہلی شمع روشن کرنے آئے تھے۔‘

    مقامی وزیرِاعلیٰ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی ’سڈنی کی یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ’جو رات امن اور خوشی کی ہونی چاہیے تھی، وہ ایک خوفناک اور شیطانی حملے سے تاراج ہو گئی۔‘

  10. داعش نے شام میں دو امریکی فوجیوں اور ایک مترجم کو ہلاک کر دیا

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ شام میں داعش کے ایک جنگجو کے حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک شہری امریکی مترجم ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حملے میں تین دیگر فوجی زخمی ہوئے۔ بندوق بردار کو بھی ’گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ امریکہ اور شام کے خلاف ’داعش کا حملہ‘ تھا، جس کا ان کا کہنا تھا کہ ’انتہائی سخت جوابی کارروائی‘ کی جائے گی۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ تین زخمی امریکی فوجیوں کی حالت ’تسلی بخش‘ ہے۔

    شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ حملے میں دو شامی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے نام اس وقت تک جاری نہیں کیے جا رہے جب تک ان کے اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جاتی۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے کہا کہ ’اگر آپ امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں تو جان لیں کہ دنیا میں کہیں بھی آپ اپنی مختصر اور پریشان زندگی یہ سوچ کر گزاریں گے کہ امریکہ آپ کا سراغ لگائے گا، آپ کو ڈھونڈے گا اور آپ کو بے رحمی سے مار ڈالے گا۔‘

    پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا کہ یہ اچانک حملہ وسطی شام کے شہر پالمیرا میں ہوا۔

    برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ حملہ آور شامی اپوزیشن فورسز کا رکن تھا۔

    ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

    شام نے حال ہی میں داعش کے خلاف لڑنے والے عالمی اتحاد میں شمولیت اختیار کی اور امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔

    اس بین الاقوامی اتحاد کا مقصد نام نہاد داعش کے باقی ماندہ عناصر کو ختم کرنا اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کو مشرق وسطیٰ میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔

    گذشتہ ماہ شام کے صدر احمد الشارع نے وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات کو دونوں ممالک کے لیے ایک ’نیا مرحلہ‘ قرار دیا تھا۔

  11. جرمنی میں کرسمس مارکیٹ پر حملے کی منصوبہ بندی، پانچ افراد گرفتار, ایلکس بوئیڈ، بی بی سی نیوز

    جرمنی میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ کرسمس مارکیٹ میں گاڑی چڑھا کر لوگوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔

    حکام کے مطابق گرفتار افراد میں تین مراکشی، ایک مصری اور ایک شامی شہری شامل ہیں۔ یہ گرفتاری جمعے کے روز جنوبی ریاست باویریا میں عمل میں آئی۔ حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس منصوبے کے پیچھے محرک مذہبی ’شدت پسندی‘ ہو سکتی ہے۔

    استغاثہ نے بتایا کہ 56 سالہ مصری شہری پر الزام ہے کہ اس نے ’گاڑی کے ذریعے حملے کی ترغیب دی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک یا زخمی کیا جا سکے‘۔ مراکشی شہریوں پر الزام ہے کہ انھوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    جرمنی میں حکام پہلے سے ہائی الرٹ پر ہیں کیونکہ کرسمس مارکیٹوں پر ماضی میں حملے ہو چکے ہیں۔ گذشتہ برس دسمبر میں میگڈیبرگ میں ایک حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ منصوبہ بند حملہ کب ہونا تھا اور کس مارکیٹ کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ ہدف ڈِنگولفِنگ۔لینڈاؤ کے علاقے میں ایک مارکیٹ تھی جو میونخ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

    جرمن اخبار بلڈ کے مطابق مصری شہری علاقے کی ایک مسجد میں امام تھا۔ پولیس نے بتایا کہ مراکشی شہری، جن کی عمریں 30، 28 اور 22 برس ہیں، کو قتل کی سازش پر گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ 37 سالہ شامی شہری پر الزام ہے کہ اس نے دیگر ملزمان کو ورغلایا ہے۔

    پانچوں ملزمان سنیچر کے روز مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے گئے اور انھیں حراست میں رکھا گیا ہے۔

    باویریا کے وزیر داخلہ یوآخِم ہیرمان نے بلڈ کو بتایا کہ ’ہمارے سکیورٹی اداروں کے درمیان بہترین تعاون‘ کی بدولت ’ممکنہ شدت پسندانہ حملے‘ کو روکا جا سکا۔

    کرسمس مارکیٹیں جرمنی میں ایک مقبول تہوار کی روایت ہیں جو بڑی تعداد میں عوام اور سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ ان تقریبات میں سکیورٹی کو گذشتہ برسوں میں مزید سخت کیا گیا ہے، خاص طور پر سنہ 2016 کے برلن حملے کے بعد جب ایک شخص نے ٹرک مارکیٹ میں لوگوں پر چڑھا دیا تھا اور 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  12. آسٹریلیا میں بونڈائی کے ساحل پر فائرنگ سے 10 افراد ہلاک

    پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بونڈائی کے ساحل پر فائرنگ کے واقعے میں 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے۔ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں پولیس کی حراست میں ہے۔

    پولیس کے مطابق کم از کم 12 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ دو پولیس اہلکار بھی فائرنگ کے دوران زخمی ہوئے۔

    حکام نے علاقے میں ایک ممنوعہ زون قائم کر دیا ہے اور مشتبہ اے ای ڈیز کو پاک کرنے کے لیے خصوصی آلات لائے گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ یہ زون کہاں قائم کیا گیا ہے۔

  13. انڈین فضائیہ کے سابق افسر پاکستانی انٹیلیجنس ایجنٹس کے ساتھ مبینہ رابطے رکھنے کے الزام میں گرفتار: پولیس, دلیپ کمار شرما، بی بی سی ہندی

    انڈیا کی ریاست آسام کے شہر تیزپور میں انڈین فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ افسر کو پاکستانی انٹیلیجنس ایجنٹس کے ساتھ مبینہ روابط اور ملک کے دفاع سے متعلق دستاویزات شیئر کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ضلع سونتپور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) بارُن پرکیستھا نے کلندرا شرما نامی شخص کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

    انھوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ: ’کلندرا شرما نامی شخص کو جمعے کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے پاس انٹیلیجنس تھی کہ وہ پاکستانی ایجنٹس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

    ’ایئرفورس سے ریٹائر ہونے والا شخص گذشتہ دو ہفتوں سے ہمارے زیرِ نگرانی تھا۔ اس متعلق ان سے کئی دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی ضبط کیا گیا ہے۔‘

    پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے ملزم کا پانچ روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔ انھیں انڈیا کی سالمیت اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے اور انڈین حکومت کے خلاف بغاوت کرنے، مجرمانہ سازش کرنے اور شواہد مٹانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘

    پولیس کی مہیا کی گئی معلومات کے مطابق ملزم سنہ 2002 میں ایئر فورس سے بطور افسر ریٹائر ہوا تھا اور گذشتہ تین برسوں سے تیزپور یونیورسٹی میں بطور ٹیکنیکل اسسٹنٹ کام کر رہا تھا۔

    ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انھیں ابتدائی تحقیقات کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے قومی سلامتی سے متعلق کچھ اہم معلومات نامعلوم لوگوں کے ساتھ شیئر کی تھی۔

  14. آسٹریلین ساحل پر فائرنگ کا واقعہ، متعدد ہلاکتیں: ’بونڈائی کے مناظر صدمہ انگیز اور تکلیف دہ ہیں‘

    آسٹریلیا کی نیو ساوتھ ویلز پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بونڈائی کے ساحل پر فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ہلاکتوں کی درست تعداد ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔

    پولیس کے مطابق دو حملہ آوروں کو مار دی گیا ہے، جبکہ علاقے کو آئی ای ڈیز سے پاک کرنے کے لیے پولیس کی کارروائی جاری ہے۔

    اطلاعات کے مطابق دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، تاہم ان کے زخموں کی شدت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ اس واقعے کا تعلق ساحل پر جاری ہنوکا تقریب سے بنتا ہے یا نہیں۔

    برونٹے کے ساحل پر موجود ایک شخص نے بتایا کہ وہ حسبِ معمول کام کے بعد ساحل پر وقت گزار رہے تھے کہ اچانک تقریباً 20 دھماکے نما آوازیں سنائی دیں۔

    ان کے مطابق ابتدا میں کسی نے زیادہ پریشانی کا اظہار نہیں کیا، شاید لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ آتشبازی ہے۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد ہیلی کاپٹروں کو تاماراما اور بونڈائی کے ساحلوں کے اوپر منڈلاتے دیکھا گیا تو خدشہ پیدا ہوا کہ معاملہ سنگین ہو سکتا ہے۔

    عینی شاہد نے مزید کہا کہ اس کے بعد موبائل فون پر پیغامات آنے لگے جن میں فائرنگ کے واقعے کی اطلاعات دی جا رہی تھیں۔

    بونڈائی کے مناظر صدمہ انگیز اور تکلیف دہ ہیں: آسٹریلوی وزیرِاعظم

    آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے بونڈائی کے ساحل پر پیش آنے والے واقعے کو ’صدمہ انگیز اور تکلیف دہ‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر ان کی آسٹریلین فیڈرل پولیس کمشنر اور نیو ساوتھ ویلز کے وزیرِاعلیٰ سے بات ہوئی ہے۔

    وزیرِاعظم کے مطابق کہ ’ہم نیو ساوتھ ویلز پولیس کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور مزید معلومات کی تصدیق کے بعد اپ ڈیٹ فراہم کریں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’پولیس اور ایمرجنسی ریسپانڈرز موقع پر موجود ہیں اور جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  15. آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے کوئی نئی شرائط عائد نہیں کیں: وزارتِ خزانہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں عالمی ادارے کی جانب سے کوئی نئی بات نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا تسلسل ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے اعلامیے کا اجراء ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان پر گیارہ نئی شرائط عائد کی ہیں۔ ان نئی شرائط میں ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کامطالبہ کرتے ہوئے سخت اصلاحاتی روڈ میپ لازمی قراردیا گیا ہے۔

    ائی ایم ایف نے صوبائی افسران کے اثاثوں تک بینکوں کو مکمل رسائی دینے کی شرط بھی عائد کی ہے ۔عالمی ادارے نے کرپشن رسک قرار دیے گئے دس محکموں کا ایکشن پلان شائع کرنے کی شرط عائد کی ہے جس میں ترسیلات زر کے اخراجات اوررکاوٹوں کاجامع جائزہ بھی لیا جائے ۔

    آئی ایم ایف نے گذشتہ دونوں ایک ارب ڈالر سے زائد کی قسط جاری کرنے کے بعد کنٹری رپورٹ بھی جاری کی ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے شرائط کے بعد میڈیا میں اس پر ہونے والی بحث کے بعد وزارت خزانہ نے اتوار کو واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ایجنڈا مرحلہ وار انداز میں نافذ کیا جا رہا ہے جو ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اہم ہے

    اس کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز پر حکومت پاکستان نے اپنی مجوزہ اصلاحاتی پالیسیاں پیش کیں اور آئی ایم ایف اب انہیں مرحلہ وار اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔

    وزارت کے مطابق انھیں اچانک یا غیر متوقع نئی شرائط سمجھنا حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

    وزارت کا کہنا ہے پروگرام کے آغاز میں طے شدہ حتمی اہداف کو بتدریج حاصل کیا جا رہا ہے۔

    اس کے مطابق سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں کی اشاعت کا معاملہ مئی 2024 سے ای ایف ایف میں شامل تھا۔ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کے بعد اس پر عمل درآمد شروع ہو گا۔ اسی طرح گذشتہ جائزوں میں نیب کی کارکردگی اور خودمختاری میں بہتری پر اتفاق ہوا تھا۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو مالی معلومات تک رسائی دینا اے ایم ایل/سی ایف ٹی اصلاحات کا حصہ ہے۔ یہ إصلاحات شروع ہی سے پروگرام میں شامل ہیں۔

    اسی طرح حکومت نے ترسیلات زر میں اضافہ کے لیے غیر رسمی ذرائع کی حوصلہ شکنی کی، ان کوششوں سے مالی سال 2025 میں ترسیلات زر میں 26 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، مالی سال 2026 میں ترسیلات زر میں نو فیصد اضافہ متوقع ہےاور حکومت، سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ترسیلاتِ زر کی لاگت کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    وزارت کا کہنا ہے شوگر سیکٹر میں اصلاحات حکومتِ پاکستان کا اپنا اقدام ہے اور وزیراعظم آفس نے وزیر توانائی کی سربراہی میں ٹاسک فورس تشکیل دی، ٹاسک فورس صوبوں کی مشاورت سے سفارشات تیار کر رہی ہے۔

    اس کا مقصد اجناس کی منڈیوں میں حکومتی مداخلت کم کرنا ہے، آئی ایم ایف نے اسی لیے اسے اپنے فریم ورک کا حصہ بنایا ہے۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے ریونیو میں ممکنہ کمی کی صورت میں متبادل اقدامات بھی ایم ای ایف پی کا مستقل حصہ رہے ہیں، مئی 2024 میں MEFP میں بھی کھاد اور زرعی ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی متعارف کرانے حکومتی اہداف کا حصہ تھا۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے یہ ایجنڈا مرحلہ وار انداز میں ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے نافذ کیے جا رہا ہے اور اسے اچانک یا غیر متوقع نئی شرائط سے تعبیر کرنا حقیقیت پر مبنی نہیں ہے۔

  16. بائنانس کو دی گئی این او سی ’مکمل اجازت‘ نہیں بلکہ فریم ورک کے تحت پہلا قدم ہے: بلال بن ثاقب

    پاکستان کی ورچوئل اثاجات کی ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گلوبل کرپٹو ایجنسی بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو پاکستان میں کام کرنے کی ’مکمل اجازت‘ نہیں دی گئی ہے بلکہ انھیں این او سی جاری کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ بلال بن ثاقب نے کہا کہ یہ این او سی اس اثاثے میں سرمایہ کاری کے لیے خطرہ کو کم کرنے اور فریم ورک کا پہلا مرحلہ ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ رواں ہفتے بائینس اور ایک ٹی ایکس کو جو کلیرنس دی گئی ہے اس کے تحت اور اپنی ذیلی کمپنیاں قائم کرنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی میں رجسٹر ہوں گے اور مکمل لائسنس کی درخواستوں دینے کی تیاری کریں گے۔

    بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجٹیل کرنسی کے کلیئرنس ایکسچنج کو اینٹی منی لانڈرنگ سسٹم پر رجسٹر ہونے اور مقامی یونٹس قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    پاکستان اور عالمی ڈیجیٹل کرنسی کمپنی بائنانس نے جمعے کو ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے سرکاری مالیاتی اثاثوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر انداز میں منظم کرنے کے لیے کام کیا جا سکے گا۔

    وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور بائنانس کے سربراہ رچرڈ ٹینگ کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت پاکستان اور بائنانس مل کر یہ جائزہ لیں گے کہ ملک کے کچھ سرکاری اثاثے جیسے سرکاری بانڈز، ٹریژری بلز اور حکومتی ذخائر کو جدید بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ شفاف اور بہتر انداز میں کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔

    مفاہمتی یادداشت سے آگے اس منصوبے پر کسی حتمی فیصلے کے لیے قانونی منظوری درکار ہو گی کیونکہ ان اثاثوں کی مالیت دو ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

    اس مفاہمتی یادداشت کے تحت بائنانس پاکستان کو تکنیکی مدد، تربیت اور مشاورت فراہم کرے گی تاکہ حکومت اس ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور اس کے ممکنہ فوائد کا اندازہ لگا سکے۔

    وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی یادداشت ہے، جس کا مقصد تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ کسی بھی حتمی معاہدے پر آئندہ چھ ماہ میں بات چیت ہوگی اور اس پر پاکستان کے قوانین کا اطلاق ہو گا۔

  17. امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    امریکی ریاست روڈ آئی لینڈ کے مرکزی شہر پروویڈنس میں واقع براؤن یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ سے دو طالب علم ہلاک اور دیگر نو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    اب تک ہم اس حملے کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    • اس حملے میں اب تک دو طالب علموں کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
    • براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے نو افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ چھ افراد کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔
    • پولیس نے مبینہ حملہ آور کی سی سی ٹی وی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں اسے سیاہ لباس پہنے ایک عمارت کے پاس سے گزرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
    • اس مشتبہ شخص کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی شناخت یا حملے کے مقصد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
    • پروویڈنس میں ابھی ایک بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن جاری ہے اور مسلح پولیس اہلکار حملہ آور کو تلاش کر رہے ہیں۔
    • براؤن یونیورسٹی میں اب بھی لاک ڈاؤن ہے، تمام طالب علموں کو کمروں تک محدود رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور یونیورسٹی کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔
  18. امریکہ: 2025 میں عوامی مقامات پر فائرنگ کے 389 واقعات رپورٹ ہوئے

    امریکی ریاست روڈ آئی لینڈ کے مرکزی شہر پروویڈنس کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے بعد کئی گھنٹے گزرنے کے بعد حکام نے حملہ آور کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔

    سال 2025 میں امریکہ میں عوامی مقامات پر ہونے والے فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہے۔

    سال 2025 میں امریکہ بھر میں اس نوعیت کے 389 واقعات ہوئے ہیں۔

    اس نوعیت کے واقعات کا تجزیہ کرنے والی ویب سائٹ گن وائلینس آرکائیو (جی وی اے) کے مطابق فائرنگ کے ہر واقعے میں کم سے کم چار افراد زخمی یا ہلاک ہوئے ہیں۔ ان افراد میں حملہ آور شامل نہیں۔

    براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے دو افراد کے بعد عوامی مقامات پر فائرنگ کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 346 ہو گئی ہے۔

    جی وی اے کا کہنا ہے کہ اس دوران ماس فائرنگ کے واقعات میں 1800 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  19. غزہ میں اسرائیلی حملے میں حماس کے سینیئر رہنما ہلاک

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں کیے گئے ایک حملے میں حماس کی سینیئر قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسرائیلی کی فوج اور سیکیورٹی ایجسنی شین بیت نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے حماس کے رہنما رائید سعد کو ہلاک کر دیا ہے، وہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ میں ہتھیاروں کے شعبے کے سربراہ تھے۔

    سعد کا شمار القسام بریگیڈ کے سینئیر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے سات اکتوبر 2023 کے حملے کی قیادت کی تھی۔

    حماس کے شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل نے غزہ شہر میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں رائید سعد ہلاک ہوئے اور دیگر چار افراد زخمی ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ حملے کے سبب گاڑی کے قریب سے گزرنے والے کئی اور افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    غزہ میں حماس کے مقامی رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس حملے میں رائید سعد کے علاوہ حماس کے ایک اور رہنما بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    بی بی سی کو اسرائیل میں داخلے کی اجازت نہیں ہے اس لیے آزاد ذرائع سے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔

    اسرائیلی افواج آئی ڈی ایف اور آئی ایس اے نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ غزہ میں کئی اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت میں سعد شامل ہیں۔

    سعد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد سے تشکیل پانے والے فوجی کونسل میں شامل ہیں۔

    اس سے پہلے بھی اسرائیل نے متعدد مرتبہ انھیں قتل کرنے کی کوشش کی۔ وہ طویل عرصے سے اسرائیل کو سب سے زیادہ مطلوب حماس کے رہنماوں میں ایک تھے، جنھیں اسرائیل دو دہائیوں سے مارنے کو کوشش کر رہا تھا۔

    اسرائیل نے یہ حملہ فلسطینیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں کیا جہاں 10 اکتوبر کو امریکی قیادت میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی افواج زرد لائن کے پار مشرقی علاقوں پر کنٹرول کرتی ہے جس میں غزہ کی پٹی کا نصف سے زیادہ حصہ شامل ہے۔

    7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد دوسالہ جنگ کا خاتمہ امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکانتی منصوبے پر ہوا جس کے پہلے مرحلے میں حماس نے اسرائیلی مغویوں کو رہا کیا۔

  20. پولیس نے براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کرنے والے مبینہ حملہ آور کی ویڈیو جاری کردی

    روڈ آئی لینڈ کے مرکزی شہر پروویڈنس کی پولیس نے براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کر کے دو طالب علموں کو ہلاک اور دیگر نو افراد کو زخمی کرنے والے مبینہ حملہ آور کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

    سی سی ٹی وی ویڈیو میں مبینہ حملہ آور کو باروس اینڈ ہولی بلڈنگ سے شمال کی طرف ہوپ سٹریٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے بعد وہ مشرق کی طرف واٹرمین سٹریٹ پر مُڑ گئے۔

    اس مبینہ حملہ آور نے سیاہ لباس پہنا ہوا ہے۔ اس ویڈیو میں ان کا چہرہ نہیں دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ہتھیار نظر آ رہا ہے۔