پاکستان
کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز
میں عالمی ادارے کی جانب سے کوئی نئی بات نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے
کا تسلسل ہے۔
وزارت
خزانہ کی جانب سے اعلامیے کا اجراء ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کی
جانب سے پاکستان پر گیارہ نئی شرائط عائد کی ہیں۔ ان نئی شرائط میں
ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کامطالبہ کرتے ہوئے سخت اصلاحاتی روڈ میپ لازمی
قراردیا گیا ہے۔
ائی
ایم ایف نے صوبائی افسران کے اثاثوں تک بینکوں کو مکمل رسائی دینے کی شرط بھی عائد
کی ہے ۔عالمی ادارے نے کرپشن رسک قرار دیے گئے دس محکموں کا ایکشن پلان شائع کرنے کی شرط عائد کی
ہے جس میں ترسیلات زر کے اخراجات اوررکاوٹوں کاجامع جائزہ بھی لیا جائے ۔
آئی
ایم ایف نے گذشتہ دونوں ایک ارب ڈالر سے زائد کی قسط جاری کرنے کے بعد کنٹری رپورٹ
بھی جاری کی ہے۔
آئی
ایم ایف کی جانب سے شرائط کے بعد میڈیا میں اس پر ہونے والی بحث کے بعد وزارت خزانہ
نے اتوار کو واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ایجنڈا مرحلہ وار انداز میں نافذ کیا
جا رہا ہے جو ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اہم ہے
اس
کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز پر حکومت پاکستان نے اپنی مجوزہ اصلاحاتی پالیسیاں
پیش کیں اور آئی ایم ایف اب انہیں مرحلہ وار اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔
وزارت
کے مطابق انھیں اچانک یا غیر متوقع نئی شرائط سمجھنا حقائق پر مبنی نہیں ہے۔
وزارت
کا کہنا ہے پروگرام کے آغاز میں طے شدہ حتمی اہداف کو بتدریج حاصل کیا جا رہا ہے۔
اس
کے مطابق سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں کی اشاعت کا معاملہ مئی 2024 سے
ای ایف ایف میں شامل تھا۔ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کے بعد اس پر عمل درآمد
شروع ہو گا۔ اسی طرح گذشتہ جائزوں میں نیب
کی کارکردگی اور خودمختاری میں بہتری پر اتفاق ہوا تھا۔
وزارت
کا کہنا ہے کہ صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو مالی معلومات تک رسائی دینا اے ایم ایل/سی
ایف ٹی اصلاحات کا حصہ ہے۔ یہ إصلاحات شروع ہی سے پروگرام میں شامل ہیں۔
اسی
طرح حکومت نے ترسیلات زر میں اضافہ کے لیے غیر رسمی ذرائع کی حوصلہ شکنی کی، ان کوششوں
سے مالی سال 2025 میں ترسیلات زر میں 26 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، مالی سال 2026 میں
ترسیلات زر میں نو فیصد اضافہ متوقع ہےاور حکومت، سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ترسیلاتِ
زر کی لاگت کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
وزارت
کا کہنا ہے شوگر سیکٹر میں اصلاحات حکومتِ پاکستان کا اپنا اقدام ہے اور وزیراعظم آفس
نے وزیر توانائی کی سربراہی میں ٹاسک فورس تشکیل دی، ٹاسک فورس صوبوں کی مشاورت سے
سفارشات تیار کر رہی ہے۔
اس کا مقصد اجناس کی منڈیوں میں حکومتی مداخلت کم
کرنا ہے، آئی ایم ایف نے اسی لیے اسے اپنے فریم ورک کا حصہ بنایا ہے۔
وزارت
خزانہ کا کہنا ہے ریونیو میں ممکنہ کمی کی صورت میں متبادل اقدامات بھی ایم ای ایف
پی کا مستقل حصہ رہے ہیں، مئی 2024 میں MEFP
میں بھی کھاد اور زرعی ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی
متعارف کرانے حکومتی اہداف کا حصہ تھا۔
وزارت
خزانہ کا کہنا ہے یہ ایجنڈا مرحلہ وار انداز میں ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار
ترقی کے لیے نافذ کیے جا رہا ہے اور اسے اچانک یا غیر متوقع نئی شرائط سے تعبیر کرنا
حقیقیت پر مبنی نہیں ہے۔