لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق شدید اسرائیلی حملوں کے ایک اور دن میں 39 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
وزارت کے مطابق جنوبی قصبے سکسکیہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ وہ لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنا رہی ہے اور وہ ’غیر متعلقہ شہریوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سے آگاہ‘ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 16 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی افواج اور حزب اللہ ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے زیادہ تر فضائی حملے جنوبی لبنان میں ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور سیاسی جماعت حزب اللہ سے منسلک انفراسٹرکچر اور افراد کو نشانہ بنا رہی ہے۔
سنیچر کے روز لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی جن میں سکسکیہ بھی شامل ہے۔
وزارتِ صحت نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک لڑکی شامل ہے اور 15 افراد زخمی ہوئے جن میں تین بچے شامل ہیں۔
تاہم آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے علاقے میں ’فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ایک ڈھانچے کے اندر سرگرم حزب اللہ کے جنگجوؤں‘ کو نشانہ بنایا۔
فوج کے بیان کے مطابق حملے سے قبل شہریوں کو نقصان کے خطرے کو کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے جن میں درست نشانہ بنانے والا اسلحہ اور فضائی نگرانی شامل تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت نے بتایا کہ نبطیہ میں ایک موٹرسائیکل پر اسرائیلی حملے میں ’ایک شامی شہری اور اس کی 12 سالہ بیٹی‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت کے مطابق وہ پہلے حملے کی جگہ سے ہٹنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن ڈرون نے دوسری بار حملہ کیا جس میں والد ہلاک ہوئے، اس کے بعد ڈرون نے تیسری بار ’براہ راست‘ لڑکی کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت نے بتایا کہ لڑکی کی جان بچانے کے لیے سرجری کی جا رہی تھی۔
دوسری جانب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر ڈرون حملہ کیا جس میں اسرائیلی فوج کے مطابق تین فوجی زخمی ہوئے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے میں اسرائیلی حملوں میں ملک بھر میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم وزارتِ صحت ان میں جنگجوؤں اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں کرتی۔
اسرائیلی فوج لبنان کے ساتھ سرحد کے ساتھ ایک پٹی پر بھی قابض ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حزب اللہ سے پاک ایک سکیورٹی زون بنانا ہے تاکہ اسرائیل کے شمالی علاقوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ان علاقوں میں کئی دیہات تباہ ہو چکے ہیں، جن کی مثال اسرائیلی فوج کے غزہ میں اختیار کیے گئے اقدامات سے ملتی جلتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
ادھر حزب اللہ نے لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی دستوں پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ اس نے سنیچر کو اسرائیلی حملوں کے جواب میں شمالی اسرائیل کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔
اسرائیل اور حزب اللہ نے نومبر 2024 میں ایک سابقہ تنازع کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے حزب اللہ سے منسلک اہداف اور افراد پر تقریباً روزانہ حملے کیے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے 2 مارچ کو جوابی طور پر اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے شروع کیے۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی افواج مارچ کے اوائل میں دوبارہ جنوبی لبنان میں داخل ہوئیں جہاں گس نے دیہات تباہ کیے اور اب بھی 10 کلومیٹر لبنانی علاقے پر قابض ہیں۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے اب تک لبنان میں مجموعی طور پر 2 ہزار 795 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں 17 فوجی اور ایک شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شمالی اسرائیل میں دو شہری مارے گئے ہیں۔