وکلا سے ملاقات نہ کروا کر احکامات کی خلاف ورزی کی گئی، عمران کو آج ہی عدالت میں پیش کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ آج دوپہر تین بجے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کریں تاکہ وہ اپنے وکلا سے ملاقات کر سکیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 اکتوبر کے بعد سکیورٹی خطرات کے باعث ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

خلاصہ

  • ترکی کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ انقرہ حملے میں کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے
  • ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ ’ہمارے ملک کی بقا اور سلامتی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔‘
  • ترکی کے شہر انقرہ کے قریب جنگی سازوسامان بنانے والی سرکاری کمپنی پر دہشت گرد حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے
  • ترک حکومت نے انقرہ حملے کی عدالتی تحقیقات شروع کر دی ہیں
  • اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کے انٹیلیجنس کمانڈر علی حسین ہزیما کے ہمراہ ہلاک کیا گیا تھا۔
  • صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی

لائیو کوریج

  1. ’ایران کی ہدایت پر‘ سائنسدان اور میئر کے قتل کا منصوبہ بنانے پر سات افراد گرفتار: اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی, رفی برگ، بی بی سی نیوز

    اسرائیل، ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل میں داخلی سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے شاباک اور پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ایران کی ایما پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے شبے میں سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    شاباک اور پولیس کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ افراد نے ’ایران کی ہدایت پر‘ ایک سینیئر اسرائیلی سائنسدان اور ایک شہر کے میئر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کو پولیس کی ایک کار پر بم حملہ اور ایک گھر پر دستی بم پھینکنے کے احکامات بھی ملے تھے۔ حکام کے مطابق ان دونوں کاموں کے لیے مشتبہ افراد کو 53 ہزار ڈالر کی رقم دی گئی تھی۔

    ان افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب اسرائیل کی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سات اسرائیلی شہریوں کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

    شاباک پولیس کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کی قیادت ایک 23 سالہ شخص کر رہا تھا جسے مبینہ طور پر ایک ایرانی ایجنٹ نے بھرتی کیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے بعد میں اس 23 سالہ شخص نے دیگر چھ لوگوں کو اپنے گروپ میں شامل کیا۔

    اسرائیل کے مقامی میڈیا کے مطابق اس شخص نے قوم پرستانہ وجوہات کی بنا پر ’دہشتگردی کارروائی‘ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

    شاباک اور پولیس کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ: ’سائنسدان، میئرز، سکیورٹی حکام اور دیگر ممتاز اسرائیلی افراد ایرانی ایجنٹس کا ہدف ہیں۔‘

    ’اسرائیلی سکیورٹی ایجنسیاں ایرانی سرگرمیوں کا سُراغ لگانے کے لیے مل کر کام اور ان میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کرتی رہیں گی۔‘

  2. ’یہاں کوئی حزب اللہ نہیں‘: بیروت میں الساحل ہسپتال اور اس کے اطرف میں بی بی سی نے کیا دیکھا؟, اورلا گوئرن، بی بی سی نیوز

    لبنان، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہBBC/Goktay Koraltan

    محمد سکینہ ملبے اور سریے کے ڈھیر سے باہر نکلے تو ان کے ہاتھ میں صرف پلاسٹک کے کچھ تھیلے تھے۔ بس یہی بچا تھا ان کے اس گھر میں جس میں انھوں نے 45 برس پہلے رہائش اختیار کی تھی۔

    گذشتہ رات ایک اسرائیلی حملے میں یہ گھر تباہ ہوگیا تھا۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اس حملے میں چار بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس فضائی حملے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور یہ ہوا بھی ایک ایسے علاقے میں جسے لوگ محفوظ سمجھ رہے تھے۔

    یہ علاقہ لبنان کے سب سے بڑے رفیق حریری سرکاری ہسپتال سے صرف 150 میٹر کے فاصلے پر بیروت میں واقع ہے۔

    جس وقت یہ حملہ ہوا محمد سکینہ اور ان کا خاندان سو رہے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ کیا ہوا۔ حملے کے بعد ہم نے دھماکوں کی آواز سُنی اور سب کچھ ہم پر گِر گیا، پتھر، لوہا، خون اور گوشت کے ٹکڑے۔ آپ بول نہیں پاتے، سانس نہیں لے پاتے، آپ کو آکسیجن نہیں ملتی۔‘

    ان کے مطابق ان کے پانچ پڑوسی اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔ وہاں کچھ اور لوگ بھی تھے جو مارے گئے اور ان میں ایک 19 سالہ لڑکی بھی تھی جو گھر کے دروازے کے باہر بیٹھی تھی۔

    اس حملے میں محمد سکینہ کے ہاتھ پر چوٹ آئی اور ان کا 20 سالہ بھتیجا اس وقت ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج ہے۔

    محمد سکینہ کہتے ہیں کہ ’اس کا آدھا دماغ پھٹ چکا ہے۔‘

    محکمہ شہری دفاع کے ایک کارکن نے ہمیں بتایا کہ اسرائیلی حملے میں چھ عمارتیں ڈھے گئی ہیں اور یہ سب تین یا چار منزلہ عمارتیں تھیں۔

    اس مقام پر ایک برقع پوش خاتون اپنا ہاتھ سر پر رکھے بےچینی کی حالت میں زمین پر بیٹھی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ: ’یہاں کوئی حزب اللہ نہیں، ہم سب عام شہری ہیں۔‘

    اسرائیلی فضائی حملے کی شدت کے حوالے سے ایک اور پڑوسی کا کہنا تھا کہ ’ہم سب ہوا میں اُڑ گئے تھے۔‘

    اس بات چیت کے کچھ ہی منٹوں بعد عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کی مزید باقیات برآمد ہوئیں جنھیں ایک کالے بیگ میں ڈال کر لے جایا گیا۔

    لبنان، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنبیروت میں واقع الساحل ہسپتال

    میں نے محمد سکینہ سے پوچھا کہ ان کو کیا لگتا ہے کہ اسرائیل اس گنجان آباد علاقے میں کس کو نشانہ بنا رہا ہے۔ غصے میں بھرّائی ہوئی آواز میں انھوں نے جواب دیا: ’وہ ہر چیز کو ایسے ہی نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

    ’وہ یہ بھی نہیں دیکھ رہے کہ یہاں بچے موجود ہیں۔ یہاں بندوقیں کہاں ہیں؟ یہاں راکٹس کہاں ہیں؟ اندھے ہیں اسرائیلی دشمن، اندھے۔‘

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’ہسپتال کے قریب حزب اللہ کے دہشتگرد‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے کسی بھی قسم کی مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

    رفیق حریری ہسپتال کے ڈائریکٹر جہاد سعدی کا کہنا ہے کہ ہسپتال کو بھی فضائی حملے میں معمولی نقصان ہوا ہے، لیکن وہاں اب بھی لوگوں کو طبّی امداد دی جا رہی ہے۔

    اس مقام سے تقریباً دو کلومیٹر دور الساحل ہسپتال بھی واقع ہے جسے گذشتہ رات خالی کروا لیا گیا تھا۔

    الساحل ہسپتال کے جنرل منیجر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اسے فوری طور پر خالی کیا۔ ہم کسی کی بھی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔‘

    اس ہسپتال سے فوری طور پر 10 مریضوں اور 50 ملازمین کو اس وقت منتقل کیا گیا جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہاں زیرِ زمین حزب اللہ کا بنکر موجود ہے جس میں عسکری تنظیم کی دولت موجود ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی ثبوت نہیں پیش کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری کا کہنا تھا کہ ’اس بنکر میں لاکھوں ڈالر نقد اور سونا موجود ہے۔‘

    اس ہسپتال میں انتظامیہ کے افراد اور ڈاکٹرز اس لیے جمع ہوئے تاکہ ’اسرائیل کے جھوٹے الزام‘ کی تردید ہو سکے۔ انھوں نے بی بی سی کی ٹیم کو ہسپتال کا دورہ کروایا اور زیرِ زمین دو فلورز بھی دکھائے۔

    یہ ہسپتال بیروت میں حزب اللہ کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں واقع ہے لیکن ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کا عسکری تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    لبنان، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنالساحل ہسپتال کے اندر کے مناظر

    الساحل ہسپتال کے جنرل منیجر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ بہت ہی عجیب سی بات ہے کہ الساحل ہسپتال لبنان کی کسی جماعت سے منسلک ہے۔‘

    انھوں نے اسرائیل کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہسپتال 40 برس قبل ایک پُرانے گھر میں بنایا گیا تھا۔‘

    ’اس کے نیچے کوئی بھی سُرنگ یا بنکر ہونا ناممکن ہے۔ دُنیا کا کوئی بھی شخص خود آ کر یہاں سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔‘

    ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بی بی سی کو بھی کہا گیا کہ ہم اس مقام پر چپّہ چپہّ دیکھ سکتے ہیں۔ اس ہسپتال میں ہمیں مرہم پٹیوں کے ڈبے اور سرجیکل مصنوعات کھول کھول کر دکھائی گئیں۔

    اس موقع پر ہمیں ہسپتال میں آزادانہ نقل و حمل کی بھی اجازت دی گئی۔ یہاں ہم نے خالی کمرے دیکھے، پریشان ملازمین دیکھے مگر کسی بنکر کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔

    اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ اس بنکر کا داخلی دروازہ پڑوس میں واقع ایک اور عمارت میں موجود ہے۔ ہم اس عمارت کے اندر بھی گئے لیکن وہاں بھی ہمیں کوئی خفیہ بنکر یا اس کا دروازہ نہیں مل سکا۔

    یہاں صرف ایک لفٹ کا دروازہ موجود تھا جسے ہم کھول نہیں سکے۔ لیکن یہ دروازہ مستقل بند نہیں تھا اور اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ یہاں کوئی سونے سے بھرا ہوا خفیہ کمرہ ہو۔

    جیسے ہی ہم ہسپتال سے باہر نکلے ہمیں اپنے سروں پر ایک اسرائیلی ڈرون گھومتا ہوا نظر آیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ ’کمپاؤنڈ کی نگرانی کر رہی ہے اور ہسپتال پر حملہ نہیں کرے گی۔‘

    فی الحال الساحل ہسپتال بند ہے لیکن ڈاکٹرز چاہتے ہیں کہ وہ واپس مریضوں کا علاج کر سکیں۔

    اس ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگوں کی مدد کرنے والا ایک ادارہ ہیں اور اس کے بانی میرے والد تھے۔ یہ میرا گھر ہے اور مجھے امید ہے کل ہم اس دوبارہ کھول سکیں گے۔‘

    لیکن اسرائیل کا اپنا ایک جنگی شیڈول ہے۔ اس کی فضائیہ نے بیروت پر پھر ایک حملہ کیا اور یہ حملہ ہسپتال سے قریب ہی ایک مقام پر ہوا تھا۔

    حزب اللہ کے ترجمان نے اس وقت ایک غیرمعمولی پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا۔ ابھی یہ پریس کانفرنس چل ہی رہی تھی کہ اسرائیلی فوج نے ایک اور انتباہ جاری کردیا اور لوگوں کو کہا کہ وہ ان عمارتوں سے دور رہیں جو ’حزب اللہ کے ٹھکانوں کے قریب واقع ہیں۔‘

    تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہی ایک اور حملے میں دو مزید عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

    یہاں واقع گھروں اور ہسپتالوں میں لوگ شدید خوف زدہ ہیں۔

  3. صدر آصف زرداری نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دے دی

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کےصدر آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

    بدھ کی صبح ایوانِ صدر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدرِ مملکت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی 26 اکتوبر سے تین سال کے لیے کی ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی 26 اکتوبر کو بطور چیف جسٹس حلف اُٹھائیں گے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 25 اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

    منگل کو پاکستان کی سپریم کورٹ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے قائم کردہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے عدالت عظمیٰ میں سنیارٹی میں نمبر تین پر موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کو ملک کا نیا چیف جسٹس نامزد کر دیا تھا۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق منگل کی رات ہونے والے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کو دو تہائی اکثریت سے چیف جسٹس نامزد کر کے اس ضمن میں ایک سمری وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کر دی گئی ہے۔

  4. حسن نصراللہ کے ممکنہ جانشین ہاشم صفی الدین فضائی حملے میں مارے گئے: اسرائیل کا دعویٰ, پیٹرک جیکسن، بی بی سی نیوز

    حزب اللہ، حسن نصراللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے گذشتہ مہینے مارے جانے والے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے ممکنہ جانشین ہاشم صفی الدین کو تقریباً تین ہفتوں پہلے ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق ہاشم صفی الدین لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوب میں نواحی علاقے میں مارے گئے تھے۔

    تاہم لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ نے تاحال ہاشم صفی الدین کی ہلاکت کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ خیال رہے حزب اللہ کے پچھلے سربراہ حسن نصراللہ 27 ستمبر کو بیروت میں ہی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    حزب اللہ کے عہدیداروں نے اس سے قبل کہا تھا کہ 4 اکتوبر کو بیروت کے ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملوں کے بعد ان کا ہاشم صفی الدین سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہاشم صفی الدین ان فضائی حملوں کا ہدف تھے۔

    منگل کو اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کے انٹیلیجنس کمانڈر علی حسین ہزیما کے ہمراہ تنظیم کے مرکزی انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر پر حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

    اسرائیلی فوج نے الزام لگایا ہے کہ ہاشم صفی الدین برسوں سے ’اسرئیل پر حملے‘ کروا رہے تھے اور وہ حزب اللہ میں ’فیصلہ سازی کے عمل‘ میں بھی شریک تھے۔

    خیال رہے ہاشم صفی الدین کو سنہ 2017 میں امریکہ اور سعودی عرب نے ’عالمی دہشتگرد‘ قرار دیا تھا۔

    وہ حسن نصر اللہ کے کزن تھے اور انھوں نے دینی تعلیم ایران سے حاصل کی تھی۔ ان کے بیٹے نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سابق سربراہ قاسم سلیمانی کی بیٹی سے شادی کی تھی۔

    قاسم سلیمانی سنہ 2020 میں عراق میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

    اس برس موسمِ گرما میں اپنی ایک تقریر کے دوران ہاشم صفی الدین نے حزب اللہ میں قیادت کی منتقلی کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری مزاحمت کے دوران جب کوئی رہنما مارا جاتا ہے تو کوئی دوسرا ایک نئے مضبوط عزم کے ساتھ پرچم اُٹھا لیتا ہے۔‘

    واضح رہے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے ہی حماس اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں لیکن اسرائیل نے لبنان پر باقاعدہ حملے غزہ میں جنگ شروع ہونے کے تقریباً ایک برس بعد کیے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ ایک برس میں کم از کم دو ہزار 464 لبنانی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    اس دوران حماس نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کیے جس میں شمالی اسرائیل اور مقبوضہ گولان ہائٹس پر 59 افراد ہلاک ہوئے۔

  5. یحییٰ سنوار کی ہلاکت کو جنگ بندی کے لیے ’استعمال‘ کیا جائے: انٹونی بلنکن کا اسرائیلی صدر پر زور

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنانٹونی بلنکن نے منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کے لیے حماس کے سیاسی بیورو کے سابق سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے موقع کو استعمال کریں ا

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کی منگل کے روز ملاقات میں حماس کےسینیئر رہنما یحییٰ سنوار کی ہلاکت کے بعد کی صورت حال، ایران کی طرف سے کارروائی کے ممکنہ خطرات اور اس سے نمٹنے کے لیے تعاون سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے بعد صدر بنیامین نیتن یاہو کے دفترکی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’نیتن یاہو نے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے قتل کا یرغمالیوں کی واپسی پر مثبت اثر ہو سکتا ہے۔‘

    امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی صدر نیتن یاہو سے ملاقات میں حماس رہنما یحییٰ سنوار کو مارنے کے بعد کی صورتحال کو استعمال کرنے اور جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

    یاد رہے کہ غزہ میں یحییٰ سنوار کی ہلاکت حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ حماس کے سینیئر رہنما کو 16 اکتوبر کو اسرائیلی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔

    اُن کی موت حماس کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے۔ سنوار نے حماس کو ایک جنگی قوت میں تبدیل کیا اور اُن ہی کی بدولت حماس نے اسرائیل کی ریاست کو اُس کی تاریخ کی سب سے بڑی ناکامی سے ہمکنار کیا تھا، یعنی 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے چونکا دینے والے حملوں کی صورت میں۔

    منگل کو اپنی ملاقات میں امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کے لیے حماس کے سیاسی بیورو کے سابق سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے موقع کو استعمال کریں اور غزہ میں تنازع ختم کر کے اور پائیدار سلامتی کے لیے اقدامات کی جانب جائیں۔

    انٹونی بلنکن کے ترجمان میتھیو ملر نے ملاقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ نےغزہ میں انسانی امداد بھیجنے کے لیے مزید کام کرنے کے لیے اسرائیل پر زور دیا ہے۔

  6. مخصوص نشستوں کے فیصلے پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی: چیف جسٹس کا اضافی اختلافی نوٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ کے دو ججز نے مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلے کے خلاف ایک ہی روز میں اختلافی نوٹ جاری کر دیے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز کی سبکدوشی سے تین روز قبل مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلے کے خلاف ایک ہی دن میں دو اہم اختلافی نوٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکثریتی مختصر فیصلہ غیر حتمی قرار دے دیا اور لکھا ہے کہ کیس میں اپیلوں کا حتمی فیصلہ ہوا ہی نہیں، اس لیے فیصلے پر عملدرآمد لازم نہیں اور نہ ہی عدم تعمیل پر توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے اپنے اختلافی نوٹ میں یہ بھی بتا دیا کہ نظرثانی درخواستوں پر سماعت مقرر ہونے میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر رکاوٹ بنے رہے۔

    دوسرے اختلافی نوٹ میں جسٹس جمال مندوخیل نے لکھا 41 نشستیں پی ٹی آئی کو دینا نہیں بنتا جبکہ سنی اتحاد کونسل یعنی ایس آئی سی کے کسی رکن نے الیکشن لڑا ہی نہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس مندوخیل کے اس اختلافی فیصلے سے اتفاق کیا اور پھر اپنا اضافی اختلافی نوٹ بھی لکھا جس میں فیصلہ آنے کے بعد آٹھ ججوں کی وضاحتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    کیس کا چونکہ حتمی فیصلہ ہی نہیں ہوا ،اس پر عملدرآمد ’بائنڈنگ‘ نہیں:چیف جسٹس قاضی فائز

    چیف جسٹس قاضی فائز نے لکھا ہے مخصوص نشستوں کے کیس میں اپیلوں کا حتمی فیصلہ ہوا ہی نہیں، اکثریتی ججز نے وضاحت کی درخواستوں کی گنجائش باقی رکھی، کیس کا چونکہ حتمی فیصلہ ہی نہیں ہوا ،اس پر عملدرآمد ’بائنڈنگ‘ نہیں، فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی نہیں ہو سکتی۔

    جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ’فیصلے میں آئینی خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی میرا فرض ہے، پاکستان کا آئین تحریری ہے اور آسان زبان میں ہے، اکثریتی ججز نے فیصلے میں وضاحت کے لیے اپلائی کرنے کا کہا، یہ حکم پاکستان میں رائج عدالتی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا، ماضی میں ایسی گنجائش دینے کی کوئی نظیر بھی نہیں ملتی۔‘

    چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کا کیس 13 رکنی بینچ نے سنا تھا، وضاحت کے لیے درخواستیں آٹھ ججزکےسامنے رکھنے کا کہہ دیا گیا۔‘

    ’13 رکنی بینچ میں سے الگ آٹھ رکنی بینچ نکال لیا گیا،جبکہ مزید درخواستیں دائرکرنےکی گنجائش دینے سے یہ تاثر ملا کہ کیس ابھی زیر التوا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ’کمیٹی میں میری تجویز تھی کہ مخصوص نشستوں کا کیس آئینی ترمیم سے متاثر یا مستفید ہونے والے ججوں کو نہیں سننا چاہیے۔‘

    تجویز دی تھی مخصوص نشستوں کا مقدمہ مجھے اور مستقبل کے ممکنہ چیف جسٹسز کو نہیں سننا چاہیے: چیف جسٹس قاضی فائزعیسی

    چیف جسٹس نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ’یہ تجویز بھی دی کہ مخصوص نشتوں کا مقدمہ مجھے اور مستقبل کے ممکنہ چیف جسٹسز کو نہیں سننا چاہیے، لیکن کمیٹی میں میری تجویز سے جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے اتفاق نہیں کیا، اسی وجہ سے فل کورٹ بنانا پڑا۔‘

    اختلافی نوٹ کے مطابق ’اکثریتی مختصر فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستوں پر سماعت جسٹس منصور،جنسٹس منیب نے مقرر نہ ہونے دی۔‘

    مقدمات کی سماعت مقرر کرنے والی تین رکنی کمیٹی میں دونوں ارکان نے سماعت تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔‘

    جسٹس قاضی فائز نے اٹھ ججزکے وضاحتی حکمنامے پر رجسٹرار سے کیے گئے سوالات اور رجسٹرار کے جوابات کو بھی اختلافی نوٹ کا حصہ بنایا ہے۔

    انھوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ ’اکثریتی ججز اپنی غلطیوں پر غور کر کے درست کریں گے اور ساتھی ججزیقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا نظام آئین کےتحت چلے۔‘

    آر اوز اور الیکشن کمیشن کی غلطی کی سزا 49 ارکان کوتو نہیں دی جا سکتی: جسٹس جمال مندوخیل

    جسٹس جمال مندوخیل نے 17 صفحاتی اختلافی نوٹ میں 41 ارکان کو پی ٹی آئی کا رکن ماننے سے انکار کردیا۔

    انھوں نے لکھا ’آراوز اور الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کوغیرقانونی طورپرآزاد ڈیکلئیر کیا، آر اوزاور الیکشن کمیشن کی غلطی کی سزا 49 ارکان کوتو نہیں دی جا سکتی، البتہ باقی 41 آزادارکان کی حد تک ریکارڈ پرایسا کچھ نہیں کہ وہ پی ٹی آئی سےتھے۔‘

    نوٹ کے مطابق ’اس سےاتفاق نہیں کہ ارکان اسمبلی 15 روز میں تحریک انصاف میں شامل ہوں ۔ امیدوارکوالیکشن سے قبل اپنی متعلقہ پارٹی کا ٹکٹ آراو کوجمع کرانا ہوتا ہے۔ جوپارٹی کا ٹکٹ یا ڈیکلریشن جمع نہیں کراتا وہ آزاد تصور ہوتا ہے۔‘

    جسٹس مندوخیل کا کہنا ہے کہ آئین میں خواتین اوراقلیتوں کی مخصوص نشستیں جاری کرنےکا باقاعدہ طریقہ کارہے۔

  7. بریکنگ, انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرتار پور راہداری معاہدے میں پانچ سال کی توسیع

    کرتار پور

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان کے کرتار پور راہداری معاہدے میں پانچ سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر بات چیت کے بعد معاہدے میں توسیع کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ کرتار پور راہداری کا موجودہ معاہدہ 23 اکتوبر تک نافذ العمل تھا۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق زائرین کی سہولت کے لیے انڈیا اور پاکستان نے کرتارپور راہداری کے معاہدے کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ 24 اکتوبر 2019 کو پانچ سالہ مدت کے لیے کرتار پور معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ کرتارپور سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کی رہائش گاہ اور جائے وفات ہے۔ گرو نانک نے اپنی 70 برس اور چار ماہ کی زندگی میں دنیا بھر کا سفر کیا۔

    گوبند سنگھ کے مطابق کرتارپور میں انھوں نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے جو کسی بھی جگہ ان کے قیام کا سب سے لمبا عرصہ ہے۔

    منگل کے روز دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اس معاہدے کی تجدید بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کےعزم کی نشاندہی کرتی ہے۔‘

    دفتر خارجہ کے مطابق ’یہ معاہدہ انڈیا سے آنے والے زائرین کو ویزہ فری رسائی کی پیشکش کرتا ہے جس سے وہ گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کے اپنہ مقدس مذہبی مقام کا دورہ کر سکیں گے۔‘

    ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’یہ اقدام پاکستان کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی اہمیت کے اعتراف کی عکاسی کرتا ہے۔جسے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، انتونیو گوتیرس سمیت بین الاقوامی برادری کی طرف سے بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے اور اسے ’امید کی راہداری‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔

    گرودوارہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گرودوارے کی اہمیت کیا ہے؟

    موجودہ گرودوارے کو سنہ 1925 میں تعمیر کیا گیا جب اس کی اصل حالت سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھی۔

    سنہ 2004 میں اسے پاکستان کی طرف نے بحال کیا گیا۔

    یہ گرودوارہ اس لیے تعمیر کیا گیا کیونکہ گورو نانک نے اپنی زندگی کے 18 برس کے دوران اس مقام پر قیام کیا تھا۔

    یہ سکھوں کے لیے دوسرا مقدس ترین مقام ہے۔ سکھوں کے لیے سب سے مقدس گرودوارہ جنم استھان ہے۔

    کرتارپور راہداری سے مراد وہ راستہ ہے جو انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر بنایا گیا ہے اور اس کا استعمال کرتے ہوئے انڈیا سے سکھ یاتری گرودوارہ دربار صاحب آ سکتے ہیں۔

  8. اسرائیلی کا حملہ اُس مقام سے چند قدم کے فاصلے پر ہوا جہاں حزب اللہ کے رہنما نے پریس کانفرنس کی

    حزب اللہ کے میڈیا آفس کے سربراہ محمد عفیف کی جانب سے منگل کے روز لبنان میں ایک پریس کانفرس کی گئی کہ جس میں انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساحلی قصبے قیصریہ میں گھر پر ہونے والے ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

    بی بی سی کے نامہ نگار ہیوگو بچیگا نے بتایا کہ یہ پریس کانفرنس اسرائیلی فوج کی جانب سے علاقے کو فوری طور پر خالی کر دینے کے ایک اعلان پر فوری طور پر ختم کر دی گئی۔

    اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں دو عمارتوں کو خالی کرنے کا حکم جاری دیا گیا تو صحافی اور دیگر لوگ فوری طور پر اس مقام سے بھاگ نکلے۔

    جیسے ہی یہ پریس کانفرنس ختم ہوئی، آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں اسرائیلی فوج نے ایک بلند و بالا رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

    جس مقام کو اسرائیلی نشانہ بنایا گیا وہ جنوبی بیروت کا ایک غریب مگر گنجان آباد علاقہ ہے۔ آئی ڈی ایف کی جانب سے اس حملے کی ویڈیوز بڑے پیمانے پر آن لائن شیئر کی گئی ہیں۔

    یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ حملہ محض ایک اتفاق تھا۔

    جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا وہ اس مقام سے چند قدم کے فاصلے پر تھا کہ جہاں حملے سے چند لمحات قبل حزب اللہ کے ایک رہنما کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی تھی۔

    اس پریس کانفرنس کے دوران بھی اوپر فضا میں ڈرون کی مسلسل آواز آ رہی تھی، جو ممکنہ طور پر اس بات کی نگرانی کر رہے تھے کہ زمین پر کیا ہو رہا ہے۔

  9. نئے چیف جسٹس کی تقرری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری، پی ٹی آئی اور سُنی اتحاد کونسل کا کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہNational Assembly

    نئے چیف جسٹس کی تقرری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے تاہم پی ٹی آئی اور سُنی اتحاد کونسل نے کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کے ممبران نے آج کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی جس کے باعث کمیٹی نے احسن اقبال، رعنا انصر، راجہ پرویز اشرف اور کامران مرتضی پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنائی جن کے ذمہ سنی اتحاد کونسل کے ممبران سے ملاقات کر کے انھیں اجلاس میں شرکت کے لئے قائل کرنے کا کہا گیا۔

    سب کمیٹی نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے میٹنگ کی درخواست کی۔ سپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں سب کمیٹی کے ممبران اور سنی اتحاد کونسل کے ممبران کے درمیان ملاقات ہوئی۔

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہNational Assembly

    سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہونے والی ملاقات میں سب کمیٹی کے ممبران اور بیرسٹر گوہر علی خان نے شرکت کی۔

    سپیکر قومی اسمبلی اور کمیٹی کی ممبران کی طرف سے سنی اتحاد کونسل کو کمیٹی میں شرکت کی دعوت دی گئی مگر بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز شروع تو ہوا مگر پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کی عدم شرکت کی وجہ سے کُچھ گھنٹوں کے لیے ملتوی بھی ہوا۔

  10. حزب اللہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے گھر پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حزب اللہ کی جانب سے منگل کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم کے گھر پر ڈرون حملے کے ذمہ داری قبول کر لی گئی ہے۔

    ایک پریس کانفرنس کے دوران حزب اللہ کے میڈیا آفس کے سربراہ محمد عفیف نے سنیچر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے ساحلی قصبے قیصریہ میں ان کے گھر پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ قیصریہ میں ان کی رہائش گاہ پر ایک ڈرون داغا گیا تھا تاہم نتن یاہو اور ان کی اہلیہ کو اس حملے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا کیونکہ وہ حملے کے وقت گھر میں موجود نہیں تھے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے اُسی روز ایکس پر اس حملے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کی تھی۔

    حزب اللہ کا یہ بیان اُن کے میڈیا آفس کے سربراہ محمد عفیف کی جانب سے منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں سامنے آیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے عفیف سے متعلق کہا کہ پریس کانفرنس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’حزب اللہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے گھر کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔‘

  11. انتھونی بلنکن اور نتن یاہو کے درمیان اسرائیل میں ملاقات جاری

    اسرائیل امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہIsraeli Prime Minister's Office

    امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اسرائیل پہنچ گئے ہیں جہاں اُن کی ملاقات اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے جاری ہے۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک تصویر میں دونوں کو یروشلم میں اپنے دفتر میں گپ شپ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

  12. غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 42 ہزار سے تجاوز کر گئی، وزارت صحت

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حماس کے زیر انتظام غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں 42 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق کم از کم ایک لاکھ 282 افراد اس حالیہ جاری جنگ میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    تاہم وزارت کے اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سات اسرائیلی حملوں میں کم از کم 115 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں 13 افراد ہلاک 57 زخمی

    بیروت

    بیروت میں گزشتہ رات اسرائیلی فضائی حملے کے مقام پر آج (منگل کے روز ) دن بھر امدادی کارکُنان منہدم ہو جانے والی عمارت کا ملبہ ہٹانے میں مصروف رہے۔

    بیروت میں ہونے والے حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک جبکہ 57 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    کنکریٹ کے ڈھیر تلے دب جانے والے افراد کی تلاش میں کچھ امدادی کارکُنان کے ہاتھوں میں تو بیلچے تھے تاہم کچھ خالی ہاتھ ہی اس کام میں مصروف تھے۔

    جس مقام کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا وہ جنوبی بیروت کا ایک غریب مگر گنجان آباد علاقہ ہے۔ یہ عمارت لبنان کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال رفیق حریری ہسپتال کے بلکُل سامنے واقع تھی۔

    اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں کم از کم تین کثیر المنزلہ عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہوگئیں اور متعدد کو شدید نقصان پہنچا۔

    امدادی کارکنوں میں سے ایک نے بتایا کہ وہ نہیں جانتے کہ کتنے افراد ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں۔ تاہم لبنان کی وزارت صحت کے مطابق کم از کم 13 افراد ہلاک اور 57 زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے بیروت پر ہونے والے فضائی حملے کی چند تصاویر:

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  14. کراچی سے مبینہ طور پر آٹھ طلبا لاپتہ، ’میرا بھائی وہاں صرف تعلیم حاصل کرنے گیا تھا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہSammi Baloch

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں کراچی سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 8 طلبا کو مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمّی دین بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ان طلبا کو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گلشن اقبال کے علاقے بشیر ویلیج سے اٹھایا گیا۔‘

    بلوچ یکجہتی کمیٹی اور طلبا کے رشتہ داروں نے ان کی مبینہ جبری گمشدگی کا الزام پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد کیا ہے تاہم پولیس نے ان طلبا کی جبری گمشدگی کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

    ان طلبا کا تعلق کہاں سے ہے؟

    جن 8 طلبا کی مبینہ جبری گمشدگی کا الزام ٰقانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگایا جا رہا ہے ان میں بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے گریشہ سے تعلق رکھنے والے ایف ایس سی کے طالب قمبر علی بھی شامل ہیں۔

    قمبر علی آواران میں انٹر کالج مشکے کے طالب علم ہیں لیکن وہ ٹیوشن کے سلسلے میں کراچی میں بشیر ویلیج میں ایک فلیٹ میں رہائش پزیر تھے۔

    ان کے بڑے بھائی وزیر بلوچ سے جب فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی قمبر علی کو دیگر طلبا کے ساتھ 16 اکتوبر کو صبح 6 بجے کے قریب ان کے فلیٹ سے اٹھایا گیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’میرا بھائی وہاں صرف تعلیم حاصل کرنے گیا تھا۔ ہمارے علاقوں میں تعلیم کا نظام بہتر نہیں ہے۔ ہم نے انھیں کراچی اس لیے بھیجا تاکہ وہاں کسی سینٹر میں داخلہ لیکر اپنی اہلیت کو بہتر کرے لیکن ان کو لاپتہ کر کے ہمارے خاندان کو ایک پریشانی سے دوچار کیا گیا۔‘

    وزیر بلوچ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’چونکہ اس فلیٹ میں بلوچستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علم تھے اور ان کے بھائی کے علاوہ دیگر طلبا کو بھی اٹھالیا گیا۔‘

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہSammi Baloch

    سمّی بلوچ نے بتایا کہ ’بشیر ویلیج کے فلیٹ سے مجموعی طور پر 8طلبا کو اٹھا لیا گیا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’ان میں قمبر علی کے علاوہ پسنی سے تعلق رکھنے والے کراچی یونیورسٹی میں تاریخ کے طالب علم شعیب علی، اورماڑہ سے فیڈرل اردو یونیورسٹی کراچی کے طالب علم حنیف بلوچ، پنجگور سے کراچی یونیورسٹی میں تاریخ کے طالب علم بیبرگ امیر، گڈانی سے کراچی یونیورسٹی میں ایل ایل بی کے طالب علم سعیداللہ، مند سے زبیر بلوچ کے علاوہ، گریشہ سے مدرسہ کے دو طلبا اشفاق بلوچ اور شہزاد بلوچ شامل ہیں۔‘

    سمّی بلوچ نے دعویٰ کیا کہ ’بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالب علم کو لیاری سے بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔‘

    قمبر علی کے بھائی نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’وہ عزیز بھٹی تھانہ کراچی میں اپنے بھائی اور دیگر طلبا کی ایف آئی آر درج کرانے گئے لیکن تھانے میں موجود پولیس اہلکاروں نے ایسے کرنے سے انکار کر دیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’تھانے میں ایف آئی آر نہ ہونے کے باعث انھوں نے مقدمے کے اندراج اور طلبا کی بازیابی کے لیے 19 اکتوبر کو سندھ ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔‘

    تاہم جب 8 طلبا کی جبری گمشدگی کے حوالے سے عزیز بھٹی تھانے کے ایس ایچ او سعید احمد باریجو سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

    اس سوال پر ان کے لواحقین ان کی جبری گمشدگی کا الزام پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگارہے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں معلومات حاصل کریں گے۔

    طلبا اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج

    سمّی بلوچ نے دعویٰ کیا کہ ’نہ صرف کراچی بلکہ بلوچستان کے دیگر علاقوں سے مبینہ جبری گمشدگیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان جبری گمشدگیوں کے واقعات اور لاپتہ کئے جانے والے افراد کی بازیابی کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے۔‘

    سمّی بلوچ کا کہنا تھا کہ ’اتوار کو پہلا احتجاج کراچی پریس کلب کے باہر کیا گیا جبکہ پیر کو کراچی سے متصل حب کے علاقے میں احتجاج کیا گیا۔‘

    سمّی بلوچ نے بتایا کہ ’کراچی میں مظاہرے کے شرکا کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی گئیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’خضدار اور کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر علاوں میں بھی جبری گمشدگی کے واقعات کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔‘

  15. یہ ترمیم عدلیہ پر حملہ ہے، مرضی کے فیصلے کروانے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے: وزیر اعلی خیبرپختونخوا

    KP

    ،تصویر کا ذریعہVideo Grab

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدلیہ کو بھی محکوم بنا کر کے اپنی مرضی کے بندے لگانے اور پھر اُن سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔‘

    پشاور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ’اپنے من پسند لوگوں کو لگا کر ان مفادات کو تحفظ دیا جاتا ہے اور اب عدلیہ پر حملے کر کے بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ ہم اس سارے عمل کی مذمت کرتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ جن لوگوں نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے ان کو پارٹی شوکاز دے کر ان کے خلاف تحقیقات کررہی ہے، جن لوگوں نے عمران خان کی کمر میں چھرا گھونپا ہے ان کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا۔

    اُنھوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے آٹھ باجوڑ سے پی ٹی آئی کی حمایت سے کامیاب ہونے والے 28 سالہ نوجوان مبارک زیب کا نام لیے بغیر اُن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اُس وقت ٹھیک فیصلہ کیا تھا کہ انھیں ٹکٹ نہیں دیا تھا۔‘ واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے مبارک زیب پر تنقید اُن کے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر کی۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ غیر آئینی ترمیم ایک ایسی اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی ہے جو خود اس وقت غیر منتخب ہے اور فارم 47 پر آئی ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس دفعہ ہم فائنل احتجاج کا منصوبہ بنائیں گے اور پورے پاکستان میں احتجاج کریں گے، ہر جگہ سے لوگ نکلیں گے اور جہاں کہیں بھی رکاوٹ آتی ہے اور وہ آگے نہیں بڑھ پاتے تو وہیں احتجاج جاری رہے گا اور بقیہ لوگ انھیں وہیں جوائن کر لیں گے، یہ مکمل اور مستقل احتجاج ہو گا، یہ احتجاج پورے پاکستان میں ہو گا اور ہم پورے پاکستان کو بلاک کریں گے اور اسلام آباد کی طرف بڑھیں گے اور اس قابض حکومت کے جان چھڑانے تک احتجاج جاری رہے گا کیونکہ یہ حکومت 25 کروڑ عوام کے بجائے اپنی ذات کے لیے فیصلے کررہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں دہشت گردی ختم ہو گئی تھی لیکن جیسے ہی انھیں سازش کر کے ہٹایا گیا تو حالات خراب ہو گئے، پی ڈی ایم کے دور میں پچھلے ڈھائی سالوں میں جو حالات خراب ہوئے ہیں ہم اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پولیس میں بھرتیاں کررہے ہیں، ان کی استعداد میں بھی اضافہ کررہے ہیں اور ہم جلد حالات پر قابو پا لیں گے۔

  16. غزہ میں قید ہر یرغمالی کو اسرائیل کے حوالے کرنے پر ایک لاکھ ڈالر ملیں گے: بزنس مین کی فلسطینیوں کو پیشکش, ڈینیئل وٹنبرگ، بی بی سی نیوز

    اسرائیل، حماس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک امریکی اسرائیلی بزنس مین کا کہنا ہے کہ جو بھی فلسطینی شخص غزہ میں موجود یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو اسرائیل کے حوالے کرے گا اُسے ایک لاکھ امریکی ڈالر بطور انعام دیے جائیں گے۔

    ڈینیئل برنبوم سوڈا سٹریم نامی کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سفارتی راہ کے ذریعے کام نہیں ہو رہا‘ اور اب ’کسی کو مختلف طریقہ کار‘ اپنانا ہوگا۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مزید کہا کہ ’یہاں ایک تیسرا راستہ منظرِ عام سے غائب ہے جو کہ مالی انعام ہے۔‘

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملے میں یرغمال بنائے گئے 101 شہری اب بھی غزہ میں موجود ہیں اور ان میں سے کم از کم آدھے اب بھی زندہ ہیں۔

    خیال رہے گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ ہر ایک یرغمالی کی رہائی کے بدلے میں فلسطینیوں کو غزہ سے نہ صرف سے نکلنے کا محفوظ راستہ ملے گا بلکہ ان پر کوئی مقدمہ بھی نہیں چلایا جائے گا۔

    ڈینیئل برنبوم کا غزہ میں قید اسرائیلیوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’بطور انسان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔‘

    ’ہم مستقبل میں دہشتگردی کے لیے مالی رقم نہیں دینا چاہتے۔ لیکن نئی زندگی کی شروعات کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کافی ہوں گے۔‘

    ڈینیئل برنبوم کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس حوالے سے سابق اسرائیلی سکیورٹی افسران اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام کرنے والے افراد سے بھی مشورہ کیا ہے۔

    اسرائیل میں یرغمالیوں اور لاپتا خاندانوں کے اہلخانہ نے امریکی اسرائیلی بزنس مین کے اقدام پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اس حوالے سے اسرائیلی فوج کی جانب سے بھی کوئی پیغام یا بیان نہیں جاری کیا گیا۔

  17. امریکی سیکریٹری خارجہ کا دورہ اسرائیل مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ایک اور کوشش؟, ٹوم بیٹمین، بی بی سی نیوز

    اسرائیل، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیلی رہنماؤں بشمول بنیامین نتن یاہو سے بات چیت کرنے کے لیے اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔

    یہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی سیکریٹری خارجہ کا مشرقِ وسطیٰ کا مجموعی طور پر 11واں دورہ ہے۔

    یہ دورہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی موت کے چند گھنٹوں بعد جلدی میں ترتیب دیا گیا تھا کیونکہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو لگا کہ یہ سفارتکاری کو دوبارہ زندہ کرنے کا مناسب موقع ہو سکتا ہے۔

    لیکن شاید امریکہ نے یہ قدم اُٹھانے میں تھوڑی جلدبازی کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے بھی جنگ بندی کے کسی معاہدے پر پہنچنے میں دشواریاں کھڑی کی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ جنگ بندی کا معاہدہ نہ ہونے کا ذمہ دار حماس کو قرار دیتا ہے۔

    اس ساری صورتحال میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے فوری طور پر کسی بھی اہم پیشرفت ہونے کے امکانات صفر کے برابر ہیں۔

    امریکی حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ابھی ان کے پاس مذاکرات کے لیے کوئی بھی فریق موجود نہیں کیونکہ یحییٰ سنوار کی موت کے بعد حماس اپنے نئے سربراہ کا انتخاب کرنے میں مصروف ہے۔

    یہ بھی نہیں معلوم کہ حماس مذاکرات کی طرف واپس آئے گی بھی یا نہیں۔

    ایسے میں انٹونی بلنکن اپنے اس دورے میں اپنی توجہ اس معاملے پر مرکوز رکھیں گے کہ جنگ کہ اختتام پر غزہ کا انتظام کیسے چلایا جائے اور وہ اسرائیلوں سے شمالی غزہ میں امداد پہنچانے کے مسئلے پر بھی بات چیت کریں گے۔

    اسرائیلی کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں حماس ایک بار پھر سر اُٹھا رہی ہے۔ دوسری جانب امدادی گروہوں کا کہنا ہے کہ وہاں اسرائیلی فوج کے محاصرے کے سبب عام شہری بھوک سے مر رہے ہیں۔

  18. ’رپورٹ میں شہیدوں کی توہین‘: عراق میں سعودی چینل کے خلاف مظاہرے، لائسنس معطل

    سعودی عرب، عراق

    ،تصویر کا ذریعہMBC

    عراقی میڈیا ریگولیٹر نے حماس، حزب اللہ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کو ’دہشتگردی‘ سے جوڑنے پر ایک سعودی ٹی وی چینل کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراق سعودی عرب کے چینل کو ملک میں مکمل طور پر بند کرنے کے اقدامات بھی کر رہا ہے۔

    سعودی چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں حماس، حزب اللہ اور قدس فورس کو ’دہشتگردی کے چہرے‘ کے طور پر دکھایا تھا۔ عراقی کمیونیکیشنز اور میڈیا کمیشن ہفتے کو ایم بی سی میڈیا گروپ کا لائسنس معطل کیا تھا۔

    عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی ویب سائٹ پر موجود عراقی میڈیا ریگولیڑ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ: ’ایم بی سی نے اپنی رپورٹ میں شہیدوں کی توہین کی۔‘

    سعودی ٹی وی چینل پر اس رپورٹ کے نشر ہونے کے بعد بغداد میں ایم بی سی میڈیا گروپ کے چینل پر ایران کے حامی مسلح گروہوں نے حملہ کر دیا تھا اور دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔

    اس رپورٹ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار، قدس فورس کے جنرل قاسم سلیمانی اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو ’دہشتگرد‘ قرار دیا گیا تھا۔

    گذشتہ جمعے یہ رپورٹ نشر کرنے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایم بی سی میڈیا گروپ کے دفتر کے باہر جمع ہوگئی تھی اور ان کی جانب سے سعودی عرب مخالف نعرے بھی لگائے گئے تھے۔

    عراق میں پائے جانے والے غم و غصے کے سبب سعودی عرب نے اپنی ایک وضاحت میں کہا کہ ایم بی سی نے اس رپورٹ کو نشر کر کے سعودی عرب کی اپنی میڈیا پالیسی کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قوانین کے تحت بھی ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

    ایم بی سی کی جانب سے یہ متنازع رپورٹ اب ویب سائٹ اور سوشل میڈیا سے ہٹا دی گئی ہے۔

    عراق کی موجودہ حکومت پر ایران کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ ایم بی سی نے جن شخصیات کو ’دہشتگرد‘ قرار دیا ہے عراقی حکومت انھیں ہیرو قرار دیتی ہے۔

    سعودی عرب نے سرکاری سطح پر یحییٰ سنوار کی ہلاکت ہر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم ایم بی سی پر مذکورہ رپورٹ اس وقت چلائی گئی جب اسرائیل نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کی موت کی تصدیق کی تھی۔

    ایم بی سی کے دفاتر اور سٹوڈیوز مشرقِ وسطی میں متعدد مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ جس 15 منٹ کی رپورٹ پر یہ تمام تنازع کھڑا ہوا ہے اس میں یحییٰ سنوار کو اسرائیل پر ہونے والے 7 اکتوبر کے حملے کا منصوبہ ساز بتایا گیا تھا۔

    سعودی عرب کے قوانین کے مطابق دہشتگردوں سے ہمدردی کا اظہار کرنا جُرم ہے۔

  19. حزب اللہ کا اسرائیلی انٹیلی جنس یونٹ کے اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ

    لبنان، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس یونٹ کے اڈے پر منگل کی صبح میزائل حملے کیے ہیں۔

    لبنانی عسکری تنظیم کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس حملے کا ہدف ’ملٹری انٹیلی جنس 8200 یونٹ کی گلیلوت بیس‘ تھا۔

    یونٹ 8200 اسرائیلی فوج کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی ہے اور اکثر اس کا موازنہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے بھی کیا جاتا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ آج صبح تقریباً 20 راکٹس اسرائیل کی طرف داغے گئے ہیں۔ اس کے مطابق ان میں سے پانچ راکٹس کا ہدف تل ابیب جبکہ 15 راکٹس کا مرکز شمالی اسرائیل تھا۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ان راکٹ حملوں کے سبب وسطی اسرائیل کے علاقے سامرہ میں بھی سائرن بج اُٹھے تھے۔

  20. لبنان اور غزہ کے لیے امدادی سامان کے دو ہوائی جہاز فوری بھیجے جائیں: پاکستانی وزیرِ اعظم

    پاکستان، لبنان، غزہ

    ،تصویر کا ذریعہPrime Minister's office

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنی حکومت کو لبنان اور غزہ کے لیے امدادی سامان کے دو ہوائی جہاز فوری طور پر روانہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    وزیرِ اعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ’ہوائی راستے کے علاوہ زمینی راستے سے بھی ٹرکوں کے ذریعے‘ بھی امدادی سامان غزہ اور لبنان بھیجنے کی ہدایت جاری کی ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے امدادی سامان کی ترسیل کے حوالے سے غزہ، لبنان، اردن اور مصر میں تعینات پاکستانی سفیروں سے روابط مزید بہتر بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔

    وزیر اعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’اسرائیلی حملوں اور محاصروں کے باعث فلسطین اور لبنان کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی میں دشواری کا سامنا ہے۔‘