ایران بحری ناکہ بندی کے سبب تیل سے پیسے نہیں کما پا رہا، معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے: امریکی صدر کا دعویٰ

اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ایران کوئی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کر دیا ہے اور اس کی ڈرون فیکٹریاں 82 فیصد اور میزائل فیکٹریاں 90 فیصد تک ختم ہو چکی ہیں۔

خلاصہ

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے تاکہ وہ جوہری بم نہ حاصل کر سکے
  • فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ ایران اس برس ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں 'شرکت کرے گا'، جو کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا
  • بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • عالمی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی، پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں مندی، جبکہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی تیل کی فی بیرل قیمت 140 ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی
  • ایران جنگ کے پیدا کردہ توانائی بحران کے باوجود امریکی معیشت 'انتہائی مضبوط' ہے: چیئرمین مرکزی بینک
  • اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا، 20 جہازوں پر سوار 175 کارکن حراست میں لے لیے گئے

لائیو کوریج

  1. ’آبنائے ٹرمپ‘: امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر نقشہ شیئر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کا نام بدل دیا

    امریکی صدر کی ٹروتھ سوشل پوسٹ

    ،تصویر کا ذریعہTruth Social / Trump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ شائع کیا ہے اور اسے نئے نام ’آبنائے ٹرمپ‘ سے منسوب کیا ہے۔

    اس سے قبل بھی ٹرمپ اپنی ایک تقریر کے دوران ’آبنائے ٹرمپ‘ کی اصطلاح استعمال کر چکے ہیں۔ اُس موقع پر انھوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا ابتدا میں اسے شاید ’غیر ارادی غلطی‘ سمجھے لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار ہی کوئی غلطی کرتے ہیں۔

  2. ٹرمپ کو جان سے مارنے کی دھمکی کا الزام، سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر عدالت کے سامنے پیش

    ایف بی آئی کے سابق ڈائیریکٹر جیمز کومی

    ،تصویر کا ذریعہMichael M. Santiago/Getty Images

    امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی پر الزام ہے کہ ایک انسٹاگرام پوسٹ میں انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

    اب جیمز کومی الزامات کا سامنا کرنے کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    سنہ 2025 میں ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر نے ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں ساحل سمندر پر سیپیوں کی تصویر تھی۔ یہ سیپیاں اس انداز سے رکھی گئی تھیں کہ ان سے ’8647‘ کے اعداد بنتے تھے۔

    ایٹی سکس (86) بول چال کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ’ٹھکانے لگا دینا‘ ہوتا ہے اور استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس سے ٹرمپ کے خلاف تشدد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو امریکہ کے 47 ویں صدر ہیں۔

    کومی نے کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ان اعداد کا مطلب معلوم نہیں تھا۔

    عوامی رد عمل کے بعد انھوں نے یہ تصویر ڈیلیٹ کرتے ہوئے وضاحتی پیغام میں لکھا تھا: ’آج ساحل پر چہل قدمی کے دوران میں نے کچھ سیپیاں دیکھیں اور ان کی تصویر پوسٹ کی، جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ ایک سیاسی پیغام تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ کچھ لوگ ان اعداد کو تشدد سے جوڑتے ہیں۔ یہ میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا، لیکن چونکہ میں ہر قسم کے تشدد کی مخالفت کرتا ہوں، اس لیے میں نے وہ پوسٹ ہٹا دی۔‘

    جیمز کومی کی انسٹاگرام پوسٹ

    بدھ کی سہ پہر ورجینیا کی عدالت میں اپنی مختصر پیشی کے دوران جیمز کومی نہ تو کوئی جواب داخل کر سکے اور نہ ہی انھوں نے کوئی گفتگو کی۔

    ان کے وکیل پیٹرک فٹزجیرالڈ نے کہا کہ سابق ڈائریکٹر ایف بی آئی اس دلیل پر مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دیں گے کہ چونکہ وہ ٹرمپ کے خلاف بولتے ہیں تو انھیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    جج نے جیمز کومی کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے۔ بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، الزامات پڑھے جانے پر جیمز کومی نے سر ہلایا اور روانگی کے وقت اپنے اہل خانہ کی طرف مسکرا کر دیکھا۔

    استغاثہ کی جانب سے جیمز کومی پر صدر کی جان لینے اور جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں، ہر الزام کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال قید ہے۔

    منگل کے روز ایک ویڈیو بیان میں جیمز کومی نے کہا کہ وہ ان الزامات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    جب کہ امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’اگر کسی کو جرم کے بارے میں کچھ بھی علم ہو تو وہ 86 کو جانتا ہے۔ یہ قتل کے لیے مجرموں کی اصطلاح ہے۔ مافیا جب وہ کسی کو مارنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس شخص کو 86 کر دو۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ جیمز کومی کی سوشل میڈیا پوسٹ کو اپنے لیے دھمکی سمجھتے ہیں، تو صدر نے جواب دیا: ’ممکن ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا: ’میرے خیال میں جیمز کومی جیسے لوگوں نے سیاست دانوں اور دوسروں کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کیا ہے۔‘

  3. جوہری معاہدہ ہونے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہTasos Katopodis/Getty Images

    صدر ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو بتایا ہے کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کریں گے جب تک ایران جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو دور کرنے والے معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔

    ایگزیوس کے مطابق، بدھ کے روز ایک ٹیلی فون انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: ’ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں کسی حد تک زیادہ مؤثر ہے۔ انھیں جوہری ہتھیار نہیں مل سکتا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایران کی جانب سے حالیہ پیشکش مسترد کر دی تھی جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی تھی، کیونکہ اس سے جوہری مسئلے پر بات چیت مؤخر ہو جاتی۔

  4. تہران میں ’متعدد دھماکوں‘ کی آوازیں سنی گئیں: رپورٹس

    ڈیجیٹل خبروں کے معروف پلیٹ فارم واحد آن لائن نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    اس چینل کو فالو کرنے والوں نے بتایا کہ یہ آوازیں دارالحکومت کے مشرقی حصے میں تہران، پارس اور حکیمیہ کے اضلاع میں سنی گئیں۔ بعض افراد نے ان آوازوں کو ’طیارہ شکن سرگرمی‘ قرار دیا۔

    بی بی سی ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا۔

  5. انڈیا پاکستان جنگ کے بعد چین کی طیارہ ساز کمپنی کی فروخت میں تقریباً دُگنا اضافہ: بلومبرگ

    چینی کمپنی کا تیار کردہ لڑاکا طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    لڑاکا طیارے بنانے والی چینی کمپنی چنگڈو ایئر کرافٹ کارپوریشن نے سنہ 2025 میں ریکارڈ منافع حاصل کیا اور پہلی سہ ماہی کے دوران اس کی فروخت میں تقریباً دُگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    اس چینی کمپنی کو گذشتہ برس کی انڈیا پاکستان جنگ کے بعد شہرت ملی تھی جب پاکستان نے اس کمپنی کے تیار کردہ جے 10 سی لڑاکا طیارے کی مدد سے انڈیا کے رفال طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    مالیاتی و معاشی امور سے متعلق خبریں فراہم کرنے والے امریکی ادارے بلومبرگ نے چنگڈو کی جانب سے جاری کردہ بیان کا حوالہ دیا۔

    اس بیان کے مطابق سنہ 2025 میں چنگڈو کی آمدن 15.8 فیصد اضافے کے ساتھ 75.4 ارب یوآن (11 ارب ڈالر) تک پہنچ گئی، جبکہ منافع 6.5 فیصد بڑھ کر 3.4 ارب یوآن ہو گیا۔

    بلومبرگ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ اس کمپنی کے منافع کی اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں پہلی سہ ماہی کی فروخت میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا۔

  6. ایران کا افزودہ یورینیم غالباً اب بھی اصفہان کمپلیکس میں موجود ہے: ڈائیریکٹر جنرل ایٹمی توانائی ایجنسی

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائیریکٹر جنرل رافائل گروسی

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائیریکٹر جنرل رافائل گروسی نے صحافیوں کو بتایا: ’مجھے شبہ ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان کے ایٹمی کمپلیکس میں موجود ہے۔‘

    گروسی نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس کمپلیکس کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت دیکھی جا سکتی ہے ’ہم اب بھی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ آئی اے ای اے فردو اور نطنز کمپلیکسز کا معائنہ کرنا چاہتا ہے، امکان ہے کہ وہاں اب بھی کچھ ایٹمی مواد موجود ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل نے جولائی 2025 میں 12 روزہ جنگ کے دوران اصفہان، نطنز اور فردو کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی تھی۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے بدھ کے روز کہا: ’ایران کا تمام افزودہ یورینیم ہمیشہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی مکمل نگرانی میں رہا ہے اور اس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ ایران کے ایٹمی مواد کا ایک گرام بھی کہیں منتقل کیا گیا ہو۔‘

  7. برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

    جمعرات کی صبح ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت 119.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    گذشتہ کئی دنوں سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، کیونکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔

    دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے باوجود منڈیوں میں بے یقینی اور اتار چڑھاؤ کی صورتحال بڑھی ہے۔

    ایران کے اندر امریکی ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

  8. ’تین دن گزر گئے، تیل کا کوئی کنواں نہیں پھٹا‘: باقر قالیباف کا امریکہ پر طنز، تیل مزید مہنگا ہونے کی پیش گوئی

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہHandout via Getty Images

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر طنز کرتے ہوئے تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔

    26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اقدامات اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے پاس اب تیل کی ترسیل کے لیے ’کوئی جہاز باقی نہیں رہا‘ اور اس صورتحال کے نتیجے میں ایران کی تیل پائپ لائنیں ’پھٹ سکتی ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں۔

    یہی دعویٰ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی طرف سے 28 اپریل کو سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور ’جلد ہی کنویں سے تیل نکالنے کا عمل رُک جائے گا۔‘

    امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس کے بعد ’ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی۔‘

    انھی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے باقر قالیباف نے ایکس پوسٹ میں لکھا: ’تین دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی کنواں نہیں پھٹا۔‘

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مدت کو مزید 30 دن بڑھا کر کنویں کی صورتحال براہ راست نشر بھی کر سکتے ہیں۔‘

    آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے باقر قالیباف نے پیش گوئی کی کہ یہ قیمت بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے۔

    ایکس پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’یہ اس قسم کا بے کار مشورہ تھا جو امریکی انتظامیہ کو (وزیر خزانہ) بیسنٹ جیسے لوگوں سے ملتا ہے۔ یہ ناکہ بندی کے نظریے پر اصرار کرتے کرتے تیل کی قیمتوں کو 120 ڈالر فی بیرل تک لے گئے ہیں۔ اگلا پڑاؤ 140۔‘

  9. ایرانی پرچم بردار بحری جہاز تسکا کے عملے کے چھ ارکان کو چھوڑ دیا گیا

    ایرانی پرچم بردار بحری جہاز تسکا

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بحری جہاز تسکا کے عملے کے چھ ایرانی ارکان کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ دیگر 22 ارکان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    ایرانی سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی (اسنا) کے مطابق ایران کی سفارتی اور قانونی کوششوں کے بعد کنٹینر جہاز تسکا کے عملے کے چھ ایرانی ارکان کو چھوڑ دیا گیا اور وہ اب ایران میں ہیں۔

    اسنا کے مطابق اس کے لیے ہلال احمر سوسائٹی میں بین الاقوامی امور اور انسانی قانون کے نائب صدر نے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی حکام سے خط و کتابت اور مشاورت کی۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی افواج نے جہاز تسکا کو اس وقت قبضے میں لیا تھا جب وہ ایران کی جانب رواں تھا اور اس میں اہم اشیا کی کھیپ موجود تھی، جن میں طبی آلات اور ادویات شامل تھیں۔

    واقعے کے وقت جہاز پر ایرانی عملے کے 28 افراد سوار تھے۔

  10. ایران کا ریڈ کراس سے جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کا مطالبہ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کی سربراہ نے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر قانونی سطح پر چھان بین کرے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی صدر میر یانا سپولجاریچ ایگر جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایران کے دورے پر ہیں نے بدھ کے روز تہران میں ایرانی ہلالِ احمر کے صدر پیر حسین کولیوند سے ملاقات کی۔

    ایرنا کے مطابق پیر حسین کولیوند نے کہا کہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں میں گھروں، بچوں، بزرگوں اور دیگر شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور میزائل حملوں اور بمباری کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک ہوئے۔

    Islamic Republic News Agency

    ،تصویر کا ذریعہIslamic Republic News Agency

    کولیوند نے مزید بتایا کہ ’دشمن کی کارروائیوں میں ہلالِ احمر کے 56 مراکز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، تین امدادی ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے، جبکہ 43 ایمبولینسوں اور 49 دیگر ریسکیو گاڑیوں کو بھی براہِ راست حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

  11. کوئٹہ میں مختلف مقامات پر ہونے والے راکٹ حملے میں تین افراد زخمی

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کی شب نامعلوم سمت سے فائر کیے جانے والے راکٹ کے حملے میں پولیس حکام کے مطابق تین افراد زخمی ہوگئے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں اس راکٹ حملے کے بعد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جن سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پولیس اور متعلقہ ادارے دھماکوں کی جگہ کا تعین کر رہے ہیں اور صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    راکٹ شہر کے کن علاقوں میں گرے اور عینی شاہدین نے کیا بتایا؟

    ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ نامعلوم سمت چار راکٹ فائر کیے گئے جن میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

    زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ان میں سے تین راکٹ اختر محمد روڈ، میر احمد خان روڈ اور عثمانیہ گلی میں آکر گرے۔

    ایک عینی شاہد ملک سہیل خان نے بتایا کہ ان میں سے ایک راکٹ ان کے گھر کے قریب عثمانیہ گلی میں ایک گھر کی چھت پر آکر گرا۔

    انھوں نے بتایا کہ راکٹ کے پھٹنے کی وجہ سے زور دار دھماکے سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ گھر کی چھت پر راکٹ کے گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اس علاقے کے ایک اور رہائشی مصعب خان کاسی نے بتایا کہ جب راکٹ گرنے سے زوردار دھماکہ ہوا تو وہ عثمانیہ گلی کے مسجد میں عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے۔

    ایک راکٹ اختر محمد روڈ پر شانتی نگر میں ایک گھر کی چھت پر آکر گرا۔

    ملک سہیل خان نے بتایا شانتی نگر میں گھر کی چھت کو اچھا خاصا نقصان پہنچا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک راکٹ میر احمد خان روڈ پر آکر گرا۔ یہاں گرنے والے راکٹ سے ایک ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچنے سے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    ’شہر میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں‘

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کوئٹہ شہر میں حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔ ایک بیان میں انھوں نے عوام سے اپیل کہ وہ مطمئن رہیں۔

    بابر یوسفزئی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

  12. مبینہ طور پر ایران سے منسلک شدت پسند گروہ کا گولڈرز گرین حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    ایک پراسرار گروہ جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق ایرانی حکومت سے ہو سکتا ہے نے لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اس نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

    یہ گروہ ’حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ’دائیں ہاتھ والوں کی اسلامی تحریک۔‘

    یہ گروہ اس سے قبل بھی برطانیہ میں یہودیوں سے منسلک عمارتوں یا مفادات کے خلاف چھ دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کر چکا ہے۔

    حرکت اصحاب الیمین کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ایرانی حکومت کا ایک آلہ کار ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے دعوؤں کو شیعہ نواز ٹیلیگرام چینلز پر پھیلایا جا رہا ہے۔

    آن لائن کیے گئے اس دعوے میں جسے بی بی سی مانیٹرنگ کے ماہرین نے دیکھا ہے، حملے کو ایک ’تنہا حملہ آور‘ سے منسوب کیا گیا ہے اور جائے وقوعہ کی ویڈیوز بھی منسلک کی گئی ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے تفتیش کار اس دعوے سے آگاہ ہیں، تاہم اس مرحلے پر احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ ماضی میں خاص طور پر ایک دہائی قبل، خودساختہ انتہا پسند تنظیم داعش نے بھی یورپ میں کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی حالانکہ بعض واقعات میں اس کا براہِ راست کوئی کردار ثابت نہیں ہو سکا تھا۔

  13. لبنانی صدر کا اسرائیل سے مکمل جنگ بندی پر عمل درآمد کا مطالبہ، مذاکرات واحد راستہ ہیں: لبنانی صدر

    Lebanese Presidency

    ،تصویر کا ذریعہLebanese Presidency

    لبنان کے صدر جوزاف عون نے کہا ہے کہ اسرائیل کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

    صدر عون کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کو اب حتمی طور پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ سلامتی کا واحد راستہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور سرحدی دیہات کی تباہی کے ذریعے وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے کیونکہ وہ یہ تجربہ ماضی میں کر چکا ہے اور اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے۔‘

    صدر عون کے مطابق ’سرحدوں کا حقیقی تحفظ صرف اسی صورت ممکن ہے جب لبنانی ریاست اپنی مکمل طاقت کے ساتھ پورے جنوبی علاقے اور بین الاقوامی سرحدوں تک موجود ہو۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’لبنان اس وقت امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے آغاز کے لیے تاریخ کے اعلان کا منتظر ہے۔‘ صدر عون نے کہا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر لبنانی معاملے کا موجود ہونا ہماری موجودہ صورتِ حال میں ایک موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر لبنان کو سلامتی اور امن کی سمت لے جایا جا سکتا ہے۔‘

    لبنانی صدر نے کہا کہ ’ملک میں استحکام کے حصول کے لیے کئی مشکلات درپیش ہیں اور حکومت لبنان پر ہونے والی فوجی کارروائیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں اور سفارتی رابطے کر رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا قابلِ قبول نہیں۔‘

    صدر عون نے مزید کہا کہ ’موجودہ صورتحال کا حل تشدد اور خونریزی کے بغیر نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور اس کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔‘

  14. ٹرمپ کا متحدہ عرب امارات کے اوپیک سے علیحدگی کے فیصلے کا خیرمقدم

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کی جانب سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خیال میں یہ اقدام تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں ناسا کے ’آرٹیمس دوم‘ مشن پر جانے والے چار خلابازوں سے ملاقات کے دوران وہاں موجود صحافیوں کے یو اے ای کے اوپیک سے نکل جانے کے حوالے اس ہونے والے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ ایک شاندار فیصلہ ہے۔‘

    متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جو ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے شدید بحران کے دوران تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ بالآخر یہ فیصلہ گیس اور تیل کی قیمتوں میں کمی لائے گا، بلکہ تمام مصنوعات کی قیمتیں کم ہوں گی۔ اوپیک کو اس وقت کچھ مسائل کا سامنا ہے۔‘

  15. مذاکرات اب فون پر ہوں گے، ہر بار 18 گھنٹے کی پرواز ممکن نہیں: صدر ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ہر بار کسی دستاویز پر بات کرنے کے لیے 18 گھنٹے کی طویل پروازیں کرنا ممکن نہیں، اس لیے آئندہ مذاکرات ٹیلی فون کے ذریعے کیے جائیں گے۔‘

    وائٹ ہاؤس میں ناسا کے ’آرٹیمس دوم‘ مشن پر جانے والے چار خلابازوں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر نے وہاں موجود صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’میں آمنے سامنے ملاقات کو پسند کرتا ہوں، مگر جب ہر ملاقات کے لیے 18 گھنٹے سفر کرنا پڑے اور روانہ ہونے سے پہلے ہی معلوم ہو کہ وہ ایک ایسی دستاویز دیں گے جو آپ کو پسند نہیں آئے گی تو یہ عملی نہیں رہتا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ’کافی پیش رفت کی ہے،‘ تاہم انھوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران اتنا آگے جائے گا بھی یا نہیں جتنا امریکہ چاہتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کسی بھی صورت میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس بات پر متفق نہ ہوں کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔‘

    ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہ آیا یہ کارروائی کئی ماہ تک جاری رہے گی صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ تہران کو ’فوجی لحاظ سے شکست‘ دی جا چکی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اب انھیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے، بس اتنا ہی کرنا ہے کیونکہ اُن کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اب اُن کے پاس بس اتنا ہی کہنا رہ گیا ہے کہ ہم ہار مانتے ہیں اور دستبردار ہوتے ہیں۔‘

  16. مکمل یکجہتی کے ساتھ امور کو آگے بڑھا رہے ہیں، ہمیں مل کر امریکہ کی دھمکیوں کا جواب دینا ہوگا: باقر قالیباف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا میں نشر ہونے والے ایک آڈیو پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی یکجہتی کے ذریعے امریکہ کی دھمکیوں کا مقابلہ کریں۔

    قالیباف نے خود کو ’میدان کے بیچ موجود شخص‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے خطاب میں کہا کہ ’فوجی اور سیاسی حکام کے درمیان مکمل اتحاد کے ساتھ ہم امور کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران انھیں اطلاع دے چکا ہے کہ وہ انہدام کی کیفیت میں ہے اور آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا چاہتا ہے۔

    محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکہ ’ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے‘ اور بحری ناکہ بندی اور میڈیا پراپیگنڈے کے ذریعے معاشی دباؤ اور ملک کے اندر اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایران کو اندرونی طور پر کمزور یا حتیٰ کہ عدم استحکام سے دوچار کیا جا سکے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی صدر ایران کو ’سخت گیر اور اعتدال پسند‘ دھڑوں میں تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں اور اس کے فوراً بعد بحری ناکہ بندی کا ذکر کر کے معاشی دباؤ اور داخلی اختلافات کے ذریعے ایران کو پسپائی پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔‘

  17. نئی قیادت کی ضرورت کے باعث نیوی سربراہ کو عہدے سے ہٹایا گیا: ہیگستھ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے گزشتہ ہفتے امریکی بحریہ کے سیکریٹری کو اچانک عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔

    ہیگستھ نے ابتدا میں سبکدوش ہونے والے جان فیلن کی امریکی فوج کے لیے خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا تاہم کہا کہ بالآخر ’مقاصد کے حصول کے لیے تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے نئی قیادت اور نئی سمت کی ضرورت تھی، اسی لیے ہم نے یہ تبدیلی کی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اعلیٰ فوجی افسران کے معاملے میں یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیا وہ دیے گئے مشن کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں۔‘

    ہیگستھ کے مطابق ’اگر وہ ایسا نہیں کر رہے ہوتے تو پھر تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔‘

  18. ڈیموکریٹ رکن کا سوال: کیا صدر ذہنی طور پر کمانڈر اِن چیف ہونے کے لیے موزوں ہیں؟

    US House Armed Services Committee

    ،تصویر کا ذریعہUS House Armed Services Committee

    کمیٹی کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس سارا جیکبز کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر حالیہ پوسٹس کے حوالے سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    جیکبز کے پیچھے موجود ایک معاون نے صدر ٹرمپ کی سابقہ سوشل میڈیا پوسٹس کے کٹ آؤٹس اٹھا رکھے تھے، جن میں ایک وہ اے آئی سے تیار کردہ تصویر بھی شامل تھی (جو بعد میں حذف کر دی گئی) جس میں صدر کو مسیحا نما انداز میں دکھایا گیا تھا۔

    سارا جیکبز نے سوال کیا کہ ’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صدر ذہنی طور پر اتنے مستحکم ہیں کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری نبھا سکیں؟‘

    اس پر ہیگستھ نے جوابی سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ نے یہی سوال چار سال تک جو بائیڈن کے بارے میں بھی پوچھا تھا؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ نے ایسا نہیں کیا اور میں اس حد تک توہین آمیز رویے میں شامل ہی نہیں ہوں جو آپ کمانڈر اِن چیف کے خلاف اختیار کر رہی ہیں۔ آپ وہ سوال اب پوچھ رہی ہیں، جبکہ آپ اور آپ کے ساتھی ڈیموکریٹس ایک ایسے صدر کا دفاع کرتے رہے جنھیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی۔‘

    اس پر سارا جیکبز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن سنہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار نہیں تھے۔

  19. ایران جنگ میں کامیابی سے متعلق ڈیموکریٹ کے سخت سوالات، ہیگستھ اور کین سے وضاحت طلب

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس سیٹھ مولٹن نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے سوال کیا کہ آیا انھوں نے صدر کو ایران پر حملے شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

    ہیگستھ نے جواب دیا کہ امریکی صدر کو ’ہر ممکن زاویے سے صورتحال سے آگاہ کیا گیا‘، جس کے بعد انھوں نے گفتگو کا رخ جوہری ہتھیاروں کی طرف موڑتے ہوئے کمیٹی سے کہا کہ وہ ’تصور کریں کہ اگر ایران کے پاس اس وقت جوہری بم ہوتا تو دنیا کی صورت حال کیسی ہوتی۔‘

    مولٹن نے براہِ راست سوال کیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ یہ جنگ جیت رہا ہے۔

    ہیگستھ نے کہا ’بالکل،‘ اور دعویٰ کیا کہ میدانِ جنگ میں یہ ایک ’حیران کن فوجی کامیابی‘ ثابت ہوئی ہے۔

    تاہم مولٹن نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے معاملے پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ہماری ناکہ بندی کی پھر ہم نے ان کی ناکہ بندی کی ناکہ بندی کی یہ تو بچوں کے کھیل ’ٹیگ، یو آر اِٹ‘ جیسا ہے۔‘انھوں نے جنرل کین سے پوچھا کہ کیا فوج نے اس صورت حال کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

    اس پر جنرل کین نے کہا کہ امریکی فوج ’ہمیشہ فوجی آپشنز کی مکمل رینج پیش کرتی ہے، جنھیں ’احتیاط سے پرکھا جاتا ہے۔‘

    مولٹن نے مزید سوال کیا کہ کیا اس جنگ کے اثرات ’عام امریکی ٹیکس دہندہ‘ پر مدنظر رکھے گئے ہیں، جن کے مطابق یہ لاگت تقریباً 600 ڈالر فی شہری بنتی ہے۔

    ہیگستھ نے جواب دیا کہ یہ جنگ ’برسوں تک نہیں چلے گی‘، اور اس کے برعکس سوال اٹھایا کہ ’ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کی قیمت کیا ہو گی؟‘

  20. ایران جنگ کو ’دلدل‘ قرار دینے پر ڈیموکریٹ کے بیان کے بعد ہیگستھ کا سخت ردِعمل

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جان گارامینڈی نے ایران جنگ کی ’سٹریٹجک سمت‘ پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس جنگ کو صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے لیے ایک سنگین خودساختہ نقصان قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ جنگ کے دوران 13 امریکی فوجی ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ہزاروں شہری مارے جا چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایک قابلِ پیش گوئی نتیجہ تھا، انھوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو مخاطب کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ ’آپ جنگ کے پہلے دن سے امریکی عوام سے جھوٹ بولتے آئے ہیں اور صدر بھی یہی کرتے رہے ہیں۔‘

    گارامینڈی نے مزید کہا کہ ’جنگی حکمتِ عملی ایک ’حیران کن نااہلی‘ کا مظاہرہ ہے، کیونکہ تہران کی حکومت بدستور قائم ہے، ایران کے میزائل اور ڈرون نظام سلامت ہیں، جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران کا چین، روس اور شمالی کوریا کے ساتھ تعاون مزید مضبوط ہوا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جنگ کی ’دلدل‘ میں پھنس چکے ہیں۔‘

    اس پر ردِعمل دیتے ہوئے ہیگستھ نے گارامینڈی کے بیان کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا، اور اس دعوے کو مسترد کیا کہ صدر ٹرمپ کسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات امریکہ کے دشمنوں کے لیے پروپیگنڈا کا سامان فراہم کرتے ہیں۔‘

    ہیگستھ نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے خلاف آپ کی نفرت آپ کی سوچ پر حاوی ہو چکی ہے۔‘