آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران بحری ناکہ بندی کے سبب تیل سے پیسے نہیں کما پا رہا، معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے: امریکی صدر کا دعویٰ

اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ایران کوئی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کر دیا ہے اور اس کی ڈرون فیکٹریاں 82 فیصد اور میزائل فیکٹریاں 90 فیصد تک ختم ہو چکی ہیں۔

خلاصہ

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے تاکہ وہ جوہری بم نہ حاصل کر سکے
  • فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ ایران اس برس ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں 'شرکت کرے گا'، جو کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا
  • بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • عالمی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی، پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں مندی، جبکہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی تیل کی فی بیرل قیمت 140 ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی
  • ایران جنگ کے پیدا کردہ توانائی بحران کے باوجود امریکی معیشت 'انتہائی مضبوط' ہے: چیئرمین مرکزی بینک
  • اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا، 20 جہازوں پر سوار 175 کارکن حراست میں لے لیے گئے

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کا 400 ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد استعمال کر کے لبنان میں حزب اللہ کی سرنگ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’حزب اللہ کے انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے قنطرہ کے قصبے میں میں حزب اللہ کی ایک سرنگ کو نشانہ بنایا جو دو کلومیٹر طویل تھی، اور اس کارروائی میں 400 ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

    انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں قصبے میں بظاہر بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہری اور ہنگامی امدادی ٹیموں کے کارکن بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

    دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اگرچہ تاحال برقرار ہے، تاہم اسے عارضی اور کمزور قرار دیا جا رہا ہے اور خبردار کیا جا رہا ہے کہ حالیہ کشیدگی اسے مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

  2. وائٹ ہاؤس میں برطانوی شاہ چارلس کے لیے عشائیہ، اہم جھلکیاں

    • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کا استقبال کیا، جہاں ان کے اعزاز میں ایک سرکاری عشائیہ منعقد ہوا۔ سیاسی اور معاشی شعبوں کی نمایاں شخصیات اس عشائیے میں شریک ہوئیں۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس میں شاہ چارلس کی تقریر کو ’شاندار‘ قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے ڈیموکریٹ ارکان کو بھی کھڑے ہو کر تالیاں بجانے پر مجبور کر دیا، جو ان کے بقول وہ خود نہیں کر سکے تھے۔
    • ٹرمپ نے امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ ’دنیا میں اس کی اور کوئی مثال نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے تاریخی طور پر کمیونزم، فاشزم اور جبر کے خلاف مل کر کردار ادا کیا ہے۔
    • امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو عسکری طور پر ’شکست‘ دی ہے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ شاہ چارلس بھی اس مؤقف سے متفق ہیں۔
    • ٹرمپ نے امریکی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعلان آزادی ایک ’تاریخی معجزہ‘ تھا اور اس کا مقصد برطانوی ورثے کو مسترد کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانا تھا۔
    • شاہ چارلس سوم نے اپنی تقریر میں عسکری اتحادوں، بالخصوص نیٹو اور اوکس (آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی معاہدہ) کی اہمیت پر زور دیا تاکہ سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکے۔
    • شاہ چارلس نے کینیڈا کے بادشاہ کے طور پر اپنے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ اور کینیڈا مشترکہ طور پر فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے۔
    • شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو ایک تاریخی برطانوی آبدوز ایچ ایم ایس ٹرمپ کی گھنٹی تحفے کے طور پر پیش کی۔
    • بکنگھم پیلس کے مطابق یہ تحفہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی علامت ہے۔
    • دونوں رہنماؤں کی تقاریر میں مزاح کے ساتھ ساتھ مشترکہ تاریخ سے جڑے حوالے بھی شامل تھے۔
  3. صدر یورپی کمیشن کی ایران اور لبنان میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں استحکام کی اپیل

    یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن نے ایران اور لبنان میں جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور سفارتی عمل کے ذریعے تنازعے کے پائیدار حل پر زور دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بنیادی مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ ہے، جس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بغیر کسی فیس یا پابندی کے آمد و رفت کی بحالی کو بھی یقینی بنایا جائے، کیونکہ عالمی تجارت کے لیے یہ بہت اہم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی امن معاہدہ بنیادی اختلافی معاملات کا احاطہ کرے، جن میں سرفہرست ایران کا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے اثرات یورپ کے معاشی تحفظ، خصوصاً توانائی کے شعبے پر براہ راست پڑ سکتے ہیں اور اس بات پر بھی زور دیا کہ بر اعظم میں توانائی کے ذرائع کو محفوظ بنایا جائے۔

    اسی تناظر میں انھوں نے توانائی کے شعبے سے متعلق یورپی پالیسیوں کا ایک پیکج پیش کرنے کا اعلان بھی کیا، جس کا مقصد استحکام کو فروغ دینا اور خطے میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

  4. یمنی اس انتظار میں ہیں کہ وہ آبنائے باب المندب کو بند کریں: ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین کا دعویٰ

    ایران کی مجلس شوریٰ میں قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین علاؤالدین بروجردی نے کہا ہے کہ جنگ میں ایران کا پلڑہ بھاری ہے اور ’ہم نے ابھی اپنے نئے پتے نہیں کھیلے۔‘

    اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں علاؤ الدین کا کہنا تھا کہ’باب المندب کی اہمیت آبنائے ہرمز سے کم نہیں اور یمنی اِس انتظار میں ہیں کہ وہ اس آبنائے کو بند کریں اور امریکہ کو ایک اور ضرب لگائیں۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور ایران دونوں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ‌ای کی عدم موجودگی میں ایران میں سینیئر حکام کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات آ رہے ہیں اور اسی تناظر میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہیں یا مخالفت میں۔

    علاؤالدین بروجردی کا کہنا تھا کہ ایران ’رہبر اعلیٰ کے حکم پر‘ مذاکرات میں شریک ہوا تھا۔

    گذشتہ ہفتے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علی خضریان نے کہا تھا کہ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ‌ای، امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں توسیع کے ’مخالف‘ تھے۔ علی خضریان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا: ’ہماری اطلاعات کے مطابق وہ (خامنہ ای) اس طرح کے حالات میں مذاکرات میں کسی بھی قسم کی توسیع کے سخت مخالف ہیں۔‘

    یاد رہے کہ ایران کے سابق رہبر علی خامنہ ‌ای کی ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ‌ای کی کوئی ویڈیو یا آڈیو سامنے نہیں آئی اور ایرانی میڈیا میں صرف ان سے منسوب تحریری پیغامات شائع ہوئے ہیں۔

    آبنائے باب المندب: 36 کلومیٹر چوڑے مگر مصروف ترین تجارتی راستے کی ممکنہ بندش دنیا کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

    ایران ماضی قریب میں یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ جنگ میں ’دیگر محاذ‘ کھول سکتا ہے۔

    اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آبنائے باب المندب دنیا کی سٹریٹجک آبناؤں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اور ایران کے پاس اس حوالے سے ایک مکمل اور قابلِ اعتبار خطرہ پیدا کرنے کی خواہش اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔‘

    آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔

    بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔

    115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔

    بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔

    آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔

    امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔

    مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔

    آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔

    سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ریاض اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں ایک پائپ لائن کے ذریعے بھیجتا ہے۔

    خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔

  5. ٹرمپ نے ایران کے طویل محاصرے کے لیے تیاری کی ہدایت جاری کر دی: وال سٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کے طویل محاصرے کے لیے تیاری کی ہدایت کر دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ اجلاسوں کے دوران یہ فیصلہ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں تک جانے والی اور وہاں سے آنے والی بحری آمد و رفت روک ایرانی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رکھا جائے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا خیال ہے کہ دیگر آپشنز، جیسے دوبارہ بمباری شروع کرنا یا تنازع سے دستبردار ہونا، محاصرے کو برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرات رکھتے ہیں۔

  6. ایران میں شہریوں کے لیے سبسڈی کی ضمانت پر اُدھار خریداری کی سکیم

    ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت کی منظوری کے بعد ایک نئی سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت شہری سبسڈی کی ضمانت پر اشیا اُدھار خرید سکیں گے۔

    اس سکیم کے تحت ہر خاندان کے لیے سبسڈی کی حد مقرر ہو گی اور وہ ہر دو ماہ بعد اسی حد تک بنیادی ضرورت کی چیزیں دکانوں سے اُدھار لے سکیں گے۔

    بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے درکار کریڈٹ نجی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جائے گا۔

    حالیہ ہفتوں میں ایران میں متعدد اشیا کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔

    تہران سے شائع ہونے والے روزنامہ دنیائے اقتصاد نے حال ہی میں 2026 میں مہنگائی کے حوالے سے تین منظرنامے پیش کیے ہیں۔

    اخبار کے مطابق اگر امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہو جاتا ہے تو بھی ’سب سے خوش کن‘ منظر نامہ یہ ہو گا کہ مہنگائی کی شرح 49 فیصد رہے گی۔

    دنیائے اقتصاد کا کہنا ہے کہ اگر ’نہ جنگ اور نہ ہی امن‘ والی صورتحال رہتی ہے اور وہی کیفیت برقرار رہتی ہے جو مارچ میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے تھی، تو مہنگائی 67 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ جبکہ جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں ایران کو 123 فیصد کی انتہائی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  7. بحری جہازوں پر قبضے کے امریکی اقدامات کا جواب دینے کا حق ہے: ایران کا اقوام متحدہ کو خط

    اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید نے امریکہ کی جانب سے ایرانی جہازوں کے ضبط کیے جانے کو ’قذاقی‘ اور ’بین الاقوامی پانیوں میں ڈاکہ‘ قرار دیا ہے۔

    منگل کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط میں انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’بین الاقوامی قانون کے مطابق ایران کو ان اقدامات کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔‘

    امیر سعید نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی تجارتی جہازوں اور تیل بردار جہازوں پر قبضے کے امریکی اقدامات کی ’سخت مذمت‘ کریں اور ان جہازوں کو فوری طور پر چھوڑ دیا جائے۔

    یہ خط امریکی وزیر خزانہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی بحری ناکہ بندی جاری رہنے سے ایران کے پاس مزید تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی، اس سے ایران کی تیل کی پائپ لائنوں کو نقصان پہنچے گا اور پٹرول کی کمی ہو گی۔

  8. ’چارلس مجھ سے اتفاق کرتے ہیں‘: ٹرمپ کے دعوے پر بکنگھم پیلس کا رد عمل

    برطانوی شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کا مختصر حوالہ بھی شامل تھا۔

    ایران کو ’عسکری طور پر شکست‘ دینے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا: ’ہم کبھی بھی اس حریف (ایران) کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے، چارلس مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

    اس بیان پر بی بی سی کو بکنگھم پیلس کا رد عمل موصول ہوا ہے۔

    بکنگھم پیلس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا: ’جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ان کی حکومت کا طویل عرصے سے جو معروف مؤقف ہے، شاہ چارلس اس سے آگاہ ہیں۔‘

  9. وائٹ ہاؤس میں برطانوی بادشاہ کے اعزاز میں عشائیہ: شاہ چارلس کا نیٹو اتحاد کی اہمیت پر زور، ٹرمپ کے لیے گھنٹی کا تحفہ

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری عشائیہ دیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی بادشاہ اور امریکی صدر کی گفتگو میں مزاح کے ساتھ ساتھ تاریخی حوالے بھی شامل تھے۔ جبکہ شاہ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک گھنٹی کا تحفہ بھی دیا۔

    برطانوی بادشاہ نے اوکس (آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ میں اتحاد) اور نیٹو اتحاد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ’دونوں ملکوں میں تیکنیکی اور عسکری تعاون بڑھایا جا سکے۔‘

    اس کے بعد انھوں نے سنہ 1944 میں برطانیہ کے ایک شپ یارڈ سے لانچ کی گئی ایک آبدوز کا ذکر کیا۔

    اس آبدوز کا نام ایچ ایم ایس ٹرمپ تھا اور اس نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ شاہ چارلس نے اس آبدوز میں نصب گھنٹی بطور تحفہ امریکی صدر کو دی اور کہا ’اگر کبھی ہم سے رابطہ کرنا ہو تو بس گھنٹی بجا دیجیے گا۔‘

    عشائیے کے دوران شاہ چارلس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے اپنی تقاریر میں مزاحیہ جملوں کا سہارا لیا۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس میں شاہ چارلس کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ڈیموکریٹس کو کھڑے ہو کر داد دینے پر مجبور کر دیا، جو ان کے بقول وہ خود نہیں کر سکے۔

    شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ میں حالیہ تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سنہ 1814 میں برطانوی افواج کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو نذر آتش کیے جانے کا حوالہ دیا اور کہا ’ہم نے سنہ 1814 میں وائٹ ہاؤس کی از سر نو تعمیر کی اپنی کوشش کی تھی۔‘

    اپنی گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو یورپ جرمن بول رہا ہوتا، اس کے جواب میں شاہ چارلس نے کہا کہ شاید برطانیہ نہ ہوتا تو امریکی شہری فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔

    اپنی تقریر میں امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اس مخصوص حریف کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اس حریف (ایران) کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے اور شاہ چارلس بھی مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

  10. ایران جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے مخصوص اقدامات کرنا ہوں گے: برطانوی وزیر خزانہ

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات سے معیشت کو بچانے کے لیے مخصوص اقدامات کی ضرورت ہے اور یہ اقدامات اس طرح ہونے چاہییں کہ شرحِ سود پر ان کے دیرپا اثرات نہ پڑیں۔

    مشرق وسطیٰ کے لیے قائم رد عمل کمیٹی کے اجلاس کے بعد ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’وزیر خزانہ اس بات پر واضح تھیں کہ حکومت کو چوکنا اور ذمہ دار ہونا چاہیے، اور سنہ 2022 کے توانائی بحران پر رد عمل دیتے ہوئے جو سبق سیکھے تھے، حکومت کو ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔‘

  11. اسرائیلی حملے میں لبنان کے دو فوجی زخمی

    لبنانی فوج کے مطابق ملک کے جنوبی علاقے میں امدادی کارروائیاں انجام دینے کے دوران اسرائیل کے حملے میں اس کے دو فوجی زخمی ہو گئے۔

    اسرائیل سے جنگ بندی کے بعد اس نوعیت کے پہلے بیان میں لبنانی فوج نے کہا: ’گشت کرتے فوجی دستے کو اسرائیل کی جانب سے ہدف بنایا گیا، جس سے دو فوجی زخمی ہو گئے۔‘

    بیان کے مطابق یہ دستہ شہری دفاع کے اہلکاروں اور دو غیر فوجی بلڈوزروں کے ہمراہ جنوبی لبنان میں شہریوں کو بچانے کا کام کر رہا تھا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    دونوں فریق سرکاری طور پر جنگ بندی کی حالت میں ہیں، تاہم ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔

  12. ایرانی فوج کی امریکی اڈے پر حملے کی تصدیق, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایرانی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ایف 5 لڑاکا طیاروں نے خلیج فارس کے خطے میں ایک امریکی فوجی اڈے کو ’کامیابی سے‘ نشانہ بنایا۔

    28 اپریل کو ایرانی سرکاری نیوز چینل آئی آر آئی این این پر براہ راست گفتگو کے دوران بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے این بی سی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تنازع کے دوران ایران نے امریکی فوجی اڈوں اور سازوسامان کو جو نقصان پہنچایا، وہ پہلے دی گئی رپورٹس سے کہیں زیادہ تھا۔

    25 اپریل کو شائع ہونے والی این بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران نے خطے کے سات ممالک میں موجود 100 سے زائد امریکی اہداف پر حملے کیے۔

    اس رپورٹ کے مطابق، ایک ایرانی ایف 5 لڑاکا طیارے نے کویت میں واقع کیمپ بیورنگ پر بمباری کی اور اڈے کے فضائی دفاعی نظام کو چیرتے ہوئے اندر تک پہنچ گیا، جو اس سخت حفاظتی انتظامات والے اڈے کے دفاع میں ایک بڑی ناکامی تصور کی جائے گی۔

    ایرانی کمانڈر نے کہا: ’ایف 5 لڑاکا طیارے امریکی فضائی دفاع کی مختلف تہوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے اور متعلقہ اڈے کو درست نشانہ بنایا۔ اگر منفرد نہ بھی کہیں تو بھی اسے ایک کامیاب اور نایاب کارروائی کے طور پر جانچا گیا ہے۔‘

    اگرچہ این بی سی کی رپورٹ میں ایک ہی ایرانی لڑاکا طیارے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم فوجی ترجمان نے جمع کا صیغہ استعمال کیا اور یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملہ کب ہوا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، این بی سی نے بتایا کہ ایف 5 کا یہ حملہ جنگ کے آغاز کے ابتدائی گھنٹوں میں ہوا تھا۔ اکرمینیا نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ آیا پائلٹ بحفاظت واپس آئے یا نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کی باقاعدہ فوج اور پاسداران انقلاب کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون پہلے سے کہیں زیادہ رہا۔ ان کے مطابق مشترکہ کارروائیاں کی گئیں جن میں آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے کا کنٹرول باقاعدہ فوج کے پاس تھا جبکہ مغربی حصے میں پاسداران انقلاب کی عمل داری تھی اور یہ سب مکمل طور پر مربوط کمان کے تحت ہوا۔

    اکرمینیا نے کہا کہ مسلح افواج کے دیگر شعبوں میں بھی اسی سطح کی ہم آہنگی موجود ہے، جس کے باعث کارروائیاں پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں انجام دی جا سکیں۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کے فضائی دفاع اور پاسداران انقلاب کے فضائی یونٹس نے 170 سے زائد دشمن ڈرونز اور 16 لڑاکا طیاروں کو روکا۔

    امریکہ اور دیگر مخالفین پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے باوجود ایران یہی سمجھتا ہے کہ ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی۔

    فوجی تیاریوں کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ایران نے اپنے اہداف کی فہرستیں از سر نو ترتیب دی ہیں، جنگی تجربات کی بنیاد پر اہلکاروں کی تربیت جاری ہے اور سازوسامان کو بہتر بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ میں موجودہ وقفے کے باوجود ایران حالت جنگ میں ہے اور خبردار کیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب ’نئے سازوسامان سے، نئے طریقوں سے اور نئے محاذوں پر‘ دیا جائے گا۔

  13. برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 111 ڈالر سے تجاوز کر گئی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے انجام سے متعلق مسلسل بے یقینی اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باعث بدھ کی صبح ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی، یہاں تک کہ برینٹ تیل کی فی بیرل قیمت 111 ڈالر سے اوپر چلی گئی۔

    امریکہ میں بھی ایندھن کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ پٹرول کی قیمت جنگ کے آغاز کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل 28 اپریل کو امریکہ میں پیٹرول کی اوسط فی گیلن قیمت 4 ڈالر 18 سینٹ ریکارڈ کی گئی۔

    ان رپورٹس کے مطابق، ایران پر امریکی فوجی حملے کے بعد سے اب تک امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں لگ بھگ 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

  14. ایران نے روس اور چین کے لیے پروازوں کی بحالی کا اعلان کر دیا

    ایران میں میڈیا اداروں نے اطلاع دی ہے کہ تقریباً 60 روز کے وقفے کے بعد ایران نے روس اور چین کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

    اس سے ایک دن قبل قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی اپنی پروازوں کی بحالی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔

    جبکہ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ خبردار کر چکے ہیں کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ غیر ملکی حکومتیں یقینی بنائیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیاں ایرانی طیاروں کو کوئی خدمات فراہم نہ کریں، جن میں ’طیاروں کے لیے ایندھن کی فراہمی، کیٹرنگ سروسز، ہوائی اڈوں پر لینڈنگ فیس یا طیاروں کی دیکھ بھال‘ شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ ’کسی بھی ایسے تیسرے فریق کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی جو ایرانی اداروں کے ساتھ لین دین کرے یا انہیں سہولت فراہم کرے۔‘

  15. ’ان پڑھ افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کر دیا گیا‘: تاجک کمانڈر کا طالبان قیادت پر نسلی جانبداری کا الزام, بی بی سی مانیٹرنگ

    شمالی افغانستان سے تعلق رکھنے والے تاجک طالبان کمانڈر، مولوی عبدالقادر سعد نے طالبان قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ تحریک پر پشتونوں کا غلبہ ہو چکا ہے اور غیر پشتون علاقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

    واضح نہیں ہے کہ یہ بیان کس وقت دیا گیا، تاہم بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں دیا گیا ہے۔ طویل مدت سے طالبان کمانڈر رہنے والے مولوی عبدالقادر سعد نے یہ غیرمعمولی تنقید شمالی صوبے سرِ پُل میں ایک مسجد میں خطاب کے دوران کی۔

    مسجد میں خطاب کے دوران مولوی سعد نے ملک میں بڑھتی بے چینی اور اس کے ممکنہ رد عمل سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بعض شمالی تاجک طالبان کو اپنی ہی برادریوں سے انتقامی کارروائی کا خدشہ ہے۔

    انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’چرواہوں‘ اور ان پڑھ افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کر کے مقامی آبادیوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ طالبان کا نظام ممکنہ طور پر ختم ہو سکتا ہے، اور یہ بھی کہا کہ شمال کے بعض طالبان جنگجو اب اپنی ہی تاجک برادریوں کی جانب سے انتقامی کارروائی کے خوف میں مبتلا ہیں، ان کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

    ان کا کہنا تھا: ’آج ہم اپنی ہی قوم اور اپنی ہی برادری میں بے عزت ہو چکے ہیں۔ ہم سے ہماری عزت چھین لی گئی ہے، ہمارے جہاد کا فخر ہم سے لے لیا گیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں رہی۔‘

    مولوی عبدالقادر سعد کی یہ تقریر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر موجود ہے۔

    مولوی سعد نے جن خیالات کا اظہار کیا، ان کی تائید بدخشاں سے تعلق رکھنے والے ایک اور تاجک طالبان کمانڈر صلاح الدین سالار نے بھی کی، جنھوں نے 26 اپریل کو سعد کے خطاب کی ویڈیو فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ہمارے مخالفین نے آپ کے بارے میں جو طعنے دیے اور جو پیش گوئیاں کی تھیں، وہ سب ہمیں بھی سنائی گئیں، لیکن ہم نے ان پر یقین کرنے سے انکار کیا۔‘

    صلاح الدین کی پوسٹ میں مزید لکھا گیا: ’ہم اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ امارت (طالبان حکومت) کے رہنماؤں کا کوئی بڑا مقصد ہو گا۔ مگر آخر کار ہمارے مخالفین کی تمام باتیں سچ ثابت ہو گئیں۔‘

    اس نوعیت کے تبصرے بالکل نئے نہیں ہیں، تاہم سنہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ان میں اضافے کا تاثر ملتا ہے۔

    پنج شیر سے تعلق رکھنے والے تاجک طالبان کمانڈر عبدالحامد خراسانی نے اس بات پر بارہا تنقید کی ہے جسے وہ گروپ میں موجود ’نسلی تعصب‘ کہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی سینیئر ازبک طالبان کمانڈروں نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت نے بتدریج کئی غیر پشتون کمانڈروں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، یا تو انھیں انتظامی عہدوں پر تعینات کر کے، یا انھیں ان کے شمالی طاقت کے مراکز سے ہٹا کر جنوبی صوبوں میں منتقل کر کے۔ اسے بعض لوگ اندرونی جلاوطنی کی ایک شکل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    ان الزامات کے ساتھ ساتھ، غیر پشتون علاقوں کو نظر انداز کیے جانے کی شکایات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل کے بڑے پیمانے پر نکالے جانے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، بالخصوص بدخشاں میں کان کنی کی سرگرمیوں کے حوالے سے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پشتون طالبان عہدیداروں سے منسلک کاروباری اداروں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ اس سے معاشی فوائد کی غیر مساوی تقسیم اور مقامی آبادی کو حقوق سے محروم کیے جانے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

  16. سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030 کے آخری مرحلے کے آغاز کا اعلان, بی بی سی مانیٹرنگ

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت کا اہم اصلاحاتی منصوبہ وژن 2030 رواں سال اپنے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

    سعودی میڈیا کے مطابق محمد بن سلمان کے یہ بیانات کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیولپمنٹ افیئرز کے اجلاس میں سامنے آئے جس میں وژن 2030 سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب کے مطابق اس منصوبے کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

    لندن سے شائع ہونے والے عرب اخبار الشرق الاوسط کے مطابق سعودی ولی عہد نے کہا کہ عالمی معاشی اور سیاسی بے یقینی کے باوجود وژن 2030 نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا جاری رکھی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبے کے آغاز سے اب تک اور آئندہ بھی اس کی سب سے اہم سرمایہ کاری سعودی شہریوں کی ترقی اور انھیں بااختیار بنانا رہی ہے۔

    سعودی شہریوں کی ترقی کو وژن 2030 کا مرکزی نکتہ قرار دینا اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے سے ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    سنہ 2016 میں منصوبے کے آغاز کے بعد ابتدائی برسوں میں توجہ زیادہ تر مملکت کے تیل پر انحصار کو کم کرنے پر مرکوز تھی۔

    ولی عہد کے یہ بیانات سعودی حکام اور میڈیا کی جانب سے وژن 2030 کے حوالے سے ایک وسیع تر بیانیے کا حصہ ہیں جس میں اس منصوبے کے سعودی معاشرے اور قومی شناخت پر اثرات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

    یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وژن 2030 کے چند انتہائی اہم منصوبوں کو محدود کر دیا گیا ہے جن میں مستقبل کے شہر نیوم کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

    ’مستقبل مقامی سطح پر تعمیر کیا جا رہا ہے‘

    سعودی حکومت کے حامی اخبار عکاظ نے 28 اپریل کو شائع ہونے والے ایک تبصرے میں وژن 2030 کو تیز اور سب سے بڑا منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس منصوبے کے سعودی معاشرے پر اثرات کو نمایاں کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ جب وژن 2030 کا آغاز کیا گیا تو اس کے اہداف صرف معیشت کی تنوع اور غیر تیل آمدن میں اضافے تک محدود نہیں تھے بلکہ یہ ’اجتماعی شعور، معاشرتی ثقافت اور سماجی فکر کی تشکیلِ نو کا ایک جامع منصوبہ‘ تھا۔

    میگا منصوبے نیوم کے حوالے سے تبصرے میں کہا گیا کہ یہ ’محض ایک رئیل سٹیٹ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ مستقبل مقامی سطح پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔‘

    دوسری جانب حکومت کے حامی اخبار الریاض میں شائع ہونے والے ایک اور تبصرے میں اصلاحات کی ’کامیابیوں‘ کو اجاگر کیا گیا، خاص طور پر معیشت پر ان کے اثرات پر زور دیا گیا۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کہ اس منصوبے کی سب سے نمایاں کامیابی شہریوں کے چہرے پر ’امید اور خوش بینی کی مسکراہٹ‘ ہے، کیونکہ وہ وژن کے پروگراموں کی اہمیت اور مملکت کے لیے ایک روشن مستقبل تشکیل دینے کی ان کی صلاحیت پر قائل ہو چکے ہیں۔

  17. ایران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں متعدد گرفتاریاں اور ’جاسوسی کے اڈوں‘ پر چھاپے, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران میں جنگ کے بعد ملک بھر میں جاری کارروائیوں کے دوران مزید گرفتاریاں کی گئی ہیں اور انٹیلیجنس آپریشنز کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق وسطی تہران میں ایک رہائشی یونٹ سے ایک مبینہ جاسوسی اڈہ سامنے آیا ہے، جہاں اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ نصب تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اڈے کو مبینہ طور پر غیر ملکی انٹیلیجنس اداروں اور اپوزیشن میڈیا نیٹ ورکس کو معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق دو روز قبل شمال مغربی تہران میں ایک کمپلیکس کے اندر تین تجارتی یونٹس کو غیر قانونی سیٹلائٹ انٹرنیٹ آلات کے استعمال کے الزام میں سیل کر دیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے ایک یونٹ مبینہ طور پر لگ بھگ 19 مرتبہ دشمن کو معلومات فراہم کر چکا تھا۔

    دوسری جانب مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ صوبہ کرمان کے شہر انار میں پولیس نے ایک شخص کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ اس نے غیر ملکی میڈیا میں موجود مخالف عناصر سے رابطہ رکھا، جن کا مقصد امن و امان میں خلل ڈالنا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ فارس کے شہر سروستان میں پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ حساس اور اہم مقامات سے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز مخالف نیٹ ورکس کے ساتھ شیئر کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گرفتاری انٹیلیجنس کارروائیوں کے بعد عمل میں لائی گئی۔

    ادھر ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے کہا ہے کہ ’وطن کے غداروں اور شرانگیز عناصر کا ساتھ دینے والوں‘ کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔

    انھوں نے بیرونِ ملک مقیم ان ایرانیوں سے بھی خطاب کیا جنھوں نے اب دشمن کے خلاف موقف اختیار کیا ہے،

    ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ وطن ان کے لیے ’کھلے بازوؤں ‘ کے ساتھ موجود ہے اور ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے صوبائی مرکز نے صوبہ زنجان میں اسلحہ برآمد اور ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق 28 اپریل کو آئی آر جی سی کے انصارالمہدی بیس نے خدابندہ شہر میں بسیج فورسز کی ایک چیک پوسٹ سے مختلف اقسام کے ٹیزر، آنسو گیس کے شیل، ہتھکڑیاں اور دھوئیں کے شیل برآمد کیے جبکہ ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا۔

    آئی آر جی سی کے ایک بیان میں بعض دیگر کارروائیوں کے دوران چار افراد کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں کلاشنکوف رائفلیں، ہینڈ گنز، گولہ بارود، فوجی معیار کا دستی بم، جعلی شناختی دستاویزات اور اسٹارلنک سیٹلائٹ مواصلاتی آلات ضبط کیے۔

    یاد رہے کہ ایرانی حکام ماضی میں بھی کرد مسلح گروہوں پر سرحدی صوبوں میں حملوں کی منصوبہ بندی یا ان پر عمل درآمد کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

  18. عسکری طور پر ایران کو شکست دے دی ہے: امریکی صدر ٹرمپ

    ایران کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ’بہت اچھا جا رہا رہے۔‘

    برطانوی بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے اس مخصوص حریف کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اس حریف (ایران) کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’چارلس بھی مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اور برطانیہ ہمیشہ ’کمیونزم، فاشزم اور جبر کی قوتوں کے خلاف‘ ڈٹ کر کھڑے رہے اور سرخرو ہوئے۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تیل برآمد کرنے والے ان گروپوں اور ان کے غیر اعلانیہ قائد سعودی عرب کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص کر ایک ایسے وقت میں جب ایران کی جنگ نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی بحران پیدا کر دیا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت ایک ’انتہائی بحران کی حالت‘ میں ہے۔‘ صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ ہم ’آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولیں‘ جبکہ وہ اپنی قیادت کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں (جسے میرا خیال ہے کہ وہ سنبھال لیں گے۔‘
    • بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ایک گھر پر دھماکہ خیز مواد گرنے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔
    • نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور لائسنس فیس کی شرط ختم کر دی ہے۔
  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔