آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران بحری ناکہ بندی کے سبب تیل سے پیسے نہیں کما پا رہا، معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے: امریکی صدر کا دعویٰ

اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ایران کوئی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کر دیا ہے اور اس کی ڈرون فیکٹریاں 82 فیصد اور میزائل فیکٹریاں 90 فیصد تک ختم ہو چکی ہیں۔

خلاصہ

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے تاکہ وہ جوہری بم نہ حاصل کر سکے
  • فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ ایران اس برس ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں 'شرکت کرے گا'، جو کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا
  • بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • عالمی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی، پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں مندی، جبکہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی تیل کی فی بیرل قیمت 140 ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی
  • ایران جنگ کے پیدا کردہ توانائی بحران کے باوجود امریکی معیشت 'انتہائی مضبوط' ہے: چیئرمین مرکزی بینک
  • اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا، 20 جہازوں پر سوار 175 کارکن حراست میں لے لیے گئے

لائیو کوریج

  1. ایران جنگ پر امریکی کانگرس میں قانون سازوں کے رائے دینے کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے

    امریکہ اور ایران ایک غیر یقینی جنگ بندی پر عمل کر رہے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس متعدد بار یہ کہہ چکا ہے کہ اگر تہران چند شرائط، جن میں کسی بھی قسم کے جوہری عزائم ترک کرنا بھی شامل ہے، تسلیم نہیں کرتا تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

    تاہم، انتظامیہ کے لیے فضائی حملے دوبارہ شروع کرنا وار پاورز ریزولوشن کی وجہ سے پیچیدہ ہو گیا ہے۔ یہ 1973 کا قانون صدر کے فوجی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    اس قانون کے مطابق، کانگریس کی منظوری کے بغیر صدر صرف 60 دن تک امریکی فوج کو مسلح تنازع میں شامل کر سکتا ہے، جس کے بعد کانگریس میں ووٹنگ لازم ہو جاتی ہے۔

    یہ ابھی واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس اس آخری تاریخ سے کیسے نمٹے گا، جو یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کانگریس میں ووٹنگ ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔

    اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل ہے، تاہم جنگ جیسا سنگین معاملہ دونوں جماعتوں میں وفاداریوں کا امتحان لے سکتا ہے جس سے ووٹ کا نتیجہ غیر یقینی ہو جائے گا۔

    امکان ہے کہ کمیٹی کی سماعت کے دوران ہیگستھ سے اس حوالے سے سوال کیا جائے۔

  2. ایران پر توجہ اور دیگر عالمی خطرات کے درمیان ’عدم توازن‘ پر ڈیموکریٹ رکن کا سوال

    ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس جو کورٹنی نے جنوری میں جاری کی گئی نیشنل ڈیفنس سٹریٹیجی میں وزیرِ دفاع کے جائزے کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ چین ہے اس کے بعد روس اور شمالی کوریا کا نمبر آتا ہے، جبکہ اس مرحلے پر ایران ’کئی دہائیوں میں پہلے سے زیادہ کمزور اور غیر محفوظ حالت‘ میں تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس تناظر میں ایران کے خلاف جنگ کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی وسائل کا بڑے پیمانی پر استعمال دنیا کے دیگر حصوں میں درپیش خطرات کے مقابلے میں ایک واضح ’عدم توازن‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس پر جنرل کین نے جواب دیا کہ صدر قومی طاقت اور فوجی وسائل کا استعمال اس سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کے مطابق کرتے ہیں جسے وہ مناسب سمجھتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسے فیصلوں میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ سمجھوتے شامل ہوتے ہیں۔‘

    بعد ازاں ایوانِ نمائندگان میں کارروائی مختصر وقفے کے لیے معطل کر دی گئی۔

  3. ایران جنگ پر امریکہ نے اب تک 25 ارب ڈالر خرچ کیے: پینٹاگون

    کانگریس کی کمیٹی میں ڈیموکریٹک رکن ایڈم سمتھ نے سوال کیا کہ ایران کے خلاف جنگ پر امریکہ اب تک کتنے پیسے خرچ کر چُکا ہے اور کیا اراکینِ کانگریس کو جلد مکمل لاگت کی تفصیل فراہم کی جائے گی؟

    سماعت میں شریک پینٹاگون کے اکاؤنٹس کا نگران افسر جُولز ہرسٹ نے بتایا کہ ’اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جن میں بڑا حصہ اسلحے اور گولہ بارود پر خرچ آیا ہے۔‘

    ایڈم سمتھ نے کہا کہ وہ اس جواب پر خوش ہیں کیونکہ کانگریس ایک طویل عرصے سے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش میں تھی، مگر اس سے پہلے کوئی بھی واضح تخمینہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے سوال کیا کہ حکومت ایران کی جانب سے جوہری خطرے کے خاتمے کے لیے کیا منصوبہ رکھتی ہے؟

    اس کے جواب میں ہیگستھ نے سابق امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے ساتھ ’خراب معاہدے‘ کیے اور سنہ 2016 میں سابق صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے مشترکہ جامع ایکشن پلان جسے ایران جوہری معاہدہ بھی کہا جاتا ہے کا حوالہ دیا۔

    اس پر ایڈم سمتھ کے لہجے میں سختی محسوس کی گئی انھوں نے کہا کہ ’یہ ماضی کی باتیں ہیں مستقبل کا کیا لائحہ عمل ہے؟‘ انھوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا واقعی ایران کی جانب سے کوئی فوری جوہری خطرہ موجود تھا جس کے باعث جنگ ناگزیر ہو گئی؟

    ہیگستھ نے جواب دیا کہ ایران نے ’اپنی جوہری منصوبوں سے متعلق خواہشات ترک نہیں کی تھیں، اسی لیے امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کا فیصلہ کیا۔‘

  4. مجوزہ بجٹ ایک تاریخی پیش رفت اور مستقبل کے تحفظ کی بنیاد ہے: جنرل ڈین کین

    امریکی کانگرس میں قانون سازوں نے بجٹ پر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے پوچھا کہ ماضی میں فراہم کی گئی فنڈنگ سے فوج کو کیا فائدہ پہنچا؟

    اس کا جواب دیتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ ’اس فنڈنگ کے باعث انتظامیہ کو امریکی دفاع کے کئی اہم شعبوں میں بہتری لانے کا آغاز کرنے کا موقع ملا، جن میں فوجی اہلکاروں کے لیے رہائشی اور دیگر سہولتوں میں بہتری بھی شامل ہے۔‘

    بعد ازاں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سے سوال کیا گیا کہ مجوزہ بجٹ امریکا کے عالمی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔

    جنرل کین نے کہا کہ ’فوج کی جانب سے طلب کیے گئے 1.5 ٹریلین ڈالر مستقبل کی سلامتی کے لیے ایک ’تاریخی سرمایہ کاری‘ ہیں، جو امریکا کو تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں سبقت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر کے میدانِ جنگ میں جو نئی صورتیں سامنے آ رہی ہیں، ان سب سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔‘

  5. عالمی خطرات میں اضافے سے نمٹنے کے لیے پینٹاگون کو اس رقم کی ضرورت ہے: جنرل ڈین کین

    امریکی کانگرس میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے بعد اب جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سوالات کا جواب دے رہے ہیں، انھوں نے اپنی کانگرس میں اپنی گفتگو کا آغاز ہی امریکی فوج کی تعریف سے کیا اور اُن کا کہنا تھا کہ ’عالمی دُنیا کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

    جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کانگرس میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کو ’بروقت، باقاعدہ اور دیرپا سرمایہ کاری‘ کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کو ایران کے شہر میناب میں ایک سکول پر حملے سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    جنرل ڈین کین نے یہ بھی واضح کیا کہ آج کے بجٹ میں زیرِ بحث وسائل ’ہماری افواج کو جدید بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں کہ جو بھی خطرات سامنے آئیں۔۔۔ ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

    انھوں نے موجود قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر میں تعینات امریکی فوجیوں کو مدنظر رکھیں۔

    واضح رہے کہ امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، جہاں وہ فوج کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے بجٹ کی درخواست سے متعلق سوالات کے جواب حلف کے تحت دے رہے ہیں۔

  6. فوجی بجٹ میں اضافے کی درخواست موجودہ صورتحال کی سنگینی کی عکاس ہے: پیٹ ہیگستھ

    امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ صدر کی جانب سے 1.5 ٹریلین ڈالر کے فوجی بجٹ کی درخواست ’موجودہ لمحے کی سنگینی‘ کی عکاسی کرتی ہے۔

    کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے بائیڈن انتظامیہ پر دفاعی شعبے میں ناکافی سرمایہ کاری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کی وزارت نظام کے اس زوال کو پلٹ کر دوبارہ ملک کو ’جنگی تیاری‘ کی حالت میں لا رہی ہے۔

    ان کے مطابق یہ بجٹ ’تاریخی‘ اور ’جنگ لڑنے کی صلاحیت‘ پر مبنی ہے، اور وہ ایران کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی ’غیر معمولی کامیابی‘ پر بات کرنے کے منتظر ہیں۔

    پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کیے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت سب سے بڑے مخالف کانگریس کے کچھ ڈیموکریٹس اور چند ریپبلکنز کے ’حوصلہ شکن بیانات‘ ہیں، جو جنگ کے صرف دو ماہ بعد ہی اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا: ’میری نسل جانتی ہے کہ ہم عراق میں کتنے عرصے رہے، اور افغانستان میں کتنی دیر تک جنگ جاری رہی۔‘

  7. میناب سکول حملے پر ہیگستھ اور جنرل کین کو سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کو ایران کے شہر میناب میں ایک سکول پر حملے سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ایوانِ نمائندگان میں گفتگو کرتے ہوئے نمائندہ ایڈم سمتھ نے رواں سال کے آغاز میں ایران میں ایک سکول پر ہونے والے مہلک حملے میں ممکنہ امریکی کردار کا حوالہ دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے ابتدائی مرحلے میں ہونے والے اس میناب حملے میں 168 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔

    ایڈم سمتھ نے ایوان سے خطاب میں کہا: ’ہم سے ایک غلطی ہوئی، اور جنگ میں ایسا ہو جاتا ہے۔۔ لیکن واقعے کے دو ماہ بعد تک ہم نے اس پر کچھ کہنے سے انکار کیا، جس سے دنیا کو یہ تاثر ملا کہ ہمیں پروا نہیں۔‘

    ایران نے اس حملے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔ تاہم دو ماہ گزرنے کے باوجود پینٹاگون کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے کہ پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین کو اس حملے سے متعلق حلف کے تحت سوالات کا سامنا کرنا پڑے۔

    گذشتہ ماہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ سکول ایک امریکی حملے کی زد میں آیا، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا۔

    بی بی سی نیوز نے پانچ سابق امریکی عہدیداروں سے بات کی ہے جنھوں نے اس مہلک حملے میں ممکنہ امریکی کردار کو تسلیم نہ کرنے پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

  8. امریکہ کے وزیرِ دفاع کو ایران جنگ کے بعد پہلی بار کانگریس کے سامنے فوجی بجٹ پر سوالات کا سامنا

    امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، جہاں وہ فوج کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے بجٹ کی درخواست سے متعلق سوالات کے جواب حلف کے تحت دے رہے ہیں۔

    اس موقع پر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔

    یہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پہلا موقع ہے کہ پیٹ ہیگستھ کو قانون سازوں کی جانب سے عوامی طور پر سوالات کا سامنا ہے۔

  9. جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں دو فوجی بھائی ہلاک

    لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک فوجی اور ان کا بھائی ہلاک ہو گئے۔

    فوج نے بتایا کہ یہ حملہ خربت سیلم نامی قصبے میں کیا گیا جو کہ اسرائیل کے مقرر کردہ سکیورٹی زون کے باہر واقع ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ سپاہی اور ان کا بھائی ایک موٹر سائیکل پر اپنی پوسٹ سے پڑوسی قصبے سوانا میں اپنے گھر جا رہے تھے۔

    اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  10. لندن میں دو یہودیوں پر چاقو حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا گیا: پولیس

    انسدادِ دہشت گردی پولیس کے سربراہ، اسسٹنٹ کمشنر لارنس ٹیلر نے کہا ہے کہ گولڈرز گرین میں ہونے والے چاقو حملے کو باضابطہ طور پر دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا گیا ہے۔

    مختصر بیان میں لارنس ٹیلر نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور پولیس سیکیورٹی اداروں کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا لندن کی یہودی برادری کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے موقع پر فوری ردِعمل دینے والے افراد کی بہادری کو بھی سراہا۔

    لارنس ٹیلر نے کہا کہ یہودی برادری مضبوط ہے، تاہم آج کے واقعات اور حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والے دیگر واقعات کے تناظر میں وہ شدید تشویش میں مبتلا ہو گی۔

  11. ایران جنگ کے اثرات: یورپی یونین متاثرہ کمپنیوں کو مزید سبسڈی دے گی

    یورپی یونین اُن کمپنیوں کو مزید مالی مدد (سبسڈی) دے رہی ہے جو ایران کی جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے سے متاثر ہوئی ہیں۔ نئے عارضی قواعد کے تحت، جو اس سال کے آخر تک نافذ رہیں گے، بعض شعبے 50 ہزار یورو تک کی گرانٹ حاصل کر سکیں گے۔

    یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی بحران کا حوالہ دیا اور کہا کہ یورپ کو اپنی توانائی میں خودکفالت مضبوط بنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ یورپی بجٹ میں توانائی کے شعبے کے لیے 300 ارب یورو رکھے گئے ہیں، جن میں سے 95 ارب یورو اب تک استعمال نہیں ہوئے۔

    انھوں نے زور دیا کہ اس رقم کو نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ صنعت اور گھروں کے حرارتی نظام میں بھی بجلی کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

    یہ اقدامات مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث بڑھتی ہوئی توانائی اور پیداواری لاگت کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں، تاکہ زراعت، ٹرانسپورٹ اور توانائی سے وابستہ کمزور شعبوں کو سہارا دیا جا سکے۔

    دوسری جانب، وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کی طویل المدتی ناکہ بندی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔

  12. ایران میں مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافہ, بہرنگ تاج الدین، بی بی سی فارسی کے نامہ نگار

    ایران میں مہنگائی کی سرکاری شرح نے ایک بار پھر ریکارڈ توڑ دیا ہے، فارورڈن 1405 میں یہ 53.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو پچھلے مہینے کے مقابلے میں تین فیصد پوائنٹس سے زیادہ ہے۔

    ایران کے شماریاتی مرکز کے مطابق نئے مہینے (مارچ–اپریل) میں چیزیں پچھلے مہینے (فروری–مارچ) کے مقابلے میں اوسطاً پانچ فیصد مہنگی ہوئیں۔

    شماریاتی مرکز کے مطابق سال بہ سال مہنگائی 73.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال نئے مہینے (مارچ–اپریل) میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں پچھلے سال اسی مہینے کے مقابلے میں اوسطاً 73.5 فیصد زیادہ تھیں

    یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ آج غیر سرکاری مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مبینہ طور پر ایک موقع پر تقریباً 180,000 تومان تک پہنچ گئی ہے جو کہ ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ شروع ہونے سے پہلے کی شرح سے 15,000 تومان سے زیادہ ہے۔

    ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ ریال کی قدر میں گراوٹ، درآمدی مصنوعات کے ساتھ ساتھ ملکی سامان اور پرزہ جات پر انحصار کرنے والی ملکی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، جس سے افراط زر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  13. ایران کا زیادہ تر افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان میں ہے: آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر کا دعویٰ

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا زیادہ تر افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان جوہری کمپلیکس میں موجود ہے، جسے گذشتہ سال فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں، گروسی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے پاس سیٹلائٹ تصاویر ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ’معلومات ابھی بھی آ رہی ہیں۔‘

    اصفہان میں ایجنسی کا معائنہ اس وقت روک دیا گیا تھا جب اسرائیل نے جون 2015 میں 12 روزہ جنگ کا آغاز کیا تھا، جس میں امریکہ نے تین ایرانی جوہری مقامات پر بمباری کی تھی۔

    گروسی کے مطابق اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کا خیال ہے کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کا ایک بڑا حصہ ’جون 2025 میں وہاں ذخیرہ کیا گیا تھا جب جنگ شروع ہوئی تھی، اور تب سے وہ وہیں موجود ہے۔‘

    ایئربس کی طرف سے لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں 18 نیلے کنٹینرز سے لدے ٹرک کو 9 جون 2025 کو اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر میں جنگ شروع ہونے سے عین قبل ایک سرنگ میں داخل ہوتے دکھایا گیا تھا۔

    ایجنسی کے مطابق، ایران کے پاس 440.9 کلوگرام یورینیم ہے جو کہ 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا ہے، یہ ایک مختصر تکنیکی اقدام ہے جو اسے جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی 90 فیصد افزودگی کی سطح سے الگ کرتا ہے۔

    گروسی نے اشارہ کیا تھا کہ ایجنسی کا خیال ہے کہ اس مقدار میں سے تقریباً 200 کلو گرام اصفہان کے مقام پر سرنگوں میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔

  14. شمالی لندن میں پولیس نے دو یہودیوں پر چاقو حملہ کرنے والے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا، میئر کی تصدیق

    لندن کے میئر صادق خان نے تصدیق کی ہے کہ شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودی افراد پر حملہ کیا گیا ہے اور پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صادق خان نے کہا کہ وہ میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں، جو واقعے سے متعلق مزید معلومات فراہم کرے گی۔

    صادق خان کا کہنا ہے کہ لندن کی یہودی برادری کو حالیہ عرصے میں یہود مخالف حملوں کا سامنا رہا ہے جو انتہائی تشویشناک ہیں۔

    انھوں نے لکھا کہ معاشرے میں یہود مخالف رویّوں کے لیے کسی صورت کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

  15. گولڈرز گرین میں چاقو حملہ ’انتہائی تشویشناک‘، وزیرِاعظم کیئر سٹارمر

    برطانوی پارلیمنٹ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں آج پیش آنے والا چاقو حملہ ’انتہائی تشویشناک‘ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک کو اس عزم کے ساتھ واضح رہنا ہوگا کہ ایسے جرائم سے نمٹنے کے لیے مؤثر کارروائی کی جائے گی، خاص طور پر ایسے واقعات کے تناظر میں جن کی حالیہ عرصے میں تعداد بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

  16. ایک شخص کو دکانوں کے باہر اور دوسرے کو یہودی عبادت گاہ کے باہر چاقو مارا گیا، مقامی رہائشی

    ہمارے پاس شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین سے مزید تفصیلات آ رہی ہیں جہاں ایک ملزم نے مبینہ طور پر یہودی افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

    مقامی رہائشی گیڈیل وائن برگ کے مطابق یہ حملہ تقریباً ان کے گھر کے باہر پیش آیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پولیس اور ایمبولینسوں کی آمد کی آواز سن کر انھیں واقعے کا علم ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ ایک چاقو حملہ زنی گولڈرز گرین روڈ پر دکانوں کے باہر ہوا، جبکہ دوسرا حملہ یہودی عبادت گاہ کے باہر کیا گیا۔

    ان کے مطابق ان کی سڑک کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے اور مسلح پولیس موقع پر موجود ہے۔

  17. بریکنگ, شمالی لندن میں چاقو کے حملے میں دو یہودی شدید زخمی

    شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں ایک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص کو ہائی سٹریٹ پر چاقو لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ ملزم نے مبینہ طور پر یہودی افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔

    یہودی کمیونٹی کی سکیورٹی تنظیم شومریم کے مطابق انھوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو قابو میں کر لیا۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ بعد ازاں پولیس موقع پر پہنچی جہاں ایک شخص کو ٹیزر کے ذریعے قابو کر کے گرفتار کر لیا گیا۔

    حملے میں دو یہودی مردوں کو چاقو کے وار سے شدید زخمی کیا گیا، جنھیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    زخمیوں کو ہٹزولا کی جانب سے ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اسی مقام کے قریب ہٹزولا کی ایمبولینسز کو نذرِ آتش کیے جانے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔

  18. امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گیا

    امریکی پابندیوں کے باعث ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

    کرنسی کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق، امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایرانی ریال کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

    ویب سائٹس بون باست اور الان چاند کے مطابق، بلیک مارکیٹ میں ایرانی ریال تقریباً 18 لاکھ ریال فی ڈالر کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جبکہ دو ماہ قبل جب جنگ شروع ہوئی تھی تو یہ شرح تقریباً 17 لاکھ ریال فی ڈالر تھی۔

    اگرچہ ایران میں سرکاری طور پر متعدد مقررہ زر مبادلہ کی شرحیں نافذ ہیں، تاہم یہ ویب سائٹس غیر سرکاری منڈی میں کرنسی کی قیمتوں کے اندازے کے لیے عام طور پر حوالہ جاتی اشاریے کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔

  19. بریکنگ, بہتر ہے ایرانی جلد از جلد ہوش کے ناخن لیں: ٹرمپ کی تنبیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر اسلامی جمہوریہ کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ہوش میں آجائیں۔

    انھوں نے لکھا، ’ایران حالات ٹھیک نہیں کر سکتا۔ ایرانوں کو معلوم ہی نہیں کہ جوہری ہتھیاروں سے پاک معاہدے پر دستخط کیسے کیے جاتے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے تنبیہ کی کہ ’بہتر ہے کہ وہ جلد ہوش کے ناخن لیں۔‘

    ٹرمپ نے کیپشن کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی جس میں انھوں نے بندوق اٹھا رکھی ہے۔

  20. تیل کا ہفتہ وار درآمدی بل 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے: شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے ایران امریکہ جنگ بندی میں توسیع ہوئی جو تاحال جاری ہے۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ 11 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مذاکراتی عمل شروع ہوا، جس میں پاکستان نے امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔

    شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بے پناہ کوششیں کی گئیں، جن میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور محسن نقوی سمیت دیگر اہم اراکین شامل تھے۔ ’انھوں نے دل سے بھرپور کاوشیں کیں تاکہ خطے میں امن قائم ہو۔ فیلڈ مارشل صاحب نے حوصلہ نہیں ہارا اور دن رات اس پر کام ہوتا رہا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیراعظم بھی اپنے ہم منصب سے مسلسل گفتگو کرتے رہے اور اسی کے نتیجے میں جنگ بندی میں توسیع ہوئی، جو اب تک جاری ہے۔ شہباز شریف نے بتایا کہ ’اس دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان آئے اور ان کے ساتھ بھی طویل نشستیں ہوئیں۔ گذشتہ ہفتے میں خود اسلام آباد میں ان سے ملا جس دوران جامع گفتگو ہوئی۔‘

    شہباز شریف نے سفارتی کوششوں کے سلسلے میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے کردار کی بھی تعریف کی۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان سے عباس عراقچی عمان گئے، وہاں سے پاکستان واپس آئے اور پھر روس روانہ ہوئے، جہاں سے وہ واپسی اختیار کر چکے ہیں۔

    ’روس جانے سے پہلے فون پر ان سے میری بات ہوئی، اور انھوں نے مجھے یقین دلایا کہ وزیراعظم کے ساتھ ہماری تفصیلی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور قیادت سے مشاورت کے بعد جلد از جلد جواب دیا جائے گا۔‘

    اجلاس کے دوران شہباز شریف نے ملک کی حالیہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے، اور ہفتہ وار تیل کا درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ تاہم مؤثر حکمت عملی کے باعث ملک میں تیل کی قلت یا لمبی قطاریں نہیں لگیں۔

    وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہتر مینجمنٹ کے باعث صورتحال قابو میں رہی۔ انھوں نے بتایا کہ توانائی کے تحفظ کے لیے ٹاسک فورس متحرک ہے اور کفایت شعاری کے اقدامات جاری ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بحران نے گذشتہ دو برس کی معاشی بہتری کی کوششوں کو متاثر کیا ہے، تاہم حکومت پُرعزم ہے کہ ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان 3.5 ارب ڈالر کے واجبات ادا کر چکا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں۔

    انھوں نے سعودی عرب کے تعاون پر ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انھوں نے متعلقہ کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھی جائے تاکہ جو سبسڈیز دی جا رہی تھیں، انھیں آئندہ بھی برقرار رکھا جا سکے، خصوصاً زراعت اور عوامی ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں۔