پی ٹی آئی کے جواب کا کل تک انتظار کریں گے، حکومت آئینی ترمیمی بِل کے ’مسترد شدہ‘ حصوں سے دستبردار ہوگئی: مولانا فضل الرحمان

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیمی بِل میں ’اختلافی اجزا تحلیل ہوچکے ہیں‘ تاہم پی ٹی آئی نے مسودے پر مشاورت کے لیے اتوار تک کا وقت مانگا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بِل پر ووٹنگ کروائیں گے۔

خلاصہ

  • وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کا بِل اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں پیش کیا جائے گا۔
  • مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کے بِل میں موجود ’اختلافی اجزا‘ تحلیل ہو چکے ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے اس پر مشاورت کے لیے کل تک کا وقت مانگا ہے اور وہ ان کے جواب کا انتظار کریں گے۔
  • قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کی دوپہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
  • بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی اور جے یو آئی (ف) میں 26ویں آئینی ترمیم پر 100 فیصد اتفاق ہو چکا ہے اور امید ہے کہ مولانا کے ڈرافٹ پر پی ٹی آئی بھی مان جائے گی۔
  • عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سنجیدہ معاملہ ہے، مولانا سے مشاورت جاری رکھی جائے۔
  • خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اگر نہ بھی مانے تو آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے پاس نمبر پورے ہیں۔
  • شہر لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ ریپ کے معاملے پر بنائی گئی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کو بے بنیاد قرار دے کر کہا کہ کالج انتظامیہ معاملے کو بروقت سنبھالنے میں ناکام رہی۔

لائیو کوریج

  1. آئینی عدالت کا ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا، برابری کی نمائندگی دینا ہو گی: بلاول بھٹو

    bilawal bhutto

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کا ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا اور آئینی عدالت بنانی پڑے گی، ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ خواب پورا ہو مگر آج بھی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک امتحان ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم یہ متفقہ طور پر 18 ویں ترمیم کی طرح یہ آئین سازی کریں۔

    حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں درج آئینی عدالت بنانا بینظیر بھٹو کا خواب تھا، اس وفاقی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی نمائندگی ہونی تھی، اس عدالت کا مقصد پاکستان کے آئین کا تحفظ کرنا تھا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وفاقی عدالت کے قیام سے عدالت میں ون یونٹ کی سوچ کو ختم کیا جائے، ان کا یہ مطالبہ اس لیے سامنے آیا تھا کیونکہ وہ ہمارے عدالتی نظام کو بہتر طریقے سے جانتی تھی، وہ جانتی تھی جب بھی موقع آیا عدالتوں نے عوام، آئین اور دستور کا ساتھ دینے کے بجائے آمر کا ساتھ دیا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ پاکستان کی عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ ہم آئینی عدالت بنانے جارہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام آئینی عدالت کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ برابری کی نمائندگی پر مبنی آئینی عدالت بنائی جائے تاکہ عوام کو فوری اور جلدی انصاف ملے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت بنانا بانی پاکستان محمد علی جناح کا مطالبہ تھا، اس کے بعد بینظیر بھٹو اور آج میں اور پاکستان کی عوام اس کا مطالبہ کر رہے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس نامکمل مشن کو مکمل کرکے دکھائیں گے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نےکہا کہ ہمارا مطالبہ انصاف اور برابری کا ہے، عوام سوال کرتی ہے کہ آپ نے ہر آمر کے لیے دروازے کھولیں ہیں، جب تک یہ عدالت اپنی مرضی کے مطابق چلے گی تب تک پاکستان کی عوام کو انصاف نہیں مل سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ برابری کا ہے، جب اس ملک کی سب سے بڑی عدالت آئین، وفاق، صوبوں اور وفاق کے مسائل پر فیصلے دے تو اس عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی نمائندگی ہو۔

    انھوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا قیام ہمارا دہائیوں پر مبنی مطالبہ ہے، آپ کو ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا اور آئینی عدالت بنانی پڑے گی، ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ خواب پورا ہو مگر آج بھی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک امتحان ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم متفقہ طور پر 18 ویں ترمیم کی طرح یہ آئین سازی کریں۔

    بلاول بھٹو نے کہا ہم سے جو ہوسکا ہم نے وہ کرلیا، میں نے کہا بینچ بنا لیں لیکن برابری کی نمائندگی دیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ذوالفقار بھٹو کی پھانسی اور فیض آباد دھرنے جیسے معاملات پر جرات مندانہ فیصلے سنانے پر سلام پیش کرتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا آئین سازی اکیلے نہیں کرنا چاہتا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر متفقہ طور پر سرانجام دینا چاہتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں متفقہ طور پر ترمیم کرنے کے بجائے اکثریتی فیصلے سے ترمیم کرنے پر مجبورنہ کیا جائے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن سے آج رات ایک آخری درخواست کریں گے کہ آئینی عدالت کے قیام پر رضامند ہو جائیں تاکہ ہم اس کام کو جمہوری اور غیر متنازعہ طریقے سے سرانجام دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے آخری موقع ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں، سیاسی جماعتوں نے سمجھوتہ کرلیا ہے، ہم متحد ہو چکے ہیں، چاہتے ہیں کہ یہ کام اپوزیشن کے ساتھ مل کر کیا جائے، اسلام آباد جاکر آئینی ترمیم کےلیے ایک آخری کوشش کروں گا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن اگر اتنے سارے سمجھوتوں کے باوجود یہ کام نہیں کرسکتی تو پھر مجبوراً ہمیں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اکثریت کے طور پر قانون سازی کرنی پڑے گی، اگر اپوزیشن ہمارے ساتھ اس کام کو کرنے پر رضامند نہیں ہوں گی تو پھر ہمیں متنازعہ راستہ چننا پڑے گا، اس طریقے سے ملک میں سیاسی کشیدگی کم ہونے کے بعد بڑھے گی۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مسودے پر تمام جماعتوں کو اکٹھا کرکے اسے قومی اسمبلی میں پیش کریں گے اور اگر وہ یہ کام نہ کرسکے تو حکومت کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ اس فریضے کو سرانجام دوں گا۔

  2. لبنان میں جنگ بندی ممکن لیکن غزہ جنگ کا خاتمہ مشکل ہے: بائیڈن

    Biden

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کی جانب بڑھنا ممکن ہے لیکن غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہونا مشکل ہو گا۔

    انھوں نے یہ بیان برلن کے اپنے ایک روزہ دورے کے موقع پر دیا جہاں ان کی ملاقات جرمن چانسلر اولاف سکولز، فرانسیسی ایمانوئل میکخواں اور برطانوی وزیر اعظم سٹارمر سے ملاقات کی۔

    ان سے رپورٹرز کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ اسرائیل ایران کے میزائل حملوں کا کیسے اور کب جواب دے گا، بائیڈن نے ہاں میں جواب دیا، لیکن انھوں نے مزید کوئی وضاحت نہیں کی۔

    یاد رہے کہ ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر تقریباً 200 بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ اسرائیل کی فوج کے مطابق، زیادہ تر میزائلوں کو مار گرایا گیا تھا۔

  3. ایران کے خلاف اسرائیل کی جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد اب کیا صورت حال ہے, فرینک گارڈنر، سکیورٹی امور کے نامہ نگار

    یہ مشرق وسطی میں پے در پے پیش آنے والے واقعات سے بھرپور شب و روز ہیں اور ان حالات کا جلد سنبھلنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

    بیروت، تہران اور غزہ میں قتل و غارت، لبنان میں فضائی حملے، شمالی اسرائیل میں ڈرون حملے، یا بیروت سے دور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگوؤں کا بحری جہازوں کے نشانے لینا۔

    ان تمام واقعات کے درمیان اسرائیل پرعزم ہے کہ وہ ایران کی جانب سے یکم اکتوبر کو داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے بڑے حملوں کا اس کو منہ توڑ جواب دے گا۔

    دو ہفتوں سے زیادہ گزرنے کے بعد یہ سوچنے میں تو اب بھی بہت خوش کن لگتا ہے کہ شاید امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال سکے۔

    بہرحال آخری چیز جو وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹس چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یا تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جائے یا مشرق وسطیٰ کو ایک اور جنگ میں گھسیٹا جائے۔

    یہ سب کچھ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے آس پاس ہو رہا ہے۔

    تاہم اسرائیلی فوجی منصوبہ سازوں نے پچھلے 17 دنوں کا زیادہ تر حصہ سینٹ کام اور مشرق وسطیٰ سے متعلق یو ایس سینٹرل کمانڈ سمیت اپنے دیگرامریکی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت میں گزارا ہے۔

    اس گفتگو میں ایران کی جوہری تنصیبات اور تیل کی تنصیبات ممکنہ طور پر تاحال ان کا اہداف نہیں اس لیے یہ خیال بھی کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی جوابی کارروائی جب بھی ہو گی اس میں ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب کے اڈوں کو ترجیحی بنیادوں پر نشانہ بنایا جائے گا۔

  4. حماس کے سینیئر رہنما کی یحییٰ السنوار کی ہلاکت کی تصدیق: ’ان کی موت تنظیم کو مزید مضبوط کرے گی‘

    khalil

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس کے ایک سینیئر رہنما خلیل الحیا نے تنظیم کے سربراہ یحییٰ السنوار کی غزہ میں ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

    اپنے ایک ویڈیو بیان میں خلیل الحیا نے کہا کہ السنوار لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

    سینیئر حماس رہنما نے کہا ہے کہ تنظیم فلسطینیوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے راستے پر چلتی رہے گی اور السنوار کی موت تنظیم کو مزید مضبوط کرے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو اس وقت تک واپس نہیں کیا جائے گا جب تک غزہ میں حملے بند نہیں کیے جاتے اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہیں ہو جاتا۔

    خلیل الحیا حماس کے السنوار کے بعد سب سے سینیئر رہنما ہیں۔

    خیال رہے کہ السنوار کو جمعرات کو غزہ میں اسرائیلی افواج کی ایک معمول کی گشت کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔

    اسرائیلی فوج سات اکتوبر کے حملوں کے منصوبہ ساز کو ایک سال سے تلاش کر رہی تھی جو غزہ میں روپوش ہو چکے تھے۔

  5. آئینی ترمیم پر اپنا حتمی اعلان عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کریں گے: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آج حکومت کا چوتھا ڈرافٹ موصول ہوا ہے اور ہم اس کا شق وار جائزہ لیا ہے تاہم حتمی اعلان عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کریں گے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران آئینی مسودے پر تفصیل کے ساتھ مشاورت ہوئی ہے۔‘

    ان کے مطابق ’ابھی ہماری مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات جاری تھی کہ خبر موصول ہوئی کہ کمیٹی نے مسودہ منظور کر لیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتے سے عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی ۔ بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات کی کوشش کریں گے اور ان سے آگے کے لیے رہنمائی لیں گے اور پھر حتمی اعلان کریتں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران بلاول بھی آئے تھے اور ہماری ان کے ساتھ سلام دعا ہوئی ہے لیکن مسودے سے متعلق کوئی بات ان کے ساتھ نہیں ہوئی۔

  6. قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش نہ ہونے تک کوئی مسودہ حتمی نہیں تاہم تب تک یہ ’انتہائی فائنل‘ مسودہ ہے: فاروق ستار

    ایم کیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ آج تمام جماعتوں نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق کیا ہے۔

    فاروق ستار نے خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ آج جو ڈرافٹ فائنل ہوا یہی حتمی ہے۔

    فاروق ستار کے مطابق ’ ہماری تجویز ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کا حق دیا جائے۔ اور ہماری تجویز پر بیشتر ارکان نے اتفاق کیا ہے۔‘

    فاروق ستار کے مطابق مسودہ پر تقریبا اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب تک قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مسودہ پیش نہیں ہوتا کوئی مسودہ حتمی نہیں ہوگا لیکن یہ مسودہ قبل از پیشگی انتہائی فائنل مسودہ ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نکات پر مخالفت نہیں کر رہی بلکہ محض سیاسی بنیادوں پر اپنی پالیسی کے مطابق مخالفت کررہی ہے۔

  7. سیاسی قوت سے آئینی ترمیم منظور کر کے دکھائیں گے، بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کا تقریباً اتفاق رائے ہوچکا ہے، کوشش ہے جلد از جلد اتفاق رائے سے آئینی ترمیم منظور کرالیں۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ سیاسی اتفاق رائے سے 26 ویں آئینی ترمیم کو مکمل کرکے میثاق جمہوریت میں عوام سے کیے گئے وعدے کو پورا کریں۔

    انھ وں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات پر پیپلزپارٹی ،جے یوآئی اور مسلم لیگ کااتفاق ہوچکا ہے، ہم اپنی سیاسی طاقت سے آئینی ترمیم کرکے دکھائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے جو بھی جائز مطالبات اور شکایات ہیں انھیں گزشتہ رات وزیر اعظم کے سامنے رکھا ہے۔

  8. بریکنگ, 26ویں آئینی ترمیم کا مسودہ متفقہ طور پر منظور ہو گیا: خورشید شاہ

    چھبیسویں آئینی ترمیم سے متعلق پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے سربراہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئررہنما خورشید شاہ نے تصدیق کی ہے کہ آئینی ترمیم کا مسودہ متقفہ طور پر منظور ہو گیا ہے۔

    خورشید شاہ نے آئینی ترمیم سے متعلق پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترمیم کا مجوزہ متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔

    خورشید شاہ نے کہا کہ ’کمیٹی نے متفقہ منظور کیے گئے مسودے کو کل وفاقی کابینہ میں پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔‘

    ان کے مطابق منظور مسودے کی منظوری کابینہ دے گی۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

    مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کی وضاحت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق مجھے علم نہیں۔‘

  9. الیکشن ایکٹ میں ترامیم کا اطلاق 12 جولائی کے فیصلے پر نہیں ہوتا، مخصوص نشتسوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آٹھ ججز کی دوسری بار وضاحت جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGETTY

    سپریم کورٹ کے آٹھ ججز کی جانب سے جمعے کی سہہ پہر مخصوص نشستوں سے متعلق ایک اور وضاحت سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے۔

    دو صفحات پر مشتمل اس وضاحت میں یہ کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں اس کا اطلاق سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے پر نہیں ہوتا۔

    سپریم کورٹ کے آٹھ ججز کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مخصوص نشستوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس جمعے کی صبح منعقد تو ہوا تاہم تا دم تحریر اجلاس کے کسی فیصلے سے الیکشن نے اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

    ایسے میں مخصوص نشستوں پر اکثریتی فیصلہ سنانے والے ججوں نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے اپنے 12 جولائی کے فیصلے پر ایک اور وضاحت جاری کردی ہے۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے 14 ستمبر کو بھی ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو الاٹ کرے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی سماعت کی اور اس 13 رکنی بینچ میں سےآٹھ ججز نے یہ نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس میں فریق ہی نہیں تھی۔

    سپریم کورٹ کے آٹھ ججز کی جانب سے جمعے کے روز جاری ہونے والی اس دوسری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن کمیشن نے 12 جولائی کے فیصلے اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے متعلق وضاحت کے لیے متفرق درخواستیں دائر کی تھیں اور ان درخواستوں کی سماعت ان چیمبر ہوئی ہے۔

    اس دوسری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ تفصیلی فیصلے میں مخصوص نشستیں دینے سے متعلق وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے۔

    اس وضاحت میں یہ کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ہونے والی ترامیم سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہو سکتیں اور الیکشن کمیشن بغیر کوئی وضاحت طلب کیے سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے پر عمل درآمد کرے کیونکہ آئین کے ارٹیکل 189 کے تحت ہر ادارہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا پابند ہے۔

    جن آٹھ ججز نے دوسری مرتبہ وضاحت جاری کی ہے اس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس حسن اظہر رضوی ، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس عرفان سعادت سامل ہیں۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں سے متعلق قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر کی جانب سے لکھے گئے خطوط پر ابھی تک فیصلہ نہیں کرسکا ہے۔

    قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے سپیکرز نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا کہ چونکہ الیکشن ایکٹ میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق قانون تبدیل ہوچکا ہے اس لیے الیکشن کمیشن اس فیصلے کی روشنی میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ کرے۔

  10. حکومت پاکستان کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی اور سزا معافی کے لیے امریکی صدر کو خط, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ، اسلام آباد

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@Aafiamovement

    ،تصویر کا کیپشنعافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومتی اہلکاروں پر مبینہ قاتلانہ حملے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا اور انھیں 86 سال قید کی سزا دی تھی

    حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی اور سزا معافی کے لیے امریکی صدر کو خط لکھ دیا ہے۔

    ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کی درخواست پر سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے اس پیشرفت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا ہے۔

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے عمران شفیق ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    یاد رہے کہ مارچ 2003 میں پاکستانی نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ کراچی سے لاپتہ ہوئی تھیں۔ انھیں افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کے الزام میں 2010 میں امریکہ میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    امریکی محکمۂ انصاف نے انھیں ’القاعدہ کی رکن اور سہولت کار‘ قرار دیا تھا۔

    تاہم عافیہ صدیقی کے حامی سزا کے اس فیصلے کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے ان کی پاکستان واپسی کی تحریک چلائی جا رہی ہے جس کی سربراہی ان کی اپنی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    ڈاکٹر عافیہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر عافیہ مارچ 2003 میں کراچی سے لاپتہ ہو گئی تھیں

    عافیہ صدیقی: امریکہ سے تعلیم یافتہ خاتون جن کا افغانستان پہنچنا آج تک معمہ ہے

    امریکہ سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر عافیہ مارچ 2003 میں کراچی سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ ان کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے قبل تین بچوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

    تاہم پاکستانی اور امریکی حکام اس کی تردید کرتے آئے ہیں۔

    امریکہ نے جولائی 2007 میں ان کی افغانستان سے حراست کو ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ڈاکٹر عافیہ نے امریکی فوجیوں پر فائرنگ کر کے انھیں قتل کی کوشش کی۔

    ایف بی آئی اور نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی کی طرف سے عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے میں جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں غزنی کے صوبے سے گرفتار کیا گیا۔

  11. سینیٹ اور خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے وقت میں تبدیلی

    پارلیمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعے کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے وقت میں تبدیلی کے بعد اب سینیٹ اور خصوصی کمیٹی کے اجلاس کا وقت بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔

    اس سے قبل آج سینیٹ کا اجلاس دوپہر دو بجے طلب کیا گیا تھا لیکن نئے شیڈول کے مطابق ایوان بالا کا اجلاس جمعے کی شام چھ بجے ہو گا جس کا سینیٹ سیکریٹریٹ نے ایجنڈا بھی جاری کردیا ہے۔

    اس سے قبل جمعے کے روزصبح 11 بجے طلب کیے جانے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت بھی تبدیل کے اب شام چھ بجے کر دیا گیا تھا۔

    دوسری جانب آئینی ترمیم پر مشاورت کے لیے قائم پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کا وقت بھی تبدیل کردیا گیا ہے اور اب اجلاس دوپہر ڈیڑھ بجے کے بجائے سہہ پہر تین بجے کے لیے شیڈول کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اتفاقِ رائے پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں کے آئینی ترمیمی مسودوں کا جائزہ بھی لیا جانےکا امکان ہے۔۔

  12. بلوچستان کی وکلا تنظیموں کا آئینی ترمیم منظور ہونے کی صورت میں احتجاج کا اعلان، بی این پی کا پارٹی کے سینیٹرز کو دباؤ میں لانے کا الزام, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی کے سینیٹر قاسم رونجھو کو ان کے بیٹے اور ڈرائیور سمیت ’سرکار کے لوگ‘ اٹھا کر لے گئے ہیں جبکہ بی این پی کی سینیٹرنسیمہ احسان کے خاوند اور بیٹے سے تاحال ان کا رابطہ نہیں ہوپا رہا اور انھیں اٹھا لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بوچستان سے تعلق رکھنے والی وکلا تنظیموں نے آئینی ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان آئینی ترامیم کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو سینیٹر اور ان کے رشتہ دار لاپتا نہیں کیے جاتے۔’

    یاد رہے کے چھبیسویں آئینی ترمیم کے لیے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے ان دنوں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں جس میں حکومت کی جانب سے انھیں اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور اس ترمیم کے لیے پارلیمان کی سیاسی جماعتیں اپنی تجاویز پیش کر رہی ہیں۔

    حکومت کو حتمی مسودے کی تیاری کے بعد اس کو منظور کروانے کے لیے ایوان میں دو تہائی اکثریت کی بھی ضرورت ہے۔

    بی این پی کے سربراہ سردار اخترمینگل قومی اسمبلی میں واحد رکن تھے جنھوں نے بطور احتجاج چند روز قبل ہی قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ سینیٹ میں پارٹی کے ایک خاتون سمیت دو سینیٹرز ہیں۔

    ساجد ترین ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بی این پی کے سینیٹرز پر آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

    پارٹی کے قائم مقام صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ’سینیٹرقاسم رونجھو گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ بدھ کے روز الشفا ہسپتال ڈائیلاسز کے لیے گئے تھے جہاں سے ان کے بقول سینیٹر، ان کے بیٹے اور ڈرائیور کو سرکار کے لوگ اٹھا کر لے گئے۔‘

    انھوں نے بتایا کی ’پارٹی کی خاتون سینیٹر نسیمہ احسان شاہ کے بیٹے کو کوہسار کے علاقے سے بدھ کے روز ایک چیک پوسٹ سے اٹھایا گیا جبکہ ان کے شوہر سیّد احسان شاہ کو گزشتہ روزپارلیمنٹ لاجز سے لے جایا گیا۔‘

    ’حکومت پارٹی کے سینیٹرز کو آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے حربے استعمال کر رہی ہے‘

    ساجد ترین ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ طور پر حکومت کی جانب سے یہ حربے اس لیے استعمال کیے جارہے ہیں تاکہ پارٹی کے سینیٹرز کو آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے مجبور کیا جائے۔

    ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’نہ صرف سینیٹر بلکہ دوسرے لوگوں کے فون نمبر بند جارہے ہیں اس لیے ان سے رابطہ نہیں ہوپارہا ہے۔‘

    بی این پی کی خاتون سینیٹر نسیمہ احسان شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے انھیں سرکاری اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ روز چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کرکے انھیں صورتحال سے آگاہ کیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ پارٹی کے سینیٹر اور دیگر لوگوں کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کریں گے۔‘

    آئینی ترامیم کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے،غیر قانونی طور پر منظور کی تو تحریک چلائیں گے: بلوچستان کی وکلا تنظیموں کا اعلان

    بوچستان سے تعلق رکھنے والی وکلا تنظیموں نے حکومت کی جانب سے لائی جانے والی آئینی ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان آئینی ترامیم کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے۔

    کوئٹہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی احمد کرد ایڈووکیٹ، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار راحب بلیدی ایڈووکیٹ اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرافضل حریفال ایڈووکیٹ نے خبردار کیا کہ اگر ان آئینی ترامیم کو لاکر غیر قانونی طور پر منظور کرایا گیا تو وکلا سول سوسائٹی اور طلبا کے ساتھ مل کر ان کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے۔

    علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ ان ترامیم کے پیچھے نہیں ہوتی تو سینیٹر اور ان کے رشتہ دار لاپتا نہیں کیے جاتے۔’

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’آئینی ترامیم کا ڈھکوسلہ اس لیے رچایا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ کسی طرح چیف جسٹس نہیں بن سکیں۔ لیکن وہ جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس بننے سے نہیں روک سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس نہیں بنے تو پھر عدالتوں سے جرنیلوں، اسٹیبلشمنٹ اور بڑے بڑے مافیاز کی مرضی کے مطابق فیصلے ہوں گے۔‘

  13. ضلع کرم میں ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ: مخالف دھڑوں کے درمیان فائرنگ میں چار افراد ہلاک اور دو زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ایک مرتبہ پھر سے حالات کشیدہ ہیں اور مقبل پنج علیزئی شینگک علاقے میں مخالف دھڑوں کے درمیان فائرنگ جاری ہے۔

    حالیہ واقعے میں گذشتہ روز چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک ہفتے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 20 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق گذشتہ روز سرحدی علاقے شینگک میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے کھیتوں میں موجود افراد پر فائرنگ کی جس میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس کے بعد مقامی افراد نے حملہ آوروں کا تعاقب کیا۔ مقامی افراد نے بتایا ہے کہ دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    ضلع کرم کے صدر مقام پاڑہ چنار میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید میر حسین جان نے بتایا کہ گذشتہ روز دو لاشیں اور پانچ زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں جنھیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    یاد رہے ایک ہفتہ قبل بھی اسی علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں دو افراد زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد مسافر گاڑیوں پر حملے کا واقعہ پیش آیا جس میں پندرہ افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے تھے۔

    اس واقعہ کے بعد سے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں جس وجہ سے ضلع کرم کا کوہاٹ اور پشاور سے ایک ہفتے سے زمینی رابطہ منقطع ہے اور علاقے میں خور دو نوش کی اشیا کی قلت پید ہو گئی ہے۔

    ڈاکٹر میر حسن جان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کرم میں ہر ماہ یہ جھڑپیں شروع ہو جاتی ہیں جس میں بھاری جانی نقصان ہوتا ہے تاہم کچھ عرصے سے ہر چند روز بعد فائرنگ سے ہلاک اور زخمی افراد کو ہسپتال لایا جارہا ہے۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ گذشتہ روز کرم میں گرینڈ جرگہ اراکین اور عمائدین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع کرم میں مختلف دھڑوں کے درمیان بار بار فائرنگ اور جنگ بندی کے معاہدوں کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے اور نہ ہی جرگے کی کوششوں سے ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

    اس جرگے میں ہنگو، اورکزئی اور کوہاٹ کے عمائدین شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مری معاہدے پر اہل تشیع اور اہل سنت میں رضا مندی پائی جاتی ہے۔

    ان عمائدین نے کہا ہے کہ جہاں معاہدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے وہاں حکومت کی جانب سے کارروائی ہونی چاہیے اور اگر حکومت کارروائی نہیں کرتی تو پھر ان معاہدوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

    بی بی سی نے اس بارے میں ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود اور ضلعی پولیس افسر احمد شاہ سے رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

  14. عظمیٰ بخاری: 9 مئی پارٹ ٹو والی لوٹ مار کی گئی، ایک بچی کے نام پر تین بچیوں کی تصاویر لگا کر ان کی زندگیاں خراب کی گئیں

    پنجاب کی صوبائی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کے نجی کالج میں طالبہ کے مبینہ ریپ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں اور ایک بچی کے نام پر تین مختلف بچیوں کی تصاویر لگا کر ان کی زندگیاں خراب کی گئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو ہم اسے دیکھنے کو تیار ہیں لیکن اگر واقعہ نہیں ہوا تو اس واقعہ کو بنیاد بنا کر بنگلہ دیش ماڈل کو نافذ کرکے پاکستان کو آگ لگانے اور ملک کا استحکام خراب کرنے اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انھوں نے تحریکِ انصاف پر الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے آفیشل ہینڈلز سے طلبہ سے احتجاج میں شامل ہونے کی باقاعدہ کالز دی گئیں کہ ’آپ شامل ہوں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘

    عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ کسی صحافی، سیاستدان، وکیل یا طالبلعم کو ملک کا امن و امان خراب کرنے کا لائسنس نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک بچی نے چیف منسٹر سے رابطہ کیا کہ میری بہن جس کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے، اس کی تصویر لگا کر کہا گیا کہ یہ وہ متاثرہ لڑکی ہے جس کا ریپ ہوا۔‘ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ’ایک اور بچی جو دورانِ احتجاج بے ہوش ہوئی، اس کی ویڈیو شئیر کرکے کہا گیا یہ وہ متاثرہ لڑکی ہے جس کا ریپ ہوا‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ والدین جن کے بچے اس فساد میں ایندھن کی طرح استعمال ہو رہے ہیں، میری ان سے درخواست ہے کہ ان بچوں کو ملک کو آگ لگانے کی اجازت نہ دیں۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ کل میں نے تھانوں کے باہر والدین کی ویڈیوز دیکھیں جنھیں نہیں معلوم ان کے بچوں نے کیا کر دیا ہے۔ عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ 9 مئی پارٹ ٹو والی لوٹ مار کی گئی ہے، عمارتوں کو آگ لگائی گئی، سکولوں اور کالجوں کے بچوں نے لوٹ ٹاپ لوٹے۔

  15. لاہور میں ریپ کی افواہ اور مظاہروں پر ہائیکورٹ کا فل بینچ تشکیل: ’آپ نے ویڈیو وائرل ہونے سے کیوں نہیں روکی؟‘ چیف جسٹس

    آج لاہور ہائیکورٹ میں شہر کے تعلیمی اداروں میں حالیہ واقعات سے متعلق اعلی سطح تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے بعد چیف جسٹس نے فل بنچ تشکیل دیا ہے جو منگل کے روز تعلیمی اداروں میں ہونے والے حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلنے کے حوالے سے سماعت کرے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عظمی بخاری اور اعظم بٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں خواتین غیر محفوظ ہیں اور ہراسانی اور تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ درخواست میں تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات پر اعلی سطح انکوائری اور طالبات کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی استدعا کی گئی تھی۔

    آئی جی پنجاب عثمان انور، ایڈووکیٹ جنرل ،رجسٹرار یونیورسٹی فار ویمن یونیورسٹی عدالت کے حکم پر پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ’آپ نے بچی کی ویڈیو وائرل کرنے سے کیوں نہیں روکا؟‘ جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پی ٹی اے سے رابطہ کیا تھا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آج 18 تاریخ ہے ویڈیو 13 اور 14 تاریخ کو وائرل ہونا شروع ہوئی۔ 700 سے زائد سوشل اکاؤنٹس سے ویڈیو وائرل ہوئیں۔ آپ جاگتے اس وقت ہیں جب سب کچھ جل چکا ہوتا ہے۔‘ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے متعلقہ اتھارٹیز سے رابطہ تاخیر سے کیوں کیا؟

    جس پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے فوری ایف آئی اے سے رابطہ کیا تھا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کے ’آئی جی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے آپ نے بچوں کو سٹرکوں پر آنے دیا۔ آپ ہمیں دو دن کا حساب دینا ہے آپ 14 اور 15 کو کہاں تھے۔ آپ نے دو دن کچھ نہیں کیا بس انتظار کرتے رہے۔ آج بھی ٹک ٹاک، فیس بک اور ایکس پر ویڈیوز پڑی ہیں۔‘

    آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے کچھ ویب سائٹس کو بند کرنے کی درخواست بھیجی ہے وہ ابھی تک بند نہیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کو اپلوڈ ہونے سے روکنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو بچیاں سٹرکوں پر آئیں اگر انھیں کچھ ہو جاتا اس کا ذمہ دار کون تھا۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے عدالت کو بتایا کہ 12 اکتوبر کو ایک انسٹاگرام پوسٹ سے کہا گیا کہ ’نجی کالج میں لڑکی کا ریپ ہوا ہے۔ اسی دن ایس ایس پی متعلقہ کیمپس گئیں اور تحقیقات شروع کردی۔ فرسٹ ائیر کے بچوں کے اپنے واٹس ایپ گروپ ہیں جن پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا۔‘

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’انسٹاگرام کی پوسٹ واٹس ایپ گروپس میں شیر ہوئیں مگر کسی کو نہیں معلوم کہ کس کا ریپ ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ پیر کے روز تک کوئی متاثرہ بچی سامنے نہیں آئی۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ’اس دوران دو اکتوبر کو ایک بچی گھر میں گرتی ہے جسے جنرل ہسپتال لایا جاتا ہے وہاں پر تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں۔‘

    ایڈووکیٹ جنرل خالد اسحاق نے عدالت کو بتایا کہ بچی کی تمام میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کر دی ہیں۔ کالج سے غیر حاضر ہونے پر اس بچی کو واقعے میں متاثرہ قرار دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بچی الحمداللہ زندہ ہے مگر اس کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

    جس کے بعد چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے سوال کیا کہ پنجاب یونیورسٹی میں بچی کی خودکشی کے متعلق بتائیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انھوں نے روزنامچہ ساتھ لانے کو کہا تھا۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا جب بچی کی لٹکی ہوئی لاش کو اتارا گیا لیڈی پولیس کانسٹیبل ساتھ تھیں؟ روزنامچے میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ دونوں بہنیں ایک کمرے میں رہائش پذیر تھیں اور اس بچی کے والدین نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا ہے۔

    آئی جی پنجاب نے بتایا کہ متاثرہ بچی کے والدین کورٹ روم میں موجود ہیں۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ بچی کے موبائل فون سے موبائل نمبرز اور لوکیشن نکال رہے ہیں۔ اوکاڑہ سے کچھ چیزیں ملی ہیں مگر ہماری وہ رپورٹ سیکرٹ ہے۔ بچی نے کیوں خودکشی کی، تمام پہلوؤں پر کام کررہے ہیں۔

    اس کے بعد چیف جسٹس نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے واقعے کے متعلق استفسار کیا کہ وہاں مرد کلرک کا کیا کام ہے؟

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ 14 اپریل کو ایک لڑکی کی شکایت آئی جس پر یونیورسٹی نے کمیٹی بنائی۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس بندے کے خلاف اب تک کتنی شکایات موصول ہوئیں؟

    رجسٹرار لاہور کالج نے عدالت کو بتایا کہ ہماری ہراسمنٹ کمیٹی بہت ایکٹو ہے اور اس بندے کے خلاف ایک شکایت آئی اور ہم نے مذکورہ شخص کو معطل کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس شخص کے پاس طالبہ کا نمبر کیسے آیا ؟ جس پر رجسٹرار لاہور کالج نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی یہ ہے کہ وہ نمبر مزکورہ شخص کا نہیں تھا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں؟ کوئی ڈاکومنٹ دکھائیں۔ جس پر رجسٹرار لاہور کالج کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فل بنچ منگل کے روز ان حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلنے کے حوالے سے سماعت کرے گا۔

    عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو ان حالیہ واقعات کے حوالے سے تفتیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔

  16. پاکستان میں آج کیا ہو رہا ہے؟ اہم خبروں پر ایک نظر

    • پاکستان تحریکِ انصاف آج ’عمران خان کی قید اور غیر آئینی ترامیم کے خلاف‘ نمازِ جمعہ کے بعد ملک گیر احتجاج کر رہی ہے۔
    • حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر میں دو دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کا اطلاق جمعہ 18 اکتوبر سے سنیچر 19 اکتوبر تک ہو گا۔ اس دوران پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس جیسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
    • ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی جلوس دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے لہذا امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے
    • حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں آج چھٹی دے دی ہے۔ پنجاب بھر میں تمام نجی و سرکاری سکول، کالج اور یونیورسٹیاں آج بند رہیں گی۔ حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں چھٹی کا فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سفارش پر کیا گیا ہے
    • راولپنڈی پولیس کے مطابق اب تک مظاہروں میں شامل 380 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر شہر کے آٹھ تھانوں میں ایف آئی آر درج ہیں
    • قومی اسمبلی کے آج منعقد ہونے والے اجلاس کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے اب یہ اجلاس دن 11 بجے کے بجائے شام 6 بجے منعقد ہو گا۔ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج صبح گیارہ بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہو گا
  17. مولانا کی تنبیہ کے بعد رات کے تیسرے پہر وزیراعظم جے یو آئی رہنما کے گھر پہنچ گئے

    اس سے کچھ دیر قبل ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو تنبیہ دی ہے کہ اگر ’حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے نہ رکے تو ہم آئینی ترمیم پر مذاکرات روک دیں گے۔‘

    نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی اس تنبیہ کے بعد رات گئے وزیراعظم شہباز شریف مولانا کے گھر پہنچ گئے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق رات کے تیسرے پہر ہونے والی اس ملاقات میں بلاول بھٹو زردرای، اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے علاوہ نوید قمر بھی موجود تھے۔

    اگرچہ اس ملاقات کے بعد حکومت یا مولانا کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم نجی ٹی وی کے مطابق مولانا بضد ہیں کہ جب تک ان کا اغوا کیا گیا رکنِ پارلیمان واپس نہیں آ جاتا وہ آئینی ترمیم پر کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔

    یاد رہے گذشتہ شام پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ایک طرف ہمارے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں دوسری طرف ہمارے اراکینِ پارلیمنٹ کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ایک کو اغوا کیا جا چکا ہے۔

    انھوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صبح تک یہ ساری صورتحال تبدیل ہونی چاہیے اگر ایسا نہ ہوا تو کل ہم اس اس سے بھی سخت فیصلہ دے سکتے ہیں۔

  18. اگر حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے نہ رکے تو ہم آئینی ترمیم پر مذاکرات روک دیں گے: مولانا فضل الرحمن کی تنبیہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ہمیں کچھ ایسی رپورٹس مل رہی ہیں کہ حکومت ہماری مفاہمت کے رویے کو آسان نہیں لے رہی۔ ایک طرف ہمارے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں دوسری طرف ہمارے اراکینِ پارلیمنٹ کو ہراساں کیا جا رہا ہے تو کسی کو اغوا کیا جا رہا ہے۔ ایک کو دھمکیاں دی گئیں، ایک اور کو بڑی بڑی رشوتیں پیش کی گئیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے ایک آدھ رکنِ پارلیمان اس وقت اغوا ہو چکے ہیں جن کے بچے میرے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

    گذشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے پاکستان تحریکِ انصاف کے وفد سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جس طرح آج شاہ محمود قریشی کی بہو کے ساتھ ہوا اور اختر مینگل صاحب کی طرف سے بھی شکایات آ رہی ہیں، اگر حکومت کا یہی رویہ رہتا ہے اور حکومت یہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا چاہتی ہے تو پھر ہم مجبور ہوں گے کہ ان کے ساتھ آئینی ترمیم پر مذاکرات کا عمل روک دیں کیونکہ پھر ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

    انھوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں مطمئن کریں ہم آپ کو مطمئن کریں گے اور سیاست کے میدان میں یہی ہوتا ہے مگر جو حرکتیں آپ کر رہے ہیں، ہم نے پہلے بھی یہ قبول نہیں کیں اور آگے بھی قبول نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ہمارے خلوص، سنجیدگی اور نیک نیتی کا مذاق اڑاتے رہیں، یہ نہیں چلے گا اور ہم واضح کر رہے ہیں کہ صبح تک یہ ساری صورتحال تبدیل ہونی چاہیے اگر ایسا نہ ہوا تو کل ہم اس اس سے بھی سخت فیصلہ دے سکتے ہیں۔

    انھوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں مطمئن کریں ہم آپ کو مطمئن کریں گے اور سیاست کے میدان میں یہی ہوتا ہے مگر جو حرکتیں آپ کر رہے ہیں، ہم نے پہلے بھی یہ قبول نہیں کیں اور آگے بھی قبول نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ہمارے خلوص، سنجیدگی اور نیک نیتی کا مذاق اڑاتے رہیں، یہ نہیں چلے گا اور ہم واضح کر رہے ہیں کہ صبح تک یہ ساری صورتحال تبدیل ہونی چاہیے اگر ایسا نہ ہوا تو کل ہم اس اس سے بھی سخت فیصلہ دے سکتے ہیں۔

    social media

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    ’پی ٹی آئی پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت ہے جسے آئینی ترمیم کے عمل سے لاتعلق نہیں رکھا جا سکتا‘

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں مولانا نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور ہم نے پوری فراخدلی کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کیے ہیں اور اپنا نقطہ نظر دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کے پہلے ڈرافٹ کو مسترد کر دیا تھا اور وہ ڈرافٹ ہمیں کسی قیمت پر قبول نہیں ہو گا۔ اور افہام و تفہیم سے ترمیم کی جانب بڑھنے کے عمل کو خوش آمدید کہا ہے۔

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ لاہور میں تین پارٹیاں اکھٹی ہوئیں اور کچھ چیزوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا اور کچھ پر مشاورت جاری ہے اور متنازعہ شکوں پر بھی ہم مفاہمت کے قریب ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ آج ہم پی ٹی آئی سے ملے ہیں اور انھیں تفصیل سے ساری صورتحال سے آگاہ کیا ہے ’پی ٹی آئی پاکستان کی ایک بڑی جماعت ہے جسے آئینی ترمیم کے عمل سے لاتعلق نہیں رکھا جا سکتا‘ مزید یہ کہ اس ترمیم کے حوالے سے تمام اپوزیشن پارٹیوں کو آن بورڈ لیا جانا چاہیے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ترمیم کے حوالے سے پی ٹی آئی کا رویہ بہت مثبت رہا ہے۔ جو چیزیں قبول ہو سکتی ہیں ان چیزوں کو قبول کیا ہے اور یہ طے ہوا ہے کہ کچھ چیزوں پر کل بھی ہماری مشاورت جاری رہے گی۔

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ میں حکومت سے کہنا ہوں کہ جو خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں تمام پارٹیوں کی نمائندگی ہے، اس میں مزید نمائندگی بڑھائی جائے اور پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل ہونے چاہییں یا اس کے لیے الگ سے میکینزم بنایا جائے کیونکہ وہ اہم سٹیک ہولڈرز ہیں اور انھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ان کا کہنا ہے اس کمیٹی میں تمام پارٹیوں کے ڈرافٹس پر کھلی ڈیبیٹ ہونی چاہیے تاکہ ہم اتفاقِ رائے تک پہنچ سکیں۔

  19. سنوار کی ہلاکت پر امریکہ اور ایران کا ردعمل

    امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس دونوں نے یحییٰ سنوار کی ہلاکت پر بیان دیے ہیں۔

    بائیڈن نے کہا کہ یہ ’اسرائیل، امریکہ اور دنیا کے لیے اچھا دن ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ حماس غزہ میں برسرِ اقتدار نہیں تو یہ اچھا موقع ہے کہ ’اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے بہتر مستقبل کے لیے سیاسی حل تلاش کیا جائے۔‘

    وائٹ ہاؤس کے مطابق بائیڈن نے نتن یاہو سے بھی رابطہ کیا اور انھیں اس مشن پر مبارکباد دی۔ انھوں نے کہا کہ اب اسرائیل یرغمالیوں کی واپسی اور اسرائیل کی سلامتی یقینی بنا سکتا ہے۔

    دوسری طرف کملا ہیرس نے اسے ’انصاف‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ سنوار ہزاروں معصوم لوگوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اس ہلاکت سے حماس کے متاثرین کے خاندان راحت محسوس کر سکیں گے۔

    ادھر ایران کا کہنا ہے کہ سنوار کی ہلاکت سے ’مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے مزاحمت کے جذبے کو تقویت ملے گی۔‘

    نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایکس پر لکھا کہ سنوار ’نوجوانوں اور بچوں کے لیے ایک مثال بنیں گے اور وہ فلسطین کی آزادی کی راہ پر گامزن رہیں گے۔ جب تک قبضہ اور جارحیت جاری رہے گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔‘

  20. جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں، پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز جنوبی لبنان میں ہونے والی لڑائی میں اُن کے پانچ فوجی ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی افواج نے لبنان کے کچھ علاقوں پر مزید فضائی حملے کیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے جنوبی بقع کے علاقے میں واقع تمنین الفوقہ گاؤں اور ساحلی شہر صور کے قریب واقع ایک گاؤں میں انخلا کی متعدد وارننگ جاری کیں جس کے بعد اُن علاقوں سے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق الخیام قصبے میں گذشتہ رات تقریبا 10 منٹ میں سات فضائی حملے کیے گئے۔