آئینی عدالت کا ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا، برابری کی نمائندگی دینا ہو گی: بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کا ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا اور آئینی عدالت بنانی پڑے گی، ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ خواب پورا ہو مگر آج بھی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک امتحان ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم یہ متفقہ طور پر 18 ویں ترمیم کی طرح یہ آئین سازی کریں۔
حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں درج آئینی عدالت بنانا بینظیر بھٹو کا خواب تھا، اس وفاقی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی نمائندگی ہونی تھی، اس عدالت کا مقصد پاکستان کے آئین کا تحفظ کرنا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وفاقی عدالت کے قیام سے عدالت میں ون یونٹ کی سوچ کو ختم کیا جائے، ان کا یہ مطالبہ اس لیے سامنے آیا تھا کیونکہ وہ ہمارے عدالتی نظام کو بہتر طریقے سے جانتی تھی، وہ جانتی تھی جب بھی موقع آیا عدالتوں نے عوام، آئین اور دستور کا ساتھ دینے کے بجائے آمر کا ساتھ دیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ پاکستان کی عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ ہم آئینی عدالت بنانے جارہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام آئینی عدالت کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ برابری کی نمائندگی پر مبنی آئینی عدالت بنائی جائے تاکہ عوام کو فوری اور جلدی انصاف ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت بنانا بانی پاکستان محمد علی جناح کا مطالبہ تھا، اس کے بعد بینظیر بھٹو اور آج میں اور پاکستان کی عوام اس کا مطالبہ کر رہے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس نامکمل مشن کو مکمل کرکے دکھائیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نےکہا کہ ہمارا مطالبہ انصاف اور برابری کا ہے، عوام سوال کرتی ہے کہ آپ نے ہر آمر کے لیے دروازے کھولیں ہیں، جب تک یہ عدالت اپنی مرضی کے مطابق چلے گی تب تک پاکستان کی عوام کو انصاف نہیں مل سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ برابری کا ہے، جب اس ملک کی سب سے بڑی عدالت آئین، وفاق، صوبوں اور وفاق کے مسائل پر فیصلے دے تو اس عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی نمائندگی ہو۔
انھوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا قیام ہمارا دہائیوں پر مبنی مطالبہ ہے، آپ کو ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا اور آئینی عدالت بنانی پڑے گی، ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ خواب پورا ہو مگر آج بھی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک امتحان ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم متفقہ طور پر 18 ویں ترمیم کی طرح یہ آئین سازی کریں۔
بلاول بھٹو نے کہا ہم سے جو ہوسکا ہم نے وہ کرلیا، میں نے کہا بینچ بنا لیں لیکن برابری کی نمائندگی دیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ذوالفقار بھٹو کی پھانسی اور فیض آباد دھرنے جیسے معاملات پر جرات مندانہ فیصلے سنانے پر سلام پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا آئین سازی اکیلے نہیں کرنا چاہتا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر متفقہ طور پر سرانجام دینا چاہتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں متفقہ طور پر ترمیم کرنے کے بجائے اکثریتی فیصلے سے ترمیم کرنے پر مجبورنہ کیا جائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن سے آج رات ایک آخری درخواست کریں گے کہ آئینی عدالت کے قیام پر رضامند ہو جائیں تاکہ ہم اس کام کو جمہوری اور غیر متنازعہ طریقے سے سرانجام دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے آخری موقع ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں، سیاسی جماعتوں نے سمجھوتہ کرلیا ہے، ہم متحد ہو چکے ہیں، چاہتے ہیں کہ یہ کام اپوزیشن کے ساتھ مل کر کیا جائے، اسلام آباد جاکر آئینی ترمیم کےلیے ایک آخری کوشش کروں گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن اگر اتنے سارے سمجھوتوں کے باوجود یہ کام نہیں کرسکتی تو پھر مجبوراً ہمیں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اکثریت کے طور پر قانون سازی کرنی پڑے گی، اگر اپوزیشن ہمارے ساتھ اس کام کو کرنے پر رضامند نہیں ہوں گی تو پھر ہمیں متنازعہ راستہ چننا پڑے گا، اس طریقے سے ملک میں سیاسی کشیدگی کم ہونے کے بعد بڑھے گی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مسودے پر تمام جماعتوں کو اکٹھا کرکے اسے قومی اسمبلی میں پیش کریں گے اور اگر وہ یہ کام نہ کرسکے تو حکومت کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ اس فریضے کو سرانجام دوں گا۔










