اسرائیل لبنان میں امن فوج کے دستوں کی حفاطت یقینی بنائے: امریکہ
امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں امن دستوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ اس سے قبل فرانس، اٹلی اور سپین کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ایسے حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور انسانی حقوق کے تحت ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں اور یہ ’غیر منصفانہ ہیں اور انھیں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔‘
خلاصہ
اسرائیلی فوج نے حملے کے دوران اقوام متحدہ کے دو امن فوجی زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افواج نے فوری خطرے کا جواب فائر سے دیا جس دوران امن فوج کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ۔
10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کو ان رپورٹس پر شدید حیرانگی ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی ایک چوکی پر فائرنگ کی ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ رات گئے اسرائیلی حملوں میں آج 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو تمام کے تمام عام شہری ہیں دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں سے غزہ میں 61 افراد ہلاک اور 230 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
پی ٹی ایم کا نماز جمعہ کے بعد شروع ہونے والا جرگہ تاحال شروع نہ ہو سکا تاہم جرگے کے انعقاد کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔
ججوں کی تقرری اور آئینی عدالتوں کے قیام سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں حکومت نے مجوزہ ترمیم کا ڈرافٹ پیش کردیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع دکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 20 مزدور ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق چار مزدوروں کا تعلق افغانستان جبکہ باقی کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
لائیو کوریج
بیروت کے وسط میں اسرائیلی حملے میں 11 افراد ہلاک، 48 زخمی
،تصویر کا ذریعہReuters
اب سے کُچھ دیر قبل ہم نے ہم نے
بیروت میں دو مختلف مقامات پر دھماکوں کی خبر آپ تک پہنچائی تھی۔
لبنانی انتظامہ کی جانب سے بتایا
جا رہا ہے کہ بیروت کے وسط میں ہونے والے اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں اب تک 11
افراد ہلاک ہو 48 زخمی ہو گئے ہیں۔
جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ
بخورہ یعنی وسطی بیروت کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
بیروت کے وسط میں ہونے والے ان دو
دھماکوں کے بعد شہر کے پانچ ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل افواج کے یہ دونوں فضائی حملے
لبنان کے دارالحکومت میں دو نسبتا پرسکون دنوں کے بعد ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں اب
بھی امریکی ہسپتال سے جائے حادثہ پر بھیجی جانے والی ایمبولینسوں کی آوازیں سُنائی
دی رہی ہیں۔
میزائل بظاہر مسیحی اکثریتی علاقے
کے اُپر سے گُزرے ہیں۔ اس علاقے کو محفوظ سمجھا جاتا رہا ہے تاہم اب اس علاقے میں
بھی شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
اگرچہ اسرائیل کی جانب سے اب تک
لبنان کے جنوبی علاقوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے تاہم اب یہ تیسرا موقع ہے جب
اسرائیلی کارروائیوں کا روخ دوسری جانب ہوا ہے۔
لبنان میں مقامی میڈیا کی جانب سے
ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بیروت کے وسط میں ہونے والے ان اسرائیلی حملوں
کا نشانہ حسن نصراللہ کے بہنوئی اور حزب اللہ کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں میں سے
ایک وافق صفا تھے۔ تاہم حزب اللہ کی جانب سے اب تک اس بارے میں کوئی وضاحتی بیان سامنے
نہیں آیا ہے۔
’لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج اپنا کام جاری رکھے گی‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان میں اقوام متحدہ کی امن
فوج، یونیفل کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اُن کے مراکز کو گذشتہ 24 گھنٹوں کے
دوران اسرائیلی افواج نے بار بار نشانہ بنایا ہے، جس میں اقوام متحدہ کے دو امن
اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی
ڈینن نے کہا ہے کہ لبنان میں یونیفل سے تعلق رکھنے والی افواج کو نقصان سے بچنے کے
لیے سرحد سے 5 کلومیٹر پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے
نائب ترجمان فرحان عزیز حق نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر کے اس بیان کا جواب
دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یونیفل فورسز اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گی۔‘
فرحان عزیز حق نے نیو یارک میں
ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’اگرچہ ہم اپنے امن دستوں کی حفاظت اور سلامتی پر نظر
رکھے ہوئے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ بھی اپنے کام کو جاری رکھتے ہوئے مجوزہ مقام
سے ہٹنے کے بیانات پر توجہ نا دیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس بارے
میں وضاحت کر دینا چاہتے ہیں کہ کسی بھی رکن ملک کے لئے یونیفل فورسز کو نشانہ
بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘
بیروت پر اسرائیلی افواج کے بغیر کسی انتباہ کے مزید حملے
اسرائیلی فضائی حملوں میں وسطی
بیروت کے ایک چھوٹے سے شیعہ اکثریتی علاقے بکورہ دوسری مرتبہ کو نشانہ بنایا گیا
ہے۔
اسی علاقے پر پہلا حملہ ایک طبی
مرکز پر کیا گیا تھا، جسے اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے حزب اللہ سے
وابستہ قرار دیا تھا۔ اس طبی مرکز پر حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی کے عملے نے جس جگہ پناہ
لی ہوئی ہے اُس مقام سے بچورہ کے علاقے سے قریب ہی دو الگ الگ مقامات سے دھوئیں کے
بادل اُٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
وسطی بیروت میں آج رات ہونے والے
حملوں کی مجموعی تعداد فوری طور پر واضح نہیں ہے۔ حملوں سے پہلے آئی ڈی ایف کی طرف
سے کوئی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔
یہ تیسرا موقع ہے جب اسرائیل نے
دہیہ کے مضافاتی علاقے کے کے قریب فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں اسرائیلی
افواج یہ دعویٰ کرتی رہے ہے کہ انھوں نے انھیں مقامات پر حزب اللہ کے کمانڈروں کو
ہلاک کیا اور گولہ بارود کے ذخیرے کو بھی تباہ کیا ہے۔
غزہ میں سکول پر اسرائیلی حملے کے بعد کے مناظر
غزہ کے علاقے دیر البلاح میں واقع
ایک سکول پر فضائی حملے میں 28 افراد ہلاک اور 54 زخمی ہوئے۔
فلسطینی ہلالِ احمر کی جانب سے
جاری بیان میں کہا گیا کہ فضائی حملہ اس کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع رفیدہ سکول پر
ہوا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک بیان
میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھوں نے دیرالبلاح میں ’دہشتگردوں کے ایک کمانڈ اینڈ
کنٹرول سینٹر‘ پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی افواج کے حملے ک بعد کی چند تصاویر
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہEPA
مشرقی لبنان میں اسرائیلی حملے میں چار افراد ہلاک، 17 زخمی
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے
جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی لبنان کے گاؤں کرک پر اسرائیلی فضائی حملے
میں چار افراد ہلاک جبکہ 17 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جس مقام
پر اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے وہاں امدادی کارکُنان ملبہ اٹھانے اور زخمیوں
کو طبی امداد کی فراہمی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم اس حملے کے بارے میں اسرائیلی
فوج کی جانب سے تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
لبنان میں اسرائیل کا امن فوج پر حملہ ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے‘: اقوامِ متحدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کی امن فوج کے دو اراکین اسرائیلی
ٹینک کے ایک حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔
لبنا میں اقوامِ متحدہ کی انٹیرم فورس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا
ہے کہ لبنانی شہر ناقورہ میں اس کے ہیدکوارٹر میں واقع واچ ٹاور کو براہ راست
نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے سبب اس کے اراکین نیچے گِر گئے تھے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ’خوش قسمتی سے اس مرتبہ انھیں شدید زخم نہیں ہیں، لیکن
وہ ہسپتال میں ہیں۔‘
اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی
اہلکاروں نے ناقورہ میں اقوامِ متحدہ کے اڈے کے ’بنکر کے داخلی راستے پر فائرنگ
بھی کی جہاں امن فوج کے اہلکار پناہ لیے ہوئے تھے، جس سے گاڑیوں اور مواصلاتی نظام
کو بھی نقصان پہنچا۔‘
خیال رہے اقوامِ متحدہ کی انٹیرم فورس سنہ 1978 میں قائم کی گئی تھی۔ یہ فورس
جنگی صورتحال کی نگرانی اور عام شہریوں تک امداد کی رسائی کو یقینی بنانے میں مدد
فراہم کرتی ہے۔
پچھلے 24 گھنٹوں میں اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان کی موجودگی کے
مقامات کو ’متعدد مرتبہ نشانہ بنایا۔‘
بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے اقوامِ متحدہ کے
سکیورٹی کیمروں پر ’جان بوجھ کر فائرنگ کی اور انھیں ناکارہ کیا۔‘
اقوامِ متحدہ کا مزید کہنا تھا کہ ’امن فوج پر حملہ بین الاقوامی قانون کی
سنگین خلاف ورزی ہے۔‘
حکومت نے پی ٹی ایم کو قومی جرگے کے انعقاد کی اجازت دے دی: محسن داوڑ کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہInterior Ministry
کالعدم قرار
دی جانے والی پشتون قوم پرست تنظیم پختون تحفظ موومنٹ نے گرینڈ جرگہ کی تیاریاں
پھر سے شروع کر دی ہے اور جمعرات کے روز جمرود میں جرگہ میدان میں تنظیم کے سربراہ
منظور پشتین نے خطاب میں کہا کہ ’کل یعنی بروز جمعہ جرگہ ضرور ہوگا اور تمام پشتون
اس میں شرکت کریں گے۔‘
اس سے قبل خیبر
پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی اور
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کے چیئرمین محسن داوڑ نے سوشل میڈیا پر ایک
بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے 11 اکتوبر بروز جمعہ پشتون تحفظ موومنٹ کے
قومی جرگے کے انعقاد کی اجازت دے دی ہے۔
حکومت کے
جانب سے گرینڈ جرگہ میدان میں فائرنگ اور آنسو گیس کے بعد تنظیم کے تین ارکان ہلاک
اور درجن سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے اور جمعرات کے روز جرگہ میدان میں ہی اُن کی
نماز جنازہ ادا کی گئی۔
جمعرات کو وفاقی
وزیر داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچے اور یہاں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین
گنڈہ پور کی زیر صدارت اجلاس میں شرکت کی ہے۔ اس اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل
کریم کنڈی، تمام پارلیمانی رہنماؤں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی شریک
تھے۔
اس اجلاس میں
وزیر اعلیٰ علی امین کو جرگے کا اختیار دیا گیا ہے جس کے بعد اب علی امین پی ٹی ایم
کے قائدین سے رابطے کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے پشاور ریجنل کے صدر اور سابق
ناظم ارباب محمد عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ اب وزیر اعلی علی امین گنڈہ پور کو
اختیار ملا ہے اور اب وہ پارلیمانی اراکین کے ذریعے پی ٹی ایم کے قائدین سے رابطے
کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا،
ارباب محمد عاصم، ارباب شیر علی، اور عرفان سلیم نے جمرود میں جمعرات کو پی ٹی ایم
کے کارکنوں کے جنازہ میں شرکت کی۔
اس اجلاس میں
موجود نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اور ماضی میں پی ٹی ایم کے اہم قائد محسن
داوڑ بھی موجود تھے۔
انھوں نے بی
بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو وزیر اعلیٰ کی زیرِ صدارت اجلاس میں بیشتر سیاسی
جماعتوں کے قائدین نے پی ٹی ایم پر پابندی کی مخالفت کی اور کہا ہے کہ حکومت کا
اقدام نا مناسب تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اس بارے میں محسن نقوی نے بات چیت کی لیکن
سیاسی جماعتوں کی جانب سے مضبوط موقف کے بعد وزیر اعلیٰ علی امین کو اختیار دیا گیا
ہے۔
ان کا کہنا
تھا کہ جمعے کو پی ٹی ایم کا جرگہ ہوگا اور وہ اس میں ضرور شرکت کریں گے۔
اس بارے میں
پی ٹی ایم اور حکومت کے ترجمان سے رابطے کی کوشش کی لیکن پشاور اور ضلع خیبر میں موبائل فون کے بندش کی وجہ سے رابطہ
نہیں ہو سکا۔
قوم پرست
تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے جمعرات کو ضلع خیبر میں
گرینڈ جرگہ کے مقام پر بڑی تعداد میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے کل
بھی زور زبر دستی کی اور پہلے بھی ایسا ہو چُکا ہے۔ تاہم ہم نے ظلم اور جبر کو
برداشت کیا ہے لیکن ایک دن اس کا جواب ضرور دیں گے کیونکہ پشتون سب کچھ معاف کر
سکتا ہے لیکن حساب کتاب برابر رکھتا ہے۔‘
انھوں نے
اپنی تقریر میں تمام پشتونوں سے متحد ہونے کی اپیل کی اور کہاں ہے کہ ’یہ جرگہ پی
ٹی ایم کا جرگہ نہیں ہے یہ تمام پشتونوں کا جرگہ ہے اور پشتونوں کا جرگہ کسی ایک
تنظیم یا فرد کا نہیں ہوتا اور اس میں شامل لوگ جو بھی مشترکہ فیصلہ کریں گے انھیں
قبول ہوگا۔‘
تاہم وزیر اعلیٰ کے مشیرِ اطلاعات محمد علی سیف نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ
پی ٹی ایم پر پابندی عائد ہونے کے بعد اس طرح کا سیاسی اجتماع خلاف قانون ہے اور
اسے منعقد نہیں ہونے دیا جائے گا۔
گذشتہ روز جرگے کے مقام پر جھڑپوں میں تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے تھے۔
غزہ میں سکول پر فضائی حملے میں 28 افراد ہلاک، 54 زخمی: ہلالِ احمر
،تصویر کا ذریعہFile Photo - EPA
فلسطینی ہلالِ احمر کا
کہنا ہے کہ غزہ کے علاقے دیر البلاح میں واقع ایک سکول پر فضائی حملے میں 28 افراد
ہلاک اور 54 زخمی ہوگئے ہیں۔
فلسطینی ہلالِ احمر کا کہنا
ہے کہ فضائی حملہ اس کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع رفیدہ سکول پر ہوا ہے، جہاں ان کی ایمرجنسی
ٹیمیں طبی امداد کے لیے پہنچی ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھوں نے دیرالبلاح میں ’دہشتگردوں کے ایک کمانڈ
اینڈ کنٹرول سینٹر‘ پر حملہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کمانڈ
اینڈ کنٹرول ایک ایسے کمپاؤنڈ میں واقع تھا جو ماضی میں رفیدہ سکول تھا، اسے دہشتگرد
اسرائیلی فوج اور اسرائیلی کے خلاف حملوں اور اس کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر
رہے تھے۔‘
ماضی میں حماس تردید کر
چکی ہے کہ وہ سکولوں اور عام شہری عمارتوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہیں
کرتی۔
اسرائیلی فوج کا مزید کہنا
تھا کہ ’عام شہریوں کے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات لیے گئے
تھے، بشمول فضائی نگرانی اور اضافی انٹیلی جنس کو استعمال کرنے کے۔‘
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ
سکول کے دو کمروں کو دو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا اور ان کمروں میں بےگھر افراد
موجود تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس عمارت
میں کھانے پینے کی اشیا اور بچوں کا دودھ وغیرہ بھی موجود تھا جسے بےگھر ہونے والے
افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
لبنان میں اسرائیلی حملوں کی ابتدا کے بعد اب تک شعبہ صحت کے 115 کارکنان ہلاک ہو چکے ہیں, جوناتھن ہیڈ، بی بی سی بیروت
،تصویر کا ذریعہEPA
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ
بدھ کو ملک کے جنوبی حصے میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شعبہ صحت کے پانچ
کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔
گذشتہ مہینے لبنان میں
شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اب تک ہلاک ہونے والے شعبہ صحت کے کارکنان کی
تعداد 115 تک پہنچ گئی ہے۔
لبنان کے محکمہ برائے شہری
دفاع کا کہنا ہے کہ بدھ کو شعبہ صحت کے کارکنان ملک کے جنوبی قصبے دردغیا میں واقع
ایک ایمرجنسی سینٹر میں موجود تھے جب اسرائیلی فضائی حملہ ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس
اسرائیلی حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے اور وہ باقی متاثرین کو ڈھونڈنے کے لیے عمارتوں
کے ملبے کو دیکھ رہے ہیں۔
لبنانی حکومت نے بین
الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قسم کے حملوں کو روکنے کے لیے مزید
کوششیں کریں، کیونکہ ایسے حملے بین الاقوامی جنگی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس
کی جانب سے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کی فوج کی جانب سے پہلے
ہی لوگوں کو دردغیا کا علاقہ چھوڑنے کا کہہ دیا گیا تھا۔
امریکہ جنگ بندی میں اب تک کامیاب کیوں نہیں ہوا؟, ٹام بیٹمین، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ سال 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے اور اس کے نتیجے میں
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن پہلے ایسے امریکی
صدر بنے تھے جنھوں نے جنگ کے دوران اسرائیل کا دورہ کیا۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو اور تل ابیب میں جنگی کابینہ سے ملاقات کے بعد
انھوں نے لائیو ٹی وی چینلز پر آ کر اسرائیلیوں کو یقین دہانی کروائی کہ ’آپ اکیلے
نہیں ہیں۔‘ تاہم اس موقع پر انھوں نے اسرائیلی قیادت پر زور دیا کہ وہ اُن غلطیوں
کو نہ دہرائیں میں ’غصے میں بھرے‘ امریکہ نے نائن الیون کے حملوں کے بعد کی تھیں۔
گذشتہ ماہ یعنی ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے فورم پر اپنے خطاب میں
صدر بائیڈن نے اسرائیل اور حزب اللہ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ اس اپیل
پر نتن یاہو نے اپنا ردعمل دیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ ’اسرائیل کے لمبے ہاتھ
مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں‘ (یعنی کوئی بھی ہدف اسرائیل کی دسترس سے
باہر نہیں ہے۔)
نتن یاہو کے اس خطاب کے 90 منٹ بعد اسرائیلی جنگی جہازوں نے جنوبی بیروت میں
چند عمارتوں پر امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ ’بنکر بسٹر‘ بم برسائے جس کے نتیجے میں
حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ مارے گئے۔ 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر
حملہ کرنے کے بعد سے یہ سال کی اہم ترین پیش رفتوں میں سے ایک ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ حسن نصراللہ کی موت کے باعث بائیڈن کی جنگ بندی کے لیے کی
جانے والی سفارتکاری امریکہ کے ہی مہیہ کردہ بموں کے نتیجے میں کھنڈر بننے والی
عمارتوں تلے دفن ہو گئی۔
میں نے گذشتہ ایک سال کے دوران زیادہ تر وقت امریکہ کی سفارتکاری کو قریب سے دیکھتے
ہوئے گزارا ہے، اس دوران میں نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ بطور صحافی
مشرق وسطیٰ کے دورے کیے ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے بیان کردہ سفارت کاری کا سب سے بڑا مقصد غزہ میں یرغمالیوں
کی رہائی کے معاہدے کے لیے جنگ بندی کرنا ہے۔ حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے
ایک سال بعد جس میں 1,200 سے زیادہ افراد ہلاک اور 250 افراد بشمول سات امریکی شہریوں
کو اغوا کیا گیا تھا، ان میں بہت سے اب بھی حماس کی قید میں ہیں جن میں سے بیشتر کے بارے
میں خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب، غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں
تقریباً 42,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ پورا علاقہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل
ہو چکا ہے۔
ہزاروں فلسطینی آج بھی لاپتہ ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں
ریکارڈ تعداد میں امدادی کارکن مارے گئے ہیں، جب کہ انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے
والے تنظیموں کی جانب سے بارہا اسرائیل پر امدادی سامان کی ترسیل روکنے کا الزام
لگایا ہے۔ اسرائیلی حکومت اس الزام کی مسلسل تردید کرتی آئی ہے۔ ادھر جنگ مقبوضہ
مغربی کنارے اور لبنان تک پھیل چکی ہے۔ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کی اسرائیلی
حملے میں ہلاکت کے جواب میں گذشتہ ہفتے ایران نے اسرائیل پر 180 میزائل داغے تھے
جس کے بعد تنازع پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کرنے
کا بائیڈن انتظامیہ کا ہدف ہر موڑ پر ان سے دور جاتا رہا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو رفح پر حملے سے باز رکھنے کے لیے دو ہزار اور 500
پاؤنڈ بموں کی ایک کھیپ کو معطل کر دیا تھا۔ لیکن صدر بائیڈن کو فوری طور پر
واشنگٹن میں ریپبلکنز اور خود نتن یاہو کی طرف سے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے
بعد سے بائیڈن نے جزوی طور پر پابندی اٹھا لی اور اسے کبھی نہیں دہرایا۔
امریکی محکمہ خارجہ کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ غزہ میں
امدادی سامان کی ترسیل میں بہتری آئی۔ دوسری جانب رواں سال کے آوائل میں اقوام متحدہ کی جانب
سے میں غزہ میں قحط جیسی صورتحال کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خطے میں بائیڈن کی
جانب سے سفارتکاری کا زیادہ تر کام ان کے چیف سفارت کار انٹونی بلنکن کرتے آئے
ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر سے لے کر اب تک وہ مشرق وسطیٰ کے دس دورے کر چکے ہیں۔ یہ سی
آئی اے کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی جانے والی خفیہ کوششوں کے علاوہ ہے۔
رواں سال اگست
میں بلنکن کے نویں دورے کے موقع پر جب وہ دوحہ پہنچنے تو انھیں بتایا گیا کہ قطر کے
امیر بیمار ہیں اور ان سے ملاقات نہیں کر سکتے۔
اس بارے میں تق یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ آیا قطری امیر کی جانب سے انھیں نظر انداز
کیا گیا تھا۔ لیکن یہ دورہ اس وقت ہی ناکام لگنے لگا تھا جب جب نتن یاہو نے دعویٰ
کیا کہ انھوں نے بلنکن کو غزہ-مصر کے ساتھ سرحد پر اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی پر
’قائل‘ کر لیا ہے۔ یہ حماس اور مصریوں کے لیے ناقابلِ قبول بات تھی۔ ایک امریکی
اہلکار نے نتن یاہو پر معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی مؤثر کوشش کرنے کا الزام لگایا۔
پچھلے ماہ خطے کے
اپنے دسویں دورے کے موقع پر بلنکن نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بائیڈن انتظامیہ پر سطحی سفارتکاری کا الزام
بائیڈن انتظامیہ کے ناقدین کے مطابق امریکہ کی جانب سے اسرائیل سالانہ 3.8 ارب
ڈالرز کے ہتھیاروں کی فراہمی کے علاوہ 7 اکتوبر کے بعد وقتاً فوقتاً اضافی
ہتھیاروں کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو امریکہ کی سفارتکاری مکمل طور پر
ناکام ہو گئی ہے یا اس کے قول و فعل میں سراسر تضاد ہے۔
انٹیلی جنس افسر ہیریسن جے مان کہتے ہیں کہ امریکہ نے کبھی بھی اسرائیل کے رویے
کو تبدیل کرنے کی کوئی معقول کوشش نہیں کی۔ ہیریسن امریکی فوج کے ایک کیریئر میجر
ہیں جو سات اکتوبر حملے کے وقت ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے مشرق وسطیٰ اور افریقہ
سیکشن میں کام کر رہے تھے۔
اس سال کے شروع میں انھوں نے اسرائیل کے غزہ پر حملے کے لیے امریکی حمایت اور امریکی
ہتھیاروں کے استعمال سے شہریوں کی ہلاکت پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔
بائیڈن کے حامی اس تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ،
مصر اور قطر کی کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ نومبر میں جنگ بندی ہوئی جس کے نتیجے میں
اسرائیل کی جیلوں میں قید 300 فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں 100 سے زائد یرغمالیوں کو
رہائی ملی تھی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد پار راکٹوں
کے تبادلے کے باوجود بائیڈن انتظامیہ اسرائیلی قیادت کو کافی عرصے تک لبنان پر
حملہ کرنے سے روکنے میں کامیاب رہی۔
بائیڈن کے اتحادی سینیٹر کرس کونز کہتے ہیں کہ حوثیوں، حزب اللہ، عراق میں شیعہ
ملیشیا کی طرف سے بار بار اشتعال انگیزی کے باوجود بائیڈن تنازع کو بڑھنے سے روکنے
میں کامیاب رہے ہیں۔
سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کا کہنا ہے کہ بائیڈن کی جانب سے اسرائیل
کی بے حد حمایت کے باوجود وہ نتن یاہو کی مزاحمت پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔
اولمرٹ کا کہنا ہے کہ جب بھی بائیڈن اپنی منزل کے قریب پہنچے تو نیتن یاہو نے کسی
نہ کسی بہانے ان کی تجویز کی تعمیل سے انکار کر دیا۔ بائیڈن کی سفارت کاری کی ناکامی کی بنیادی
وجہ نتن یاہو کی مسلسل مخالفت تھی۔
صدر بائیڈن کے ناقدین کہتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھانے میں
ان کی سب سے بڑی ناکامی غزہ میں ہونے والی بڑے پیمانے پر خونریزی ہے۔ اپنی صدارت کے
آخری سال میں بائیڈن کے خلاف امریکی سڑکوں اور یونیورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر
احتجاج ہوئے جس میں مظاہرین نے ان کی اسرائیل حامی پالیسیوں کے باعث انھیں ’نسل کش جو‘ کا خطاب دیا۔
نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں ماڈرن عرب سٹڈیز کے پروفیسر راشد خالدی کہتے
ہیں کہ بائیڈن کی ذہن سازی ایک ایسے وقت ہوئی تھی جب نوزائیدہ اسرائیلی ریاست کا وجود خطرے
میں تھا۔
ان کے خیال میں موجودہ تنازع کے بارے میں بائیڈن کا نقطہ نظر خطے میں ریاستی
قوتوں کے توازن کے ایک فرسودہ تصور سے تشکیل پایا تھا اور بے وطن فلسطینیوں کے نظرانداز
کرتا ہے۔
پروفیسر خالدی کہتے ہیں نوجوان امریکیوں کی نئی نسل سوشل میڈیا پر غزہ کے
مناظر دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں اور ان کا نقطہ نظر بالکل مختلف ہے۔ ’وہ جانتے ہیں کہ
غزہ سے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر اپلوڈ ہونے والے لوگوں نے انہیں کیا دکھایا ہے۔‘
اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار اور بائیڈن کی جانشین
59 سالہ کملا ہیرس کی نظریات بائیڈن سے مختلف دکھائی دیتی ہیں۔
تاہم اب تک نہ ہیرس اور نہ ہی ان کے ٘مخالف ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک کوئی روڈ میپ دیا ہے کہ وہ کسی معاہدے تک کیسے پہنچیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا دورہ سعودی عرب: ’عرب ممالک کی غلط فہمی ہے اگر انھیں لگتا ہے کہ غیر جانبدار رہ کر وہ جنگ سے بچ سکتے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہEPA
بدھ کے روز ایرانی
وزیر خارجہ عباس عراقچی خلیجی ممالک کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں ان کا پہلا پڑاؤ سعودی
عرب تھا۔
ایرانی وزارتِ
خارجہ کے مطابق عراقچی کے دورے کا مقصد ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط
بنانا، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانا، اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
یہ دورہ حماس اور
اسرائیل کے درمیان جنگ، اور لبنان پر اسرائیلی حملے کی وجہ سے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث کافی
اہمیت کا حامل ہے۔
ایرانی وزیر
خارجہ اور ان کے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان کے درمیان ملاقات کے بعد ایرانی
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی کا کہنا تھا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے
درمیان خطے کی تازہ ترین پیش رفت خصوصاً غزہ اور لبنان کی صرتحال کے حوالے سے ’مفید
اور تعمیری‘ گفتگو ہوئی اور دونوں فریقوں نے غزہ اور لبنان میں جنگ کے خاتمے کا
مطالبہ کیا ہے۔
اس سے قبل باغائی
نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا کہ عراقچی کا دورہ سعودی عرب کا مقصد ایران
کی ’سفارتی کوششوں اور خطے کے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی‘ بڑھانا ہے۔
عراقچی کے دورے پر
تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی سیاسی تجزیہ کار عماد ابشناس کا کہنا ہے کہ ایران خطے کے
ممالک کو امن کا پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
بی بی سی سے بات
کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس دورے کا مقصد غزہ، لبنان اور پورے خطے سے متعلق ایک
عرب ایران امن منصوبہ تشکیل دینا ہے جس کا مقصد جنگ بندی ہے۔
ابشناس کا خیال
ہے کہ خطے کے ممالک کو امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان کے
مطابق امریکہ وہ واحد طاقت ہے جو اسرائیلی جارحیت روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سعودی پولیٹیکل
سائنس ایسوسی ایشن کے رکن ڈاکٹر محمد الحربی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ
اس دورے کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
الحربی اس بات کی
طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس وقت امریکہ سمیت تمام فریقین بحرانی صورتحال کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب امریکہ اور بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ اپنے قریبی
تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
سعودی مصنف اور سیاسی
تجزیہ کار سلیمان العقیلی اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ ’عراقجی ریاض سے واشنگٹن پر
دباؤ ڈالنے کے لیے کہیں کہ وہ اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے
میں کردار ادا کرے۔‘
ان کے مطابق سعودی
عرب کی بات کا وزن ہے اور اس سے قبل بھی 2006 کی جنگ اور 1982 میں لبنان پر اسرائیلی
حملے کے بعد جنگ روکنے میں کردار ادا کر
چکا ہے۔
سعودی عرب روانگی
سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک ’لبنان میں وحشیانہ حملوں کو روکنے کے لیے
خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنانے کا خواہاں ہے۔‘
عماد ابشناس کہتے
ہیں کہ خطے کا سب سے بڑا مسئلہ خطے کے ممالک کے کا مقسم ہونا ہے۔ اگر سب کی رائے متفق
ہو جائے تو ہی کسی سفارتی حل کی امید کی جاسکتی ہے ورنہ ہمہ گیر جنگ سب کو جلا دے
گی۔‘
محمد الحربی سعودی
عرب کی جانب سے کسی بھی قسم کے ممکنہ اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کی طرف اشارہ
کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب صرف خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور 42 عرب اور اسلامی ممالک کے اتحاد
سے منظور اتحاد میں شامل ہوتا ہے۔‘
سلیمان العقیلی
کا خیال ہے کہ ایران سعودی عرب کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ
اسلامی تعاون تنظیم کو مزاحمت کے محور کے ساتھ کھڑا ونے پر آمادہ کرے۔
لیکن ان کے مطابق اس محور
سے خود سعودی عرب کو بھی نقصان پہنچ چکا ہے۔
آٹھ اکتوبر کو روئٹرز نے ایک سینیئر ایرانی
ذریعے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ تہران نے خلیجی ریاستوں کو مطلع کیا ہے کہ ایران
پر حملوں کے لیے اگر ان کی فضائی حدود یا فوجی اڈے استعمال ہوئے تو اس کا ردعمل آئے
گا۔
اس سے قبل خلیجی
ممالک نے ایران کو یقین دلانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ’ہمسایہ خلیجی ریاستیں ایران اسرائیل
تنازعہ میں غیر جانبدار رہیں گی۔‘
ابشناس کہتے ہیں
کہ اگر عرب ممالک کو لگتا ہے کہ غیر جانبدار رہ کر وسیع جنگ میں شامل ہونے کے خطرے
سے بچ سکتے ہیں تو یہ انی غلط فہمی ہے۔
عراق کی اسرائیلی چینل کی جانب سے آیت اللہ علی السیستانی کو ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل کرنے کی مذمت
،تصویر کا ذریعہSocial Media
اسرائیلی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے اسرائیل کے ایک چینل ’چینل 14‘ نے منگل کی شام ممکنہ اہداف کی ایک فہرست نشر کی ہے جس میں اگلے نشانے کے طور پر عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ علی
السیستانی کی تصویر کو شامل کیا گیا ہے۔
آیت اللہ علی السیستانی کے
علاوہ جن دیگر افراد کی تصاویر اس فہرست میں شامل ہیں اُن میں ایرانی رہبرِاعلیٰ علی
خامنہ ای، حوثی انصار اللہ تحریک کے رہنما عبدالمالک الحوثی، حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری
جنرل نعیم قاسم، حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ یحییٰ السنوار اور ایرانی القدس فورس
کے کمانڈر اسماعیل قانی شامل ہیں۔
اسرائیلی چینل کی
طرف سے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ اس فہرست میں آیت اللہ علی السیستانی کیوں شامل
ہیں۔
اسرائیلی چینل سے یہ ممکنہ اہداف کی یہ تصویر نشر ہونے کے بعد عراقی
حکومت نے اسرائیلی ٹیلیویژن چینل کی جانب سے ملک کی ’اعلیٰ ترین شیعہ اتھارٹی کی توہین‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی اسرائیلی خواہش: امریکہ کی غیر ضروری جنگ میں ملوث ہونے سے ہچکچاہٹ, جیریمی بوون، بی بی سی انٹرنیشنل ایڈیٹر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو
بائیڈن اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے درمیان کئی ہفتوں کے وقفے کے
بعد بدھ کی شب ٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔
تیس منٹ جاری
رہنے والی گفتگو کے دوران گذشتہ ہفتے ایران کے میزائل حملے پر اسرائیل کی جانب سے
جوابی کارروائی کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔
وائٹ ہاؤس کی
جانب سے جو بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان ہونے والی بات چیت کو ’براہ راست‘
اور ’نتیجہ خیز‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں رابطے
میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی نائب صدر اور اگلے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ
صدارتی امیدوار کملا ہیرس بھی اس کال میں شامل تھیں۔
اس ٹیلیفونک
رابطے کے کچھ دیر بعد اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا
کہ ایران کے خلاف اسرائیل کا حملہ ’مہلک، عین نشانے پر اور سب سے بڑھ کر حیران کن‘
ہوگا۔
اس تمام صورتحال کے پیچھے دو قوتیں کار فرما ہیں: ایک تو جو بائیڈن
کی امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں ملوث کرنے میں ہچکچاہٹ جو ان کے خیال
میں غیر ضروری اور خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل
میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ان کے پاس اپنے جانی دشمن ایران کو ناقابلِ تلافی
پہنچانے کا ایک سنہری موقع ہے۔
حزب اللہ کے خلاف
جنگ نے اُن اسرائیلیوں کو ایک بار پھر پرجوش کردیا ہے جو لبنان کے ساتھ ایک
لمبے عرصے سے جاری سرحدی تناؤ کے خاتمے کے لیے بے چین تھے۔
غزہ میں اسرائیلی
پوزیشن کے برعکس انھیں لبنان کی جنگ ایک کامیابی محسوس ہو رہی ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر
سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 42,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر
عام شہری ہیں۔ تاہم ایک سال گزرنے کے بعد بھی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اپنے دو
جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں: حماس کی تباہی اور یرغمالیوں کی بازیابی۔
حماس اب بھی لڑ
رہی ہے اور ابھی بھی 100 کے قریب یرغمالی اس کے قبضے میں ہیں جن میں سے بیشتر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔
لبنان اور غزہ
میں اسرائیل کے دشمنوں حزب اللہ اور حماس کو پہنچنے والے نقصان سے کچھ اسرائیلیوں
میں یہ یقین پیدا ہوا ہے کہ وہ مزید کارروائیاں کر سکتے ہیں اور ایران پر براہ
راست حملہ کر سکتے ہیں۔
ان کے لیے ایران
پر تباہ کن فضائی حملہ ایک بہت پرکشش خیال ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشناسرائیل کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر سے اب تک اس نے جنوبی لبنان پر ایک ہزار کے قریب فضائی حملے کیے ہیں۔
بہت سے اسرائیلیوں
کے لیے ہدف کی فہرست میں سرفہرست ایرانی جوہری تنصیبات ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ
انھیں جوہری بم بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم امریکی صدر
بائیڈن نے واضح کردیا ہے کہ ان کا ملک اس کی حمایت نہیں کرتا ہے۔
امریکہ کا خیال
ہے کہ ایران ابھی جوہری ہتھیار بنانے والا نہیں ہے لیکن ایسا حملہ انھیں ایسا کرنے
پر مجبور کر سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم
نتن یاہو پر امریکی خواہشات کو نظر انداز کرنے کے لیے سب سے زیادہ دباؤ سابق وزیرِاعظم
نفتالی بینیٹ کی جانب سے ہے۔ بینیٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف
کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
انھوں نے مجھے
بتایا کہ یہ حملہ کرنے کے لیے موزوں ترین وقت ہے۔
حزبِ اختلاف کے
رہنما اور سابق جنرل بینی گینٹز کی طرح بینیٹ
کا بھی خیال ہے کہ حزب اللہ اور حماس کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ایران اس وقت
بہت کمزور ہے۔
وہ کہتے ہیں، ’بنیادی
طور پر ایران کے پاس اپنے دفاع کے لیے حزب اللہ اور حماس کی شکل میں دو ہتھیار تھے۔
یہ دونوں تنظیمیں کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف اس کے لیے انشورنس پالیسی کی طرح تھے۔‘
’لیکن اب وہ دونوں بازو کافی حد تک غیر موثر ہو چکے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہOren Rosenfeld
،تصویر کا کیپشنسابق اسرائیلی وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ کے خیال میں یہ ایران پر حملہ کرنے کے لیے موزوں ترین وقت ہے۔
بینیٹ کی نظر میں
یہ ایران کو حقیقی نقصان پہنچانے کا بہترین موقع ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایرانی
ریاست بالآخر ناکام ہو جائے گی لیکن ان کی نظر میں اس کام کو تیز کرنے کی ضرورت
ہے۔
’اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو اس بات قوی امکان ہے
کہ وہ اپنی ریاست کو بچانے کے لیے اسے استعمال کرسکتا ہے۔‘
بینیٹ کے خیال
میں یہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک ’ڈراؤنے جوہری خواب‘ میں بدل دے گا۔
ان کے خیال میں 1981
میں عراق اور 2007 میں شام میں جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں نے مشرق وسطیٰ کو
زیادہ محفوظ بنا دیا تھا۔
بینیٹ کہتے ہیں کہ
لوگ ان اقدامات کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے لیکن اسرائیل نے دنیا کو جوہری ہتھیاروں
سے لیس بشار الاسد سے بچایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ
اسرائیل کے پاس دنیا کی بدترین حکومتوں کی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے کا کام ہے جس
کا کوئی صلہ نہیں ہے۔ ’ہر کوئی ہم پر تنقید کرنا پسند کرتا ہے، لیکن پھر بھی ہم یہ
کام کر رہے ہیں۔‘
’اور اگر وہ بم حاصل کر لیتے ہیں تو یہ سب کے لیے مسئلہ ہوگا۔
یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ لندن والے اس وقت کیسا محسوس کریں
گے جب ایٹمی بم سے لیس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ہو گا۔ ہم ایسا ہونے کی اجازت
نہیں دے سکتے۔‘
ایران اور اسرائیل
کے درمیان حالیہ براہِ راست راست تنازع اس وقت شروع ہوا جب شام میں ایرانی سفارت
خانے پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں اہم ایرانی جنرل مارے گئے تھے۔
جواب میں ایران نے
اسرائیل پر میزائل حملہ کیا تھا اور اس
تنازع میں شدت آتی جا رہی ہے۔
اس میں تازہ ترین
اضافہ گذشتہ ہفتے منگل کے روز اس وقت ہوا جب لبنان میں ایران کی اتحادی حزب اللہ
پر اسرائیل کے حملے اور اس کے رہنما حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد ایران کا ردعمل سامنے
آیا۔
ایران نے اسرائیل
پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے جوابی حملہ کرنے کا عزم ظاہر
کیا ہے۔
صدر بائیڈن غزہ میں
اسرائیلی جارحیت روکنے سے گریزاں دکھائی دیتے تھے۔ اور لبنان میں بھی انھوں نے اسرائیل
سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کرنے پر زور دیا ہے۔ لیکن وہ اس بات
پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ اسرائیل کو ایرانیوں کو جواب دینے کے لیے ایران کی جوہری تنصیبات
پر حملے نہیں کرنا چاہیے۔
امریکہ کا خیال
ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے والا نہیں ہے۔
صدر بائیڈن کا
کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنا چاہیے لیکن اس کے لیے ایرانی جوہری تنصیبات یا
اس کی تیل کی صنعت پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔
امریکہ کو ڈر ہے
کہ کہیں اسے ایک ایسی میں جنگ میں شامل نہ ہونا پڑے جس میں وہ شامل ہونا نہیں چاہتا۔ اور ایسے
خدشات بھی ہیں کہ اگر ایران اس حملے کو سہہ گیا تو وہ ہر صورت جوہری وار ہیڈ تیار کرے گا۔
اس پھیلتی جنگ کے
اگلے مراحل کا دارومدار اسرائیل کی جوابی کارروائی پر ہے – جو اب کسی بھی دن ہو سکتا
ہے۔
حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں اسرائیلی جوڑا ہلاک
حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران داغے گئے کم از کم 150 راکٹ حملوں میں دو اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
طبی عملے کے اراکین نے بتایا کہ سرحدی قصبے کریات شمونہ میں ایک مرد اور ایک خاتون راکٹ سے نکلنے والے ’شارپنلز‘ یعنی چھرے لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔ دونوں میاں بیوی اپنے کتے کو واک کروانے نکلے تھے۔
اس سے قبل حزب اللہ نے کہا تھا کہ انھوں نے کریات شمونہ میں اسرائیلی فورسز کو نشانہ بنایا تھا، یہ وہ علاقہ سے جہاں سے زیادہ تر رہائشی حملوں کے پیش نظر پہلے ہی نقل مکانی کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے یہ پہلے اسرائیلی شہری ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ ’لبنان میں شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے‘
،تصویر کا ذریعہPM spokesperson
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بدھ کی شام امریکی صدر جو بائیڈن سے فون پر بات کی، سات ہفتوں میں پہلی بار ہونے والی اس بات چیت سے متعلق وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ لبنان بالخصوص بیروت کے گنجان آباد علاقوں میں شہریوں کے
تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔‘
امریکی صدر کی جانب سے لبنانی اور
اسرائیلی شہریوں کو محفوظ طریقے سے ان کے گھروں تک واپس بھیجنے کے لیے سفارتی اور
مزاکراتی عمل کو بحال کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
نائب صدر کملا ہیرس کے ہمراہ ٹیلی
فون پر گفتگو کے دوران بائیڈن نے ایک بار پھر اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے کی ’واضح
طور پر مذمت‘ کی اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا۔
رہنماؤں نے غزہ میں جانی نقصان اور
حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لئے بھی سفارتکاری اور مزاکرات کا راستے
اپنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے دونوں رہنماؤں کی ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں
مُمالک نے مستحکم تعلقات اور انتظامی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے پر
بھی اتفاق کیا ہے۔
جنوبی لبنان میں اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان میں سرکاری خبر رساں ادارے
کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لبنان
کے جنوب میں اسرائیل نے متعدد مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق
ابتدائی طور پر سور سے 18 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سریفا اور درڈغیا کے قصبوں میں
حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
بعد ازاں خبر رساں ادارے کی جانب
سے بتایا گیا کہ درڈگھیا میں اسرائیلی فضایی حملے میں ایک گرجا گھر کے قریب گھر کو
نشانہ بنایا گیا۔
تاہم اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی
جانب سے میڈون نامی قصبے پر بھی شدید حملے کیا گیا ہے اس سے قبل نشانہ بنائے جانے
والے مقامات سے 31 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب عالمی ادارہِ خوراک نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کی وجہ سے لبنان میں خوراک کی فراہمی سے متعلق انتہائی پریشان کُن حالات کا سامنا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے لبنان کی صورتحال سے متعلق جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جنوبی لبنان میں 1900 ایکڑ زرعی زمین کو نذر آتش کیا گیا ہے اور ان میں سے زیادہ تر زمینیں گذشتہ ماہ اسرائیل کے حملوں میں اضافے کے بعد تباہ ہوئیں۔‘ ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ’لبنان میں کشیدہ حالات کی وجہ سے 12 ہزار ایکڑ زرعی زمین ویران پڑے ہیں۔‘
انڈیا کے معروف صنعت کار رتن ٹاٹا 86 سال کی عُمر میں وفات پا گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے معروف صنعت کار رتن ٹاٹا
بدھ کی شب ممبئی کے ایک ہسپتال میں وفات پا گئے۔
ٹاٹا سنز کے چیئرمین این
چندرشیکرن نے ٹاٹا گروپ کی جانب سے رتن ٹاٹا کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان
جاری کیا۔
انڈیا وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر
اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ ’شری رتن ٹاٹا جی ایک بڑی کاروباری شخصیت اور ایک غیر
معمولی انسان تھے۔‘
کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے رتن
ٹاٹا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایکس
پر لکھا کہ ’رتن ٹاٹا کا ایک وژن تھا۔ انھوں نے کاروبار اور انسان دوستی کے شعبوں
میں اپنی شناخت چھوڑی ہے۔‘
رتن ٹاٹا کو خراج عقیدت پیش کرتے
ہوئے ملک کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’میں شری
رتن ٹاٹا کی وفات پر انتہائی غمزدہ ہوں۔ وہ انڈیا کے صنعتی شعبے میں ایک اہم نام
اور کردار کے مالک تھے۔ انھوں نے ملکی معیشت، صنعت اور تجارت میں اہم کرداد ادا کیا۔
میں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان، دوستوں اور مداحوں کے ساتھ برابر کا شریک ہوں۔‘
رتن ٹاٹا 1937 میں ایک روایتی
پارسی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی سے
آرکیٹیکچر اور سٹرکچرل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ سنہ 1962 میں وہ گروپ کی
پروموٹر کمپنی ٹاٹا انڈسٹریز میں اسسٹنٹ کے طور پر شامل ہوئے اور جمشید پور میں
ایک کمپنی کے پلانٹ میں چھ مہینے کی تربیت حاصل کی۔ رتن ٹاٹا کو انڈیا کا سب سے بڑے ایوارڈ پدم وبھوشن سے بھی نوازا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ٹاٹا گروپ انڈیا کی
سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور ٹاٹا گروپ آف کمپنیز کی کل مالیت 365 ارب
ڈالر سے زیادہ ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنجمشید جی نوشیرواں جی ٹاٹا نے کمپنی کی بنیادہ سنہ 1868 میں رکھی تھی
ٹاٹا کمپنی کا قیام
8 فروری سنہ 1911 میں لوناوالا ڈیم کا سنگ بنیاد ڈالتے ہوئے اس وقت کے ٹاٹا گروپ کے سربراہ سر دوراب جی ٹاٹا نے اپنے والد جمشید جی ٹاٹا کے نظریات کے بارے میں بات کی تھی جنھوں نے سنہ 1868 میں اس کمپنی کی بنیاد ڈالی تھی۔ یہ اب دس ورٹیکلز کے ساتھ 30 کمپنیوں کا گروپ ہے اور چھ بر اعظموں کے 100 سے زیادہ ممالک میں اپنی خدمات پیش کر رہی ہے۔
دوراب جی ٹاٹا نے کہا تھا: ’میرے والد کے لیے دولت کا حصول صرف ایک ثانوی چیز تھی۔ وہ اس ملک کے لوگوں کی صنعتی اور فکری حالت کو بہتر بنانے کو اولیت دیتے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں وقتاً فوقتاً جن مختلف اداروں کو شروع کیا، ان کا بنیادی مقصد انڈیا کی ان اہم پہلوؤں میں ترقی تھا۔‘
کمپنی کی ویب سائٹ پر ان کے مشن کے طور پر یہ درج ہے کہ ان کمپنیوں کا قیام دنیا بھر میں ’مختلف برادریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔‘
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ: ایرانی حملے کے بعد مُمکنہ اسرائیلی ردِعمل پر تبادلہ خیال
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشن2023 میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اسرائیل میں ہونے والی ملاقات
امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیل
کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد بدھ کی شب ٹیلی
فون پر رابطہ ہوا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بات کی
تصدیق کی گئی ہے کہ دونوں رہنماؤں کی جانب سے دیگر موضوعات کے علاوہ اسرائیل پر
ایران کے میزائل حملے اور اسرائیل کے ممکنہ ردعمل کے حوالے سے بھی تفصیل سے بات
ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین
جین پیئر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے رہنماؤں کے درمیان یہ فون کال
تقریبا 30 منٹ تک جاری رہی اور یہ ’نتیجہ خیز‘ تھی۔
تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق مزید تفصیلات اب تک جاری نہیں کی گئی ہیں۔
لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں میں اضافہ
لبنان کی وزارت صحت عامہ کی جانب
سے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد
دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اکتوبر 2023 کے بعد خطے میں پیدا
ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں اور فضائی
حملوں میں اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے تاہم 10 ہزار سے
زیادہ لوگ اس جنگ میں اب تک زخمی ہوئے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کا اپنے بیان
میں مزید کہنا ہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں کل 22 افراد ہلاک اور 80
زخمی ہوئے۔
اسرائیل کا ایران پر جوابی حملہ ’مہلک اور حیران کُن‘ ہوگا: اسرائیلی وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے
کہا ہے کہ ’ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملے کا ردعمل ’انتہائی مہلک
اور حیران کن ہوگا۔‘
اسرائیلی دفاعی افواج کی ایک انٹیلیجنس
یونٹ کے دورے کے موقع پر بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران کی جانب سے
اسرائیل پر 200 بیلسٹک میزائل داغنے کا فیصلہ ’جارحانہ اور انتہائی نامناسب‘ تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی فضائیہ
کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تسلسل اب بھی برقرار ہے، کسی ایک طیارے کو بھی نقصان
نہیں پہنچا، کسی ایک فوجی کو بھی نقصان نہیں پہنچا، اور کسی ایک اسرائیلی شہری کو
بھی نقصان نہیں پہنچا۔‘
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے
کہا کہ ’ہمارا حملہ مہلک اور سب سے بڑھ کر حیران کن ہوگا، ایران یہ سمجھ نہیں پائے
گا کہ کیا اور کیسے ہوا، وہ اپنے حملے کا ردِ عمل اور وہ اس کے نتائج دیکھیں گے۔‘