رواں برس 17 اگست کو سندھ کے علاقے کیٹی پیر پگارہ کے ایک گاؤں میں ایک ہی خاندان کے 13 سے زائد افراد کی اچانک کھانا کھانے کے بعد طبعیت بگڑی اور وہ ایک ایک کر کے بے ہوش ہو گئے۔
عزیز رشتہ دار انھیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال لے گئے کیونکہ ان کو یہ گمان گزرا کہ شاید باسی کھانا کھانے کے باعث انھیں فوڈ پوائزننگ ہوئی ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب مون سون کی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال تھی اور کیٹی پیر پاگارہ کا علاقہ زیر آب تھا اور گاؤں ہیبت بروہی بھی پانی کے گھیرے میں تھا۔
ان تمام افراد کو ہسپتال لے جائے جانے کے باوجود دوران علاج 30 سالہ غلام اصغر اور دس سالہ دلدار فوت ہو گئے اور اگلے ہی روز مزید سات افراد دم توڑ گئے اور چند ہی دنوں میں یہ تعداد 13 تک پہنچ گئی۔
13 افراد کی ہلاکت کے بعد ضلع خیرپور کی پولیس کو شک گزرا کہ یہ اموات طبی نہیں۔
اگرچہ ہلاک ہونے والے خاندان کے رشتہ داروں نے اس واقعے کا پولیس میں کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا تھا لیکن پولیس نے سرکار کی مدعیت میں اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس نے جب ابتدائی چھان بین کی تو انھیں معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والے خاندان کے دو افراد ایک لڑکا اور لڑکی زندہ ہیں بلکہ انھیں کسی قسم کی کوئی طبی شکایت کا بھی سامنا نہیں ہوا جبکہ انھوں نے بھی اپنے خاندان کے ساتھ وہی کھانا کھایا تھا۔
ڈی ایس پی پیر جو گوٹھ ملہیر پاتو کہتے ہیں کہ اگر گاؤں والوں کا موقف تسلیم کر لیتے کہ فوڈ پوائزنگ ہے تو سب متاثر ہوتے اس سے دو افراد کیسے محفوظ رہے اور اس صورتحال نے بھی سوالات پیدا کیے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’پولیس نے پوری کوشش کی تھی کہ ہلاک ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے لیکن خاندان والے راضی نہیں ہوتے تھے۔ پھر جب ہسپتال میں آخر میں دو ہلاکتیں ہوئیں تو ان کا پوسٹ مارٹم اور کیمیکل تجزیہ کرایا گیا۔‘
پوسٹ مارٹم اور کیمیکل تجزیے کی رپورٹ آنے کے بعد پولیس کا شک یقین میں بدلا کیونکہ دونوں لاشوں کی رپورٹ میں دو کیمیکلز کی موجودگی پائی گئی، یہ کیمکلز نیند کی ادویات اور زرعی ادویات میں پائے جاتے ہیں
اس رپورٹ کے فوراً بعد پولیس نے اپنی تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا۔ ڈی ایس پی ملیہر پاتو کے مطابق جب پوچھ گچھ کے لیے لڑکی کو پولیس کے حوالے کرنے کو کہا گیا تو رشتے داروں نے منع کیا جبکہ پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزم لڑکا بھی اپنے والد کو ہسپتال چھوڑنے کے بعد سے فرار ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ پولیس کا شک اس وقت اور بھی پختہ ہوا جب ملزم اپنے والد کی موت کے بعد تدفین کے لیے بھی نہیں آیا۔
ڈی ایس پی پیر جو گوٹھ کے مطابق تحقیقات کے دوران انھیں علاقہ مخبروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ ملزم اپنی کزن سے شادی کرنے کا خواہشمند تھا لیکن والدین راضی نہیں تھے۔
ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے اپنی کزن کو کہا کہ ’میں تمہیں ایک ایسا زہر لاکر دیتا ہوں وہ اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ تو مسئلہ حل ہو جائے گا اور ہماری شادی ہوجائیگی۔‘
گرفتار ملزمہ نے خیرپور پولیس اور میڈیا کے سامنے دیے بیان میں کہا کہ ’میں اور میرا کزن (ملزم) پیار کرتے تھے اس نے کہا کہ تم گھر والوں کو زہر دے دو اس کے بعد مسئلہ حل ہو جائے گا اور ہم شادی کر لیں گے۔‘
پولیس ایف آئی آر کے مطابق 17 اگست شام کو سات بجے ملزم نے اپنی کزن کو زہر لاکر دیا اور اس سے کہا کہ کھانے پینے کی چیز میں ڈال دینا۔
ایف آئی آر کے مطابق کھانا کھانے کے بعد اہل خانہ کو چکر آنے گے اور وہ بے ہوش ہونے لگے۔
پولیس نے دونوں ملزموں کا چار روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
ڈی ایس پی کے مطابق ابھی اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے جس میں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس واردات میں یہ دونوں شامل ہیں یا انھیں کسی اور کی معاونت بھی حاصل ہے۔