امریکی صدر جو
بائیڈن اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے درمیان کئی ہفتوں کے وقفے کے
بعد بدھ کی شب ٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔
تیس منٹ جاری
رہنے والی گفتگو کے دوران گذشتہ ہفتے ایران کے میزائل حملے پر اسرائیل کی جانب سے
جوابی کارروائی کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔
وائٹ ہاؤس کی
جانب سے جو بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان ہونے والی بات چیت کو ’براہ راست‘
اور ’نتیجہ خیز‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں رابطے
میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی نائب صدر اور اگلے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ
صدارتی امیدوار کملا ہیرس بھی اس کال میں شامل تھیں۔
اس ٹیلیفونک
رابطے کے کچھ دیر بعد اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا
کہ ایران کے خلاف اسرائیل کا حملہ ’مہلک، عین نشانے پر اور سب سے بڑھ کر حیران کن‘
ہوگا۔
اس تمام صورتحال کے پیچھے دو قوتیں کار فرما ہیں: ایک تو جو بائیڈن
کی امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں ملوث کرنے میں ہچکچاہٹ جو ان کے خیال
میں غیر ضروری اور خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل
میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ان کے پاس اپنے جانی دشمن ایران کو ناقابلِ تلافی
پہنچانے کا ایک سنہری موقع ہے۔
حزب اللہ کے خلاف
جنگ نے اُن اسرائیلیوں کو ایک بار پھر پرجوش کردیا ہے جو لبنان کے ساتھ ایک
لمبے عرصے سے جاری سرحدی تناؤ کے خاتمے کے لیے بے چین تھے۔
غزہ میں اسرائیلی
پوزیشن کے برعکس انھیں لبنان کی جنگ ایک کامیابی محسوس ہو رہی ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر
سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 42,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر
عام شہری ہیں۔ تاہم ایک سال گزرنے کے بعد بھی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اپنے دو
جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں: حماس کی تباہی اور یرغمالیوں کی بازیابی۔
حماس اب بھی لڑ
رہی ہے اور ابھی بھی 100 کے قریب یرغمالی اس کے قبضے میں ہیں جن میں سے بیشتر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔
لبنان اور غزہ
میں اسرائیل کے دشمنوں حزب اللہ اور حماس کو پہنچنے والے نقصان سے کچھ اسرائیلیوں
میں یہ یقین پیدا ہوا ہے کہ وہ مزید کارروائیاں کر سکتے ہیں اور ایران پر براہ
راست حملہ کر سکتے ہیں۔
ان کے لیے ایران
پر تباہ کن فضائی حملہ ایک بہت پرکشش خیال ہے۔
بہت سے اسرائیلیوں
کے لیے ہدف کی فہرست میں سرفہرست ایرانی جوہری تنصیبات ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ
انھیں جوہری بم بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم امریکی صدر
بائیڈن نے واضح کردیا ہے کہ ان کا ملک اس کی حمایت نہیں کرتا ہے۔
امریکہ کا خیال
ہے کہ ایران ابھی جوہری ہتھیار بنانے والا نہیں ہے لیکن ایسا حملہ انھیں ایسا کرنے
پر مجبور کر سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم
نتن یاہو پر امریکی خواہشات کو نظر انداز کرنے کے لیے سب سے زیادہ دباؤ سابق وزیرِاعظم
نفتالی بینیٹ کی جانب سے ہے۔ بینیٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف
کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
انھوں نے مجھے
بتایا کہ یہ حملہ کرنے کے لیے موزوں ترین وقت ہے۔
حزبِ اختلاف کے
رہنما اور سابق جنرل بینی گینٹز کی طرح بینیٹ
کا بھی خیال ہے کہ حزب اللہ اور حماس کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ایران اس وقت
بہت کمزور ہے۔
وہ کہتے ہیں، ’بنیادی
طور پر ایران کے پاس اپنے دفاع کے لیے حزب اللہ اور حماس کی شکل میں دو ہتھیار تھے۔
یہ دونوں تنظیمیں کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف اس کے لیے انشورنس پالیسی کی طرح تھے۔‘
’لیکن اب وہ دونوں بازو کافی حد تک غیر موثر ہو چکے ہیں۔‘
بینیٹ کی نظر میں
یہ ایران کو حقیقی نقصان پہنچانے کا بہترین موقع ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایرانی
ریاست بالآخر ناکام ہو جائے گی لیکن ان کی نظر میں اس کام کو تیز کرنے کی ضرورت
ہے۔
’اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو اس بات قوی امکان ہے
کہ وہ اپنی ریاست کو بچانے کے لیے اسے استعمال کرسکتا ہے۔‘
بینیٹ کے خیال
میں یہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک ’ڈراؤنے جوہری خواب‘ میں بدل دے گا۔
ان کے خیال میں 1981
میں عراق اور 2007 میں شام میں جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں نے مشرق وسطیٰ کو
زیادہ محفوظ بنا دیا تھا۔
بینیٹ کہتے ہیں کہ
لوگ ان اقدامات کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے لیکن اسرائیل نے دنیا کو جوہری ہتھیاروں
سے لیس بشار الاسد سے بچایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ
اسرائیل کے پاس دنیا کی بدترین حکومتوں کی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے کا کام ہے جس
کا کوئی صلہ نہیں ہے۔ ’ہر کوئی ہم پر تنقید کرنا پسند کرتا ہے، لیکن پھر بھی ہم یہ
کام کر رہے ہیں۔‘
’اور اگر وہ بم حاصل کر لیتے ہیں تو یہ سب کے لیے مسئلہ ہوگا۔
یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ لندن والے اس وقت کیسا محسوس کریں
گے جب ایٹمی بم سے لیس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ہو گا۔ ہم ایسا ہونے کی اجازت
نہیں دے سکتے۔‘
ایران اور اسرائیل
کے درمیان حالیہ براہِ راست راست تنازع اس وقت شروع ہوا جب شام میں ایرانی سفارت
خانے پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں اہم ایرانی جنرل مارے گئے تھے۔
جواب میں ایران نے
اسرائیل پر میزائل حملہ کیا تھا اور اس
تنازع میں شدت آتی جا رہی ہے۔
اس میں تازہ ترین
اضافہ گذشتہ ہفتے منگل کے روز اس وقت ہوا جب لبنان میں ایران کی اتحادی حزب اللہ
پر اسرائیل کے حملے اور اس کے رہنما حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد ایران کا ردعمل سامنے
آیا۔
ایران نے اسرائیل
پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے جوابی حملہ کرنے کا عزم ظاہر
کیا ہے۔
صدر بائیڈن غزہ میں
اسرائیلی جارحیت روکنے سے گریزاں دکھائی دیتے تھے۔ اور لبنان میں بھی انھوں نے اسرائیل
سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کرنے پر زور دیا ہے۔ لیکن وہ اس بات
پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ اسرائیل کو ایرانیوں کو جواب دینے کے لیے ایران کی جوہری تنصیبات
پر حملے نہیں کرنا چاہیے۔
امریکہ کا خیال
ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے والا نہیں ہے۔
صدر بائیڈن کا
کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنا چاہیے لیکن اس کے لیے ایرانی جوہری تنصیبات یا
اس کی تیل کی صنعت پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔
امریکہ کو ڈر ہے
کہ کہیں اسے ایک ایسی میں جنگ میں شامل نہ ہونا پڑے جس میں وہ شامل ہونا نہیں چاہتا۔ اور ایسے
خدشات بھی ہیں کہ اگر ایران اس حملے کو سہہ گیا تو وہ ہر صورت جوہری وار ہیڈ تیار کرے گا۔
اس پھیلتی جنگ کے
اگلے مراحل کا دارومدار اسرائیل کی جوابی کارروائی پر ہے – جو اب کسی بھی دن ہو سکتا
ہے۔