ججز کو مشکوک پاؤڈر اور دھمکی آمیز نشانات والے خطوط کی ایف آئی آر درج، حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ امیدوار سینیٹ کی 19 نشستوں پر کامیاب

چیف جسٹس عامر فاروق سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کے آٹھ ججز کو مشکوک خطوط موصول ہونے کے معاملہ پر تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ادھر حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ امیدواروں نے سینیٹ انتخابات میں 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اپوزیشن ارکان کی حلف برداری سے متعلق تنازع کے باعث سینیٹ انتخابات کے لیے ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔

خلاصہ

  • غیر سرکاری نتائج کے مطابق سینیٹ کی 19 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 6، پیپلز پارٹی نے 11 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔
  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو توشہ خانہ کیس میں دی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے
  • عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس، سات رکنی بینچ بدھ سے سماعت کا آغاز کرے گا
  • عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر جسٹس (ر) تصدق جیلانی کی انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

    پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل، اطہرمن اللہ، مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سات رکنی بینچ بدھ سے مقدمے کی سماعت کرے گا۔

    یاد رہے اتوار کو پاکستان بھر کے 300 سے زائد وکلا نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں زور دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت خفیہ اداروں کی طرف سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کا نوٹس لے۔

    وکلا کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ تمام دستیاب ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دے کر اس معاملے کی سماعت کرے اور مفاد عامہ ککے اس معاملے کی عدالتی کارروائی کو عوام کے لیے براہ راست نشر کیا جائے۔

    یاد رہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین کو ایک چونکا دینے والا خط لکھا تھا جس میں ان کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے ججوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں کہا گیا تھا۔

    خط پر ججز محسن اختر کیانی، طارق محمود جہانگیری، بابر ستار، سردار اعجاز اسحاق خان، ارباب محمد طاہر اور سمن رفعت امتیاز کے دستخط تھے۔

    اس کے ایک دن بعد، مختلف حلقوں سے تحقیقات کے مطالبے سامنے آئے تھے اور اس پر چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے ججوں کا فل کورٹ اجلاس طلب کیا تھا۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی تھی جہاں دونوں نے کابینہ کی منظوری کے بعد عدالتی امور میں مداخلت کے خدشات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا۔

    سنیچر کو وفاقی کابینہ نے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کے قیام کی منظوری دی جو الزامات کی تحقیقات کرے گا اور فیصلہ کرے گا کہ آیا یہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔

  2. بابر کو دوبارہ کپتانی ملنے پر شاہین کے سسر شاہد آفریدی کا شکوہ

  3. بریکنگ, جہلم اراضی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا فواد چوہدری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    Fawad

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو جہلم اراضی سکینڈل میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    پیر کو مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نیب نے شواہد کے لیے بعد میں لکھا اور بندہ پہلے گرفتار کر لیا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فواد چوہدری کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ پٹیشنر کی جانب سے قیصر امام ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا ہمارے پاس گواہ موجود ہے جو کہتا ہے کہ فواد چوہدری نے پچاس لاکھ روپے رشوت لی۔ عدالت نے استفسار کیا پچاس لاکھ روپے نیب کے دائرہ اختیار میں کیسے آتا ہے؟

    نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کہا کیس ابھی انکوائری سٹیج پر ہے، مزید تفصیلات حاصل کر رہے ہیں، ایکنیک سمیت تمام متعلقہ اداروں کو لکھ رکھا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے نیب نے شواہد کے لیے بعد میں لکھا اور بندہ پہلے گرفتار کر لیا؟ یہ بتائیں کہ نیب کے پاس فواد چوہدری کے خلاف سب سے اہم یا مرکزی شواہد کیا ہیں؟

    نیب پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس عامر فاروق نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو چھوڑیں، پہلے شواہد تو بتائیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فواد چوہدری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ فواد چوہدری اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

  4. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ہفتے میں ایک دن ملاقات کروانا کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عید کے موقع پر اور ہفتے میں ایک دن بشریٰ بی بی کی عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بشریٰ بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت کی۔

    اس دوران اسٹیٹ کونسل عبد الرحمان اور اسلام آباد انتظامیہ کی ڈائریکٹر لاء عدالت میں پیش ہوئیں، اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ عدالت کےحکم پر ڈائریکٹر لاء نے بنی گالا سب جیل کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کر دی ہے۔

    عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو رپورٹ کی کاپی درخواست گزار کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بنی گالا سب جیل کا دورہ کرنے والی افسر سہولیات سے مطمئن ہوئی ہیں۔

    عدالت نے بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر اڈیالہ جیل اور چیف کمشنر کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سب سیاست ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ 31 جنوری کو سزا کے بعد 141 خواتین جیل میں داخل ہوئیں، آپ کہتے تھے جیل ’اوور کرواڈڈ‘ ہے، آپ کا مطلب ہے کہ بس سیاست ہو، ایک طرف کہا جارہا ہےجگہ کماور قیدی زیادہ ہیں، دوسری جانب 141 خواتین داخل ہوگئیں، جب نئی خواتین جیل میں داخل ہوگئیں تو پھر منتقلی نہ کرنے کا جواز تو ختم ہوگیا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے، آپ بلائیں ناں اپنے چیف کمشنر اور ایڈوکیٹ جنرل کو ، آپ لوگ تُلے ہوئے ہیں کہ رولا آف لاء کا انڈیکس صفر پر آجائے۔

    عدالت نے مزید کہا کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں پنجاب والوں کو بلاتے ہیں، آپ ذرا اپنےسپرنٹنڈنٹ کو توہین عدالت کی کارروائی سےبچانےکی کوشش توکریں، آپ کایہ مؤقف بینچ نمبر سات نے مستردکر دیا تھا، وہاں پنجاب کا سینئر لاء افسر پیش ہوا۔

    عدالت نے کہا کہ تاریخ پر ملزمان کا ملنا، ملنا نہیں ہوتا، وہ توسماعت ہورہی ہوتی ہے، ملاقات کا مطلب علیحدگی میں باقاعدہ ملاقات ہوتا ہے، آپ نے کیس کی سماعت کے دوران ملاقات کا کہہ کر جان چھڑا لی۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر اس حوالے سے بھی دلائل طلب کیے کہ حکومت کسی کی نجی پراپرٹی کوسب جیل کیسے قراردے سکتی ہے۔

    عدالت نے ہفتے میں ایک دن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرانے کے ساتھ ساتھ عید پر بھی بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کی ملاقات کرانے کا حکم دیا اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

  5. عدالتی امور میں ’مداخلت‘ کے خلاف 300 سے زیادہ وکلا کا سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

    Supreme Court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان بھر کے 300 سے زائد وکلا نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں زور دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت خفیہ اداروں کی طرف سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کا نوٹس لے۔

    اتوار کو پاکستان بھر سے 300 سے زائد وکلا کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ہائیکورٹ ججوں کے خط کے معاملے پر مناسب کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے نفاذ کا معاملہ ہے لہذا سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت اس معاملے کا نوٹس لے۔

    وکلا کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ تمام دستیاب ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دے کر اس معاملے کی سماعت کرے اور مفاد عامہ ککے اس معاملے کی عدالتی کارروائی کو عوام کے لیے براہ راست نشر کیا جائے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ججز کو منظم طریقے سے تھریٹ کیا جاتا ہے تو پورے نظام عدل پر اثر پڑتا ہے، اگر جج بغیر کسی خوف کے انصاف فراہمی میں آزاد نہیں تو پھر وکلا سمیت پورا قانونی نظام اہمیت نہیں رکھتا۔

    خط میں لکھا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایسے الزامات لگائے گئے بلکہ اس سے قبل شوکت صدیقی نے بھی ایسے الزامات لگائے تھے۔ فوری اور شفاف انکوائری میں ناکامی سے عدلیہ کی آزادی پر عوام کے اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل اور تمام بار ایسوسی ایشنز عدلیہ کی آزادی کو مستحکم کرنے کے لیے اجتماعی لائحہ عمل طے کرکے فوری وکلا کنونشن بلائیں۔

    وکلا کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کو شفاف طریقے سے نمٹا کر عدلیہ کی آزادی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے، شفافیت یقینی بنانے کے لیے اس معاملے کو سیاست زدہ نہ کیا جائے اس لیے سپریم کورٹ گائیڈ لائنز مرتب کرے اور تمام ہائیکورٹس کے ساتھ مل کر شفاف ادارہ جاتی میکانزم قائم کرے تاکہ آئندہ عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش کی اطلاع دی جا سکے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مؤثر اور شفاف طریقے سے اس معاملے کو نمٹایا جائے تاکہ مستقبل میں عدلیہ کی آزادی پر حرف نا آئے

    یاد رہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین کو ایک چونکا دینے والا خط لکھا تھا جس میں ان کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے ججوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں کہا گیا تھا۔

    خط پر ججز محسن اختر کیانی، طارق محمود جہانگیری، بابر ستار، سردار اعجاز اسحاق خان، ارباب محمد طاہر اور سمن رفعت امتیاز کے دستخط تھے۔

    اس کے ایک دن بعد، مختلف حلقوں سے تحقیقات کے مطالبے سامنے آئے تھے اور اس پر چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے ججوں کا فل کورٹ اجلاس طلب کیا تھا۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی تھی جہاں دونوں نے کابینہ کی منظوری کے بعد عدالتی امور میں مداخلت کے خدشات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا۔

    سنیچر کو وفاقی کابینہ نے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کے قیام کی منظوری دی جو الزامات کی تحقیقات کرے گا اور فیصلہ کرے گا کہ آیا یہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔

    Letter

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court

  6. قومی اسمبلی کا اجلاس آج طلب

    سپیکر نے آج شام چار بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جس کا سات نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا ہے۔ اس میں سٹیل درآمدات کی سمگلنگ، انڈر انوائسنگ، مس ڈیکلریشن کے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس شامل ہیں۔

    اس کے تحت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد کی جولائی تا دسمبر 2021 کی رپورٹ پیش کریں گے اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے خلاف شکایات کا ازالہ نہ ہونے پر توجہ دلاؤ نوٹس بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!