ایران نے اسرائیل پر حملے سے باز رہنے کے مغربی مطالبے کو مسترد کر دیا

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر نے پیر کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان پر زور دیا کہ وہ ’فوجی حملے کی دھمکیوں سے گریز کریں۔‘ تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جوابی کارروائی ’جرائم کو روکنے کا ایک طریقہ‘ اور ایران کا ’قانونی حق‘ ہے۔

خلاصہ

  • ایران نے برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے گذشتہ ماہ تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل پر اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی سے باز رہنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
  • برطانیہ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد ہنگاموں میں ملوث متعدد افراد کو سزاؤں کا سامنا
  • بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مُلک میں بدامنی کے دوران پولیس کے ہاتھوں ایک عام شہری کی ہلاکت کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
  • یوکرین کی فوج کے اعلیٰ کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی فوج نے روس کے ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یوکرین کے زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ کو ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں‘: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی

    زاپوریژیا

    ،تصویر کا ذریعہUKRAINIAN PRESIDENCY/HANDOUT

    اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ یوکرین کے بڑے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کو ایک ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اتوار کو یوکرین کے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد روس اور یوکرین نے اس کے لیے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں۔

    آئی اے ای اے نے ایکس پر لکھا کہ اسے اس پلانٹ سے گہرا کالا دھواں نکلتے ہوئے نظر آیا جس کے بعد متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

    آئی اے ای اے کے مطابق مبینہ طور پر اس پلانٹ کے ایک کولنگ ٹاور کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نقصانات کا اندازہ لگانے کے لے اس پلانٹ تک فوری طور رسائی کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ نو اگست کو بھی یورپ کے سب سے بڑے اور یوکرین کے اہم ترین زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ پر مزید گولہ باری کی اطلاعات ملی تھیں۔ یوکرین اور روس دوبارہ ایک دوسرے پر اس حملے کا الزام لگایا تھا۔

    دونوں ممالک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جمعرات کو یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کے دفتر اور فائر سٹیشن پر دس گولے مارے گئے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اجلاس کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے جوہری پروگرام کے نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ’سنگین گھڑی‘ ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کہا ہے کہ یہ ’تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔‘

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس کی افواج نے اس پلانٹ پر آگ لگائی ہے جو کہ دو برس سے روسی افواج کے ہی قبضے میں ہے۔ جبکہ روس نے اس کا الزام یوکرین پر عائد کیا ہے۔

    Nuclear

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا جب یوکرین کے فوجی 30 کلومیٹر روس کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ یہ روس کی طرف سے فروری 2022 کو یوکرین پر حملے کے بعد سب سے اہم پیش قدمی ہے۔

    یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ روس اس پلانٹ میں دنیا کے بدترین جوہری حادثے کو بھڑکا سکتا ہے۔ روس نے مارچ کے اوائل میں اس جوہری پاور پلانٹ کو قبضے میں لیا تھا۔

    بدھ کے روز، جی سیون اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ روس کو فوری طور پر پلانٹ کا کنٹرول کیئو کے حوالے کرنا چاہیے۔

    دریں اثنا، امریکہ نے پلانٹ کے ارد گرد کے علاقے میں ایک غیر عسکری زون قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جوہری پلانٹ کے قریب لڑائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

    گذشتہ ہفتے بھی وسطی مشرقی یوکرین میں واقع اس پاور پلانٹ اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں گولہ باری دیکھنے میں آئی، اور اس وقت بھی روس اور یوکرین نے اس حملے کے لیے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا تھا۔

    یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے اس جگہ کو فوجی اڈے میں تبدیل کر دیا ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ یوکرین کی افواج جوابی کارروائی نہیں کر سکتی وہاں سے حملے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    تاہم روس اس دعویٰ کی تردید کرتا ہے۔ جبکہ روسی حکام نے اس سے متضاد بیان دیتے ہوئے یوکرین پر گولہ باری کا الزام عائد کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی فورسز راکٹ لانچ سسٹم اور بھاری توپ خانے کا استعمال کر رہی ہیں۔ دونوں فریقین میں سے کسی ایک کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

  2. غزہ میں جنگ بندی بائیڈن پلان کے تحت ہونی چاہیے: حماس

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے شروع کیے جانے والے مذاکرات امریکی صدر جو بائیڈن کے گذشتہ پلان کے تحت ہونے چاہیں اور کسی نئے دور کے مذاکرات سے اسرائیل کو مزید جارحیت کا وقت نہ دیا جائے۔ حماس نے کہا کہ مصالحت کار اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس پلان پر عملدرآمد کرے۔

    گذشتہ ہفتے بین الاقوامی مصالحت کار قطر، مصر اور امریکہ نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا تھا کہ وہ جنگ بندی اور مغویوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات کا حصہ بنیں۔

    جمعرات کو اسرائیل نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں اپنی مصالحت کاروں کی ایک ٹیم بھیجے گا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات اس وقت ختم ہو گئے جب مئی میں امریکی صدر جو بائیڈن نے مذاکرات کے فریم ورک کے لیے نئی شرائط رکھیں۔

    گذشتہ ہفتے ایک مشترکہ بیان میں ثالث ممالک نے کہا ہے کہ دوحہ یا قاہرہ میں مذاکرات 15 اگست کو ہوں گے۔

    ان ممالک نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا کہ وہ اپنے درمیان اختلاف کو کم کریں اور بغیر کسی تاخیر کے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل پیرا ہوں۔

    ان ثالث ممالک نے کہا کہ فریم ورک ایگریمنٹ صدر بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ 31 مئی کے پلان کے مطابق ہونا چاہیے۔ خیال رہے کہ صدر بائیڈن کے پلان کے تحت غزہ میں مکمل جنگ بندی اور حماس کے زیر حراست مغویوں کی رہائی کی شرائط عائد کی گئی ہیں ۔

    اپنے ایک بیان میں حماس نے کہا ہے کہ جنگ بندی کا یہ معاہدہ صدر بائیڈن کے پلان کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ حماس نے کہا ہے کہ بجائے کسی نئے مذاکرات کے دور میں داخل ہونے کے وہ اس نکتے سے ہی بات چیت کو دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں جہاں سے ان کا اختتام ہوا تھا۔

    حماس نے کہا کہ ثالث ممالک مذاکرات کے نام پر اسرائیل کو مزید جارحیت کے لیے وقت نہ دیں بلکہ جو پلان پیش کیا گیا ہے اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے۔

  3. ایک نئی سکیورٹی کے نام پر پیسے لینے کے حیلے ڈھونڈنے جا رہے ہیں، اس جنگ کی آماجگاہ پاکستان ہے: مولانا فضل الرحمان

    Pic

    ،تصویر کا ذریعہJUI

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خطے میں ایک نئی سرد جنگ شروع ہو چکی ہے جبکہ امریکہ نے پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔

    ان کے مطابق اگر اس جنگ کی آماجگاہ افغانستان تھا تو اس جنگ کی آماجگاہ پاکستان ہے، اس لیے پاکستان کو نچوڑا جا رہا ہے اور ہم ہیں کہ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔

    اتوار کو پشاور میں تاجر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے، سب کو یکجا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود لوگ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں، یہ جعلی نمائندے بن کر بیٹھے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چین کو کہا جا رہا ہے کہ اپ بے فکر رہیں آپ ہمیں سکیورٹی کا نظام حوالہ کریں اور اس کے لیے آپ ہمیں پیسے دیا کریں۔ ادھر سے سکیورٹی کے نام پر مغرب سے اور امریکہ سے ’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ کے پیسے لیے جا رہے ہیں اور ادھر سے اب دوسری طرف ایک نئی سکیورٹی کے نام پر پیسے لینے کے حیلے ڈھونڈنے جا رہے ہیں۔

    ان کے مطابق ’ہم کدھر پھنسے ہوئے ہیں، ہمارا تو ایک رخ ہے ہی نہیں۔‘

    جب معلوم ہی نہ ہو کہ حکومت کس کی ہے تو لوگوں کو کیا ملے گا، فرنٹ پر کوئی اور لوگ ہیں، ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جب کہ ان کے پیچھے کوئی اور لوگ ہوتے ہیں، اس طرح ملک نہیں چلا کرتے، ملک کو سیاستدان چلاتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا اور خطے میں اگر کوئی ملک معاشی لحاظ سے ڈوب رہا ہے تو وہ صرف پاکستان ہے، ہمارے نظام میں خامی ہے، ہماری پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کے نام پر لوگ ضرور بیٹھے ہوئے ہیں لیکن وہ عوام کے جعلی حقیقی نمائندے نہیں بلکہ جعلی نمائندے ہیں۔ اور جس پارلیمنٹ میں عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہوں گے وہ عوام کے مسائل کبھی حل نہیں کرسکتی۔

    انھوں نے کہا کہ ’معیشت اس قدر گرچکی ہے کہ اس کو دوبارہ اٹھانا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی۔‘

  4. پاکستان میں موسلادھار بارشوں کا امکان، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کا خطرہ: این ڈی ایم اے

    ndma

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں نیشنل ڈیزازٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے وارننگ جاری کی ہے کہ اگلے دو روز میں ملک بھر میں موسلادھار بارشوں اور خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے (گلوف) کے سبب سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔

    سنیچر کی رات کو ایک ایڈوائزری میں این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ موجودہ موسمی صورتحال میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے علاقوں دیر، سوات، کوہستان، استور، گلگت، سکردو اور شگر میں گلیشیئر پگھلنے کے سبب سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں سفر کرنے سے گریز کریں۔

    بارشوں کی پیش گوئی

    این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے متعدد علاقوں بشمول وادی نیلم، مظفرآباد، پونچھ، روالاکوٹ، باغ، کوٹلی، بھمبر اور ہٹیاں میں آندھی اور تیز بارشوں کے امکانات موجود ہیں۔

    ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ اگلے دو روز میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بھی تیز بارشیں متوقع ہیں۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارشیں صوبے کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔

    صوبائی ڈیزازٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے کے پہاڑی علاقوں کے حساس مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ موسلادھار بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے سبب روزمرہ کے معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔

  5. یوکرینی فوجی دستوں کی روس میں داخل ہو کر 30 کلو میٹر تک پیش قدمی, میٹ مرفی، بی بی سی نیوز

    ukraine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرینی دستوں نے روس میں داخل ہو کر 30 کلو میٹر تک پیش قدمی کی ہے۔

    فروری 2022 میں روس کی مداخلت کے بعد اسے یوکرین کی سب سے بڑی جوابی کارروائیوں میں سے ایک کہا جا رہا ہے۔

    روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ روسی دستوں کی کورسک کے خطے میں یوکرینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کیئو پر الزام لگایا ہے کہ اس نے روس کی پُرامن آبادی کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔

    صدر زیلنسکی نے یوکرینی حملے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ کو ’جارحیت دکھانے والے کے خطے میں داخل کر رہا ہے۔‘

    ’یوکرین نے ثابت کیا کہ وہ انصاف بحال کر سکتا ہے اور ظالم پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔‘

    ادھر اتوار کو روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے دستوں نے روسی علاقے میں داخل ہونے والے دشمن گروہوں کے عزائم کو ناکام کیا ہے۔

    اس نے اعتراف کیا ہے کہ یوکرینی دستے سرحد پار 25 سے 40 کلومیٹر اندر آ چکے ہیں۔

    یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس نے کورسک میں آباد کاریوں پر قبضہ کیا ہے۔ فوجیوں کی بعض ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ انتظامی عمارتوں پر سے روسی پرچم ہٹا رہے ہیں۔

    یوکرینی دستوں نے کم آبادی والے علاقوں میں بعض انتظامی عمارتوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کی جانب سے ان تصاویر کی تصدیق کی گئی ہے جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ روس کورسک جوہری پلانٹ کے قریب دفاعی تعمیرات کر رہا ہے۔

    روس کا کہنا ہے کہ سرحدی خطے سے 76 ہزار لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے اور علاقے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کورسک حملے کا مقصد مشرقی یوکرین سے روسی دستوں کو نکالنا ہے تاکہ یوکرین پر دفاعی دباؤ کم ہوسکے۔

    ماسکو نے یوکرینی حملے کے جواب میں کیئو پر میزائل حملہ کیا ہے جس میں ایک شخص اور اس کا چار سالہ بیٹا ہلاک ہوئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق گذشتہ شب سے 57 میں سے 53 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔

  6. اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت سے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا، ایران کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہیں: چین

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کی ’خودمختاری، سکیورٹی اور قومی عصمت‘ کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو وزیرِ خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب علی باقری سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے 31 جولائی کو تہران میں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے سے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور خطے میں استحکام کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔

    ایران اور حماس نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    چین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب علی باقری کو بتایا کہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت سے ’غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکراتی عمل، خطے میں امن اور استحکام کو نقصان پہنچا ہے۔‘

    ’چین قوانین کے مطابق ایران کے اپنی خودمختاری، سکیورٹی اور قومی عصمت کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے، اور خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو نہ صرف جاری رکھے گا بلکہ اس کے حصول کے لیے ایران سے بھی گفتگو جاری رکھے گا۔‘

    خیال رہے علی باقری بطور ایران کے عبوری وزیرِ خارجہ خدمات انجام دے رہے تھے۔ اتوار کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عباس عراقچی کو ملک کا نیا وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا ہے۔

    اسرائیل کو ممکنہ ردِ عمل دینے کے حوالے سے گذشتہ روز اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے علی شمخانی کا کہنا ہے کہ غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کا ان کے ملک کے حقِ دفاع سے کوئی تعلق نہیں لیکن انھیں امید ہے کہ اسرائیل کے خلاف ان کے جوابی حملے سے غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کو نقصان نہیں پہنچے گا۔

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے علی شمخانی کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی حکومت کی حالیہ دہشتگرد سرگرمیوں سے ہماری قومی سلامتی اور خود مختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘

    ’ہمیں اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے اور اس کا غزہ میں جنگ بندی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ ہماری طرف سے ردِ عمل ایک ایسے وقت اور ایک ایسے طریقے سے دیا جائے گا جس سے غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق نیویارک میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں علی شمخانی نے مزید کہا کہ ’غزہ میں جنگ بندی ہماری اولین ترجیح ہے اور جو معاہدہ حماس کو قبول ہوگا وہ ہمیں بھی قبول ہوگا۔‘

  7. بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید!

    قومی اور عالمی خبروں کے حوالے سے بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    اس سے پہلے کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔