یوکرین کے زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ کو ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں‘: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی

،تصویر کا ذریعہUKRAINIAN PRESIDENCY/HANDOUT
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ یوکرین کے بڑے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کو ایک ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
اتوار کو یوکرین کے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد روس اور یوکرین نے اس کے لیے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں۔
آئی اے ای اے نے ایکس پر لکھا کہ اسے اس پلانٹ سے گہرا کالا دھواں نکلتے ہوئے نظر آیا جس کے بعد متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
آئی اے ای اے کے مطابق مبینہ طور پر اس پلانٹ کے ایک کولنگ ٹاور کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نقصانات کا اندازہ لگانے کے لے اس پلانٹ تک فوری طور رسائی کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ نو اگست کو بھی یورپ کے سب سے بڑے اور یوکرین کے اہم ترین زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ پر مزید گولہ باری کی اطلاعات ملی تھیں۔ یوکرین اور روس دوبارہ ایک دوسرے پر اس حملے کا الزام لگایا تھا۔
دونوں ممالک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جمعرات کو یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کے دفتر اور فائر سٹیشن پر دس گولے مارے گئے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اجلاس کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے جوہری پروگرام کے نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ’سنگین گھڑی‘ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کہا ہے کہ یہ ’تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔‘
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس کی افواج نے اس پلانٹ پر آگ لگائی ہے جو کہ دو برس سے روسی افواج کے ہی قبضے میں ہے۔ جبکہ روس نے اس کا الزام یوکرین پر عائد کیا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا جب یوکرین کے فوجی 30 کلومیٹر روس کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ یہ روس کی طرف سے فروری 2022 کو یوکرین پر حملے کے بعد سب سے اہم پیش قدمی ہے۔
یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ روس اس پلانٹ میں دنیا کے بدترین جوہری حادثے کو بھڑکا سکتا ہے۔ روس نے مارچ کے اوائل میں اس جوہری پاور پلانٹ کو قبضے میں لیا تھا۔
بدھ کے روز، جی سیون اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ روس کو فوری طور پر پلانٹ کا کنٹرول کیئو کے حوالے کرنا چاہیے۔
دریں اثنا، امریکہ نے پلانٹ کے ارد گرد کے علاقے میں ایک غیر عسکری زون قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جوہری پلانٹ کے قریب لڑائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔
گذشتہ ہفتے بھی وسطی مشرقی یوکرین میں واقع اس پاور پلانٹ اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں گولہ باری دیکھنے میں آئی، اور اس وقت بھی روس اور یوکرین نے اس حملے کے لیے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا تھا۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے اس جگہ کو فوجی اڈے میں تبدیل کر دیا ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ یوکرین کی افواج جوابی کارروائی نہیں کر سکتی وہاں سے حملے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
تاہم روس اس دعویٰ کی تردید کرتا ہے۔ جبکہ روسی حکام نے اس سے متضاد بیان دیتے ہوئے یوکرین پر گولہ باری کا الزام عائد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی فورسز راکٹ لانچ سسٹم اور بھاری توپ خانے کا استعمال کر رہی ہیں۔ دونوں فریقین میں سے کسی ایک کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔





