بلوچستان کے ضلع قلات میں سکیورٹی آپریشن میں چار شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک خفیہ اطلاع پر آپریشن کرکے چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • یوکرین کے صدر ولادیمر زیلینسکی اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان امن معاہدے کے لصیے ملاقات جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ پوتن یوکرین کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں
  • آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک خفیہ اطلاع پر آپریشن کرکے چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے
  • پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ جو بھی ہو گا وہ برابری کی سطح پر ہوگا۔ اگر وہ ہینڈ شیک نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں

لائیو کوریج

  1. غزہ امن فورس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں، اگر مینڈیٹ حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں ہے: اسحاق ڈار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ امن فورس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے، اگر اس کا مینڈیٹ حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں ہے۔

    سنیچر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان، اس حوالے سے ہونے والے ہر اجلاس میں صرف امن قائم کرنے (پیس کیپنگ فورس) کا لفظ استعمال کرتا رہا ہے۔ ہم نے امن کے نفاذ کے کسی عمل کا حصہ بننے کی پیشکش نہیں کی۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا یا امن نافذ کرنا، فلسطینی اتھارتی کا کام ہو گا۔ ہم اُن کے ساتھ صرف امن برقرار رکھنے کے لیے تعاون کریں گے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ 'اس (غزہ سٹیبلائزیشن فورس) کا حصہ بننے کی پیشکش یا کم از کم اس پر غور کے لیے پاکستان کے بہت مشکور ہیں۔'

    مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ پاکستان اس حوالے سے ایک اہم ملک ہے، اگر وہ اس پر متفق ہو جاتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اور فنڈنگ کے معاملات پر اب بھی بحث جاری ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اگلا مرحلہ بورڈ آف پیس اور فلسطینی ٹیکنو کریٹ گروپ کا قیام ہے، جو روزمرہ کی گورننس کے معاملات دیکھے گا۔

    مارکو روبیو کے بقول 'جب یہ معاملہ طے پا جائے گا تو اس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ہمیں سٹیبلائزیشن فورس کو مضبوط کرنے کی اجازت ملے گی، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی ادائیگی کیسے کی جائے گی، ان کی مصروفیت کے اصول کیا ہیں، غیر فوجی معاملات میں ان کا کردار کیا ہو گا وغیرہ۔'

    مارکو روبیو کے بیان سے ایک روز قبل پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندارابی نے کہا تھا کہ پاکستان نے اس فورس کے لیے اپنی فوج بھیجنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

    گذشتہ ماہ بھی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شرکت کے لیے پاکستان اپنے فوجی بھجوانے کے لیے تیار ہے لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کے کام میں شامل نہیں ہو گا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ غزہ میں امن فوج کی تعیناتی کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونی چاہیے۔

    غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے آئی ایس ایف کے کردار کے بارے میں انھوں نے واضح کیا کہ دیگر اہم ممالک کی طرح پاکستان بھی اس کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔

  2. سابق وزیر خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر وفات پا گئیں, تنویر ملک ، صحافی

    شمشاد اختر

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان کی سابق وزیر خزانہ اور سابقہ گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر آج (سنیچر کے روز) وفات پا گئی ہیں۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ترجمان نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شمشاد اختر پاکستان سٹاک ایکسچینج ایس ایس جی سی کی چیئر پرسن تھیں۔

    ڈاکٹر شمشاد اختر سٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر رہیں، اس کے علاوہ انھوں نے موجودہ حکومت سے پہلے نگران وفاقی حکومت میں بطور وفاقی وزیر خزانہ بھی کام کیا۔

    پی ایس ایکس کی ویب سائٹ پر موجود ان کے پروفائل کے مطابق ڈاکٹر شمشاد اختر نے ہارورڈ یونیورسٹی سے فل برائٹ سکالرشپ کے تحت پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کی۔

    23 مارچ 2024 کو انھیں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔

    اپنی موت سے قبل وہ پاکستان میں متعدد اداروں کے بورڈز کی چیئر پرسن کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں جن میں پاکستان سٹاک ایکسچینج لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کا بورڈ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس شامل ہیں۔

    وہ پاکستان انوائرنمنٹ ٹرسٹ فنڈ کی مشیر بھی رہیں جبکہ کراچی گرامر سکول اور نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے بورڈ آف گورنرز کی رکن بھی تھیں۔

  3. پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں ہفتے کے روز سونے کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا اور 2300 روپے اضافے کے بعد سونا چار لاکھ 75 ہزار اور 672 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (اے پی ایس جی جے اے) کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 475,672 روپے ہو گئی، جو دسمبر کے دوران مسلسل اضافے کے بعد ایک اور نئی ریکارڈ سطح ہے۔

    10 گرام سونے کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ دیکھا گیا، جو 1,972 روپے کے اضافے کے ساتھ 407,803 روپے ہو گئی۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 23 ڈالر اضافے کے ساتھ 4,533 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے، جو عالمی سطح پر بھی ایک نیا ریکارڈ ہے۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ سونے کے رجحان کے ساتھ اوپر گئیں۔

    چاندی کی فی تولہ قیمت 462 روپے اضافے کے بعد 8,407 روپے ہو گئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 396 روپے بڑھ کر 7,207 روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کے بعد چاندی بھی مقامی اور عالمی سطح پر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

  4. پاکستان تحریکِ انصاف نے ’اشتعال انگیز‘ تقاریر ایکس سے ہٹا دی: ’ہم کسی بھی غیر قانونی رویے کی حمایت نہیں کرتے‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان تحریکِ انصاف کے برطانیہ سے چلائے جانے والے ایکس اکاؤنٹ پر سے پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف ’اشتعال انگیز‘ تقاریر والی ویڈیو کر پی ٹی آئی کی جانب سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    برطانیہ سے چلائے جانے والے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں پی ٹی آئی آفیشل یوکے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ہم نے حالیہ بریڈفورڈ احتجاج کی ایک ویڈیو ہٹا دی ہے جس میں ایک شہری نے جنرل عاصم منیر کے بارے میں اشتعال انگیز کلمات کہے تھے۔ اگرچہ ہمارا یقین ہے کہ اس فرد نے تشدد پر اکسانے کی کوشش نہیں کی، تاہم کسی ممکنہ غلط فہمی سے بچنے اور اس فرد کے قانونی تحفظ اور اس کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے یہ پوسٹ ہٹا دی گئی ہے۔‘

    واضح رہے کہ اسی معاملے پر پاکستان کی حکومت نے برطانوی حکام کو ایک خط میں بریڈ فورڈ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں شرانگیز بیانات پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    جس پر برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ کی پولیس اور استغاثہ حکومت سے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر غیر ملکی حکومت کو یقین ہو کہ کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو اُنھیں چاہیے کہ وہ برطانوی پولیس کو تمام متعلقہ مواد یا شواہد فراہم کریں۔

    پی ٹی آئی کے برطانیہ سے چلنے والے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کسی بھی غیر قانونی رویے کی حمایت نہیں کرتی۔ آزاد شہریوں کو بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بیانات کو ناپ تول کر دیں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی عمران خان کی رہنمائی کے مطابق عدم تشدد اور قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم ہے۔‘

  5. 31 دسمبر تک اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک کے داخلہ کی مشروط اجازت

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سالِ نو کے موقع پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے خصوصی ہدایات جاری کیں ہیں۔

    ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ 27 سے 30 دسمبر تک دوپہر تین بجے سے رات 8 بجے تک دوسرے شہروں سے آنے والی ہیوی ٹریفک کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

    اسی طرح ٹریفک پولیس کے مطابق 31 دسمبر کو دوپہر 3 بجے سے رات 12 بجے تک ہیوی ٹریفک جیسے ٹرک وغیرہ اسلام آباد میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سالِ نو کے موقع پر شہر ہونے والی تقریبات کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا ہے۔

    اسلام آباد کی کئی سڑکوں پر اس وقت ترقیاتی کام جاری ہے اور گذشتہ دونوں اسلام آباد میں مختلف وجوہات کی بنا پر ٹریفک جام کی شکایات سامنے آئیں ہیں۔

  6. یوکرین کے صدر کی امریکہ آمد، صدر ٹرمپ سے اتوار کو ملاقات ہو گی

    یوکرین، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    امریکی صدر سے ملاقات کے لیے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی امریکہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اتوار کو فلوریڈا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ ملاقات میں روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے سے متعلق امن منصوبے اور امریکی کی جانب سے دی جانی والی ضمانتوں پر بات ہو گی۔

    دوسری جانب روس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جس منصوبے پر امریکہ سے بات چیت ہوئی تھی یہ منصوبہ اس سے بہت مختلف ہے۔

    ماسکو نے بات چیت میں ’سست لیکن مستحکم پیش رفت‘ کے بارے میں بات کی ہے لیکن اس بات چیت میں یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس سے فوجیوں کو واپس بلانے کی پیشکش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    گذشتہ رات میں یوکرین کے دارالحکوت کیئو میں دھماکوں کی آواز سنی گئی۔ جس پر یوکرین کے حکام نے کہا کہ یہ ایک نیا روسی فضائی حملہ تھا۔

    روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا اور یوکرین کے کئی علاقوں پر قبضہ کر کیا ہے۔

  7. اسرائیل میں مبینہ فلسطینی شہری کے حملے میں ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک، مغربی کنارے میں آپریشن کی ہدایات

    ِاسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہMagen David Adom

    پولیس کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل میں ہونے والے ’دہشت گرد‘ حملوں میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے شمالی شہر بیتِ شین میں ایک حملہ آور نے پیدل چلنے والے راہگیرپر گاڑی چڑھا دی جس سے وہ ہلاک ہو گیا اس کے بعد حملہ آور نے کچھ ہی فاصلے پر خاتون کو چاقو مار کر ہلاک کیا اور فرار ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کو ایک شہری نے فائرنگ کر کے زخمی زخمی کر دیا۔

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور کا تعلق مغربی کنارے کے شہر قباطیہ سے ہے اور اس واقعے کے بعد اسرائیلی افواج مغربی کنارے کے کچھ علاقوں پر آپریشن کی تیاری کر رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ قباطیہ کے علاقے میں ’فوری اور سخت‘ آپریشن کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور چند روز قبل ہی اسرائیلی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    اسرائیلی شہر میں یہ واقعے ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایک روز قبل ہی مغربی کنارے میں سڑک کے کنارے نماز پڑھتے ہوئے ایک شخص پر فوجی اہلکار نے بائیک چڑھا دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    حالیہ کچھ ماہ کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں میں آضافہ ہوا ہے۔

    7 اکتوبر 2023 کے حماس پر اسرائیل کے حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور حماس نے 251 افراد کو مغوی بنا لیا تھا۔

    حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق، تب سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 70,600 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  8. سفارت کار کی پاکستانی دفترِ خارجہ میں طلبی پر برطانوی ہائی کمیشن کا ردِعمل: ’اگر برطانیہ میں کوئی جرم ہوا ہے تو پولیس کو شواہد دیں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی پولیس اور استغاثہ حکومت سے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر غیر ملکی حکومت کو یقین ہو کہ کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو اُنھیں چاہیے کہ وہ برطانوی پولیس کو تمام متعلقہ مواد یا شواہد فراہم کریں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی مواد جو برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو، پولیس اس کا جائزہ لے کر مجرمانہ تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔

    اس سے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ برطانوی شہر بریڈ فورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف 'اشتعال انگیز' تقاریر پر برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کیا گیا ہے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو جمعے کو دوپہر دو بجے دفتر خارجہ طلب کر کے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

    ڈیمارش میں برطانوی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر پاکستانی قیادت کو دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور اپنی زمین پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

    اس سے قبل پاکستان کی حکومت نے برطانوی حکام کو لکھے گئے ایک خط میں بریڈ فورڈ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں شرانگیز بیانات پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے 'جیو نیوز' سے گفتگو میں برطانوی حکام کو لکھے جانے والے خط کی تصدیق کی ہے۔

    اُن کے بقول خط میں برطانوی حکام سے کہا گیا ہے کہ بریڈ فورڈ میں احتجاج کے دوران پاکستان کی 'مسلح افواج کے سربراہ کو دھمکانے' کے واقعے پر ایکشن لیا جائے۔

    پاکستانی حکام کے مطابق اس خط میں ایک خاتون کی جانب سے شر انگیز بیانات پر مبنی ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر پاکستان کی فوجی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہہ رہی ہیں کہ 'ایک جہاز کریش ہونے سے مارا گیا تھا اور دوسرا کار میں بم پھٹنے سے مرے گا۔'

  9. ایران میں طالبان مخالف افغان فوجی کمانڈر کی ہلاکت کا الزام افغان طالبان پر کیوں لگ رہا ہے؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہHasht-e Sobh website

    سابق افغان حکومت میں شمالی افغان صوبوں تخار اور بغلان کے پولیس چیف رہنے والے جنرل اکرام الدین سری کی ہلاکت کا الزام افغانستان میں طالبان حکومت پر عائد کیا جا رہا ہے۔

    جنرل اکرام الدین سری کو بدھ کے روز تہران میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

    افغانستان کی نیوز ویب سائٹ ’ہشت سوب آن لائن‘ کے مطابق سری، افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد ایران آ گئے تھے اور یہاں وہ سابق فوجی اہلکاروں کے حقوق کی وکالت کر رہے تھے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سری کو حال ہی میں سابق فوجیوں کی شکایات اور رابطہ کاری کے دفتر کا ذمے دار مقرر کیا گیا تھا۔

    جنرل اکرام الدین سری نے سابق افغان حکومت میں مختلف فوجی عہدے پر فائز رہنے کے علاوہ بغلان اور تخار کے پولیس سربراہ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل سری کا شمار طالبان حکومت کے بڑے ناقدین میں ہوتا تھا اور وہ ’حراستی مراکز،‘ ’تشدد‘ اور قتل کی وارداتوں پر کھل کر تنقید کرتے تھے۔

    یہ ایران میں مارے جانے والے دوسرے طالبان مخالف فوجی کمانڈر تھے۔ اس سے قبل ستمبر میں اسماعیل خان کے قریب ایک سابق طالبان مخالف جہادی کمانڈر معروف غلامی کو مشہد میں مارا گیا تھا۔

    ابھی تک کسی گروہ یا فرد نے اس قتل کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے تاہم طالبان کے بعض مخالفین نے طالبان کو اس قتل کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

    سابق افغان حکومت میں وزارتِ دفاع میں چیف آف سٹاف عبدالرؤف نے برطانیہ میں افغانستان انترنیشنل ٹی وی کو بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ان کے دہشت گردانہ پس منظر کی بنیاد پر، ظالم طالبان حکومت نے اس دہشت گردانہ کارروائی کا سہارا لیا۔‘

    طالبان حکومت نے تاحال باضابطہ طور پر اس معاملے پر کوئی ردِِعمل نہیں دیا۔ لیکن طالبان کے حامی کچھ میڈیا اکاؤنٹس اسے طالبان مخالف دھڑوں کے درمیان اختلافات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

  10. بریڈ فورڈ میں احتجاج کے دوران عسکری قیادت کے خلاف ’اشتعال انگیز‘ تقاریر، پاکستان میں قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ برطانوی شہر بریڈ فورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف ’اشتعال انگیز‘ تقاریر پر برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کیا گیا ہے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو جمعے کو دوپہر دو بجے دفتر خارجہ طلب کر کے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

    ڈیمارش میں برطانوی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر پاکستانی قیادت کو دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور اپنی زمین پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

    اس سے قبل پاکستان کی حکومت نے برطانوی حکام کو لکھے گئے ایک خط میں بریڈ فورڈ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں شرانگیز بیانات پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں برطانوی حکام کو لکھے جانے والے خط کی تصدیق کی ہے۔

    اُن کے بقول خط میں برطانوی حکام سے کہا گیا ہے کہ بریڈ فورڈ میں احتجاج کے دوران پاکستان کی ’مسلح افواج کے سربراہ کو دھمکانے‘ کے واقعے پر ایکشن لیا جائے۔

    پاکستانی حکام کے مطابق اس خط میں ایک خاتون کی جانب سے شر انگیز بیانات پر مبنی ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر پاکستان کی فوجی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہہ رہی ہیں کہ ’ایک جہاز کریش ہونے سے مارا گیا تھا اور دوسرا کار میں بم پھٹنے سے مرے گا۔‘

    بی بی سی آزادانہ ذرائع سے اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے برطانوی حکام کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وہ اس پر اپنے قوانین کے مطابق کارروائی کریں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، بلکہ یہ کسی کو جان سے مار دینے کی دھمکی ہے، جو نہ صرف عالمی بلکہ برطانوی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’آئی کے ٹوڈے‘ کے مطابق جمعرات کو پی ٹی آئی بریڈ فورڈ کی جانب سے بھرپور احتجاج کا اہتمام کیا گیا جس میں عمران خان اور اُن کے اہلخانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

  11. وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا لاہور پہنچ گئے، محکمہ داخلہ پنجاب کا فول پروف سکیورٹی دینے کا اعلان, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اُردو اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے ہیں۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران اُنھیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔

    دورے کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مختلف سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ وہ صحافیوں اور طلبہ سے بھی ملاقات کریں گے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کوٹ لکھپت جیل کا بھی دورہ کریں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے مطابق وزیر اعلی سہیل آفریدی ایک قافلے کی صورت میں بذریعہ موٹروے اسلام آباد سے لاہور پہنچ رہے ہیں۔

  12. نو مئی کے دو کیسز میں میاں محمود الرشید کو 33 سال، یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے دو مزید کیسز میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید کو مجموعی طور پر 33 برس قید کی سزا سنا دی ہے۔

    عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر نو مئی کو گلبرک میں گاڑیاں جلانے سمیت جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ بھی درج تھا۔ میاں محمود الرشید کو الگ الگ دفعات کے تحت سزائیں سنائی گئی ہیں۔

    عدالت نے جرم ثابت نہ ہونے پر 23 ملزمان کو بری بھِی کیا ہے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کی نو مئی کے واقعات میں سازش کے اجلاسوں میں موجودگی ثابت ہوئی ہے۔

    پراسیکیوشن کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت چار رہنماؤں نے ملک میں جلاؤ گھیراؤ کے لیے عوام میں انتشار پھیلایا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن نے مختلف واٹس ایپ پیغامات اور 70 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کیں۔ ملزمان کے خلاف فرانزک رپورٹس بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔

    خیال رہے کہ ان ملزمان کو نو مئی کے متعدد کیسز میں پہلے ہی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف انھیں سیاسی بنیادوں پر سنائی گئی سزائیں قرار دیتی رہی ہے۔

  13. متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان جمعے کی دوپہر ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    دفترِ خارجہ کی جانب سے اس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دورے کی دعوت متحدہ عرب امارات کے صدر کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دی تھی۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران شیخ محمد بن زید النہیان پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال ہو گا۔

    واضح رہے کہ صدر متحدہ عرب امارات کے دورہ پاکستان کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی سطح پر عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی آج چھٹی کا اعلان کردیا ہے، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس 26 دسمبر کو بند رہیں گے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی ٹریفک پولیس نے بھی سکیورٹی کے سبب روٹس لگانے کا پیشگی اعلان کر رکھا ہے۔

  14. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 172000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں  تیزی کا رجحان ریکارڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آج کے دن کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا جس کے بعد انڈیکس میں مسلسل اضافے کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

    مارکیٹ انڈیکس 1300 پوائنٹس اضافے کے بعد 172125 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا ۔ سٹاک ایکسچینج کے تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں دلچسپی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے انڈیکس میں اضافہ ہواـ

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ مارکیٹ میں تیزی کی ایک وجہ تو مستقبل کے سودوں کی سیٹلمنٹ کے ہفتے یعنی رول اوور ویک کے خاتمے کے قریب ہونے کی وجہ سے کچھ مثبت اثرات مرتب ہوئے کیونکہ گزشتہ تین چار دنوں میں اس کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ تاہم سب سے بڑی وجہ پی آئی اے کی نج کاری کی وجہ سے مارکیٹ میں بحال ہونے والا اعتماد تھا۔

    ان کے مطابق پی آئی اے کی نج کاری کی وجہ سے مارکیٹ سرمایہ میں ایک نیا اعتماد آیا ہے کہ اب مزید ادارے بھی نج کاری کے مرحلے سے گزریں گے جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہو گی۔

  15. روس- یوکرین جنگ، امریکی نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں ’حقیقی امن‘ کے لیے نئی اور بہتر تجاویز سامنے آئیں: زیلینسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور دیگر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی نمائندوں کے ساتھ ہونے والی اپنی بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے کہا کہ جمعرات کو ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹیکر اور جیرڈ کشنر کے ساتھ ایک گھنٹے کے قریب فون پر گفتگو ہوئی۔

    ان کے مطابق اس گفتگو کے نتیجے میں ملاقاتوں اور حقیقی امن حاصل کرنے کے وقت اور طریقے کار کے حوالے سے نئی اور بہتر تجاویز سامنے آئی ہیں۔

    صدر زیلینسکی نے یہ بیان فلوریڈا میں امریکی اور یوکرینی نمائندوں کے درمیان طے پانے والے ایک تازہ 20 نکاتی امن منصوبے کی تفصیلات پیش کے ایک روز بعد دیا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر کو کرسمس کی مبارکباد پہنچائیں۔ دوسری جانب کریملن نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی ایلچی کی جانب سے پہنچائی گئی بات چیت کا جائزہ لے رہا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے اعتراف کیا کہ ابھی بھی ’بہت سے حساس معاملات پر کام باقی ہے‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم امریکی اہلکاروں کے ساتھ مل کر یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس سب کوممکن کیسے بنایا جائے۔‘

    صدر زیلنسکی نے امریکی ٹیم کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

    یاد رہے کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان طے پانے والے 20 نکاتی امن منصوبے کو وٹیکوف کی چند ہفتے قبل تیار کردہ ابتدائی مسودے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

    اس ابتدائی مسودے کو وسیع پیمانے پر روس کے زیادہ سے زیادہ مطالبات کے مطابق قرار دیا گیا تھا ایسے مطالبات جنھیں کیئو اور اس کے یورپی اتحادیوں نے یوکرین کی عملی طور پر ہتھیار ڈالنے کے مترادف کہا تھا۔

    بدھ کے روز تازہ منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ اس میں روس کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ مشرق سے یوکرینی افواج کو واپس بلائے اور اس کی جگہ ایک غیر فوجی علاقہ قائم کرے۔

  16. حکام کا دباؤ تھا کہ ’ایکس‘ پروفائل سے 'حریت چیئرمین' کا عہدہ ہٹائیں ورنہ اکاؤنٹ بند کر دیں گے: میر واعظ عمر فاروق

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اپنے تصدیق شدہ ایکس پروفائل سے ’چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس‘ کا عہدہ ہٹا دیا ہے۔

    میر واعظ عمر فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن پر مسلسل یہ دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ اپنے ایکس ہینڈل سے 'حریت چیئرمین' کا عہدہ ہٹائیں، لہذا پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے وہ یہ ہٹانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

    ایکس پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں میر واعظ عمر فاروق کا کہنا تھا کہ لوگوں تک رسائی کے اب بہت کم پلیٹ فارم ہی باقی بچے ہیں، جن میں ایکس بھی شامل ہے۔ اسی لیے اُنھیں یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس کے تمام دھڑوں اور عوامی ایکشن کمیٹی پر انسدادِ دہشت گردی کے سخت قانون کے تحت پابندی ہے، جس کی وجہ سے حریت کانفرنس کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل ہے۔

    انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جمعرات کی شام ہونے والی اس تبدیلی کے بعد میر واعظ کے ایکس ہینڈل کی بایو (تعارف) میں اب صرف ان کا نام اورمقام کی بنیادی تفصیلات درج ہیں۔

    یاد رہے کہ میر واعظ عمر فاروق کے ایکس اکاؤنٹ پر دو لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

    واضح رہے کہ میر واعظ کی اپنی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی پر مرکز کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے سخت قانون کے تحت پابندی عائد ہے۔

    میر واعظ مولوی محمد فاروق اور عمر فاروق م

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشن1990 میں پنڈتوں کے انخلا کے بعد 21 مئی کو میر واعظ مولوی محمد فاروق کو مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد عمر فاروق محض 16 سال کی عمر میں کشمیر کے چودہویں میر واعظ بنے

    میر واعظ عمر فاروق کون ہیں؟

    میر واعظ کشمیر کے علیٰحدگی پسندوں میں واحد رہنما ہیں جنھیں 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد باقی لیڈروں کی طرح جیل میں قید نہیں کیا گیا تھا۔

    وہ برسوں تک اپنے ہی گھر میں نظر بند رہے۔ میر واعظ کی ابتدائی تعلیم مسیحی مشنری سکول برن ہال میں ہوئی۔ انھوں نے اسلامِک سٹڈیز میں ماسٹرز کیا اور شام کی یونیورسٹی سے مسلم ثقافت سے متعلق موضوعات پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

    انھیں تین مرتبہ اُردن میں مقیم رائل اسلامِک سٹریٹجک سٹڈیز کے سالانہ سروے میں دنیا کے 500 بااثر مسلم رہنماوں اور 10 بااثر مسلم سیاسی لیڈروں میں شمار کیا گیا۔

    سنہ 1990 میں پنڈتوں کے انخلا کے پانچ ماہ بعد 21 مئی کے روز میر واعظ مولوی محمد فاروق کو مسلح افراد نے ان کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد عمر فاروق محض 16 سال کی عمر میں کشمیر کے چودہویں میر واعظ بنے تھے اور تین سال بعد صرف 19 سال کی عمر میں مختلف علیحدگی پسند جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے چیئرمین منتخب ہوئے۔

    انھوں نے کشمیر سے متعلق انڈیا کے سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ کے ساتھ 2004 سے 2007 تک مذاکرات کے کئی ادوار میں حصہ لیا تاہم ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

    لیکن انڈیا کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے معاملے پر حریت کانفرنس تقسیم ہو گئی۔ وہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف، سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور دوسرے رہنماوں سے بھی مذاکرات کر چکے ہیں۔

  17. انڈین فوج کی سوشل میڈیا ایپلیکیشن کے استعمال کی نئی پالیسی جاری، انسٹا گرام سمیت دیگر ایپس پر تبصرے، لائیک یا شیئر کرنا ممنوع قرار

    سوشل میڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین فوج نے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے نئی پالیسی جاری کر دی ہے جس کے تحت فوجی اہلکار اب انسٹاگرام، فیس بُک، ایکس (ٹوئٹر)، یوٹیوب، لنکڈ اِن جیسی ایپلیکیشنز کو صرف دیکھنے اور نگرانی کرنے کے لیے تو استعمال کر سکیں گے لیکن اُن پر مواد پوسٹ کرنا، تبصرہ کرنا، لائیک یا شیئر کرنا سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

    انڈیا کے خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ کے مطابق دفاعی حکام نے اِس حوالے سے واضح ہدایات جاری کی ہیں جس کے تحت واٹس ایپ، ٹیلی گرام، سگنل اور سکائپ جیسی پیغام رسانی کی ایپس پر فوجی اہلکاروں کو صرف غیر خفیہ یا عمومی نوعیت کی معلومات اپنے جان پہچان کے رابطوں کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت ہو گی۔

    نئی پالیسی کے مطابق اس بات کی ذمہ داری صارف پر ہو گی کہ وہ درست اور تصدیق شدہ اکاؤنٹ کی شناخت کرے۔

    انڈیا کے فوجی اہلکار انسٹاگرام تک صرف مشاہدے اور نگرانی کے مقاصد کے لیے رسائی حاصل کر سکیں گے تاہم انسٹاگرام پر کسی قسم کے تبصرے یا خیالات کا اظہار نہیں کیا جائے گا

    اے این آئی کے مطابق یہ پالیسی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ملٹری انٹیلیجنس (DGMI) نے جاری کی ہے تاکہ سائبر خطرات، غلط معلومات اور حساس معلومات کے پھیلنے کو روکا جا سکے۔

    حکام کے مطابق اس کا مقصد فوجی اہلکاروں کو محدود ڈیجیٹل رسائی دینا ہے، لیکن ساتھ ہی سخت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا بھی ہے۔

    اے این آئی کے مطابق ایکس، کورہ، یوٹیوب، جیسی سوشل میڈیا ایپس صرف معلومات تک رسائی کے لیے استعمال کی جس سکتی ہیں جہاں فوجی اہلکاروں کو خود فعال یا ایکٹیو رہنے کی اجازت نہیں ہو گی نہ ہی کسی دیگر صارف کا مواد یا پیغام اپلوڈ یا ری پوسٹ کیا جا سکے گا۔

    اے این آئی کے مطابق لنکّ ان کے اکاؤنٹ کو اپنا سی وی اپ لوڈ کرنے اور ممکنہ ملازمین یا آجروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    اس سے قبل سوموار کو انڈین فوج نے نیتا جی سبھاس ےونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (NSUT) کو فوج کے لیے سافٹ ویئر اور مصنوعی معلومات پر مبنی حل تیار کرنے میں تعاون کرنے کی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

    یونیورسٹی کے طلبا اور فیکلٹی انڈیا کی فوج کے لیے تیار کیے جانے والے پروگرامز کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بھی مدد کرے گا۔

  18. امریکہ نے نائجیریا میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف ’بھرپور حملہ‘ کیا ہے: صدر ٹرمپ

    trump

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمال مغربی نائجیریا میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے خلاف ’بھرپور‘ اور مہلک حملے‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا ہے کہ نائجیریا میں یہ گروہ زیادہ تر بے گناہ مسیحیوں کو نشانہ بنا کر بے رحمی سے قتل کر رہا ہے۔

    صدرٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ’کئی بہترین حملے‘ کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی افواج نے ’متعدد کامیاب حملے‘ کیے لیکن انھوں نے اس ضمن میں کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    دوسری جانب امریکی افریقہ کمانڈ (افریکوم) نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی کہ حملہ نائجیریا کو اعتماد میں لیتے ہوئے صوبہ سوکوتو میں کیا گیا ہے۔

    نائجیریا کے وزیر خارجہ یوسف معیتما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک مشترکہ کارروائی تھی جس کا مقصد ’دہشت گردوں‘ کو نشانہ بنانا تھا اور اس کا کسی خاص مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کوسوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ’میری قیادت میں امریکہ اسلامی دہشت گردی کو پنپنے نہیں دے گا‘

    یاد رہے کہ نومبر میں ٹرمپ نے امریکی فوج کو نائجیریا میں اسلام پسند عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کی تیاری کا حکم دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نائجیریا کے مسیحیوں کے خلاف نسل کشی ہو رہی ہے، دوسری جانب انسانی حقوق کے ادارے اور تشدد پر نظر رکھنے والے گروہ کہتے ہیں کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ مسیحیوں کو مسلمانوں سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ نائجیریا میں مسلمان اور مسیحی آبادی کا تناسب تقریبا برابر ہے۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے نائجیریا کی حکومت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

    نائجیریا کے صدر بولا ٹینوبو کے مشیر نے کہا کہ ملک خودمختار ہے اور کسی بھی عسکری کارروائی کو مشترکہ طور پر انجام دینا چاہیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شدت پسند کسی خاص مذہب کو نہیں بلکہ تمام مذاہب یا بے دین لوگوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

  19. ترکی: نئے سال کی تقریبات پر ’حملوں کی منصوبہ بندی‘ کرنے والے دولت اسلامیہ کے 115 مبینہ ارکان گرفتار

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترک حکام کا کہنا ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ سے تعلق کے شبہے میں 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو کہ مبینہ طور پر کرسمس اور نئے سال کی تقریبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے مطابق شہر کے 124 مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور ’تنظیمی دستاویزات‘ برآمد ہوئے۔

    حکام نے کہا کہ آئی ایس کے حامی اس ہفتے ترکی میں غیر مسلموں کو نشانہ بنانے کے لیے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    سرکاری بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے 115 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ مزید 22 افراد کی تلاش جاری ہے۔ پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ مشتبہ افراد ترکی سے باہر آئی ایس کے کارکنان سے رابطے میں تھے۔

    یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب دو روز قبل ترک انٹیلی جنس ایجنٹس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر گروپ کے خلاف چھاپہ مارا تھا۔

    گرفتار ہونے والے ترک شہری پر الزام ہے کہ وہ خطے میں سرگرم آئی ایس کے ونگ کے سینیئر کمانڈر تھے۔

  20. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے ہم اپنے قارئین کے لیے گزشتہ روز کی اہم خبروں کے چیدہ چیدہ نکات یہاں شامل کر رہے ہیں۔

    • پاکستان کے شہر کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) نے بعض غیر ملکیوں سمیت ایک ایسے گروہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو آن لائن سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر شہریوں کو لوٹ رہے تھے۔ ایک پریس کانفرنس میں حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 15 غیر ملکی اور 19 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    • افغانستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستے تقریباً ڈھائی ماہ تک بند رہنے کے بعد ملک کے پھل و سبزیوں کے شعبے کو براہِ راست اور بالواسطہ طور پر قریب پانچ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
    • لوچستان کے ضلع کیچ میں دو خواتین سمیت چار افراد کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف دھرنے کے باعث گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سی پیک شاہراہ جمعرات کو تیسرے روز بھی بند رہی۔
    • افغانستان میں طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک-افغان سرحد پر ترکی کی قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کی کارروائی میں داعش کے مبینہ عہدے دار کی گرفتاری ’عوامی سطح‘ پر طالبان کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کی بنیاد پر ممکن ہوئی۔
    • پاکستان تحریک انصاف نے برطانیہ میں مقیم پی ٹی آئی رہنما شہزاد اکبر پر قاتلانہ حملے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ شہزاد اکبر زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
    • انڈیا میں واقع تاریخی اہمیت کی حامل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں راؤ دانش علی نامی ایک استاد ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے دو منصوبوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں 33 کروڑ ڈالر مالیت کا سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن سٹرینتھننگ پراجیکٹ اور سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی تبدیلی کے لیے 40 کروڑ ڈالر کا پروگرام شامل ہے۔