26ویں آئینی ترمیم کی منظوری موخر: ’سیاسی جماعتوں سے مشاورت میں بلاول بھٹو کردار ادا کریں گے‘

حکومتی جماعتوں کی جانب سے بظاہر 26ویں آئینی ترمیم کے لیے پارلیمانی اکثریت کے حصول میں ناکامی کے بعد آئینی ترامیم کی منظوری کا معاملہ موخر کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے لیے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • لبنان کے وزیر صحت کے مطابق پورے مُلک میں ’پیجرز‘ کے پھٹنے سے اب تک 9 افراد ہلاک جبکہ 2750 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
  • لبنان کے نشریاتی ادارے المنار کے مطابق ملک کے وزیر اطلاعات زیاد مکاری نے پیجر دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسرائیلی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔
  • اسرائیل کی جانب سے تاحال ان حملوں کے بارے میں کوئی تبصرہ یا وضاحت جاری نہیں کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. قومی اسمبلی کا اجلاس آج پھر ہوگا، آئینی ترمیم کا بل پیش کیے جانے کا امکان

    NA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کو بار بار موخر ہونے کے بعد رات قریب 11 بجے سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا۔ تاہم سپیکر نے اسے کچھ ہی منٹ بعد پیر کی صبح ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دیا ہے۔

    سرکاری چینل پی ٹی وی نے اسے ایک ’تاریخی اجلاس‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے آئینی ترمیم کا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    اتوار کو حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ ترامیم پر کئی گھنٹوں تک مشاورت کی ہے۔

  2. حکومت کو کہا تھا ترمیم لانے میں جلدی نہ کریں: عبدالغفور حیدری

    Haideri

    ،تصویر کا ذریعہ@MaulanaHaideri

    جمیعت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ حکومت کو آئینی ترامیم سے متعلق اجلاس موخر کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک ارکان مسودہ نہیں پڑھیں گے تب تک وہ ووٹ کیسے دے سکتے ہیں۔

    اسلام آباد میں عبدالغفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ’ہمیں ابھی تک مسودہ نہیں ملا کہ ہم جان سکیں کہ اس میں کیا لکھا گیا ہے۔ ہم نے کہا جب تک مسودہ نہیں پڑھیں گے، ووٹ کیسے دے سکتے ہیں؟‘

    عبدالغفور حیدری کے مطابق ’ہم نے حکومت کو کہا تھا ترمیم لانے میں جلدی نہ کریں۔ ہم اجلاس میں اپنا موقف کھل کر رکھیں گے۔‘

    یاد رہے کہ موجودہ صورت حال میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس وقت سیاسی جماعتوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

    آج پارلیمان میں آئینی ترمیم پیش کیے جانے سے قبل ان کی اپنی رہائش گاہ پر حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعت تحریک انصاف دونوں کے وفود سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

    حکومت کو اس آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اسے مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے آٹھ ارکان کی حمایت درکار ہوگی تاکہ اسے قومی اسمبلی میں 224 ووٹ حاصل ہوسکیں۔

    مولانا عبدالغفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ ’اجلاس جلدی میں بلایا گیا۔ ہم نے مشورہ دیا ہے کہ اجلاس کو موخر کریں تاکہ مشاورت ہو۔ اگر حکومت عجلت سے کام لیتی ہے تو شاید ہم اسے سپورٹ نہ کریں۔‘

  3. آئینی ترمیم پیش کرنے میں تاخیر کی وجہ مشاورتی عمل ہے: عطا تارڑ

    وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں آئینی ترمیم پیش کرنے میں تاخیر ہوئی ہے جس کی وجہ اس سنجیدہ معاملے پر مشاورتی عمل ہے۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئینی ترمیم پر حکومتی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن جماعتوں سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ مسودہ کی ایک، ایک شق پر حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں مشاورت جاری ہے اور قانونی ماہرین کی رائے لی جا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم موڑ ہے کہ آئین میں ترمیم ہونے جا رہی ہے۔‘

    ’میثاق جمہوریت میں انصاف تک رسائی کو آسان بنانا شامل تھا۔ اصلاحات کے ذریعے انصاف کا نظام بہتر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پارلیمان ایک بالادست ادارہ ہے۔‘

    عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وسیع تر مشاورت کے نتیجے میں اصلاحات تک پہنچا جائے گا۔ ’ان ترامیم کے ذریعے ہر شہری کی زندگی میں بہتری آئے گی۔‘

    وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’تاخیر ضرور ہوئی ہے تاکہ مشاورت کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور قانونی ماہرین کی رائے طلب کی جائے۔‘

  4. اختر مینگل: آئینی ترامیم کی حمایت ’دو ہزار لاپتا افراد کی بازیابی‘ سے مشروط, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Akhtar Mengal

    بلوچستان نیشنل پارٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے مجوزہ آئینی ترامیم کی مکمل حمایت کے لیے دو ہزار لاپتا افراد کی بازیابی کی شرط پیش کی ہے۔

    بلوچستان سے تعلق رکھنے والی جماعت نیشنل پارٹی نے کہا ہے کہ اب تک حکومت نے جن آئینی ترامیم کے حوالے سے پارٹی سے مشاورت کی ہے پارٹی ان کی حمایت کرے گی جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے مجوزہ آئینی ترامیم کی حمایت کی ہے۔

    یاد رہے کہ ‎بلوچستان سے قومی دھارے کی جماعتوں کے علاوہ جن دیگر جماعتوں کی پارلیمنٹ نمائندگی ہے ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی شامل ہیں۔

    قوم پرست جماعتوں میں سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی قومی اسمبلی میں ایک، بلوچستان نیشنل پارٹی کی سینیٹ میں دو جبکہ نیشنل پارٹی کی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ایک ایک نشست ہے۔

    حکومت نے بلوچستان سے نمائندگی رکھنے والی دیگرجماعتوں سے بھی حمایت کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    اگر ترامیم عوام کے فائدے میں ہیں تو خفیہ کیوں رکھا جارہا ہے: بی این پی

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم قام صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ آئینی ترامیم کی حمایت کے لیے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور دیگر حکومتی عہدیداروں کا سردار اختر مینگل کے علاوہ ان سے رابطہ ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومتی عہدیداروں سے یہ سوال کیا کہ اگر یہ ترامیم عوام کے فائدے کے لیے ہیں تو ان کو خفیہ کیوں رکھا جارہا ہے؟

    ’ہم نے انھیں بتایا کہ آئینی ترامیم کے مسودے کو تو تین ماہ پہلے منظر عام پر لانا چائیے تھا۔‘

    ‎ان کا کہنا تھا کہ جب تک آئینی ترامیم کا مسودہ نہیں ملے گا اس وقت تک پارٹی ان کی حمایت نہیں کرسکے گی۔ ‎انھوں نے بتایا کہ پارٹی کے سربراہ نے آئینی ترامیم کی حمایت کے لیے دو ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی کی شرط بھی رکھ دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے اس معاملے پر بات چیت کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے تاہم اگر حکومت اس بات کے لیے تیار ہوتی ہے تو ان دو ہزار افراد کو آئینی ترامیم کی منظوری سے پہلے بازیاب کرانا ہوگا۔

    ‎انھوں نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ ہوگا لیکن بلوچستان کو صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بلوچستان کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے تو وہ قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستوں میں اضافہ کرے۔

    ’آئینی کورٹ کے قیام سے متعلق ترمیم کی نیشنل پارٹی حمایت کرے گی‘

    BNP

    نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر جان محمد بلیدی نے بتایا کہ بعض آئینی ترامیم پر حکومت کی نیشنل پارٹی سے مشاورت ہوئی ہے اور جن آئینی ترامیم پر مشاورت ہوئی ہے نیشنل پارٹی ان کی حمایت کرے گی۔

    انھوں نے کہا کہ جن آئینی ترامیم پر مشاورت ہوئی ہے ان میں آئینی کورٹ کے قیام سے متعلق ترمیم شامل ہے جس کی نیشنل پارٹی حمایت کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ آئینی ترامیم میں ججوں کی تقرری کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں پارلیمنٹ کے اراکین بھی شامل کیے جائیں گے اور اس میں دو اراکین حزب اختلاف اور دو اراکین حکومت سے ہوں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ مجوزہ آئینی ترامیم کے تحت فلور کراس کرنے والے رکن کو نااہل قرار دیا جائے گا۔

    جان محمد بلیدی نے بتایا کہ پہلے 90 روز تک چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر اتفاق رائے نہ ہونے پر معاملہ لٹک جاتا تھا لیکن اب 90 روز تک اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں یہ معاملہ بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فوج کے سربراہ کو ہٹانے کا اختیار پہلے وزیر اعظم کے پاس تھا لیکن مجوزہ آئینی ترمیم میں فوج کے سربراہ کو ہٹانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس جائے گا۔