اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کے خلاف جاری سخت مہمات پر ایک فیصلہ سناتے ہوئے انھیں زہر دینے، گولی مارنے یا کسی بھی غیر انسانی طریقے سے ہلاک کرنے پر مستقل پابندی عائد کر دی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی کتے کو صرف اس صورت میں مارا جا سکتا ہے جب ایک مستند ویٹرنری ڈاکٹر یہ تصدیق کرے کہ وہ باؤلا یا لاعلاج بیماری میں مبتلا ہے، اور تب بھی اسے ایک باقاعدہ طبی طریقہ کار کے تحت تکلیف سے نجات دی جائے۔
عدالت نے آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے سائنسی طریقہ کار اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ’ٹریپ، سٹرلائز اور ویکسین‘ پالیسی اپنانے پر زور دیا۔ فیصلے میں ملائیشیا، ترکی، انڈونیشیا اور انڈیا سمیت کئی ممالک میں رائج قوانین کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔
یہ 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس خادم حسین سومرو نے آوارہ کتوں کی آبادی کے کنٹرول اور ان پر ہونے والے تشدد کے خلاف دائر درخواست پر جاری کیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ شہر میں موجود صحت مند اور ویکسین شدہ کتوں کو پکڑنے یا ہٹانے سے گریز کیا جائے، اور اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ، سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ ادارے طے شدہ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ چیف کمشنر نے آوارہ کتوں کے مؤثر انتظام کے لیے سات رکنی پیشہ ورانہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کا باقاعدہ ڈیٹا بیس بنایا جائے۔
ویکسینیشن کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ جانوروں پر ہونے والے ظلم کی ایک علیحدہ رجسٹری قائم کی جائے۔ مزید برآں، ترلائی میں قائم آوارہ کتوں کے کنٹرول سینٹر کے ریکارڈ اور ایس او پیز کو شفاف بنانے کا بھی حکم دیا گیا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ عدالتی کارروائی کے دوران سی ڈی اے کی ایک گاڑی میں مردہ کتوں کی تصاویر سامنے آئیں، جبکہ متعلقہ حکام اس عمل کی کوئی قانونی یا معقول وجہ پیش کرنے میں ناکام رہے۔
فیصلے میں اس حقیقت پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان میں آوارہ جانوروں کے انتظام کے لیے کوئی یکساں قومی قانون موجود نہیں، اور صوبائی سطح پر نظام بکھرا ہوا ہے۔ عدالت نے پرانے جانوروں کے تحفظ کے قانون (1890) کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس میں اصلاحات اور سخت سزاؤں کی ضرورت پر زور دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ آوارہ اور جنگلی کتے بھی ایک جاندار اور حساس مخلوق ہیں، اور ان کے ساتھ بے رحمی کا کوئی جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے آئین کے تحت زندگی کے حق کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ بھی شامل ہے۔
فیصلے میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قرآن و سنت میں جانوروں پر ظلم کی سختی سے ممانعت ہے اور ان کے ساتھ رحمدلی اور حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن پر فی کتا تقریباً 19 ہزار روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ یہ درخواست اسلام آباد کی شہری نیلوفر اور اجمل بلوچ سمیت دیگر افراد کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جبکہ کارروائی کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان بھی درخواست گزاروں کے ساتھ عدالت میں پیش ہوتی رہیں۔