آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں بڑھ رہے ہیں، امریکی ٹیم کو کہا ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کریں‘: ڈونلڈ ٹرمپ

ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ اور انھوں نے امریکی ٹیم کو ’کسی معاہدے میں جلدی نہ کرنے‘ کا کہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وقت ہمارے حق میں ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے مذاکرات کاروں کو کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
  • اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور اُن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ 'ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔'
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے' کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں‘
  • اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو ’اچھی خبر‘ ملے گی لیکن ’حتمی‘ نہیں: مارکو روبیو
  • اُمید ہے کہ مذاکرات سے ’ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ دسترس میں ہے‘: اسحاق ڈار
  • ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، جس کی حتمی تفصیلات اس وقت زیرِ غور ہیں اور جلد اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی ترجیح: امریکی صدر سے ٹیلی کانفرنس میں ترک صدر کی گفتگو

    ترک صدر رجب طیب اردوغان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور امریکی کابینہ کے ارکان کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کی۔

    بیان کے مطابق ٹیلی کانفرنس میں ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور صدر اردغان نے کہا کہ ترکی ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمد و رفت سے متعلق کسی معاہدے سے خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا اور عالمی معیشت کو ریلیف حاصل ہو گا۔

    بیان کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ منصفانہ امن میں سب کی فتح ہے اور ترکی ایک ایسے نئے دور کا خواہاں ہے جس میں خطے کے ممالک ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ ہوں۔

  2. سابق امریکی وزیر خارجہ کی ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر تنقید

    امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں سے ملتا جلتا قرار دیا ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں مائیک پومپیو نے خبردار کیا کہ اس طرح کے معاہدے سے ایران کو مالی وسائل تک رسائی، یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے مائیک پومپیو کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر نے کہا کہ پومپیو ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شامل نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ وہ خاموش رہیں۔

    مائیک پومپیو صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں امریکہ کے وزیر خارجہ تھے۔

  3. کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی: وفاقی وزیر ریلوے

    وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان ریلوے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی۔ دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی جبکہ واقعے کی رپورٹ بھی جلد سامنے آ جائے گی۔

  4. کوئٹہ: چمن پھاٹک کے قریب دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک، 20 سے زائد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک پولیس افسر نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم سے گفتگو میں کم از کم سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ریلوے ٹریک کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں جبکہ ملحقہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

    فقیر آباد کے رہائشی نصیر احمد نے بتایا کہ ’ٹرین جارہی تھی جس میں مسافر بھی تھے جب دھماکہ ہوا اس دھماکے کی وجہ سے ہمارے گھر تباہ ہو گئے۔‘

    اُن کا کہنا تھاُ کہ اتوار کی وجہ سے ہم لوگ سو رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا، گھر کے سارے شیشے ٹوٹ گئے دروازے اور کھڑکیاں گر گئیں۔

    چمن بھاٹک کے ایک رہائشی عبدالمالک نے بتایا کہ صبح آٹھ بجے کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔

  5. کوئٹہ: چمن پھاٹک کے قریب دھماکے سے ہلاکتوں کا خدشہ، متعدد گاڑیاں تباہ, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کے بعد ٹرین کی بوگیاں اُلٹنے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    جائے حادثہ پر فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال اس دھماکے کی نوعیت یا ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم ریلوے لائن کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔

    دیکھیے یہ تصویری جھلکیاں۔۔

  6. کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب زوردار دھماکہ، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب دھماکے نتیجے میں وہاں سے گزرنے والی ایک ٹرین کی دو بوگیاں پٹری سے اُتر گئیں جبکہ ایک بوگی کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں ریلوے لائن کے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے جبکہ ٹریک پر ٹرین کی بوگیاں اُلٹی ہوئی ہیں۔ تاہم فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اتوار کی صبح ہونے والے اس دھماکے کے حوالے سے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے واقعے کی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

    جائے وقوعہ سے ایک عینی شاہد عرفان خان نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے ٹرین کی دو بوگیاں الٹ گئی ہیں جن میں آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے ایک بوگی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    دھماکے کی وجہ سے ٹریک کے ساتھ بعض کاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر میں دور تک سنائی دی۔

    دھماکے کے باعث کوئٹہ شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

  7. خوشی ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے میں پیش رفت ہو رہی ہے، ہم مزید تفصیلات کے منتظر ہیں: امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن

    امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔

    مائیک جانسن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ شکل اختیار کر رہا ہے اور ہم مزید تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہمارا ملک عالمی سطح پر زیادہ مضبوط، زیادہ قابل احترام اور پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔

  8. پاکستان کے ذریعے بھجوائی گئی نئی تجاویز میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی شامل ہو گی۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عراقچی نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کے نام پیغام میں حزب اللہ سمیت مزاحمتی گروپوں کی حمایت کے ایرانی عزم کا اعادہ کیا۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ذریعے بھجوائی گئی نئی تجاویز میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جب سے علاقائی ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالث کے طور پر پہلی بار قدم اٹھایا، تہران نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی معاہدہ لبنان میں جنگ بندی کے قیام کے لیے لازمی ہونا چاہیے۔

    عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایرانی حکومت اور اس کے عوام کا بھی ایک جائزہ مطالبہ ہے۔

  9. اُمید ہے کہ بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کریں گے: وزیر اعظم شہباز شریف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ بڑی حد تک معاہدہ طے پا جانے کے دعوے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کا عندیہ دیا ہے۔

    اتوار کو ایکس پر اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے حصول کے لیے ان کی غیر معمولی کوششوں اور سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ آج ایک بہت ہی مفید اور نتیجہ خیز ٹیلیفون کال کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ٹیلی فون کال میں پاکستان کی نمائندگی کی اور میں اس پورے عمل کے دوران ان کی انتھک کوششوں کو بہت سراہتا ہوں۔ بات چیت نے موجودہ علاقائی صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے لیے جاری امن کوششوں کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کا ایک مفید موقع فراہم کیا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان انتہائی خلوص کے ساتھ امن کی کوششیں جاری رکھے گا اور ہمیں امید ہے کہ بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کریں گے۔

  10. ایرانی حکومت کو قائم رہنے دینے کا کوئی بھی معاہدہ خطے کے تنازعات پر تیل چھڑکنے کے مترداف ہو گا: امریکی سینیٹر لنزے گراہم

    ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے نے اس کی حکومت کو زندہ رکھنے اور وقت کے ساتھ مضبوط ہونے کا موقع دیا تو اس کا مطلب ’لبنان اور عراق کے تنازعات پر پیٹرول ڈالنا‘ ہو گا۔

    ایکس پر اپنے بیان میں اُنھوں نے مزید کہا کہ ایک معاہدہ جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھ سکتا ہے لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں شیعہ ملیشیا کو ’بہت مضبوط‘ کرے گا۔

    سینیٹر لنزے گراہم کا یہ بیان امریکی صدر کے اعلان کے بعد آیا ہے جس میں اُنھوں نے ایران کے ساتھ معاہدہ تقریباً طے پا جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُن کی متعدد علاقائی رہنماؤں سے بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن ایران کے ساتھ معاہدے کے حتمی پہلوؤں اور تفصیلات پر بات چیت جاری ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

  11. وائٹ ہاؤس کے قریب سیکرٹ سروس اہلکاروں پر فائرنگ، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    سنیچر کو امریکہ کے مقامی وقت شام چھ بجے وائٹ ہاؤس میں موجود متعدد صحافیوں نے فائرنگ کی آواز سنی۔

    سیکرٹ سروس کے ارکان ان صحافیوں کو عمارت کے اندر پریس بریفنگ روم میں لے گئے اور وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن میں رکھا گیا۔

    ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ 15 سے 30 کے درمیان گولیاں چلائی گئیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ہی بندوق بردار ہے جس نے سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں قریب جا کر اُن پر فائرنگ کی کوشش کی جس پر ان ایجنٹوں نے پھر جوابی فائرنگ کی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے اور دونوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے، بعدازاں سیکرٹ سروس نے مشتبہ حملہ آور کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

    اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں لاک ڈاؤن کو مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے ہٹا دیا گیا۔

    ہم نے ابھی تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کچھ نہیں سنا ہے، جو فائرنگ کے وقت وائٹ ہاؤس کے رہائشی بلاک میں موجود تھے۔ یہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں ایک بندوق بردار کی فائرنگ کے صرف ایک ماہ بعد ہوا ہے۔

  12. وائٹ ہاؤس کے قریب سیکرٹ سروس اہلکاروں پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آور ہلاک

    امریکی سیکرٹ سروس نے تصدیق کی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سیکرٹ سروس کے مطابق سنیچر کی شام چھ بجے کے بعد 17 ویں سٹریٹ اور پینسلوینیا ایونیو کے علاقے میں ایک شخص نے اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔

    سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو نشانہ بنایا جسے ایریا ہسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ فائرنگ کے دوران ایک راہگیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا۔

    اہلکاروں کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔ واقعے کے وقت صدر وائٹ ہاؤس میں تھے، فائرنگ کے فوری بعد وائٹ ہاؤس کے احاطے میں موجود صحافیوں کو عمارت کے اندر جانے کا کہا گیا۔

    ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ 15 سے 30 کے درمیان گولیاں چلائی گئیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ہی بندوق بردار تھا جو سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں کے قریب گیا اور ان پر فائرنگ کی کوشش کی۔ ان ایجنٹوں نے پھر جوابی فائرنگ کی۔

  13. بریکنگ, ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، جس کی حتمی تفصیلات اس وقت زیرِ غور ہیں اور جلد اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے تاہم اس کی حتمی منظوری امریکہ، ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان ہونا باقی ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں ایران سے متعلق ایک ممکنہ امن معاہدے سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی۔

    اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس سے کی گئی اس گفتگو میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن اور بحرین کے رہنما شامل تھے۔

    ان کے مطابق اس بات چیت کا محور ایران اور ایک مجوزہ ’مفاہمتی یادداشت‘ (Memorandum of Understanding) تھا، جو امن کے قیام سے متعلق ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم سے بھی علیحدہ طور پر بات چیت ہوئی، جسے انھوں نے ’مثبت‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق معاہدے کی حتمی تفصیلات اس وقت زیرِ غور ہیں اور جلد اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

    اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے تحت آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیا جائے گا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم بحری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

  14. تہران سے واپسی پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے فون کر کے مذاکرات کی کامیابی پر مبارکباد دی: ایرانی سفیر

    اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان کی بروقت سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں حالیہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے اور اگر تمام فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو خطے میں امن کی نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں بتایا کہ انھیں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے تہران سے واپسی کے بعد ایرانی حکام سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی پر مبارکباد دی گئی ہے۔

    ایرانی سفیر کے مطابق ان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت ایران کے مؤقف، اس کی مسلح افواج کی ثابت قدمی اور عوام کی مزاحمت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر متعلقہ فریقین اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو یہ پیش رفت خطے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    ایرانی سفیر نے پاکستانی قیادت کی کوششوں کو بھی سراہا، خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے ثالثی کے اقدام کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی سفارتی کوششیں قابل قدر ہیں۔

    بیان میں یہ امید ظاہر کی گئی کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں خطے میں دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔

    آخر میں ایرانی سفیر نے پاکستانی حکومت اور متعلقہ حکام کا مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی مخلصانہ کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

  15. فیفا نے ایران کی درخواست منظور کر لی، ورلڈ کپ کیمپ امریکہ سے میکسیکو منتقل

    فیفا نے ایران کی جانب سے ورلڈ کپ سے قبل اپنے قومی فٹبال کیمپ کو امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔

    ایران کی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج کے مطابق اب ٹیم کا تیاری کیمپ بحرالکاہل کے قریب اور امریکی سرحد کے نزدیک واقع میکسیکو کے شہر تیخوانا میں لگایا جائے گا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مہدی تاج نے کہا ’فیفا نے قومی ٹیم کے کیمپ کا مقام امریکہ سے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایران کو گذشتہ کئی ماہ سے ورلڈ کپ کے حوالے سے سفری اور سکیورٹی انتظامات پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ یہ ٹورنامنٹ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس ماہ تک بھی ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو امریکہ کے ویزے جاری نہیں کیے گئے تھے، حالانکہ عالمی کپ کے آغاز میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی تھا۔

  16. بلوچستان سے اغوا ہونے والے 21 کارکن بازیاب, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع چاغی اور کوئٹہ کے درمیان سفر کے دوران اغوا ہونے والے 21 کارکن سنیچر کے روز بازیاب ہو گئے۔

    یہ کارکن منگل کے روز اغوا ہوئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بتایا جا رہا تھا کہ ان افراد کو نوشکی کے علاقے سے اغوا کیا گیا اور ان کا تعلق ایک بین الاقوامی کمپنی سے ہے۔

    تاہم اغوا کی اس خبر کی سرکاری سطح پر تصدیق نہ ہونے کے باعث مرکزی دھارے کے میڈیا نے اس واقعے کو رپورٹ نہیں کیا۔ اغوا کے وقت ان کارکنوں کی تعداد 17 بتائی گئی تھی۔

    سنیچر کے روز جب ان کارکنوں کی بازیابی کی خبر منظرِ عام پر آئی تو بی بی سی نے ایک معروف کمپنی کے سینیئر اہلکار سے فون پر رابطہ کیا۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ اغوا ہونے والوں کی تعداد 17 نہیں بلکہ 21 تھی۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جنھیں اس کمپنی سے منسلک کیا جا رہا تھا، ان کا کمپنی کے ساتھ براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ البتہ یہ کارکن ایک ٹھیکیدار کے ماتحت کام کر رہے تھے، جس کا کمپنی کے ساتھ معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے۔

    سینیئر اہلکار کے مطابق ان کے پاس یہ معلومات موجود نہیں کہ کارکن کس طرح بازیاب ہوئے، تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تمام افراد بحفاظت بازیاب ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں معدنیات اور تعمیراتی کمپنیوں سے وابستہ کارکنوں کے اغوا کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

  17. ’ایران کے ساتھ معاہدے کا ایک مسودہ دیکھا ہے‘، ٹرمپ کا اس مسودے پر مزید تبصرے سے گریز, برانڈن لیوسے، بی بی سی نیوز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’کافی قریب آ رہا ہے‘، جبکہ تہران کی جانب سے بھی گذشتہ ہفتے پیش رفت کے اشارے دیے گئے ہیں۔

    تاہم، دونوں فریق محتاط ہیں، اور ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا اہم مسئلہ ابتدائی تجاویز کا حصہ نہیں ہوگا۔

    ٹرمپ نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ انھوں نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے کا مسودہ دیکھا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ کافی ہے، تو انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں جانتا، میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا۔‘

    صدر نے مسودے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ کوئی بھی معاہدہ ’ہر صورت‘ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں صرف اس معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ ملے جو ہم چاہتے ہیں۔ یا تو ہم معاہدہ کریں گے، یا پھر ایسی صورتحال ہوگی جہاں کسی ملک کو اتنی سخت ضرب نہیں لگے گی جتنی انھیں لگنے والی ہے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سنیچر کے روز سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مؤقف گذشتہ ہفتے کے دوران قریب آئے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہم مسائل پر اتفاق ہو جائے گا، اور انھوں نے امریکیوں پر ’متضاد بیانات‘ دینے کا الزام لگایا۔

    انھوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہمارا منصوبہ پہلے ایک مفاہمتی یادداشت یا کسی معاہدے کا مسودہ تیار کرنا ہے، جو ایک فریم ورک کی شکل میں ہو اور 14 نکات پر مشتمل ہو۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ اس یادداشت کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہیں تاکہ مزید بات چیت 30 سے 60 دن کے اندر ہو سکے ’اور بالآخر ایک حتمی معاہدہ طے پا جائے‘۔

    روئٹرز کے مطابق، ایک عرب عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ سنیچر کے روز سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکی اور پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کریں گے۔

    ادھر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سنیچر کو انڈیا کے دورے کے دوران محتاط امید کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ہفتے کے آخر تک کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

    مارکو روبیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور انھوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کی جانب سے عائد کسی ٹول کے بغیر دوبارہ کھولنے کی بات کی۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کو اپنا انتہائی افزودہ یورینیم بھی حوالے کرنا ہوگا۔

    یہ نئی تیزی اس کے بعد سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں فضا کچھ خراب دکھائی دے رہی تھی، جہاں جمعے کے روز گمنام عہدیداروں نے امریکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انتظامیہ تازہ فوجی حملوں کے ایک نئے دور کی تیاری کر رہی ہے، اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

    جمعے کے روز صدر نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں اپنے بیٹے ڈونلڈ جونیئر کی شادی میں شرکت نہیں کریں گے تاکہ وہ ’اس اہم وقت کے دوران‘ واشنگٹن ڈی سی میں موجود رہ سکیں۔

    گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے تہران کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی اپریل کے اوائل میں شروع ہوئی تھی۔

    امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

    سنیچر کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ محاصرے کے آغاز سے اب تک اس نے 100 جہازوں کا رخ موڑا، چار کو ناکارہ بنایا، اور 26 انسانی امداد لے جانے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی۔

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ان کی افواج ’انتہائی مؤثر‘ ثابت ہوئی ہیں اور انھوں نے ’ایرانی بندرگاہوں میں آنے جانے والی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے جس سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھا ہے‘۔

    ادھر، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اردگرد کے علاقے پر فوجی کنٹرول حاصل کر لیا ہے، اور کہا ہے کہ آبنائے سے گزرنے والا ہر جہاز ’خلیجِ فارس سٹریٹ اتھارٹی کے ساتھ رابطے اور اجازت‘ کا پابند ہوگا۔

    امریکہ اور خلیجی اتحادیوں نے بارہا آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کرنے کی ایرانی کوششوں کو مسترد کیا ہے، اور امریکہ نے یہ ہدایت دی ہے کہ جہازوں کا عملہ ایران کے قواعد پر عمل نہ کرے۔

  18. پاکستان میں گاڑیوں کی فنانسنگ اپریل میں 360 ارب روپے تک پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں آٹو فنانسنگ اپریل میں بڑھ کر 360 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ ہے۔ یہ مسلسل 17واں مہینہ ہے جس کے دوران کار فنانسنگ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اپریل کے دوران کار قرضوں میں ماہانہ بنیاد پر بھی 4 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    ٹریکٹر سیکٹر کو شامل نہ کیا جائے تو کاروں، وینز، پک اپس اور سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (SUVs) کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 107 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اپریل میں مجموعی طور پر 22 ہزار 15 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔

    یوں مالی سال 2026 کے پہلے دس ماہ میں مجموعی فروخت بڑھ کر ایک لاکھ 66 ہزار 44 یونٹس تک پہنچ گئی، جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق صارفین کی طلب میں بہتری، معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، قرضوں کی لاگت میں کمی، اور شرحِ سود میں پہلے کی گئی کمی کے اثرات نے آٹو فنانسنگ میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

    گذشتہ مانیٹری پالیسی رپورٹ میں مرکزی بینک نے بتایا تھا کہ مالی سال 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں ورکنگ کیپیٹل، فکسڈ سرمایہ کاری اور کنزیومر فنانس کے شعبوں میں توسیع دیکھی گئی۔

    مرکزی بینک کے مطابق قرضوں کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل، ہول سیل و ریٹیل تجارت اور کیمیکل سیکٹرز میں گیا، جبکہ کنزیومر فنانسنگ میں مسلسل اضافہ گھریلو طلب میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔

  19. ضلع کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں نو عسکریت پسند ہلاک، چار اہلکار بھی مارے گئے: حکومت بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان میں سرکاری حکام کے مطابق ضلع کوئٹہ میں جھڑپوں کے دوران نو شدت پسند ہلاک جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے چار اہلکار مارے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس کارروائی کو سراہتے ہوئے سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق سی ٹی ڈی نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ضلع کوئٹہ کے علاقوں نوحصار اور پنجپائی میں کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے دوران نو عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے 4 اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی بلوچستان میں امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    دریں اثنا، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں کہا کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں نو عسکریت پسندوں کا ہلاک ہونا سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے امن کو سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائے گا اور ریاست پوری قوت کے ساتھ دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    وزیراعلیٰ نے فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے چار اہلکاروں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

  20. ایران اور امریکہ معاہدے کے ’بہت قریب‘ پہنچ چکے ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم انھوں نے واضح کیا کہ وہ صرف اسی صورت میں کسی معاہدے پر دستخط کریں گے جب امریکہ کے تمام مطالبات پورے کیے جائیں۔

    امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے زور دیا کہ حتمی معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہونا لازمی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ ان کے مطابق افزودہ یورینیم کے حوالے سے بھی ایسا مؤثر اور قابلِ اطمینان نظام ہونا چاہیے جس پر کوئی شبہ نہ رہے، ورنہ اس معاملے پر بات آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔

    سی بی ایس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حالیہ تجاویز میں چند اہم نکات شامل ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقہ کار کا تعین، ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں میں سے کچھ کی رہائی، اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ مسلسل اپنے مشیروں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے رہنماؤں سمیت عالمی سطح پر اہم شخصیات سے بھی رابطے میں ہیں۔

    اپنے بیان میں امریکی صدر نے خبردار بھی کیا کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے، اور ایسی حالت پیدا ہو سکتی ہے جس میں کسی ملک کو اس شدت کے حملوں کا سامنا پہلے کبھی نہیں کرنا پڑا ہوگا۔