امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ
ایران جنگ کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’کافی قریب آ
رہا ہے‘، جبکہ تہران کی جانب سے بھی گذشتہ ہفتے پیش رفت کے اشارے دیے گئے ہیں۔
تاہم، دونوں فریق محتاط ہیں، اور
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا اہم مسئلہ
ابتدائی تجاویز کا حصہ نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے بی بی سی کے امریکی شراکت
دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ انھوں نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے کا مسودہ دیکھا
ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ کافی ہے، تو انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں جانتا،
میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا۔‘
صدر نے مسودے کے بارے میں مزید
تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ کوئی بھی معاہدہ ’ہر صورت‘
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں صرف اس معاہدے
پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ ملے جو ہم چاہتے ہیں۔ یا تو ہم معاہدہ
کریں گے، یا پھر ایسی صورتحال ہوگی جہاں کسی ملک کو اتنی سخت ضرب نہیں لگے گی جتنی
انھیں لگنے والی ہے۔‘
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
اسماعیل بقائی نے سنیچر کے روز سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے
مؤقف گذشتہ ہفتے کے دوران قریب آئے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اس کا مطلب
یہ نہیں کہ اہم مسائل پر اتفاق ہو جائے گا، اور انھوں نے امریکیوں پر ’متضاد
بیانات‘ دینے کا الزام لگایا۔
انھوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو
بتایا کہ ’ہمارا منصوبہ پہلے ایک مفاہمتی یادداشت یا کسی معاہدے کا مسودہ تیار
کرنا ہے، جو ایک فریم ورک کی شکل میں ہو اور 14 نکات پر مشتمل ہو۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ اس
یادداشت کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہیں تاکہ مزید بات چیت 30 سے 60 دن کے اندر
ہو سکے ’اور بالآخر ایک حتمی معاہدہ طے پا جائے‘۔
روئٹرز کے مطابق، ایک عرب عہدیدار کے
حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ سنیچر کے روز سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات،
مصر، ترکی اور پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کریں گے۔
ادھر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
نے سنیچر کو انڈیا کے دورے کے دوران محتاط امید کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ہفتے
کے آخر تک کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
مارکو روبیو نے اس بات پر بھی زور
دیا کہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا
سکتی، اور انھوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کی جانب سے عائد کسی ٹول کے بغیر دوبارہ
کھولنے کی بات کی۔
انھوں نے کہا کہ ایران کو اپنا
انتہائی افزودہ یورینیم بھی حوالے کرنا ہوگا۔
یہ نئی تیزی اس کے بعد سامنے آئی ہے
جب واشنگٹن میں فضا کچھ خراب دکھائی دے رہی تھی، جہاں جمعے کے روز گمنام عہدیداروں
نے امریکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انتظامیہ تازہ فوجی حملوں کے ایک
نئے دور کی تیاری کر رہی ہے، اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔
جمعے کے روز صدر نے ٹروتھ سوشل پر
پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں اپنے بیٹے ڈونلڈ جونیئر کی شادی میں
شرکت نہیں کریں گے تاکہ وہ ’اس اہم وقت کے دوران‘ واشنگٹن ڈی سی میں موجود رہ
سکیں۔
گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے تہران کے مطالبات
کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ
جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی
جنگ بندی اپریل کے اوائل میں شروع ہوئی تھی۔
امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی
بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
سنیچر کو امریکی سینٹرل کمانڈ
(سینٹکام) نے کہا کہ محاصرے کے آغاز سے اب تک اس نے 100 جہازوں کا رخ موڑا، چار کو
ناکارہ بنایا، اور 26 انسانی امداد لے جانے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی۔
سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر
نے کہا کہ ان کی افواج ’انتہائی مؤثر‘ ثابت ہوئی ہیں اور انھوں نے ’ایرانی
بندرگاہوں میں آنے جانے والی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے جس سے ایران پر
معاشی دباؤ بڑھا ہے‘۔
ادھر، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس
نے آبنائے ہرمز کے اردگرد کے علاقے پر فوجی کنٹرول حاصل کر لیا ہے، اور کہا ہے کہ
آبنائے سے گزرنے والا ہر جہاز ’خلیجِ فارس سٹریٹ اتھارٹی کے ساتھ رابطے اور اجازت‘
کا پابند ہوگا۔
امریکہ اور خلیجی اتحادیوں نے بارہا
آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کرنے کی ایرانی کوششوں کو مسترد کیا ہے، اور امریکہ نے
یہ ہدایت دی ہے کہ جہازوں کا عملہ ایران کے قواعد پر عمل نہ کرے۔