آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاکت کی تحقیقات شروع، ایران کے نئے صدر کا انتخاب آٹھ جولائی کو

ایران میں حکام نے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرِ خارجہ حسین امیر سمیت نو افراد کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابراہیم رئیسی 19 مئی کو ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ہیلی کاپٹر گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔

خلاصہ

  • ابراہیم رئیسی ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان کے پہاڑی علاقے میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہوئے۔ وہ آذربائیجان کی سرحد پر ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپسی پر تبریز جا رہے تھے۔
  • اس حادثے میں ابراہیم رئیسی کے علاوہ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور عملے سمیت سات دیگر افراد بھی مارے گئے۔
  • ایرانی حکام کے مطابق حادثہ بظاہر شدید دھند اور خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا تاہم ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
  • ابراہیم رئیسی کی ہلاکت پر ایران میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ہمسایہ ملک پاکستان میں بھی ایک دن کا سرکاری سوگ منایا گیا ہے۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ اے نے ملک کے اول نائب صدر محمد مخبر کو دو ماہ کے لیے قائم مقام صدر جبکہ نائب وزیر خارجہ علی باقری کنی کو عبوری وزیر خارجہ مقرر کر دیا ہے۔
  • ملک میں نئے صدارتی انتخاب کے لیے آٹھ جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے یورپی یونین نے ’میپنگ سروس‘ فعال کر دی

    یورپی یونین نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی درخواست پر صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی تلاش میں مدد کے لیے اپنی میپنگ سروس، جسے ’کوپرنیکس‘ پکارا جاتا ہے، کو فعال کر دیا ہے۔

    کوپرنیکس سسٹم ’سیٹلائٹ امیجری‘ کے ذریعے میپنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

    یورپین کمشنر فار کرائسز مینجمنٹ جینز لینارسک نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یورپی یونین نے ایسا ایران کی درخواست پر کیا ہے۔

    کوپرنیکس پروگرام یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے یورپی یونین کا ایک سیٹلائٹ پروگرام ہے اور اس میں زمین کا مشاہدہ کرنے اور اعلیٰ معیار کی تصاویر ریکارڈ کرنے کی صلاحیت ہے۔

  2. صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر ابھی تک نہیں ملا: ایرانی ہلال احمر

    ایرانی ہلال احمر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کی خبریں درست نہیں ہیں اور تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کی تلاش کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔

    ہلال احمر سوسائٹی کے سیکریٹری جنرل نے بھی حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کے مسافروں سے رابطہ کرنے کے بارے میں ایگزیکٹو نائب صدر کے بیانات کے جواب میں خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں صدر کے ہیلی کاپٹر میں موجود افراد سے رابطے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ہم اس کی صداقت کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

  3. ہارڈ لینڈنگ کے کیا معنی ہیں؟

    ایران کا سرکاری میڈیا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی اطلاعات کے لیے ہارڈ لینڈنگ کی اصطلاح استعمال کر رہا ہے۔

    فضائی حادثات کے لیے یہ اصطلاح اکثر روسی حکام استعمال کرتے ہیں۔ عمومی طور پر روس کی فوج یہ اصطلاح استعمال کرتی ہے جب فوجی طیاروں کو ایسے حادثات پیش آتے ہیں۔

    مثلاً 2022 میں روس کے ریزان کے علاقے میں ایک Il-76 نامی فوجی سامان بردار جہاز تباہ ہوا تھا اور اس جہاز پر سوار پانچ فوجی بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس کے باوجود کہ یہ جہاز تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا مگر روسی حکام نے ابتدا میں اس حادثے کے لیے ہارڈ لینڈنگ کی اصطلاح استعمال کی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی حکام لفظ ’کریش‘ کا استمعال نہیں کرتے کیونکہ اس سے زیادہ خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔

    اس طرح کی اصطلاحات استعمال کرنے کو ’نیوسپیک‘ کہا جاتا ہے یعنی مبہم الفاظ کا استعمال۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ’ایکسپلوژن‘ کو بینگ‘ کہا جاتا ہے اور ایک فوجی کی موت کو اس کا ملٹری یونٹ سے ’غائب‘ ہونا قرار دیا جاتا ہے یعنی جس کے بارے میں کسی طرح کی کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

  4. ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر کے قریب لی گئی ایک تصویر

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ایم ای اچ آر کے مطابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے قبل اس تصویر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

    تاہم، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ تصویر ایران آذربائیجان سرحد پر واقع ڈیم کے افتتاح سے پہلے کی ہے یا بعد کی ہے۔

  5. موسم کی خرابی کے باعث امدادی ٹیمیں تاحال مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچ سکیں: ایرانی وزیرِ داخلہ

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں تاہم خراب موسم کی وجہ سے امدادی کارکن تاحال جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے کہا ہے کہ شدید دھند کے باعث امدادی کارکن ابھی تک مطلوبہ مقام پر نہیں پہنچ سکے۔

    احمد واحدی نے تلاشی کی کارروائی کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں کہا: ’اس علاقے میں جنگل ہے اور بہت زیادہ دھند کی وجہ سے آگے دیکھنا مشکل ہے، لیکن فورسز اب بھی علاقے میں موجود ہیں اور ہمیں امید ہے کہ مطلوبہ مقام تک پہنچ جائیں گے۔‘

  6. بریکنگ, صدر رئیسی کی صحت و سلامتی کے لیے دعا کریں: رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا بیان

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں قوم سے ابراہیم رئیسی کی صحت و سلامتی کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایران کے عوام پریشان نہ ہوں، ملک کا نظام چلانے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

  7. دعائیں اور نیک خواہشات صدر رئیسی کے ساتھ ہیں: پاکستانی وزیرِاعظم اور صدر

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کی خبر پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت دیگر رہنماؤں کی خیریت کے لیے دعا گو ہیں۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی خیریت کے لیے دعاگو ہیں۔

    اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ابھی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حوالے سے آنے والی ایک پریشان کُن خبر سُنی ہے۔‘

    ’انتہائی پریشانی کی حالت میں، میں ایک اچھی خبر کا منتظر ہوں کہ سب ٹھیک ہے۔‘

    ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہماری دعائیں اور نیک خواہشات صدر رئیسی اور پوری ایرانی قوم کے ساتھ ہیں۔‘

    دوسری جانب پاکستانی صدر علی آصف زرداری نے بھی’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں لکھا ہے کہ وہ ایرانی صدر کی خیریت اور حفاظت کے لیے دعا گو ہیں تاکہ وہ ایرانی قوم کی خدمت کرتے رہیں۔

  8. ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیرعبداللہیان کون ہیں؟, لیز ڈوسٹ، بی بی سی

    ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیرعبداللہیان بھی اس ہیلی کاپٹر میں سوار تھے جسے آج ایران میں حادثہ پیش آیا ہے۔

    گذشتہ کئی ماہ کے دوران جب اسرائیل غزہ جنگ میں فوری سفارتی کوششیں تیز ہونا شروع ہوئیں تو وہ ہر جگہ نظر آتے تھے اور ایرانی اتحادیوں اور عرب، مغربی وزرا خارجہ کے ساتھ فون کالز اور میٹنگز میں موجود ہوتے تھے۔

    وہ ایرانی حکومت میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے جہاں طاقت کا مرکز رہبرِ اعلیٰ ہیں اور ایران کے پاسدارانِ انقلاب ملک کی خارجہ پالیسی پر حاوی ہیں۔

    وزارت خارجہ میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے دوران، پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات استوار ہوئے، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے بہت قریب رہے۔

    وہ ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں کے خلاف اور بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے دنیا بھر کے دارالحکومتوں کا سفر کرتے رہے ہیں۔

  9. حادثے کے ممکنہ مقام پر بارش کا سلسلہ جاری

    مشرقی آذربائیجان کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل نے مہر خبررساں ایجنسی کو حادثے کے علاقے میں موسم کی صورتحال کے بارے میں بتایا: "علاقے میں بارش کا سلسلہ جاری ہے اور ہم اس علاقے میں کل رات تک بارش دیکھیں گے۔‘

    ارنا کے مطابق، اس وقت ریڈ کریسنٹ کی 40 خصوصی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں، مشرقی آذربائیجان صوبے اور پڑوسی صوبوں کی سائٹ پر موجود 15 ٹیموں کے ساتھ، ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو تلاش کر رہی ہیں۔

  10. ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش میں جانے والا کوئی ریسکیو اہلکار لاپتہ نہیں: ہلال احمر

    ایران میں ہلال احمر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی تلاش میں جانے والی ریسکیو ٹیم کا کوئی بھی اہلکار لاپتہ نہیں ہوا ہے۔

    اس سے قبل ہلال احمر کے ایک اور ترجمان نے کہا تھا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران ان کے تین کارکنان لاپتہ ہوئے ہیں۔ تاہم اب ان کی جانب سے ان اطلاعات کی تردید کردی گئی ہے۔

    ہلال احمر کی خاتون ترجمان نے نئے بیان میں کہا ہے کہ ’ریسکیو آپریشن سے متعلق تمام سرکاری معلومات ٹاسک کے انچارج کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔‘

  11. دھند اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیاں متاثر

    ایرانی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس علاقے میں حادثہ ہوا وہاں گہری دھند چھائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

  12. ایرانی صدر کی سلامتی کے لیے دعاؤں کی اپیل

    ایرانی صدر کے انسٹا گرام اکاؤنٹ کی ایک پوسٹ میں عوام سے صدر کی صحت و سلامتی کے لیے دعا کی اپیل کی گئی ہے

  13. صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی آخری تصویر

    یہ آخری تصویر ہے جو آج کے حادثے سے قبل ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کی شائع ہوئی تھی۔ خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، اس تصویر میں رئیسی اور اس کے ساتھیوں کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کو ڈیم کے افتتاح کے اختتام پر دکھایا گیا ہے۔

  14. رئیسی دو ڈیموں کے افتتاح کی تقریب میں شرکت کر کے ایرانی شہر تبریز آ رہے تھے

    جیسے ہم آپ کو پہلے بھی آگاہ کر چکے ہیں کے صدر ابراہیم رئیسی ایران آذربائیجان سرحدی علاقے میں دو ڈیموں کے افتتاح کے بعد شمال مشرقی شہر تبریز آ رہے تھے۔

    رئیسی نے ایران-آذربائیجان سرحد پر واقع قز قلاسی اور خودآفرین ڈیموں کا افتتاح اپنے آذری ہم منصب الہام علیوف کے ہمراہ کیا۔

    یہ تصویر ان کے اس دورے کے دوران لی گئی تھی۔

    نیچے دی گئی تصویر میں جائے حادثہ کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب صدر ابراہیم رئیسی کا فضائی قافلہ ایرانی شہر تبریز کی طرف سفر کر رہا تھا۔ جس جگہ پر یہ حادثہ پیش آیا ہے وہ تبریز شہر سے تقریباً 50 کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے۔

  15. ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کون ہیں؟

    تریسٹھ سالہ ابراہیم رئیسی 2021 میں ایران کے صدر متخب ہوئے تھے۔ وہ ایک سخت گیر شخصیت اور ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین تصور کیے جاتے ہیں۔

    آیت اللہ خامنہ ای سنہ 1989 سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے منصب پر براجمان ہیں۔

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے ہی 2019 میں ابراہیم رئیسی کو عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

    ماضی میں ابراہیم رئیسی ایران کی 88 رُکنی مجلس خبرگان رہبری کے نائب چیئرمین بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ یہی مجلس ایران میں رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنے کی ذمہ دار بھی ہے۔

  16. شدید دھند کے باعث ریسکیو ٹیموں کو جائے حادثہ تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا, کسرا ننجی، بی بی سی فارسی

    ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق، جس علاقے میں ایرانی صدر ابراہیم ریئسی کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا ہے وہاں شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ کم ہو گئی ہے۔

    فارس نیوز ایجنسی کے ایک رپورٹر جو ریسکیو ٹیموں کے ساتھ اس علاقے میں موجود ہیں، ان کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کو ڈھونڈنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ پہاڑوں اور جنگلوں سے گھرے اس علاقے میں حدِ نگاہ صرف پانچ میٹر رہ گئی ہے۔

    یہ علاقہ مشرقی آذربائیجان صوبے کے دارالحکومت تبریز کے شمال میں تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ورزقان قصبے کے قریب ہے۔

  17. ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر میں خصوصی ٹریکر نصب ہوتا ہے: ماہرِ ایوی ایشن

    ایران میں ایوی ایشن امور کے ماہر نوید غدیری نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ملک کے اعلیٰ حکام کے ہیلی کاپٹروں میں ٹرانسپونڈر ٹریکر اور جی پی ایس بھی نصب ہوتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پروٹوکول کے مطابق ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر میں ایک خصوصی ٹریکر بھی نصب ہوتا ہے جو کہ کسی بھی حادثے کی صورت میں 72 گھنٹوں تک سگنل ارسال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے نوید غدیری کا کہنا تھا کہ ’اگر ریسکیو اہلکاروں کو ہیلی کاپٹر کے سگنلز موصول نہیں ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں نصب ڈیوائسز تباہ ہوگئے ہیں۔‘

  18. صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ، خراب موسم کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو صوبہ مشرقی آذربائیجان کے علاقے جلفا میں حادثہ پیش آیا ہے تاہم موسم کی خرابی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    ایرانی وزیرِ داخلہ احمد واحدی کی جانب سے اس حادثے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ایرانی وزیرِ داخلہ احمد واحدی نے ایرانی سرکاری ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’متعدد ریسکیو ٹیمیں‘ ہیلی کاپٹر کی تلاش کر رہی ہیں اور ’جائے حادثہ تک پہنچنے میں وقت لگے گا‘ کیونکہ ’علاقے میں دھند اور خراب موسمی حالات ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’حالات قابو میں ہیں اور ریسکیو ٹیمیں اپنا کام کر رہی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اسے جتنی جلدی ہو سکے مکمل کر لیا جائے گا۔‘

    ایرانی صدر اتوار کی صبح صوبہ مشرقی آذربائیجان کے دورے پر گئے تھے جہاں انھوں نے آذربائیجان اور ایران کی سرحد پر آذربائیجان کے صدر کے ساتھ مل کر ایک ڈیم کا افتتاح کیا تھا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب صدر ابراہیم رئیسی کا فضائی قافلہ ایرانی شہر تبریز کی طرف سفر کر رہا تھا۔ جس جگہ پر یہ حادثہ پیش آیا ہے وہ تبریز شہر سے تقریباً 50 کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے۔

  19. ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ: بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو صوبہ مشرقی آذربائیجان کے علاقے جلفا میں حادثہ پیش آیا ہے تاہم موسم کی خرابی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس ضمن میں بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید جہاں آپ کو حادثے سے متعلق خبروں کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔