ایرانی
میڈیا نے ایسا کوئی تاثر نہیں دیا کہ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں کوئی ’سازش‘ ہوئی
ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ موسم خراب تھا اور ہیلی کاپٹر کا حادثہ ہوا۔
تاہم
صدر رئیسی کے کئی دشمن تھے۔ کئی لوگ ان کی ہلاکت پر خوش ہوئے ہوں گے۔
80
کی دہائی میں انھوں نے ہزاروں ناقدین کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کیے تھے۔ ان میں سے
اکثریت کا تعلق بائیں بازو سے تھا۔
وہ 2021
سے ایران کے صدر ہیں اور ان کے دور میں ملک کے اندر کئی افراد کے خلاف گھیرا تنگ
ہوا ہے۔ خیال تھا کہ وہ رہبر اعلیٰ بھی بن سکتے ہیں۔ حریف کو ریس سے باہر کرنے کا
یہ ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔ مگر ہمارے پاس اس کے کوئی شواہد نہیں۔
ایران
میں اکثر واقعات پر اسرائیل کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسرائیلی حکام نے صحافیوں
کو بتایا ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ اسرائیل کو ایسی کسی چیز سے
کوئی فائدہ بھی شاید نہ ہو کیونکہ یہ جنگ چھیڑنے کے متراف ہوگا۔
جہاں
تک بات خراب موسم کی ہے تو ایران کو کئی برسوں سے پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ ایرانی
طیارے غیر محفوظ ہو چکے ہیں کیونکہ وہ جہازوں کے سپیئر پارٹس یا نئے ایئر فریم حاصل
نہیں کر پاتے۔
سنہ
1990 کے دوران میں ایران میں ایک بڑے زلزلے پر رپورٹنگ کر رہا تھا۔ یہ علاقہ گذشتہ روز کے ہیلی
کاپٹر حادثے کے مقام سے زیادہ دور نہیں۔
میں
امریکی ساختہ ہیلی کاپٹر پر سوار تھا جو اسلامی انقلاب سے قبل شاہ دور کا تھا۔ اسے
زبردستی لینڈ کیا گیا تھا کیونکہ مرمت نہ ہونے کی وجہ سے اس کا ایک انجن فیل ہوگیا
تھا۔
کچھ ہفتوں
بعد مجھے بتایا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا اور تمام مسافروں کی ہلاکت
ہوئی۔