ٹی ایل پی کا احتجاج، کارکنان کی ’بڑی تعداد‘ اسلام آباد میں موجود: ’انتہا پسندانہ منفی سیاست کی پاکستان میں اجازت نہیں‘، حکومت
تحریکِ لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ 10 اکتوبر کو اسلام آباد میں ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے لیے کارکنان کی ’بڑی تعداد‘ وفاقی دارالحکومت میں موجود ہے تاہم ان کی جماعت احتجاج سے قبل حکومت سے ’مذاکرات‘ کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب، حکومت کا کہنا ہے کہ انتہا پسندانہ منفی سیاست کی پاکستان میں اجازت نہیں ہے۔
خلاصہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'اسرائیل اور حماس دونوں نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں۔'
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان کی ہدایات پرمکمل عمل ہو گا جبکہ وزیر اعلیٰ کا استعفی ایک آئینی مسئلہ ہے اس لیے وہ قوائد کے مطابق ہو گا۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی زیرصدارت کورکمانڈر کانفرنس نے انڈیا کی قیادت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی فوج ہر خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے اورکزئی میں دہشت گردوں کے خلاف ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 19 دہشت گردوں جبکہ سیکورٹی فورسز کے 11 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ انڈیا کے لیے ویزا کے قواعد اور قوانین میں نرمی نہیں کرے گا۔
لائیو کوریج
’ہوسٹیجز سکوائر‘ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ کا جشن
رات بھر تل ابیب کے ’ہوسٹیجز سکوائر‘ میں لوگ خوشی کا
اظہار کرتے رہے اور اس موقع پر نعرے بھی لگاتے رہے۔ یرغمالیوں کے اہلِ خانہ اپنے
عزیزوں کی ممکنہ واپسی پر امن معائدہ ہو جانے کے بعد جشن مناتے نظر آئے۔
اسرائیل کے ’ہوسٹیجز سکوائر‘ سے سامنے آنے والی چند
تازہ ترین تصویر:
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ میں انسانی امداد پر سے تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جانی چاہئیں: برطانوی وزیراعظم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیر اسٹارمر نے اسرائیل
اور حماس کے درمیان غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کی خبر پر ردِ عمل دیتے
ہوئے کہا ہے کہ ’میں صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر معاہدے کے طے
پانے کی خبر کا خیرمقدم کرتا ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو پوری
دنیا کے لیے خوشی اور سکون کا باعث ہوگا، لیکن خاص طور پر مغویوں، ان کے اہلِ خانہ
اور غزہ کی شہری آبادی کے لیے جنھوں نے گزشتہ دو سالوں میں ناقابلِ بیان مُشکل
حالات اور مصائب کا سامنا کیا ہے۔‘
برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کا مزید کہنا ہے
کہ ’میں مصر، قطر، ترکی اور ریاستہائے متحدہ کی انتھک سفارتی کوششوں کا شکر گزار
ہوں، جنھیں ہمارے علاقائی شراکت داروں نے تعاون فراہم کیا تاکہ اس اہم پہلے قدم کو
یقینی بنایا جا سکے۔ اس معاہدے کو اب بلا تاخیر مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہیے
اور اس کے ساتھ ہی غزہ میں زندگی بچانے والی انسانی امداد پر تمام پابندیاں فوری
طور پر ختم کی جانی چاہئیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں، جنگ ختم کریں اور تنازع کے منصفانہ اور دیرپا خاتمے کے لیے بنیاد قائم کریں، تاکہ طویل مدتی امن کے لیے ایک پائیدار راستہ اختیار کیا جا سکے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’برطانیہ ان فوری اقدامات اور امن منصوبے کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اگلے مذاکرات کے مرحلے کی حمایت کرے گا۔‘
حماس اور اسرائیل کے درمیان امن معائدہ کے بعد غزہ میں جشن: ’میں ہی نہیں پورا غزہ خوش ہے‘
جب یہ خبر سامنے آئی کہ جنگ زدہ علاقے میں ممکنہ
امن معاہدہ طے پا گیا ہے تو اس کے بعد غزہ میں فلسطینیوں نے رات بھر جشن منایا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے جنوبی علاقے خان
یونس کے رہائشی امن معاہدے کے اعلان کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔
وائل رضوان نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’اللہ کا
شکر ہے آج صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ ختم ہو گئی۔ ہے ہم بہت خوش ہیں کہ جنگ رک
گئی ہے، یہ ہمارے لیے ایک خوشی کی بات ہے اور ہم اپنے بھائیوں اور اُن سب کا شکریہ
ادا کرتے ہیں جنھوں نے خواہ زبانی طور پر ہی سہی، جنگ روکنے اور خونریزی بند کرنے
میں کردار ادا کیا۔‘
عبد المجید ربّو نے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ جنگ
بندی ہو گئی خونریزی اور قتل ختم ہو گیا۔ ’میں ہی خوش نہیں ہوں پورا غزہ‘ تمام عرب
قوم اور پوری دنیا اس جنگ بندی اور خونریزی کے خاتمے پر خوش ہے۔ شکریہ اور اُن سب
کے لیے محبت بھرا پیغام جو ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔‘
واضح رہے کہ اس امن معاہدے کے بعد حماس نے صدر ٹرمپ
اور شامل ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل
درآمد کرنے پر مجبور کریں۔ تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے حماس اور
اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کو ’اسرائیل کے لیے ایک
عظیم دن‘ قرار دیا ہے۔
جنوبی شہر خان یونس سے ’غزہ امن منصوبہ‘ طے پا جانے
کے بعد کی تازہ ترین تصویروں:
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل اور حماس نے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اسرائیل اور حماس
دونوں نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر اس بات کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے
اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام مغوی بہت جلد رہا کر دیے
جائیں گے اور اسرائیل اپنے فوجیوں کو ایک طے شدہ حد تک واپس بلا لے گا۔ یہ ایک
مضبوط، پائیدار، اور دائمی امن کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ تمام فریقوں کے ساتھ
منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ عرب
اور مسلم دنیا، اسرائیل، تمام پڑوسی ممالک اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے لیے ایک
عظیم دن ہے اور ہم قطر، مصر، اور ترکی کے ثالثوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے
ہمارے ساتھ مل کر اس تاریخی اور بے مثال عمل کو ممکن بنایا۔‘
امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد حماس کی جانب سے بھی
بیان سامنے آیا کہ جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ
طے پا گیا ہے۔
حماس نے ساتھ ہی صدر ٹرمپ اور شامل ممالک سے مطالبہ
کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے پر مجبور کریں۔
،تصویر کا کیپشنامن مذاکرات میں شامل فلسطینی نمائندے
حماس کی جانب سے جاری بیان میں انھوں نے قطر، مصر، ترکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ان کی ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔
حماس نے ساتھ ہی ٹرمپ اور دیگر فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’اسرائیلی قابض حکومت کو معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے پر مجبور کریں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’غزہ کے عوام نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب تک آزادی، خودمختاری اور حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا، ہم اپنے عوام کے قومی حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔‘
بی بی سی کو موصول ہونے والے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے ایک بیان میں انھوں نے غزہ میں حماس کی قید میں موجود اسرائیلی مغویوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’خدا کی مدد سے ہم اپنے تمام لوگوں کو گھر واپس لائیں گے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے نے حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کو ’اسرائیل کے لیے ایک عظیم دن‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ بہت جلد اسرائیلی کابینہ کا اجلاس بلائیں گے تاکہ اس معاہدے کی منظوری دی جا سکے اور ’ہمارے تمام عزیز مغویوں کو گھر واپس لایا جا سکے۔‘
نتن یاہو نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی فوجیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ’ہمارے مغویوں کی رہائی کے اس مقدس مشن کے لیے بھرپور کوشش کی۔‘
خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا کے نام اپنے استعفے میں علی امین گنڈا پور نے لکھا کہ وہ اپنے قائد اور بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے حکم کے احترام میں وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے استعفے میں کہا کہ وہ یہ فیصلہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 130 کی شق آٹھ کے تحت کر رہے ہیں۔
علی امین گنڈا پور نے لکھا کہ جب انھوں نے وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو صوبہ مالی بحران اور دہشت گردی جیسے دو بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ ڈیڑھ سال کے دوران انھوں نے اپنی کابینہ، پارٹی اراکین اور عمران خان کی رہنمائی میں صوبے کو معاشی استحکام کی جانب گامزن کیا اور دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کیا۔
ان کے مطابق، ان کی حکومت نے ایک ایسے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جو ماضی میں عسکری طور پر جنگ زدہ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔
اپنے پیغام میں علی امین گنڈا پور نے کابینہ، اسمبلی کے اراکین، اپوزیشن اور صوبائی بیوروکریسی کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہر چیلنج میں کامیاب ہوئے، لیکن وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت ایمانداری اور خلوصِ نیت سے کی۔
خیال رہے اس سے قبل سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کو خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ سے ہٹائے جانے کی تصدیق کی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
حماس کا امن معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تیاری مکمل کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنسٹیووٹ کوف (دائیں) اور جیرڈ کشنر (بائیں) بدھ کی صبح شرم الشیخ پہنچے
حماس کے رہنما طاہر النون نے شرم الشیخ میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر پہلو سے تیاری کی ہے۔
یاد رہے کہ مصر شہر شرم الشیخ میں غزہ میں امریکی امن منصوبے کے حوالے سے اسرائیل اور حماس کے نمائندوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات آج بھی جاری رہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ بات چیت کا سلسلہ پیر سے شروع ہوا تھا۔
ان مذاکرات کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس حوالے سے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گزشتہ روز ہونے والے کے مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہ نکل سکا تھا۔
حماس نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’حماس کے وفد نے ایک مثبت اور ذمہ دارانہ رویہ کے ساتھ معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری کوششیں کی ہیں۔‘
حماس کے سیاسی بیورو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مذاکرات میں جنگ کے خاتمے، غزہ کی پٹی سے قابض افواج کے انخلا اور قیدیوں کے تبادلے کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔‘
طاہر النونو نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر حماس کی طرف سے شائع کردہ بیانات میں کہا کہ ’تحریک کے وفد نے مطلوبہ پیشرفت اور معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے ضروری مثبت اور ذمہ دارنہ رویہ برقرار رکھا۔ ثالث جنگ بندی پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق مذاکرات میں جنگ کے خاتمے، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے انخلا اور قیدیوں کے تبادلے کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
طاہر النونو نے کہا کہ ’آج کے دور میں رہا کیے جانے والے قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ، معیار اور تعداد کے مطابق کیا گیا اور تمام فریقین اور ثالثوں کی شرکت سے بالواسطہ بات چیت آج بھی جاری ہے۔‘
بدھ کی صبح ریمارکس میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ انھوں نے شرم الشیخ مذاکرات کے بارے میں ’بہت حوصلہ افزا‘ گفتگو سنی ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مذاکرات کی پیش رفت سے کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معاہدہ طے پانے کی صورت میں دستخط کرنے کے لیے مصرآنے کی دعوت بھی دی ہے۔
دوسری جانب حماس نے اس بات کی ضمانت کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ جنگ کے حتمی خاتمے کا باعث بنے گا۔
واضح ہو کہ مذاکرات کا مقصد غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنا، حماس کے زیر حراست باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے کے تحت دو سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔
خیبرپختونخوا میں صرف پی ٹی آئی کی حکومت ہو گی: بیرسٹر گوہر
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان کی ہدایات پرمکمل عمل ہو گا جبکہ وزیر اعلیٰ کا استعفی ایک آئینی مسئلہ ہے اس لیے وہ قوائد کے مطابق ہو گا۔
بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ عمران خان کے ویژن کے مطابق ہی صوبہ آگے بڑھے گا۔ علی امین کل پشاورجا کر گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ میں علی امین گنڈاپور کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کی کوئی کمیٹی مجاز نہیں کہ وہ عمران خان کی ہدایات کو رد کرے۔ تحریک انصاف میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں اور تمام ارکان اسمبلی عمران خان سے وفادار ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی دو تہائی اکثریت برقرار رہے گی۔
عمران خان کی توقع ہے کہ سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ بننے سے ایک نئی شروعات ہو گی: سلمان اکرم راجہ
،تصویر کا ذریعہ@SohailAfridiISF
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد کیے گئے ہیں اور یہ بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا میں اس وقت دہشت گردی کی بدترین صورتحال ہے۔ اس سال ریکارڈ واقعات ہوئے اور اس کی مثال نہیں ملتی۔‘
ان کے مطابق ’اورکزئی کے واقعے پر عمران خان بہت افسردہ ہیں اور کہا ہے کہ اب کوئی چارہ نہیں کہ میں یہ تبدیلی کروں۔ اس دوران خان صاحب نے یاد دلایا کہ وہ بارہا کہہ چکے ہیں وفاقی حکومت نے غلط پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت خود کو اس پالیسی سے دور کرے۔ ‘
سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے جس طریقے سے افغان مہاجرین کو پاکستان بدر کیا اس سے ایسی نفرت بوئی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہم نے وہاں کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’بلاول بھٹو جب وزیر خارجہ رہے وہ اس دوران ایک بار بھی کابل نہیں گئے۔ خان صاحب نے کہا کہ اشرف غنی حکومت کے ساتھ ہم نے تعلق رکھا اور حکمت عملی کے باعث ہم نے دہشت گردی نہیں ہونے دی تاہم اب خیبرپختونخوا حکومت وفاقی حکومت اور ایجنسیوں کی پالیسی سے خود کو دور نہیں کر سکی۔‘
سلمان اکرم کے مطابق ’عمران خان کی توقع ہے کہ سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ بننے سے ایک نئی شروعات ہو گی۔ جرگے اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی۔ یہ خان صاحب کا سوچا سمجھا موقف ہے تاہم آج کا واقعہ اس کا اصل محرک بنا ہے۔‘
انھوں نےعمران خان کا پیغام دہراتے ہوئے کہا کہ ’اس کے بعد اب وفاقی حکومت کی رہنمائی صوبائی حکومت کرے گی۔ دہشت گردی کے خاتمے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم بیٹھیں اور اس معاملے کو دیکھیں۔‘
ان کے مطابق سہیل آفریدی کی نئی حکومت سے معاملہ سمجھنے کی بات ہو گی، افہام تفہیم کی بات ہو گی۔ یہ خان صاحب کا ایک سوچا سمجھا موقف ہے اور پارٹی قیادت مکمل اعتماد کا اظہار کرے گی۔
بریکنگ, خیبر پختونخوا میں علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ نامزد کر دیا گیا ہے: سلمان اکرم راجہ
پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو صوبے کا نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے تصدیق کی ہے کہ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیر اعلی نامزد کیا گیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے بدھ کی سہہ پہر اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا کے سوالات کے جواب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ درست ہے کہ علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کے مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اطلاعات زیر گردش تھیں کہ تحریک انصاف نے علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے ہٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ سہیل ّآفریدی کو نیا وزیراعلیٰ بنایا جارہا ہے۔
انڈیا کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور فوری جواب دیا جائےگا: فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی زیرصدارت کورکمانڈر کانفرنس نے انڈیا کی قیادت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی فوج ہر خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیرصدارت 272ویں کور کمانڈرز کانفرنس نے انڈیا کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور فوری جواب دیا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کور کمانڈر کانفرنس نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے غیرملکی سرپرستی میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خاتمے کا عزم بھی کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے دوران آرمی چیف نے غیرملکی حمایت یافتہ سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کے جذبے،عزم اور حوصلے کو سراہا اور سیلابی صورتحال میں امدادی اور بحالی سرگرمیوں میں بھی فوج کے کردار پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈر کانفرنس میں انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں، خطرات اور آپریشنل تیاریوں کا ایک جامع جائزہ لیا اور توثیق کی کہ مسلح افواج تمام شعبوں میں پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیاسی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی اور جرائم کے درمیان موجودہ گٹھ جوڑ، جو ریاست کے مفادات اور عوام کی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، اسے مزید جاری نہیں رہنے دیا جائے گا
کانفرنس میں انڈین سول اور عسکری قیادت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ اور بلا جواز اشتعال انگیز بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اعادہ کیا گیا کہ اس طرح کی بیان بازی سیاسی فائدے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دینے کے انڈین رجحان کے مطابق ہے۔
شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غیر ضروری کشیدگی میں اضافے سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا۔
کور کمانڈر کانفرنس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو تاریخی سنگ میل قرار قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب معاہدہ دوطرفہ باہمی احترام،مشترکہ اقدار کی عکاسی کرتا ہے اور معاہدہ خطے کے امن و استحکام کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
فورم نے پاکستان کا اصولی مؤقف دہرایا کہ مسئلہ فلسطین کا حل صرف دو ریاستی فارمولے میں ہے، 1967 سےقبل کی سرحدوں کے مطابق آزادفلسطینی ریاست کاقیام اورالقدس دارالحکومت ہونا چاہیے۔
گنڈاپور کو عہدے سے ہٹانے کی خبروں کی تردید اور پارٹی تقسیم کرنے سے متعلق بیان نہیں دیا: بیرسٹر گوہر, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹانے اور پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے کے کسی بھی بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’میں نے علی امین گنڈا پور کے بارے میں میڈیا کو کوئی بیان نہیں دیا۔ میں نے کسی میڈیا سے بات نہیں کی کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی تبدیلی کی خبر جعلی ہے یا پارٹی کے خلاف سازش ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلی علی امین گنڈاپور فراز مغل کی جانب سے بی بی سی سمیت پاکستانی میڈیا کو جاری کیے گئے بیان میں بیرسٹر گوہر سے منسوب کر کے یہ کہا گیا تھا کہ ’علی امین گنڈا پور سے متعلق جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلا کر پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔‘
فراز مغل کی جانب سے جاری بیان میں بیرسٹر گوہر سے منسوب کر کے کہا گیا تھا کہ علی امین گنڈا پور ہی ہمارے وزیراعلیٰ ہیں، ان کے خلاف پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں، پارٹی کو تقسیم کرنے والی ہر کوشش کا ڈٹ کر اور موثر جواب دیا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ بدھ کی دوپہرسے پاکستان کے بعض ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر ’پی ٹی آئی زرائع‘ کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ’علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لگائے جانے کا امکان ہے۔‘
دوسری جانب اس خبر کی تردید میں صوبائی وزیر سہیل آفریدی سے منسوب کر کے ہی فراز مغل کی جانب سے بیان کاری ہوا جس میں کہاتھا کہ صوبائی حکومت کی سطح پر وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
سہیل آفریدی سے منسوب بیان کے مطابق ’علی امین گنڈاپور کی جگہ انھیں نیا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کی خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔ مجھ سے منسوب تمام خبریں جھوٹ، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تبدیلی سے متعلق تمام دعوے جھوٹے اور گمراہ کن ہیں۔ علی امین گنڈاپور عمران خان کے اعتماد یافتہ اور وفادار ساتھی ہیں اور وہی وزیراعلیٰ رہیں گے۔‘
سندھ کے شہر میرپور ماتھیلو میں صحافی طفیل رند فائرنگ کے واقعے میں ہلاک, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہFace Book/Tufail Rind
صوبہ سندھ کے شمالی ضلع گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو میں صحافی طفیل رند فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے گئے تھے کہ راستے میں ان پر موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے حملہ کیا۔
ایس ایس پی انور کھتران نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان نے کلاشنکوف سے فائرنگ کی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔
اس واقعے کا مقدمہ تاحال دائر نہیں ہوا تاہم ایس ایس پی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔ لین دین پر دونوں فریقین میں تنازع ہوا جس میں مخالف فریق کا ایک شخص ہلاک ہوا تھا جس کی ایف آئی آر میں صحافی طفیل کو نامزد کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق دونوں فریقین ایک ہی گاؤں میں رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ طفیل رند تقریباً ڈیڑھ سال قبل ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ نے واقعے کی غیر جانبدارنہ تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے اور آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران سندھ میں یہ دوسرے صحافی کا قتل ہوا ہے اس سے قبل کراچی میں صحافی امتیاز میر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے میں بھی کوئی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آئی ہے۔
علیمہ خان کے 26 نومبر گھیراؤ جلاؤ کے مقدمہ میں وارنٹ گرفتاری جاری
،تصویر کا ذریعہGetty
راولپنڈی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی 26 نومبر گھیراؤ جلاؤ کے مقدمے میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کر دی ہے اور ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
آئندہ سماعت پر مقدمے کے تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے کی کارروائی کی جائے گی۔
علیمہ خان کے وکلا کی جانب سے عدالت سے ان کی ایک روز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
علیمہ خان کی جانب سے ان کے وکیل فیصل ملک اور حسنین سنبل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے خارج کر دیا۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ وکیل فیصل ملک اور حسنین سنبل کا علیمہ خان کے کیس میں وکالت نامہ ہی جمع نہیں، دونوں وکلا علیمہ خان کی طرف سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست نہیں دے سکتے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد علیمہ خانم کی حاضری سے استثنا کی درخواست خارج کر دی۔ یاد رہے کہ علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر گھیراؤ جلاؤ کا مقدمہ تھانہ صادق آباد راولپنڈی میں درج ہے۔
برطانیہ انڈیا کے لیے ویزا قوانین میں نرمی نہیں کرے گا: برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر
،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ
کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ انڈیا کے لیے ویزا کے قواعد اور
قوانین میں نرمی نہیں کرے گا۔ اُن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا
ہے کہ جب وہ برطانیہ اور انڈیا کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے سے متعلق مزید
بات چیت کے لیے انڈیا جا رہے ہیں۔
وزیرِاعظم
100 سے زائد کاروباری شخصیات، ثقافتی رہنماؤں اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پر
مشتمل ایک وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد برطانوی سرمایہ کاری میں
اضافہ اور سست روی کا شکار معیشت کو بہتر بنانا ہے۔
کیئر سٹارمر
نے کہا کہ برطانیہ اور انڈیا کے درمیان تجارت اور ثقافتی تعلقات کو بہتر بنانے کے ’بہت
بڑے مواقع‘ موجود ہیں۔
تاہم
انھوں نے واضح کیا کہ انڈین کارکنوں یا طلبہ کے لیے ویزا کے حصول کے لیے مزید راستے
کھولنے کا کوئی منصوبہ اس وقت اُن کے سامنے نہیں ہے۔
برطانیہ
اور انڈیا کے درمیان تجارتی معاہدہ کئی سال کی بات چیت کے بعد جولائی میں طے پایا
ہے۔
اس
معاہدے کے تحت برطانوی گاڑیاں انڈیا برآمد کرنا آسان اور سستا ہو جائے گا جبکہ انڈین
ٹیکسٹائل اور زیورات برطانیہ کو سستے داموں برآمد کیے جا سکیں گے، جس سے اربوں
پاؤنڈ کے تجارتی فوائد حاصل ہوں گے۔
معاہدے
میں اُن انڈین ملازمین کے لیے تین سالہ سماجی تحفظ (سوشل سکیورٹی) کی فیس سے استثنیٰ
بھی شامل ہے جو قلیل المدتی ویزوں پر برطانیہ میں کام کر رہے ہیں۔
تاہم اس
سب کے ہوتے ہوئے یہ بات زور دے کر اور واضح انداز میں کہی گئی ہے کہ امیگریشن
پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو رہی۔
اورکزئی آپریشن میں دو افسران سمیت 11 فوجی اہلکار، 19 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں شدت پسندوں کے خلاف
ایک کارروائی کے دوران 19 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ اس آپریشن میں فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر سمیت 11 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے اس آپریشن کے
حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف اس آپریشن کی قیادت کر رہے تھے اور ان کے علاوہ آپریشن میں ان کے سیکنڈ ان کمانڈ میجر طیب راحت بھی اس کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ ان دونوں افسران کا تعلق ضلع راولپنڈی سے بتایا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن سات اور آٹھ
اکتوبر کی درمیانی شب کیا گیا، آپریشن کے دوران ’انڈیا کے سپانسرڈ دہشتگردوں‘ کے ٹھکانے
کو نشانہ بنایا گیا اور سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں 19 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘
ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں میں دو افسران کے علاوہ ایک نائب صوبیدار، دو نائیک، تین لانس نائیک اور تین سپاہی بھی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’اورکزئی کے علاقے میں کلیئرنس
آپریشن جاری ہے، پاکستانی فورسز انڈیا کے سپانسرڈ دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے پرعزم
ہیں۔‘
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی ایک بیان میں اورکزئی میں سکیورٹی فورسز کے 11 اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
میانمار میں مذہبی تہوار پر پیراگلائیڈر کی مدد سے بم حملہ، 24 افراد ہلاک متعدد زخمی
،تصویر کا ذریعہSupplied: Monywa A Myint Lann Strike
بی بی سی کو نیشنل یونٹی گورنمنٹ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے
کہ ’مرکزی میانمار میں ایک تہوار اور احتجاج کے دوران پیرا موٹر حملے میں کم از کم
24 افراد ہلاک اور 47 زخمی ہو گئے ہیں۔‘
اینٹی جنتا پیپلز ڈیفنس فورس سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی
اہلکار نے بتایا کہ پیر کی شام بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100
افراد چاؤنگ او ٹاؤن شپ میں ایک مذہبی تہوار تھادنگیوٹ فیسٹیول منانے کے لیے جمع
تھے کہ جب ایک موٹر سے چلنے والے پیراگلائیڈر نے ہجوم پر دو بم گرائے گئے۔
میانمار سنہ 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس تنازعے میں اب تک 5000 سے زائد عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کے روز ہونے والے بم دھماکوں سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے ہلاک شدگان کی لاشوں کی شناخت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔
منگل کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جنتا کی جانب سے موٹر سے چلنے والے پیراگلائیڈرز کا استعمال کر کے شہری آبادی پر حملے کرنا اس علاقے میں ایک نئے مگر ’تشویشناک رجحان‘ کا حصہ ہے۔
اس حملے سے ایک روز قبل لی جانے والی چند تصاویر:
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دو دن، اب تک کیا طے پایا ہے؟
،تصویر کا ذریعہKhames Alrefi/Anadolu via Getty Images
فلسطینیوں
اور اسرائیلیوں نے گزشتہ روز سات اکتوبر 2023 کے حملے کی برسی منائی، جب کہ غزہ کی
جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں اور جنگ
بندی اور تعمیرِ نو کی شرائط پر اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
گزشتہ
دو برس کے دوران غزہ میں بنیادی ڈھانچے کو اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں
میں تباہ کر دیا گیا ہے اور فلسطینی اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے بار بار نقل
مکانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، تاہم اسرائیل افواج کی جانب سے محاصرہ جاری ہے
اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت ہے۔
اس جنگ
کے اثرات مغربی کنارے تک بھی پھیل چُکے ہیں، جہاں فلسطینی ذرائع کے مطابق تشدد اور
گرفتاریوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کے روز مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ امن مذاکرات کا دوسرا دن تھا۔ ٹرمپ نے مذاکرات کے پہلے دن کے بعد ’ایک بہت اچھے موقع‘ کی نشاندہی کی کہ ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
امریکی صدر کا غزہ کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ اب بھی زیرِ بحث ہے، تاہم فریقوں کے درمیان کچھ اہم اختلافی نکات باقی ہیں۔ بی بی سی کے غزہ میں نمائندے کے مطابق تمام فریقین اب مذاکرات کے ایجنڈے پر متفق ہو چکے ہیں اور ان پانچ نکات پر مشتمل فریم ورک کے بارے میں مزید معلومات دستیاب ہیں جن پر یہ بات چیت آگے بڑھے گی۔
اب تک
اسرائیل نے ٹرمپ کی تجاویز سے اتفاق کر لیا ہے جبکہ حماس نے کچھ شرائط کو قبول کیا
ہے مگر تمام شرائط کو نہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکا، قطر، مصر اور ترکی کے سفارت کار ان مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں اور امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف بدھ کے روز یعنی آج اس مذاکراتی دور میں شامل ہونے والے ہیں۔
حماس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ جو دو سال قبل ’طوفان الاقصیٰ آپریشن‘ کے نام سے شروع ہوئی تھی اب بھی جاری ہے اور اس کے سیاسی و عسکری اثرات اب بھی خطے میں واضح ہیں۔حماس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دشمن ہمارے ثابت قدم عوام کے خلاف اپنی سفاک جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، فلسطینی اپنی سرزمین سے جڑے رہیں گے اور کسی بھی قسم کے جبری بے دخلی کے منصوبوں کے مقابلے میں اپنے جائز حقوق پر قائم رہیں گے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شرم الشیخ میں حماس کے مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ نے ایک مصری چینل ’قاہرہ نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وفد ’سنجیدہ مذاکرات‘ کے لیے آیا ہے جن کا مقصد جنگ کو ختم کرنا، اسرائیلی فوج کو غزہ سے واپس بلانا اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق قیدیوں کا تبادلہ کرنا ہے۔
الحيہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے اور غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری اور وہاں کے باشندوں کے لیے انسانی امداد کی بندش اب بھی جاری ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنوں میں اغوا ہونے والے سرکاری سکول کے پرنسپل اور استاد کو بازیاب کر لیا گیا: پولیس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو/پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اغوا کیے گئے ایک سرکاری سکول کے پرنسپل رفیع اللہ اور استاد نثار علی شاہ باحفاظت بازیاب ہو کر منگل کے روز گھر پہنچ گئے۔
ایک بیان میں بنوں پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ’دن کے وقت سکول پرنسپل رفیع اللہ اور استاد نثار علی شاہ کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ دونوں باخفاظت بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں۔
’پولیس نے فوری ایکشن لیا تھا اور مغویان کی رہائی کے لیے خفیہ کارروائی میں مصروف تھی۔‘
خیال رہے کہ سکول پرنسپل اور استاد کے اغوا کے بارے میں مقامی اساتذہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دونوں سکول میں موجود تھے جب مسلح افراد انھیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر لے گئے تھے۔
یہ واقعہ منگل کی صبح تھانہ ہوید کی حدود میں موسیٰ خیل کے قریب شیر مندائی ہائی سکول میں پیش آیا تھا۔
مقامی پولیس اہلکاروں کے مطابق یہ علاقہ بنوں کے مضافات میں واقع ہے جس کی حدود ایک طرف شمالی وزیرستان اور دوسری جانب لکی مروت سے ملتی ہے۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور سابق سینیٹر مشتاق کے درمیان رابطہ: ’دفترِ خارجہ 9 اکتوبر کو پاکستان واپسی کا انتظام کر رہا ہے‘
،تصویر کا ذریعہ@MIshaqDar50
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ان کی عمان میں موجود سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے اردن میں موجود پاکستانی سفیر کے ذریعے بات ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ سابق ’سینیٹر مشتاق خیریت سے ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔‘
’میں نے سینیٹر مشتاق کو مسئلہ فلسطین کی حمایت میں صمود فلوٹیلا کا حصہ بننے اور ان کے محاصرہ توڑ کر غزہ میں امداد پہنچانے کے جذبے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔‘
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ مشتاق احمد خان نے تل ابیب میں ایک دوست یورپی ملک کے ذریعے ان تک پہنچنے کے لیے ’پاکستانی دفترِ خارجہ کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔‘
پاکستانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کا دفترِ خارجہ 9 اکتوبر کو سینیٹر مشتاق کی پاکستان واپسی کا انتظام کر رہا ہے۔‘
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔