بیروت میں دھماکہ: اسرائیلی فوج نے لبنان میں ’حزب اللہ کے کمانڈر کو نشانہ بنایا‘

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک حملہ کیا ہے۔ اس کا ہدف حزب اللہ کے وہ کمانڈر تھے جو اسرائیل کے بقول گولان کی پہاڑیوں پر حملے میں ملوث تھے۔ ادھر امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ’جنگ ناگزیر نہیں ہے۔‘

خلاصہ

  • اسرائیل کا بیروت میں حملہ، لبنان کی ’اسرائیل کی جارحیت‘ پر تنقید
  • پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے فوجی قیادت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق کہا کہ ’ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے۔‘
  • صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل اولڈ بازید خیل میں بارش کا پانی گھر کے تہہ خانے میں داخل ہونے سے ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی 6 اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت پر سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کردی۔
  • منگل کو انڈیا کی ریاست کیرالہ کے وایناڈ میں میپاڈی کے قریب مٹی کا تودے گرنے سے 20 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کیا حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کر سکتی ہے؟

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلبنان کے جنگجو (حزب اللہ کے ارکان) حماس سے زیادہ تربیت یافتہ سمجھے جاتے ہیں

    اس سے قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی گزشتہ سال 8 اکتوبر کو اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب حزب اللہ نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

    اس کے بعد سے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی ٹھکانوں پر راکٹ داغے ہیں، اسرائیل کی بکتر بند گاڑیوں پر ٹینک شکن میزائل داغے ہیں اور ڈرونز کی مدد سے اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بھی بنایا ہے۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں اور ٹینکوں اور توپ خانے سے فائرنگ کی ہے۔

    لڑائی کے باوجود، مبصرین کا کہنا ہے کہ اب تک فریقوں نے سرحد پار کیے بغیر برے پیمانے پر ایک دوسرے کے احداف کو نشانہ بنایا ہے اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ تاہم اب ماہرین اور مبصرین کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے اس حالیہ حملے کے بعد صورتحال قابو سے باہر ہ سکتی ہے اور خطے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کون ہیں؟

    شیخ حسن نصراللہ ایک شیعہ عالم دین ہیں جو 1992 سے حزب اللہ کی قیادت کر رہے ہیں۔ انھوں نے حزب اللہ کو ایک سیاسی اور فوجی قوت میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے ایران اور اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

    حسن نصر اللہ 15 سال کی عمر میں اس وقت کے سب سے اہم لبنانی شیعہ سیاسی عسکری گروپ کے رکن بن گئے جس کا نام امل موومنٹ تھا۔ یہ ایک بااثر اور فعال گروپ تھا جس کی بنیاد ایرانی موسی صدر نے رکھی تھی۔

    Hassan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس دوران نصراللہ نے اپنی مذہبی تعلیم بھی شروع کی۔ نصراللہ کے اساتذہ میں سے ایک نے مشورہ دیا کہ وہ شیخ بننے کا راستہ اختیار کریں اور نجف جائیں۔ حسن نصر اللہ نے یہ مشورہ قبول کر لی اور 16 سال کی عمر میں عراق کے شہر نجف چلے گئے۔

    حسن نصر اللہ کی لبنان واپسی کے ایک سال بعد ایران میں انقلاب آیا اور روح اللہ خمینی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہاں سے ناصرف لبنان کی شیعہ برادری کا ایران کے ساتھ تعلق بالکل بدل گیا بلکہ ان کی سیاسی زندگی اور مسلح جدوجہد بھی ایران میں رونما ہونے والے واقعات اور نظریے سے شدید متاثر ہوئی۔

    حسن نصراللہ نے بعد میں تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اس وقت کے رہنما سے ملاقات کی اور خمینی نے انھیں لبنان میں اپنا نمائندہ مقرر کیا۔

    عباس موسوی کو حزب اللہ کا جنرل سیکرٹری منتخب ہونے کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں اسرائیلی ایجنٹوں نے ان کو قتل کر دیا اور اسی سال، 1992 میں اس گروپ کی قیادت حسن نصر اللہ کے ہاتھ میں چلی گئی۔

    اس وقت ان کی عمر 32 سال تھی۔ اس وقت لبنان کی خانہ جنگی کے خاتمے کو ایک سال گزر چکا تھا اور نصر اللہ نے ملک میں حزب اللہ کی سیاسی شاخ کو اپنی عسکری شاخ کے ساتھ ساتھ ایک سنجیدہ کھلاڑی بنانے کا فیصلہ کیا۔

  2. حزب اللہ کو گولان حملے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی: اسرائیلی وزیرِ اعظم

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہ@IsraeliPM

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر حزب اللہ کے حملے کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔

    ان کے دفتر کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کابینہ کے ارکان نے وزیر اعظم اور وزیرِ دفاع کو دہشت گرد تمظیم حزب اللہ کے خلاف ردعمل کے طریقہ کار اور وقت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے۔‘

    حملے کے فوراً بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ حزب اللہ کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ حزب اللہ نے گولان کی پہاڑیوں پر راکٹ فائر کیے ہیں۔

    نیتن یاہو ہفتے کے روز اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر ہونے والے حملے میں 12 بچوں اور نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ کا اپنا دورہ مختصر کر کے اسرائیل واپس پہنچ گئے تھے۔

    امریکہ نے اس حملے کا الزام حزب اللہ پر عائد کرنے میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے لیکن لبنانی عسکریت پسند گروپ اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

    حزب اللہ

    حزب اللہ لبنان میں شیعہ مسلمانوں کی ایک انتہائی طاقتور سیاسی اور فوجی تنظیم خیال کی جاتی ہے۔ ایران کی پشت پناہی سے سنہ 1980 کی دہائی میں تشکیل پانے والی یہ جماعت لبنان سے اسرائیلی فوجی دستوں کے انخلا کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے۔ حزب اللہ کا لغوی مطلب ’خدا کی جماعت‘ کے ہیں۔

    لبنان پر اسرائیلی قبضے کے بعد شیعہ علما کے ایک چھوٹے سے گروہ کی اعانت سے اُبھرنے والی اس تنظیم کے اولین مقاصد میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت اور لبنان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلا تھا۔

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    سنہ 1992 سے حسن نصراللہ اس کے سربراہ ہیں جبکہ اس تنظیم کو مئی 2000 میں اپنے اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی جب اسرائیل نے وہاں سے مراجعت کی۔ اس عمل کے پس منظر میں حزب اللہ کے عسکری ونگ ’اسلامک ریزسسٹینس‘ کا ہاتھ تھا۔

    اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لبنان کی کثیر المذہبی ریاست کی جگہ لبنان میں ایرانی طرز کی اسلامی ریاست بنائی جائے مگر بعد میں اسے یہ خیال ترک کرنا پڑا۔

    ایران کی طرف سے حزب اللہ کو ایک طویل عرصے تک مالی اور عسکری مدد فراہم کی جاتی رہی ہے۔

    لبنان میں شیعہ اکثریت میں ہیں اور یہ تحریک لبنان میں بسنے والے شیعہ فرقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ لبنان سے اسرائیلی فوجی دستوں کے انخلا سے اس تنظیم نے عام لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔

  3. حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان مذاکرات: کارکنان کی رہائی کا حکم، ’دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا‘

    ji

    ،تصویر کا ذریعہJAMAAT-E-ISLAMI/X

    پاکستان کی وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہونے کے بعد اعلان کیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے کارکنان کو رہا کر دیا جائے گا۔

    اتوار کو حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جماعتِ اسلامی کی کمیٹیوں کے درمیان ملاقات راولپنڈی میں ہوئی۔

    مذاکرات کے بعد وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے 35 گرفتار کارکنان کی فہرست حکومتی ٹیم کو دی ہے اور حکومت نے ان تمام افراد کی فی الفور رہائی کا اعلان کر دیا گیا۔

    ’ہم نے انھیں کہا ہے کہ کوئی سیاسی کارکن گرفتار نہیں ہوگا۔‘

    خیال رہے جماعت اسلامی کا دھرنا گذشتہ تین دنوں سے راولپنڈی میں جاری ہے۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور آج یعنی پیر کے روز ہوگا۔

    ’ہماری کوشش یہ ہے کہ کل مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران تمام معاملات خوش اصلوبی سے حل ہوجائیں اور ہم اس دھرنے کو عزت و آبرو کے ساتھ رخصت کریں۔‘

    جماعت اسلامی کے مطالبات

    دوسری جانب جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے دھرنے کا ایجنڈا حکومتی کمیٹی کے ساتھ شیئر کرلیا گیا ہے۔

    صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومتی کمیٹی کو کہا ہے کہ بجلی کے بِل ادا کرنا اب عوام کے لیے ناممکن ہوگیا ہے، پیٹرول کی قیمتیں ناقابلِ برداشت ہو گئی ہیں اور اضافی ٹیکس کے نفاذ کے سبب تنخواہ دار طبقے کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔‘

    لیاقت بلوچ کے مطابق حکومتی کمیٹی نے جماعتِ اسلامی کے مطالبات نوٹ کر لیے ہیں اور کہا ہے کہ حکومت ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دے کر اس کے سامنے جماعتِ اسلامی کے مطالبات رکھے گی۔

    لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ’دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔‘

    جماعت اسلامی کے مطالبات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے رکن اور وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’جماعتِ اسلامی نے جو باتیں ہم سے کی ہیں ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ عوام کے ریلیف کے لیے کام کیا جائے۔‘

    ’اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو پیٹرول کی قیمت میں بھی کمی آئے گی، ان تمام معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔‘

  4. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر

    • بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اتوار کو فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور کم از کم دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ مکران ڈویژن کی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔ اس حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے تاہم اہلکار کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سے دو افراد کو پیروں پر گولی لگی جبکہ ایک کو پیٹ پر گولی لگی تھی۔ اہلکار نے بتایا کہ جس شخص کو پیٹ پر گولی لگی وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا۔
    • پاکستان کی وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہونے کے بعد اعلان کیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے کارکنان کو رہا کر دیا جائے گا۔ اتوار کو حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جماعتِ اسلامی کی کمیٹیوں کے درمیان ملاقات راولپنڈی میں ہوئی۔ مذاکرات کے بعد وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے 35 گرفتار کارکنان کی فہرست حکومتی ٹیم کو دی ہے اور حکومت نے ان تمام افراد کی فی الفور رہائی کا اعلان کر دیا ہے۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کا ایک برس مکمل ہونے پر پانچ اگست کو ملک بھر میں جلسے اور احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ اتوار کو پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’پانچ اگست کو ہم دو ایشوز پر پورے پاکستان میں جلسے اور بڑے بڑے مظاہرے کریں گے۔ ایک تو پانچ اگست عمران خان کی گرفتاری کا دن ہے، ان کو غیرقانونی طریقے سے من گھڑت مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔‘
    • اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پیکا ایکٹ کے تحت درج ایک مقدمے میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما رؤف حسن اور دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع دے دی ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان رؤف حسن اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سیدہ عروبہ کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اتوار کی صبح عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
  5. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس لائیو پیج میں پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کی جائیں گی۔

    25 جولائی کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔