لائیو, ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کر دی گئی

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ان کی تدفین کی گئی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. حملہ کریں گے تو جواب بھی ملے گا: باقر قالیباف

    باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر آپ حملہ کریں گے تو جواب بھی ملے گا۔‘

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں باقر قالیباف نے مزید کہا: ’امریکہ نے ابھی تک یہ نہیں سیکھا دھونس جمانے اور وعدہ خلافی کرنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔‘

    ایکس پر پوسٹ میں باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ’بے مقصد ہاتھ پاؤں نہ ماریں ورنہ دلدل میں مزید دھنس جائیں گے۔ آبنائے ہرمز امریکی دھمکیوں کے ذریعے نہیں بلکہ صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھل سکتی ہے۔‘

  2. ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج

    امریکی فوج کی جانب سے ایران پر حملے کی فوٹیج سے لیا گیا سکرین گریب

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ جولائی کو ایران کے خلاف کارروائی میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ ایران میں فضائی دفاع کے نظام، ساحلی نگرانی کے وسائل، میزائلز اور ڈرونز کی ذخیرہ گاہوں، بحری صلاحیتوں اور ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے گئے۔

    سینٹ کام کے مطابق گذشتہ روز بھی پاسداران انقلاب کی 60 چھوٹی کشتیوں سمیت ایران میں 80 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کارروائی کو سینٹ کام نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔

    سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی افواج بدستور چوکس ہیں اور اپنے کمانڈر اِن چیف کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل در آمد کے لیے تیار ہیں۔

  3. تیل کی قیمت چند ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    تیل کی قیمتیں

    ،تصویر کا ذریعہFuture Publishing via Getty Images

    ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمت بڑھ کر اس سطح پر جا پہنچی ہے جو جون کے وسط میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے پہلے تھی۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ میں تیل کی قیمت تقریباً 74 ڈالر فی بیرل تک ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

    اس سے پہلے ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے کیے تھے۔ جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی رسد مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

  4. فضائی دفاع کا نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے: کویتی فوج

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کویتی فوج نے کہا ہے کہ فضائی دفاع کا نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔‘

    ایکس پر پیغام میں کویتی فوج نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    بیان میں شہریوں اور ملک میں مقیم افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اس جگہ نہ جائیں جہاں دفاعی کارروائیوں کے دوران گرنے والے شیلوں کے ٹکڑے پڑے ہوں، اور نہ ہی ان کی تصاویر یا ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

    کویتی فوج کا یہ بیان ایران پر امریکہ کے حملوں کے کچھ گھنٹوں بعد آیا ہے۔

  5. بحرین میں خطرے کے سائرن

    بحرین کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اعلان کیا ہے کہ ملک میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں۔

    وزارت داخلہ کے پیغام میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام کی جانب چلے جائیں۔

    اس سے قبل امریکہ نے ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس اور ابو موسیٰ جزیرے سمیت متعدد مقامات حملوں کی زد میں آئے۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

  6. ایران پر امریکہ کے نئے حملوں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    ایران پر امریکی حملے

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    • بدھ کی شب دیر گئے، ایرانی میڈیا نے خبر دی کہ بندرعباس کے اطراف فضائی حدود میں دشمن کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
    • خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا کہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر بندرعباس اور سیریک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
    • خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا کہ چابہار اور کنارک میں کم از کم 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ چابہار شہر کے ایک حصے میں بجلی بھی منقطع ہو گئی۔
    • خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے چابہار میں پاسدارانِ انقلابِ کی بحریہ کے اڈے پر بمباری کی۔
    • خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی نے کہا کہ چابہار بندرگاہ کے بعض علاقوں پر امریکی حملے کے بعد ان میزائلوں کے ٹکڑے شہر کے امام علی ہسپتال سے جا ٹکرائے۔
    • خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی حملوں میں چابہار بندرگاہ کی شہید بہشتی اور کلانتری گھاٹ کے علاوہ بحری ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
    • ایرانی میڈیا نے بوشہر میں پاسداران انقلاب کے ایک اڈے پر حملے کی اطلاعات دیں اور کہا کہ اس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
    • خبر رساں ادارے ارنا نے سیستان و بلوچستان کے نائب گورنر اور ایران شہر کے گورنر کے حوالے سے ہوائی اڈے پر حملے کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس واقعے میں آگ بجھانے والے عملے کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔
    • امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے ایران پر تازہ حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا‘ ہے۔
  7. ایران کے ساتھ تنازع جنگ نہیں ہے: امریکی صدر

    صدارتی طیارے ایئرفورس ون پر صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ’جنگ‘ نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت میں اسے مکمل طور پر جنگ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے ہے۔ یہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے محروم کرنے کے لیے ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا: ’لہٰذا پوری بات ایران سے جوہری ہتھیار لینے اور اسے اس قسم کے ہتھیار رکھنے کی اجازت نہ دینے کی ہے۔ اور ہر شخص کو ایسی بات پر خوش ہونا چاہیے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ انھوں نے اپنے دورِ صدارت میں آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا ہے۔

  8. کچھ دیر پہلے ایران نے رابطہ کیا، وہ معاہدہ کرنے کے ’بہت زیادہ‘ خواہش مند ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ’کچھ دیر پہلے رابطہ کیا تھا۔ وہ معاہدہ کرنے کے بہت زیادہ خواہش مند ہیں۔‘

    صدارتی جہاز ائیرفورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا: ’میں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ معاہدہ کرنا واقعی فائدہ مند ہو گا یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آیا وہ معاہدے کا احترام کریں گے یا نہیں۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ ایران کے ساتھ ایک مکمل فوجی تنازع کی طرف واپس جا رہا ہے، تو انھوں نے کہا: ’میں نہیں جانتا۔ لیکن ہم بہت جلد جیت جائیں گے۔‘

    امریکی صدر نے یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں ’فوجی اعتبار سے‘ کامیاب ہو چکا ہے، اور مزید کہا کہ ایران کے پاس ’زیادہ کچھ باقی نہیں رہا‘ اور وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے ’بہت زیادہ‘ خواہش مند ہے۔

  9. جب بھی وہ ہم پر حملہ کریں گے، ہم 20 گنا زیادہ طاقت سے اس کا جواب دیں گے: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر ہونے والی تازہ امریکی کارروائیوں کے بارے میں بات کی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے انھیں (ایران کو) بہت شدت سے نشانہ بنایا ہے اور میں یہاں آج یہ بات کہوں گا کہ ہم نے انھیں 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جب بھی وہ ہم پر حملہ کریں گے، ہم انھیں 20 گنا زیادہ طاقت اور شدت سے جواب دیں گے۔‘

    کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے واپسی کے دوران برطانیہ کے ملڈن ہال ایئر بیس پہنچے۔

    ٹرمپ نے ایران میں امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ شروع کیے جانے کے حوالے سے کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔ انھوں نے وہاں موجود امریکی فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی اور بعد ازاں وہ اپنے پرانے صدارتی طیارے ایئر فورس ون سے قطر کی جانب سے گزشتہ سال فراہم کیے گئے نئے طیارے میں منتقل ہو گئے۔

    تاہم اب اُن کا یہ بیان امریکہ کی جانب سفر کے دوران جہاز میں موجود صحافیوں سے گفتگو کے دوران سامنے آیا ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  10. ایران کے سیستان و بلوچستان میں ائیرپورٹ پر حملہ، ایک شخص ہلاک

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر کے ہوائی اڈے کی عمارت اور رن وے میں دھماکے کے بعد فضا میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے بھی سیستان و بلوچستان کے نائب گورنر اور ایرانشہر کے گورنر کے حوالے سے شہر کے ہوائی اڈے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    اس سے قبل زاہدان پر حملے سے متعلق غیر سرکاری اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، تاہم فوجی حکام نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے زاہدان کے فوجی مراکز پر کسی بھی حملے یا دھماکے کی تردید کی تھی۔

  11. ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران پر امریکی حملے جاری، مذاکرات کا عمل مزید کمزور, امریکہ سے بی بی سی نیوز کے نامہ نگار پیٹر بوز کا تجزیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ہفتے دوسری رات ایران کو سخت نشانہ بنانے کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ ایران کے خلاف مزید حملے جاری ہیں۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد تہران کی آبنائے ہرمز میں ’آزادانہ بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا‘ ہے۔

    امریکی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’امریکہ تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حالیہ ’بلا جواز جارحیت‘ پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے، جو ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔

    ایران کے خلاف منگل کی رات ہونے والی فوجی کارروائیوں کے لیے بھی یہی مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔ یہ جھڑپیں جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کے بعد جنگ بندی کی سب سے بڑی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر مذاکراتی عمل سے امریکہ کے الگ ہونے کا اعلان نہیں کیا، تاہم طویل المدتی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محدود دکھائی دے رہے ہیں۔

  12. امریکی حملے کے ردعمل میں ایرانی رہنما کی خلیج فارس میں تیل اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے ردعمل میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خلیج فارس کے ممالک میں تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

    ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’خلیج فارس کے وہ ممالک جو ایران اور امریکی حکومت کے درمیان تنازع میں ٹرمپ کا ساتھ دے رہے ہیں، انھیں اپنے تیل اور گیس کے کنوؤں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔‘

    انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے جزیرہ خارگ پر قبضے کے امکان سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے مزید لکھا ’ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ایک بھی امریکی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا۔‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے نئے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے عہدیداروں کے درمیان لفظی محاذ آرائی اور سخت بیانات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

  13. بریکنگ, تازہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے: روسی نیوز ایجنسی طاس کا دعویٰ

    روس کی خبر رساں ایجنسی ’طاس‘ نے ایک ایرانی سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں تہران نے امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت کے لیے ایک نئے راستے کو فعال کرنے کی امریکی کوشش دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے ہونے والی بحری آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔

    ایرانی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا جواب ماضی کے مقابلے میں زیادہ فیصلہ کن، وسیع اور سخت انداز میں دیا جائے گا۔

    عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
  14. یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز بحری جہازوں پر حملوں کا جواب ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز بحری جہازوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔‘

    اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایسا دوبارہ ہوا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔‘

    واضح رہے کہ اب سے کُچھ دیر قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران پر نئی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

    جس کے بعد متعدد ایرانی میڈیا کی جانب سے یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ مُلک کے متعدد ساحلی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سُنی گئی ہیں۔

    ٹرمپ کی اس حالیہ پوسٹ میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک اور پوسٹ کی تصویر بھی شامل ہے، جس میں جنوبی ایران کے شہر چابہار میں حملوں کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ تاہم بی بی سی ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    Truth Social

    ،تصویر کا ذریعہTruth Social

  15. بریکنگ, ایران پر موجودہ امریکی حملے منگل کی کارروائی سے زیادہ وسیع ہیں: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایران پر جاری حالیہ حملے منگل کو کیے گئے حملوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور بڑے پیمانے پر ہیں۔

    اسی طرح امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تازہ امریکی کارروائی کا دائرہ کار منگل کے حملوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق منگل کو کی گئی کارروائی کے دوران ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہاز شکن میزائل صلاحیتیں اور پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیاں شامل تھیں۔

  16. بوشہر میں پاسدارانِ انقلاب کے فوجی اڈے پر حملہ، ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی صوبے بوشہر میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہم فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    بی بی سی فارسی نے ایران کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ چابہار بندرگاہ کے علاقوں پر امریکی حملوں کے بعد داغے گئے گولوں کے ٹکڑے شہر کے امام علی ہسپتال پر بھی گرے، جس سے ہسپتال کو نقصان پہنچا۔

  17. خلیج میں واقع ابو موسیٰ جزیرہ بھی امریکی حملے کی زد میں آیا ہے: ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں واقع متنازع ابو موسیٰ جزیرے پر دو میزائل یا گولے داغے گئے ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی ساحلی شہر بندر عباس کے مشرقی علاقے میں آج رات آٹھ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق دو گولے ابو موسیٰ جزیرے پر گرے، دو میزائلوں سے جزیرہ سیریک کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنوبی ساحلی علاقوں میں مزید دو دھماکوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    واضح رہے کہ خلیج میں واقع ابو موسیٰ اُن جزائر میں شامل ہے کہ جو اس وقت ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہیں، تاہم متحدہ عرب امارات بھی ان پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ ان جزائر کی ملکیت کا تنازع دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

    BBC
  18. بریکنگ, امریکی جنگی طیاروں کا چابہار میں فوجی اڈے پر حملہ، متعدد دھماکوں کی اطلاعات

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے چابہار میں واقع امام علی نادسا کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

    تسنیم کی جانب سے امریکہ کے ان حالیہ حملوں کے بعد بتایا جا رہا ہے کہ ’اب تک چابہار اور کونارک میں تقریباً دس دھماکوں کی آوازیں سنی جا چکی ہیں۔‘

    رپورٹ کے مطابق چابہار شہر کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ترکی میں ایران سے متعلق سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’شاید آج رات دوبارہ بھی سخت حملہ کرے گا‘۔ ٹرمپ کے بقول، ’میں نے انھیں تھوڑی سی پیشگی وارننگ دی تھی، ہم آج رات پھر اُن پر سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں۔‘

  19. بریکنگ, ایران کے جنوبی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں کے متعدد شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ کونارک اور چابہار شہروں میں کئی دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق چابہار کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق بندر عباس میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ اس علاقے سے بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  20. بریکنگ, امریکی فوج کا ایران پر مزید حملوں کا اعلان

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران میں مزید حملے کر رہی ہیں۔

    سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے ایران کے خلاف مزید کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکہ تجارتی بحری جہازوں اور ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے آزادانہ گزرنے والے شہری عملے کے خلاف حالیہ بلاجواز کارروائیوں پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔‘