لائیو, ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کر دی گئی

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ان کی تدفین کی گئی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفیق کر دی گئی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں امام رضا کے مزار میں کر دی گئی ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ان کی تدفین کی گئی۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی ہے۔

    مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔

    مشہد میں امامِ رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ ایران آنے والے نوّے فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔

  2. ایران میں ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں

    ایران سے جمعرات کی رات کو بھی دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    جمعرات کی رات ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر کنارک میں ’تین دھماکوں‘ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا: ’ابھی تک ممکنہ نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔‘

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس کے علاوہ بوشہر اور چغادک کے نواح میں ’دو دھماکوں‘ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

    گزشتہ دو راتوں کے دوران امریکہ نے ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً ملک کے جنوبی ساحلی پٹی کے علاقوں میں، شدید حملے کیے ہیں۔

  3. علی خامنہ ای کی نماز جنازہ بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانے سے نشر کیے جانے والے مناظر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی ہے۔

    اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا تھا کہ مشہد میں علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب آیت اللہ حسین نوری ہمدانی کی امامت میں نمازِ جنازہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔ تاہم نوری ہمدانی کی عدم موجودگی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    علی خامنہ ای کے بڑے بیٹے کی جانب سے نمازِ جنازہ پڑھائے جانے کے بعد ایک بار پھر مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے میں عدم موجودگی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

  4. مشہد: ایران کا مقدس ترین شہر اور خامنہ ای کی آخری آرام گاہ

    مشہد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر ہو گی۔

    مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔

    مشہد میں امامِ رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ ایران آنے والے نوّے فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔

  5. ضرورت پڑنے پر ایران پر تیسری بار حملے کے لیے تیار ہیں: اسرائیلی وزیر دفاع

    اسرائیلی وزیرِ دفاع

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی فوج ’چوکنا اور تیار‘ ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق وزیرِ دفاع نے پائلٹس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ’ضرورت پڑنے پر ایران پر تیسری بار حملے کے لیے تیار ہے۔‘

    اسرائیل ایران میں جنگ کے آغاز سے ہی شامل رہا اور 28 فروری کو اس نے امریکا کے ساتھ مل کر مشترکہ حملے کیے تھے۔

  6. ’ایران اپنے دفاع کے لیے تیار ہے‘: عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت

    عواس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت میں حالیہ امریکی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں عباس عراقچی نے امریکی فوج کی کسی بھی مہم جوئی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کے غیر متزلزل عزم اور ارادے پر زور دیا۔

    دوسری جانب عباس عراقچی نے ترکی اور عمان میں اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کی، جس میں تمام فریقوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔

    عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ترکی اور عمان کے وزرائے خارجہ نے علاقائی مسائل کے حل اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے ’مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔‘

  7. کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کا 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد لانگ مارچ کا اعلان

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    تنظیم نے اس سے قبل 9 جون کو بھمبر سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، تاہم راولاکوٹ پہنچنے پر انتظامیہ نے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد سے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک عیدگاہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

    گذشتہ ہفتوں کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چار پولیس اہلکاروں سمیت ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ نے تنظیم کی جانب سے نئے لانگ مارچ کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الوقت یہ صرف ایک اعلان ہے۔ انتظامیہ کے مطابق جب شرکا عملی طور پر لانگ مارچ شروع کریں گے تو اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر لانگ مارچ کی اہمیت اس کے عملی آغاز کے بجائے محض اعلان تک محدود ہے۔

  8. جنوب مغربی ایران میں حملے میں تین پاسدارانِ انقلاب اہلکار ہلاک

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں ایک حملے کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ اطلاع ایک ایسے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے بارے میں پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر ایجنسی تسنیم نے جمعرات کی صبح رپورٹ کیا تھا کہ اہواز شہر کے نواحی علاقے میں ہونے والے حملے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ صوبے کے نائب گورنر کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

    تاہم تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاسداران انقلاب کے جن تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تازہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، آیا وہی افراد ہیں جن کے بارے میں پہلے اہواز کے قریب حملے میں ہلاک ہونے کی خبر دی گئی تھی یا نہیں۔

  9. خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ہی سات روزہ عوامی سوگ کا اختتام, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی نیوز

    علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ایران اور پڑوسی ملک عراق کے پانچ شہروں میں جاری چھ روزہ عوامی سوگ کی تقریبات اختتام پذیر ہو گئیں۔ ان دنوں میں منعقد ہونے والی جنازہ اور تعزیتی تقریبات مذہبی اور سیاسی علامتوں سے بھرپور رہیں۔

    سوگ کے آخری روز ایک بار پھر بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ اس بار جلوس ایران کے مقدس ترین شہر مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کی جانب بڑھا، جو سنہری گنبد کے باعث خاص شہرت رکھتا ہے اور آیت اللہ خامنہ ای کی جائے پیدائش بھی ہے۔

    تقریبات میں شریک ہونے والے ان کے حامیوں اور مذہبی پیروکاروں نے ایرانی پرچم، تصاویر اور انتقام کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    دوسری جانب وہ ایرانی شہری، جو خامنہ ای کے اقتدار اور طرزِ حکمرانی کے ناقد رہے ہیں، ان تقریبات سے دور رہے۔

    اس تمام عرصے کے دوران آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے اور نامزد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای بھی عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ اطلاعات کے مطابق وہ ان امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شدید زخمی ہوئے تھے جن میں ان کے والد ہلاک ہوئے تھے۔

  10. آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کیسے جاری ہے؟, تھامس کوپلینڈ اور لِبی راجرز، بی بی سی نیوز

    Strait of Harmuz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز خلیج میں اپنی ساحلی پٹی کے قریب حکومت کی منظور شدہ سمندری گزرگاہ استعمال کریں۔

    17 جون کو امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے بعد ایران پر ایسے پانچ حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے جو ان جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے جو آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی تجویز کردہ متبادل گزرگاہ استعمال کر رہے تھے۔ یہ راستہ عمانی پانیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔

    بحری نقل و حمل کی انٹیلیجنس کمپنی کپلر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز کسی بھی جہاز نے عمانی راستہ استعمال نہیں کیا، جبکہ اس سے ایک دن قبل صرف تین جہاز اس راستے سے گزرے تھے۔

    کپلر کے ڈیٹا کے مطابق گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 23 جہازوں میں سے کم از کم 12 نے ایران کے شمالی راستے کا استعمال کیا۔

    Strait of Harmuz
  11. شمالی ایران میں ریلوے پل کو نقصان، تصدیق شدہ ویڈیوز اور تصاویر سامنے آگئیں, شایان سرداری زادہ، بی بی سی نیوز

    Tasnim

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز اور تصاویر سے شمالی ایران کے شہر آق قلعہ میں واقع ایک ریلوے پل کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رات کے وقت ریکارڈ کی گئی دو ویڈیوز میں صوبہ گلستان کے آغ تَکّہ خان ریلوے پل کو نقصان پہنچنے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ پل بحیرۂ کیسپیئن کے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    جمعرات کی صبح ایرانی میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی تصاویر میں پل پر ایک بڑا شگاف اور گڑھا دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ریلوے ٹریک کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ملبہ اطراف میں بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق پل کو ایک امریکی کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  12. کوئلہ پھاٹک پر نیا دھرنا، زیارت میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Balochistan

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی سے متعلق حالیہ واقعات کے خلاف احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایئرپورٹ روڈ پر شدت پسندوں کے حملوں کے خلاف گذشتہ اتوار سے جاری دھرنے کے بعد اب کوئلہ پھاٹک پر بھی ایک نیا دھرنا شروع ہو گیا ہے۔

    کوئلہ پھاٹک پر دیا جانے والا یہ دھرنا ضلع زیارت میں مانگی ڈیم فیز تھری کی تعمیراتی سائٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف ہے۔ گذشتہ پیر کو نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک اور 21 اہلکار اغوا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں اغوا شدہ اہلکاروں کو قتل کرکے ان کی لاشیں زرغون غر کے علاقے میں پھینک دی گئیں۔

    ان اہلکاروں کی لاشیں گذشتہ شب کوئٹہ منتقل کی گئیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد 13 اہلکاروں کی لاشیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں، جبکہ باقی آٹھ لاشوں کے ہمراہ کوئلہ پھاٹک پر احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

    Balochistan

    دھرنا کمیٹی کے رکن عبدالفیاض کے مطابق احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت کے بااختیار نمائندے مذاکرات کے لیے نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیارت کو دوبارہ مکمل طور پر پرامن بنایا جائے، حملے میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور واقعے میں غفلت برتنے والے سرکاری حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    دوسری جانب کوئلہ پھاٹک کے علاقے میں گذشتہ اتوار سے ایک اور دھرنا بھی جاری ہے جو کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک کے علاقے ببری میں ہونے والے حملے کے خلاف دیا جا رہا ہے۔ اس حملے میں پانچ مقامی افراد ہلاک جبکہ 11 افراد اغوا ہوئے تھے۔

    Balochistan

    اس احتجاجی دھرنا کمیٹی کے رکن فرحان خان یوسفزئی نے کہا کہ وہ گذشتہ اتوار سے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بااختیار حکام ان سے مذاکرات کریں تاکہ مطالبات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    ان کے مطابق دھرنے کے تین بنیادی مطالبات ہیں: علاقے سے نامعلوم مسلح عناصر کا خاتمہ، 11 مغوی افراد کی فوری بازیابی، اور حملے کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی۔

    ادھر ہنہ اوڑک اور زیارت میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر وفاقی حکام نے جمعرات کو کوئٹہ کا دورہ کیا۔ انھوں نے ایپکس کمیٹی بلوچستان کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

  13. سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکسو ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل یکسوئی کے ساتھ پرعزم ہے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعات میں پولیس اہلکاروں، سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور شہریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیوں کے دوران 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔

    اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وفاقی وزرا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے بقول ان قربانیوں کے نتیجے میں ملک سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔

    شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی میں مشرقی ہمسایہ ملک کا کردار موجود ہے اور دہشت گردوں کو اسلحہ، مالی معاونت اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم ریاست ایسے عناصر کے عزائم ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں اور گذشتہ برس حاصل ہونے والی کامیابیوں نے دشمنوں کو پریشان کر رکھا ہے، جس کے باعث ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت متحد ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، حکومتِ بلوچستان اور سکیورٹی ادارے امن کی بحالی، استحکام اور ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے تاکہ پاکستان کو امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

    وزیراعظم نے دہشت گردی کے واقعات میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ یہی قربانیاں ملک میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔‘

  14. ہزاروں افراد تدفین سے قبل خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ جلوس میں شریک

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران اور اردن میں حملوں کی اطلاعات کے درمیان ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد کی سڑکوں سے گزرا۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تدفین سے قبل گذشتہ چھ روز سے مختلف جنازے کی تقریبات جاری تھیں، جن میں پیر کے روز دارالحکومت تہران میں ایک 10 کلومیٹر طویل جلوس بھی شامل تھا، جو شہر کے معروف انقلاب سکوائر سے ہو کر گزرا۔

    علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس موقع پر ہزاروں جھنڈے اور بینرز بھی آویزاں کیے گئے، جن میں بعض پر خامنہ ای کی تصاویر تھیں، جبکہ کچھ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کے مطالبات درج تھے۔

  15. امریکی رات بھر کے حملوں کے بعد ایرانی بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور کو شدید نقصان, غنچہ حبیبی زاد اور شیری رائڈر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہInstagram

    دو تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی افواج کے رات بھر کے حملوں کے بعد ایران کے جنوب مشرقی شہر چابہار کی ایک اہم بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    دونوں ویڈیوز، ایک رات کے وقت اور دوسری آج صبح ریکارڈ کی گئی، شہید بہشتی بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور میں شدید ساختی نقصان دکھاتی ہیں، جن میں چھت کا ایک بڑا حصہ جزوی طور پر منہدم نظر آتا ہے۔

    دن کے وقت بنائی گئی ویڈیو کے ساتھ درج کی گئی عبارت میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے لیے یہ صرف ایک ٹاور نہیں تھا۔۔۔ یہ چابہار کا ایک حصہ تھا۔‘

    Iran, USA
  16. آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہمارا ہے، کسی بھی مداخلت پر ’سخت جواب‘ دیا جائے گا: پاسداران انقلاب کی دھمکی

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

    پاسداران سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ایران نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز کی ’سکیورٹی برقرار رکھی‘ ہے اور اس کے ’تدریجی طور پر دوبارہ کھولنے‘ کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی بحری ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور ایران سے ’اجازت‘ حاصل کرنے والے جہازوں کی آمدورفت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم ایک بار پھر اعلان کرتے ہیں کہ غیر ملکی طاقتوں کا اس سرزمین یا آبنائے ہرمز پر کوئی حق نہیں۔‘

    پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مداخلت کا ’منھ توڑ اور سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

    دوسری جانب، بی بی سی ویریفائی نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے، جن کے مطابق 8 جولائی کو 23 تجارتی مال بردار جہازوں اور آئل ٹینکروں نے اس آبی راستے کو عبور کیا۔

    جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے مطابق، 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے اس آبنائے سے اوسطاً 138 جہاز روزانہ گزرا کرتے تھے۔

  17. امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی نئی جوابی کارروائی

    ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کے مطابق، ایران کے جنوبی علاقوں پر امریکہ کے رات بھر جاری رہنے والے حملوں کے جواب میں ایران نے امریکی اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔

    ایرانی حکومت سے منسلک اس خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے میزائل حملے کرتے ہوئے کویت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ اردن کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں آٹھ میزائل مار گرائے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ، خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد، عراق میں واقع امریکی وکٹری بیس پر بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  18. بریکنگ, علی خامنہ ای کی تدفین سے قبل مشہد کی سڑکوں پر سوگواران کا ہجوم

    iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چھ دن جاری رہنے والی آخری رسومات کے بعد ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو جمعرات کو ملک کے شمال مشرقی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جا رہا ہے۔

    اس موقع پر ہزاروں افراد مشہد کی سڑکوں پر موجود ہیں۔ بہت سے لوگ ایرانی پرچم لہرا رہے ہیں، جبکہ بعض افراد ایسے بینرز اٹھائے ہوئے بھی نظر آئے جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے نعرے درج تھے۔

    علی خامنہ ای فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران مارے گئے تھے اور آج ان کی تدفین چھ روزہ منظم تقریب کا اختتامی مرحلہ ہے۔

    iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس عرصے کے دوران جہاں ان کی میت کو تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا وہیں اسے ہمسایہ ملک عراق بھی لے جایا گیا جہاں نجف اور کربلا میں ان کی نمازِ جنارہ میں بڑی تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔

    ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس مدت کے دوران ملک کے مختلف علاقوں اور دنیا بھر سے تقریباً ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    علی خامنہ ای کو مشہد میں شیعہ مسلک کے آٹھویں امام، امام رضا کے روضے کے احاطے میں دفن کیا جائے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بدھ اور جمعرات کو امریکی حملوں کی وجہ سے تہران سے مشہد جانے والی ریل سروس متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے سفر کرنے والے بہت سے مسافروں کو ٹرینوں سے اتار کر بسوں کے ذریعے مشہد روانہ کیا گیا۔

    مشہد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. بریکنگ, اردن کا آٹھ ایرانی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    اردن کی مسلح افواج نے ملک کی سرکاری خبررساں ایجنسی پیٹرا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے آج دوپہر ایران کی جانب سے داغے گئے آٹھ میزائلوں کو مار گرایا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق، کچھ میزائلوں کا ملبہ زمین پر گرا، تاہم کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اس سے قبل اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے حکومتی ترجمان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں کا علم ہونے کے بعد ملک بھر میں انتباہی سائرن بجائے گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اردنی حکومت کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ملک کی مسلح افواج مکمل چوکس ہیں اور مملکت اردن کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے اردن میں امریکی اڈے پر حملے کی خبر دی تھی تاہم امریکہ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    حالیہ جنگ کے دوران، تہران نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں قطر، بحرین، کویت اور اردن سمیت علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو بارہا نشانہ بنایا ہے۔

  20. امریکی حملے جنگی جرم ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی ہل

    ،تصویر کا ذریعہISNA

    ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کی صبح ملک کے جنوبی صوبوں میں کئی مقامات اور مشرقی صوبوں میں ریلوے روٹ کے دو پلوں پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔

    جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق واقعات کو بہانہ بنا کر کیے گئے امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت میں شامل ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں۔

    امریکہ نے اس سے قبل ایران پر ’جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    ایران کی وزارت خارجہ نے اس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’سخت اور توہین آمیز‘ بیان کی بھی مذمت کی، جس میں انھوں نے بدھ کو ایران کے رہنماؤں کو ’بدتمیز‘ اور ’بیمار‘ قرار دیا تھا۔