پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح
افراد کی فائرنگ سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے دو کھلاڑی ہلاک ہوگئے۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور
کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متائثرہ خاندانوں
سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
مستونگ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ مستونگ شہر میں شمس آباد کراس کے علاقے
میں واقع گرائونڈ میں پیش آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم موٹر سائیکل
سواروں نے اس علاقے میں فائرنگ کی جس میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی
زندگی کی بازی ہار گئے۔
انھوں نے کہا کہ اس گرائونڈ میں کرکٹ کا
میچ جاری تھا جہاں ان کھلاڑیوں پر فائرنگ کی گئی۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے
میڈیا بابر یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور دو موٹر سائیکلوں
پر سوار تھے جنھوں نے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑیوں پر فائرنگ کی۔
انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا
کہ حکومت ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے گی۔
اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول
نہیں کی ہے۔
مستونگ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ
سے جنوب مغرب میں اندازاً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ماضی میں یہ ضلع انتظامی لحاظ سے قلات ڈویژن کا حصہ تھا لیکن حال ہی میں اس ضلع کو
کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ اس شہر کے سامنے گزرتی
ہے جبکہ ایک اور اہم شاہراہ کوئٹہ تفتان شاہراہ بھی اس ضلع سے گزرتی ہے۔
مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں
میں ہوتا ہے جہاں طویل عرصے سے سنگین بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے ضلع میں صورتحال
کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔