آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ آج رات دوبارہ ایران پر سخت حملہ کرے گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے گذشتہ رات اُنھیں بہت سخت نشانہ بنایا، بہت ہی سخت۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’شاید آج رات دوبارہ بھی سخت حملہ کرے گا‘۔

لائیو کوریج

  1. بحرین اور کویت پر ایرانی حملے بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں، قطر

    قطر نے بحرین اور کویت پر ایران کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انھیں ’بلا جواز‘ قرار دیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے دونوں ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں زور دیا گیا کہ خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، جبکہ فریقین کو مفاہمتی یادداشت کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت پر بھی آگے بڑھنا چاہیے تاکہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ مل سکے۔

    قطر نے بحرین اور کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات ہیں، اور یہ کارروائی گذشتہ رات ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔

  2. ایران کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی پر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کیا ظاہر کرتے ہیں؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ’ختم‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے اس معاملے پر دوٹوک یا سخت بیان دیا ہو۔

    ماضی میں بھی وہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور ایران سے متعلق متضاد اور سخت مؤقف اپناتے رہے ہیں۔

    • 8 اپریل: امریکہ اور ایران نے عارضی طور پر دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
    • 21 اپریل: ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے اور توقع رکھتے ہیں کہ جلد دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم اسی روز انھوں نے کہا کہ پاکستان کی درخواست پر حملے روک دیے گئے ہیں۔
    • 8 مئی: ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کو اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے جب ’ایران سے ایک بڑی چمک اٹھتی نظر آئے گی‘۔
    • 11 مئی: چند روز بعد انھوں نے کہا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے۔
    • 11 جون: ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور ایران پر سخت حملوں کی دھمکی دی، تاہم اسی شام حملے روک دیے گئے۔
    • 17 جون: جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’اگر انھوں نے مناسب رویہ نہ اپنایا تو ہم دوبارہ ان کے سروں کے عین اوپر بم برسانا شروع کر دیں گے۔‘
    • 8 جولائی: ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے، تاہم یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔

    یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ مختلف مواقع پر ایران کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے رہے، جبکہ بعض اوقات مذاکرات کے لیے گنجائش بھی باقی رکھتے رہے۔

  3. امریکہ ورلڈ کپ کے میزبان کے طور پر بھی اپنی روایتی خارجہ پالیسی ہی پر عمل پیرا ہے، مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کے میزبان کی حیثیت سے بھی اپنی روایتی خارجہ پالیسی کے انداز کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت قواعد کو اپنے حق میں موڑنے، حریفوں پر دباؤ ڈالنے، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور دھوکہ دہی جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے، اور یہ سب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’میگا‘ نظریے کا حصہ ہے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ وہ ایسے طرزِ عمل کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے حقوق کے دفاع کے لیے ثابت قدمی سے کھڑے رہیں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ یا غیر منصفانہ اقدامات کو قبول نہیں کرے گا۔

  4. آبنائے ہرمز میں متاثر ہونے والے تین ٹینکروں کے بارے میں اب تک کیا سامنے آیا ہے؟

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے ہیں، جس کی وجہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملے بتائی گئی ہے۔

    امریکہ کی جانب سے جن تین جہازوں کا ذکر کیا گیا، ان کے بارے میں دستیاب معلومات یہ ہیں۔

    الرقیات یہ قطر کی ملکیت میں ایک مائع قدرتی گیس لے جانے والا ٹینکر ہے۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق، 6 جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے عمان کے ساحل کے قریب اسے ایک پروجیکٹائل (گولہ یا میزائل نما شے) نے نشانہ بنایا۔

    حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت اپنے خودکار شناختی نظام کا سگنل بند رکھے ہوئے تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اسے آخری بار 22 جون کو قطر کے اہم ایل این جی برآمدی مرکز کے قریب دیکھا گیا تھا۔

    ودیان یہ سعودی عرب کی ملکیت میں ایک خام تیل بردار ٹینکر ہے، جو سعودی خام تیل لے جا رہا تھا۔ اس کا اے آئی ایس سگنل 3 جولائی سے بند ہے۔

    سائپرس پرسپیریٹی یہ لائبیریا کے پرچم تلے رجسٹرڈ خام تیل بردار ٹینکر ہے۔ یہ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت اپنا مقام ظاہر کرنے والا اے آئی ایس سگنل استعمال کر رہا تھا اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے لیے تیل لے جا رہا تھا۔

    برطانیہ کی سمندری تجارتی کارروائیوں کی اتھارٹی (یو کے ایم ٹی او) نے تین علیحدہ واقعات کی تصدیق کی ہے، تاہم اس نے متاثرہ جہازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

    برطانوی سمندری ادارے کے مطابق ان واقعات میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  5. جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق ٹرمپ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

    تیل کے تاجروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر فوری ردِعمل دیا ہے کہ جنگ بندی ’ختم ہو چکی ہے۔‘

    ٹرمپ کے یہ ریمارکس دینے سے کچھ دیر پہلے خام تیل کا ایک بیرل تقریباً 76 ڈالر (57 پاؤنڈ) میں فروخت ہو رہا تھا۔

    خام تیل کی قیمت 78 ڈالر (58 پاؤنڈ) فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور بظاہر اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان رات بھر ہونے والے حملوں کے تبادلے کے بعد تیل کی قیمتیں پہلے ہی بتدریج بڑھنا شروع ہو گئی تھیں۔

  6. اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ اسے استعمال کرتا، ٹرمپ کے ایرانی قیادت سے متعلق سخت ریمارکس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں انقرہ میں نیٹو اجلاس کے دوران ایک صحافی نے پوچھا ’کیا جنگ بندی ختم ہو گئی ہے؟ کیا یہ معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے؟ کیا مفاہمتی یادداشت اب مردہ ہو چکی ہے؟

    (جنگ بندی کی بنیاد بننے والی مفاہمتی یادداشت گزشتہ ماہ طے پائی تھی۔)

    اس پر ٹرمپ نے جواب دیا ’یہ بہت دلچسپ سوال ہے۔ میرے نزدیک تو یہ ختم ہو چکی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اب ان کے ساتھ مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا، وہ غلیظ لوگ ہیں۔ جانتے ہیں غلیظ لوگ کس کو کہتے ہیں؟ وہ غلیظ لوگ ہیں۔ وہ بیمار لوگ ہیں۔ ان کی قیادت بیمار لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ بے رحم اور پرتشدد لوگ ہیں۔‘

    ’اور اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ اسے استعمال کرتے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں اپنے مذاکرات کاروں سے بات کروں گا، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، وہ اچھے لوگ ہیں۔ سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، لیکن انھیں واپس آ کر مجھ سے بات کرنا ہوگی۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، ان کے ساتھ معاملات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘

    انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں ان (نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے ساتھ کوئی معاہدہ کروں تو معاہدہ ہو جاتا ہے۔ وہ باہر جا کر اسی کے مطابق بات کرتے ہیں۔

    ’ہم (امریکہ اور ایران) ایک معاہدہ کرتے ہیں، سب متفق ہوتے ہیں کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔

    ’ہم معاہدہ کرتے ہیں، پھر وہ (ایران) باہر جا کر میڈیا سے کہتے ہیں کہ ’ہم نے تو اس موضوع پر کبھی بات ہی نہیں کی۔ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ وہ پاگل ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘

    اس کے بعد ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے؟

    انھوں نے جواب دیا کہ ’مجھے اس کی پروا نہیں۔ وہ بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹ بولنے والوں کا ایک ٹولہ ہیں۔‘

  7. بریکنگ, ایران کے ساتھ جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے، ان کے ساتھ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرے خیال میں یہ ختم ہو چکی ہے۔‘

    انھوں نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اب ان کے ساتھ مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا، وہ بیمار ذہنیت کے دھوکے باز اور بُرے لوگ ہیں۔‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کے ساتھ معاملات کرنا وقت کا ضیاع ہے، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں کے مذاکرات کار بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن ان کے بقول: ’وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔‘

  8. امریکی حملوں کے بعد امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے بعض حصے ’غیر مؤثر‘ ہو گئے: ایران

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے تیل کی فروخت پر پابندیوں کی بحالی، ایران پر امریکی حملے اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جاری کارروائیوں کے باعث ’جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کے اہم اور بنیادی حصے غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔‘

    ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی ’سالمیت، قومی خود مختاری اور قومی سلامتی‘ کے دفاع سے گریز نہیں کرے گا۔

    عراقچی نے اُن خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک انتباہ جاری کیا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر حملے کیے گئے تو تہران اس جگہ کو نشانہ بنائے گا جہاں سے حملے کیے گئے۔

  9. قطر کا ایران اور امریکہ سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ

    ایران امریکہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے قطر نے باہمی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔

    قطر نے اس سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا تھا۔

    لیکن گذشتہ روز آبنائے ہرمز میں ایک گیس ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد قطر نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے اس حملے کی مذمت کی تھی۔ بدلے میں ایران نے قطر کے مؤقف پر تنقید کی۔

    امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے آج صبح جنوبی ایران پر یہ حملہ قطری گیس ٹینکر اور دو دیگر جہازوں پر حملے کے جواب میں کیا۔

  10. خیبر پختونخوا پولیس کو 76 جدید ڈرونز فراہم کر دیے گئے

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کو تھرمل ٹیکنالوجی سے لیس 76 جدید ڈرونز فراہم کیے گئے ہیں۔

    تھرمل ٹیکنالوجی سے مراد ایسی ٹیکنالوجی ہے جو اشیا، انسانوں یا جانوروں سے خارج ہونے والی حرارت کو شناخت کر سکتی ہے۔ ڈرونز میں نصب تھرمل کیمرے اندھیرے، دھند، دھوئیں یا مشکل زمینی حالات میں بھی حرارت کے ذریعے لوگوں اور اشیا کا پتا لگا سکتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خیبر پختونخوا پولیس کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق یہ کثیر المقاصد ڈرونز آپریشنز اور ہنگامی ردعمل کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

    صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال خیبر پختونخوا پولیس کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  11. پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے امریکی حملوں میں اپنے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق

    بندر محشر میں پاسداران انقلاب کے تیسرے نیول ریجن کے تعلقات عامہ کے دفتر نے اعلان کیا کہ اس کا ایک فوجی آج صبح امریکی حملے میں مارا گیا ہے۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب کا اہلکار ’آج صبح دشمن کے ڈرون کا مقابلہ کرتے ہوئے‘ مارا گیا۔

    امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے تین بحری جہازوں پر گذشتہ روز کے حملوں کے جواب میں جنوبی ایران میں 80 اہداف پر بمباری کی ہے۔

    اس سے قبل ان حملوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    ایران نے آبنائے ہرمز میں ان بحری جہازوں پر کل کے حملوں کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔

  12. امریکہ اور ایران میں حملوں کے تبادلوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ, ایمر موریو، بزنس رپورٹر

    امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے اہداف پر حالیہ حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تین فیصد سے زیادہ بڑھ کر 76 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

    گذشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی تھیں۔

    تاہم حالیہ حملوں نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ عام حالات میں دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس اہم بحری گزر گاہ سے گزرتا ہے۔

  13. نیٹو اتحادیوں کا نئے میزائل منصوبے کے لیے 50 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا اعلان, فرینک گارڈنر، انقرہ میں موجود نامہ نگار برائے سکیورٹی امور اور پیٹرک جیکسن

    برطانیہ سمیت 12 ممالک آئندہ 10 برس کے دوران یورپ کے دفاع کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک نئے میزائل منصوبے پر 50 ارب ڈالرز سے زیادہ رقم خرچ کرنے جا رہے ہیں۔

    اس میزائل کو نیٹو کا جدید ترین ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد تقریباً 300 کلومیٹر دور تک اہداف کو انتہائی درستی سے نشانہ بنانا ہے، جبکہ مستقبل میں اس کی مار کرنے کی حد تقریباً دو ہزار کلومیٹر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

    حال ہی میں مستعفی ہونے کا اعلان کرنے والے برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے کہا کہ برطانیہ کی قیادت میں شروع کیا جانے والا یہ منصوبہ ’یورپی اتحادیوں کو متحد رکھنے اور آنے والے برسوں میں نیٹو کو محفوظ بنانے میں مدد دے گا۔‘

  14. ایرانی فوج کا بحرین میں امریکی اڈے پر حملے کا دعویٰ

    ایرانی فوج نے بحرین میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ بیس پر موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    بیان کے مطابق یہ کارروائی جنوبی ایران کے فوجی اور غیر فوجی علاقوں پر امریکی حملوں اور 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ حملہ ڈرونز کے ذریعے کیا گیا۔

    ایرانی فوج کے بیان میں ’جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتائج‘ سے بھی خبردار کیا گیا اور کہا گیا کہ ’خطے میں موجود تمام امریکی اڈے ایرانی فوج کے ڈرونز کے لیے جائز ہدف ہوں گے۔‘

    یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحرین میں دوبارہ دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے بحرین میں موجود نامہ نگار کے مطابق ملک کے شمالی حصوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    ایرانی فوج کا یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کے کچھ دیر بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر 85 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  15. نیٹو کے سربراہ نے ایران پر امریکی حملوں کو ’انتہائی ضروری‘ قرار دے دیا

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹہ نے ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے انھیں ’انتہائی ضروری‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے یہ بیان بدھ کو انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر دیا۔

    صحافیوں سے گفتگو میں مارک رٹہ نے کہا: ’میرے خیال میں یہ اقدام انتہائی ضروری تھا، کیونکہ جب جنگ بندی نافذ ہو اور ایران اس کی خلاف ورزی کرے، جیسا کہ ہم نے گذشتہ روز تجارتی جہازوں پر حملوں کی صورت میں دیکھا، تو یہ بہت اہم ہو جاتا ہے کہ امریکہ فیصلہ کن ردعمل دے۔‘

  16. سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی عراق میں آخری رسومات

    تقریباً چار ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت ایران سے عراق منتقل کیا گیا، جہاں ان کی آخری رسومات جاری ہیں۔

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سات جولائی کی رات علی خامنہ ای کا تابوت عراق کے شہر نجف پہنچایا گیا۔ اس موقع پر عراقی سکیورٹی فورسز نے سلامی پیش کی۔

    اس وقت نجف میں ان کی آخری رسومات جاری ہیں، علی خامنہ ای کا تابوت ایک گاڑی کے ذریعے جنازے کے مقام تک لے جایا جا رہا ہے اور سوگواروں کی بڑی تعداد اس کے ہمراہ پیدل چل رہی ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات سات روز پر محیط ہیں، جس کا آغاز تین جولائی کو تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ سے ہوا تھا۔ پانچ جولائی کو ان کی نماز جنازہ تہران میں ادا کی گئی، اور اگلے روز تک ان کا تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا۔

    سات جولائی کو میت قم منتقل کی گئی جہاں جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، اور پھر میت نجف پہنچائی گئی۔ نجف میں روضۂ امام علی میں جلوس اور تعزیتی تقریبات کے بعد میت کو کربلا منتقل کیا جائے گا، جہاں آخری رسومات کا اگلا مرحلہ ادا کیا جائے گا۔

    نو جولائی کو مشہد میں روضۂ امام رضا پر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی جائے گی۔

  17. امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی چار شقوں کی خلاف ورزی کی: باقر قالیباف

    امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں کے چند گھنٹے بعد ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی چار شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    قالیباف کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کے طے کردہ انتظامات کی خلاف ورزی، مزید حملوں کی مسلسل دھمکیاں، تیل کی فروخت پر پابندیوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا ان اقدامات میں شامل ہیں جنھیں وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’دھونس اور استحصال کا دور ختم ہو چکا، اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہم جھکتے نہیں ہیں۔‘

  18. امریکی فوجی اہداف پر 85 حملے کیے: پاسداران انقلاب

    ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے 85 اہداف کو نشانہ بنایا۔

    اس سے پہلے امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کی جانب سے ایران میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    بدھ کو جاری پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملے اس کا ’ابتدائی جواب‘ ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی تدفین میں عوام کی غیر معمولی شرکت کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کی اور آج علی الصبح ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں میں بعض فوجی اڈوں اور غیر فوجی مراکز پر فضائی حملے کیے۔

    بیان میں مزید کہا گیا: ’اس جارحیت کے ابتدائی جواب میں، پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے مرکز، پورٹ سلمان اور کویت میں علی السالم فضائی اڈے سمیت 85 اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا۔‘

    پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔

    اس سے قبل کویتی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

  19. فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے: کویتی فوج

    کویتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے ۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کویتی فوج کے بیان میں کہا گیا: ’اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو یہ فضائی دفاعی نظام کے دشمن کے حملوں کو روکنے کے باعث ہوں گی۔‘

    کویتی فوج نے شہریوں اور ملک میں مقیم افراد سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران میں 80 سے زیادہ اہداف پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

    جبکہ ایران نے امریکی حملوں کا ’فیصلہ کن‘ جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

  20. امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا: خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کی جانب سے ایران میں 80 سے زیادہ اہداف پر نئے حملوں کے تقریباً ایک گھنٹے بعد، ایران میں جنگ کی کمان سنبھالنے والے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے کہا ہے کہ ’ایران کی مسلح افواج امریکہ کی جارحیت اور دہشت گردانہ کارروائی کا فیصلہ کن جواب دیں گی۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کسی صورت آبنائے ہرمز کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

    خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے بیان میں مزید کہا گیا: ’ایک بار پھر واضح کیا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کے لیے صرف وہی راستہ محفوظ ہے جس کا تعین ایران نے کیا ہے۔‘