پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے شجاع آباد کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے درمیان مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔
کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مظفرآباد سے راولاکوٹ میں تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے سامان لے جایا جا رہا تھا۔ اُن کے مطابق اس قافلے کے ہمراہ سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے۔
سردار وحید خان کا کہنا تھا کہ شجاع آباد کے قریب کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے سڑک پر پتھر رکھ کر راستہ بند کر رکھا تھا۔ اُن کے بقول جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار رکاوٹیں ہٹانے کے لیے گاڑیوں سے اترے تو تنظیم کے کارکنوں نے مبینہ طور پر اُن پر فائرنگ شروع کر دی۔
کمشنر پونچھ کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ سے قافلے میں شامل متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیم کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آور ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
سردار وحید خان کے مطابق حملہ آور ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو اطلاعات ملی ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق اُس قریبی علاقے سے تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن اختر عباسی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ انھیں واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ تاہم اُن کے بقول انھیں جو معلومات دی گئی ہیں، اُن کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اختر عباسی نے کہا کہ اُن کی تنظیم اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہو گی اور تنظیمی قیادت جمعرات کو آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔
ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعض علاقوں میں مبینہ طور پر راستوں کی بندش کے باعث اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے سبب بعض مقامات پر لوگوں کو سبسڈی والا آٹا دستیاب نہیں ہو رہا۔
واضح رہے کہ تین برس قبل حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشیوں کو دو ہزار روپے فی من کے حساب سے آٹا فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔
تاہم مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے ضلع میں خوراک، خصوصاً آٹے کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں اور شہریوں کو سبسڈی والا آٹا معمول کے مطابق دستیاب ہے۔