پاکستانی فوج کے احتسابی نظام سے ’کوئی فرد بالاتر اور مستثنیٰ نہیں‘، کور کمانڈرز کانفرنس

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فوج میں موجود ’کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد ادارے کے استحکام کے لیے لازم ہے۔‘

خلاصہ

  • عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت انھیں فوج کے حوالے کیے جانے سے روکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ سویلین عدالتوں اور انتظامیہ کی تحویل میں رہیں۔
  • اشرف جلالی اور سعد رضوی نیدرلینڈز کی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔
  • برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ اس کی جانب سے اسرائیل کو مہیا کیے جانے والے ہتھیار بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
  • ایمنسٹی انترنیشنل کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے لاگو کچھ ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کافی نہیں اور اس میں کافی خامیاں ہیں۔
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے شہری ڈاکٹر عثمان کے لاپتہ بیٹے کو پانچ ستمبر تک بازیاب کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
  • پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں سپریم کورٹ ججز کی تعداد میں اضافے کا ترمیمی بل پیش کر دیا گیا ہے۔اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو ججز کی تعداد 17 سے بڑھ کر 21 ہو جائے گی۔ تاہم پی ٹی آئی نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ریاست کے مفاد میں ہیں، اس کی اشد ضرورت ہے: رؤف حسن

    Rauf Hassan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات ریاست کے مفاد میں ہیں اور ان کی اشد ضرورت ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ (اردو) کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امید اور دعا ہےفوج اور پی ٹی آئی میں ڈیڈلاک مزید برقرار نہ رہے، ہمارا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم ان کے ساتھ انگیج ہونا چاہتے ہیں، فوج کے ساتھ ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی جو کرسکتی تھی وہ کیا ہے۔

    ترجمان پی ٹی آئی رؤف حسن کا کہنا تھا کہ ہمارے دروازے ان کے ساتھ بات چیت کے لیے کھلے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ بات چیت بھی آئین کے دائرہ کار میں ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام ادارےآئینی حدود میں رہ کر کام کریں گے تو عدم استحکام ختم ہو جائے گا، انفرادی سطح کے رابطے شاید بات چیت کو آگے لے جانے میں مددگار ہوتے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں رؤف حسن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اجازت دی ہےکہ وہ سیاسی جماعتوں سے بات کر سکتے ہیں، سیاسی جماعتوں سے گفتگو کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں تو وہ بالکل کوشش کریں۔

    وزیر اعلیٰ خیرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ روابط سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے کچھ لوگوں کا انفرادی سطح پر رابطہ ہو سکتا ہے۔

    فوج کے ساتھ رابطہ کاری یا بات چیت کے آغاز سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

    حکومت کی جانب سے عدالتی اصلاحات سے متعلق آئینی ترامیم پر اعتراض کرتے ہوئے رؤف حسن کا کہنا تھا کہ ’حکومت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی مدت ملازمت میں توسیع دینا چاہتے ہیں۔

    ’ان کا جو کنڈیکٹ رہا ہے وہ سب کے سامنے ہیں، آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے، قانون کی عملداری بالکل نہیں ہے۔‘

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے رؤف حسن کے انڈیا میں رابطوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام بین الاقوامی صحافی ہیں کوئی غیر ملکی ایجنٹ نہیں۔

    پارٹی میں اختلافات کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اس میں اختلاف رائے رکھنا نہ صرف کارکنوں کا بنیادی حق ہے بلکہ پارٹی کا حسن بھی ہے۔ ’لہذا یہ چھوٹے موٹے اختلافات کوئی اہم نہیں۔‘

  2. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں بیرون ملک سے آنے والے 47 برس کے مریض میں ایم پاکس وائرس کی تصدیق کے بعد صوبے میں مجموعی طور پر اب تک چار افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والے مریض کا تعلق ضلع پشاور سے ہے۔ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ خیبر پختونخوا پشاور کے ڈاکٹر ارشاد علی نے کہا کہ ایئر پورٹ پر میڈیکل ٹیم نے سکریننگ کے دوران علامات ظاہر ہونے پر مریض کو پولیس سروسز ہسپتال منتقل کیا۔ ریپڈ ریسپانس ٹیم نے مریض سے پولیس ہسپتال میں نمونے لے کر لیبارٹری بھجوا دیے۔ ڈاکٹر ارشاد علی کے مطابق مریض کی حالت بہتر ہے اور پولیس سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ ان کے مطابق ’ابھی تک کوئی بھی مقامی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔‘ ڈاکٹر ارشاد علی کے مطابق محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ایم پاکس کے لیے سرویلنس اور رسپانس کا مربوط نظام تشکیل دیا ہے۔
    • اسرائیل کی ٹریڈ یونین ’ہستادروت‘ نے پیر کو عام ہڑتال کی کال دے دی ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے وزیر دفاع یاہو گیلنٹ نے اپنے وزیر اعظم نتن یاہو سے مغویوں کی رہائی کے لیے معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں لکھا کہ ’پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اور اس دوران بے دردی سے مغویوں کا قتل بھی ہوا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ مغوی جو ابھی بھی حراست میں ہیں انھیں ہر صورت واپس گھر لانا چاہیے۔ اس سے قبل اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے بھی عوام سے عام ہڑتال میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے تا کہ اسرائیلی حکومت پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔ واضح رہے کہ آج بھی اسرائیل میں مغوی کی رہائی کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اُدھر لیبر فیڈریشن کے چیئرمین آرنن بر ڈیوڈ نے تل ابیب میں واقع اپنی تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں اسرائیل کے مقامی وقت کے مطابق ان مغویوں کے خاندان والوں سے چار بجے ملاقات کی اور ہڑتال میں اپنی یونین کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ حماس کی طرف سے مغوی بنائے جانے والوں کے رشتہ داروں نے ایک فورم بنا رکھا ہے جس کے پلیٹ فارم پر اب انھوں نے ملک بھر میں عام ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس ہڑتال کا مقصد اسرائیل کی حکومت کو غزہ میں مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔
    • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ایک حملے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ چمن پھاٹک پر واقع ایف سی کے چیک پوسٹ پر کیا گیا۔ ڈی ایس پی سول لائنز مالک درانی نے فون پر بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک دستی بم پھینکا جو کہ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں دو راہگیر زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے دونوں افراد عام شہری ہیں۔ محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی شناخت اسامہ اور غلام حسین کے ناموں سے ہوئی ہے۔
  3. بریکنگ, بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    Live Page Banner

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images/ BBC

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔ گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔