آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹی ایل پی کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں، ریاست جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی: طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں اور یہ ریاستِ پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ’جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘ ادھر پنجاب پولیس نے لاہور میں واقع تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کے گھر چھاپے میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کرنسی، پرائز بانڈز، سونا اور چاندی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • ’گورنر خیبر پختونخوا کل شام چار بجے تک نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لیں‘: پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
  • فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے: شاہ عبداللہ
  • پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات پر دوسروں کے مشوروں کی ضرورت نہیں: دفترِ خارجہ کا افغان طالبان کے ٹی ایل پی سے متعلق بیان پر ردِعمل
  • ڈونلڈ ٹرمپ نوبل انعام کے اصل حقدار ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف
  • ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن معاہدے پر دستخط: ’سب لوگ خوش ہیں‘

لائیو کوریج

  1. مریدکے میں پولیس آپریشن: ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ’مظاہرین کی فائرنگ سے شہریوں اور اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا‘

    پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ مریدکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو منتشر کر دیا ہے اور اس آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ زخمیوں کی تعداد 48 ہے جن میں سے 17 کو گولی لگی ہے۔

    پنجاب پولیس کے مطابق اس دروران ایک شہری اور تین مظاہرین بھی ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد آٹھ ہے۔

    پنجاب پولیس کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران مظاہرین نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پیٹرول بم استعمال کیے اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شہریوں اور اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔

    پنجاب پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے چالیس سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ قانون نافذ کرنے والوں نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

  2. حماس نے سات یرغمالی رہا کر دیے، اسرائیل کی تصدیق

    اسرائیل نے حماس کی جانب سے سات یرغمالیوں کو رہا کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کی قید سے رہائی پانے والے سات یرغمالی ان کے پاس پہنچ چکے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل واپس پہنچنے کے بعد رہائی پانے والے ابتدائی طبی تشخیص کے عمل سے گزریں گے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ’اضافی یرغمالیوں کو وصول کرنے کے لیے تیار ہیں جنھیں بعد میں ریڈ کراس کے حوالے کیے جانے کی امید ہے۔‘

    اس سے قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے رہائی پانے والے سات افراد کے نام شیئر کیے تھے جو یہ ہیں:

    متان اینگریسٹ

    ایتان مور

    گلی برمن

    زیو برمن

    عمری میران

    ایلون اوہیل

    گائے گلبوا دلال

  3. مریدکے: ’یہاں جلی ہوئی گاڑیاں اور موٹر سائیکل ہیں، تباہی کا منظر ہے‘, فرقان الہی، بی بی سی اُردو

    صوبہ پنجاب کے شہر مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پیر کی علی الصبح شروع کیے جانے والا پولیس آپریشن لگ بھگ پانچ گھنٹوں کے بعد اب مکمل ہو چکا ہے۔

    پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ایک ایس ایچ او ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تحریک لبیک نے بھی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے جس کی تاحال تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

    صحافی جہانزیب اس آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد مریدکے شہر کے اس مقام پر پہنچے ہیں جہاں تحریک لبیک کے کارکن گذشتہ رات موجود تھے۔

    جہانزیب نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’یہاں نظر آنے والی صورتحال بہت خراب ہے۔ ہر طرف جلی ہوئی چیزیں بشمول گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ یہاں اب ٹی ایل پی کا کوئی کارکن نظر نہیں آ رہا جبکہ ریلی مکمل طور پر منتشر کر دی گئی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اب یہاں ہر طرف پولیس ہے۔ ٹی ایل پی کا مرکزی کنٹینر مکمل طور پر جل چکا ہے اور تباہی کا منظر ہے۔ اس کنٹینر میں سے ابھی بھی دھواں نکل رہا ہے۔ گاڑیاں اور موٹر سائیکل بھی بڑی تعداد میں جلی ہوئی سڑک پر نظر آ رہی ہیں۔‘

    ’ٹی ایل پی کے کارکن جو اپنے زیر استعمال اشیا لائے ہوئے تھے، ان کے کپڑے وغیرہ یہاں بکھرے ہوئے ہیں۔ زمین پر گولیوں اور آنسو گیس کے شیلز کے خول پڑے ہیں۔‘

    ’جی ٹی روڈ کی فی الحال صفائی کا کام جاری ہے اور چھوٹی ٹریفک کے لیے سڑک کو کھول دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آنسو گیس کی بُو ابھی بھی فضا میں موجود ہے، یہ آنکھوں میں چبھ رہی ہے اور یہاں کھڑا ہونا ابھی بھی مشکل ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ مقامی افراد اس مقام کو دیکھنے کے لیے آر ہے ہیں اور تصاویر بنا رہے ہیں۔

  4. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں تقریباً 2000 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 1990 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 60 ہزار پوائنٹس کی سطح تک کر گیا۔

    آج مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی انداز میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کا رجحان غالب رہا جس کی وجہ سے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ میں مندی کی کئی وجوہات ہیں جن میں اندرونی طور پر امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر بھی شامل ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے پر دستخط میں تاخیر ہو رہی ہے اور اس کا مارکیٹ پر منفی اثر پڑا ہے۔

    ان کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی سے زیادہ اندرونی طور پر ایک مذہبی جماعت کی جانب سے مارچ اور حکومتی ایکشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال نے کاروبار کو زیادہ متاثر کیا۔

    شہر یار بٹ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں لاجسٹکس رک گئیں جب کہ انٹرنیٹ سروسز متاثر ہیں اور یہ صورتحال کئی دن سے جاری ہے جس کا مارکیٹ پر منفی اثر پڑا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مارکیٹ کافی اوپر تھی اور ان عوامل کی وجہ سے حصص کی فروخت میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

  5. ٹی ایل پی مارچ روکنے کے لیے مریدکے میں پولیس آپریشن مکمل، جی ٹی روڈ کی صفائی اور آگ بجھانے کا عمل جاری, احتشام شامی، صحافی

    مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے شروع کیا جانے والا آپریشن پانچ گھنٹے بعد مکمل ہو گیا ہے اور اب وہاں مختلف مقامات پر لگنے والی آگ کو بجھایا جارہا ہے۔

    شیخوپورہ پولیس کے ترجمان رانا یونس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ آپریشن کلین اپ رات دو بجے شروع کیا گیا تھا اور صبح سات بجے تک آپریشن مکمل ہو گیا جس کے بعد اب جی ٹی روڈ کو کلئیر کروایا جارہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران جن مقامات پر آگ لگی تھی، اسے پانی کے ذریعے بجھانے کا عمل جاری ہے، مختلف سرکاری ادارے جی ٹی روڈ کو کلئیر کروانے کے لیے کام کررہے ہیں اور امید ہے کہ دوپہر تک مریدکے میں صورتحال نارمل ہو جائے گی۔

    احتجاجی مارچ کا قافلہ 10 اکتوبر جمعہ کے روز لاہور سے روانہ ہوا تھا اور شرکا کا اسلام آباد پہنچ کر امریکن ایمبیسی کے باہر احتجاج کا پلان تھا، تاہم سنیچرکی شام یہ لاہور سے گوجرانوالہ کے رستے میں مریدکے کے مقام پر رک گئے جوضلع شیخوپورہ کی حدود میں شامل ہے۔

    اتوار کے روز بھی ٹی ایل پی کا قافلہ دن بھر مریدکے میں ہی رہا اور آگے نہ بڑھا، اس بارے ٹی ایل پی کی قیادت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ حکومت ہم سے مذاکرات کرنا چاہ رہی ہے اس وجہ سے مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا اعلان ہوئے بغیر قافلہ آگے نہیں بڑھے گا۔

    تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی نے احتجاجی مارچ کے قافلے میں شامل کنٹینر (سٹیج) پر اتوار کی رات آٹھ بجے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے ہم سے کل (سنیچر کے روز) مذاکرات کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن انھوں نے ایک شرط رکھی تھی کہ آپ مذاکرات سے پہلے اپنا مارچ روک دیں، ہم 24 گھنٹوں سے یہاں مریدکے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مارچ رکا ہوا ہے لیکن حکومت کی طرف سے کسی نے مذاکرات کا عمل شروع نہیں کیا اور نہ ہی ہم سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    مقامی صحافی عبدالناصر شیخ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ رات گئے آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور سمیت متعدد اعلی حکام کے مریدکے پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کے بعد فریقین میں پھر سے مذاکرات شروع ہونے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں تاہم اس موقع پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کی نقل و حرکت دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ آپریشن کلین اپ کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ رات ٹھیک دو بجے جب پولیس کی طرف سے آنسو گیس کا پہلا شیل فائر کیا گیا تو سب کو پتہ چل گیا کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور اب آپریشن ہو گا، ’اس کے ساتھ ہی لگاتار شیل فائر کئے گئے، یوں لگتا تھا جیسے آتش بازی ہو رہی ہو یا یہ کوئی میدان جنگ کا علاقہ ہو۔‘

  6. حماس نے آج رہا کیے جانے والے یرغمالیوں کے نام جاری کر دیے

    فلسطینی خبر رساں ایجنسی شہاب کا کہنا ہے کہ حماس نے ان 20 یرغمالیوں کے نام جاری کردیے ہیں جنھیں رہا کیا جا رہا ہے۔

    بظاہر یہ نام اس فہرست سے میل کھاتے ہیں جن کے متعلق بی بی سی نے خبر دی تھی:

    بار کوپرسٹین

    ایویاٹار ڈیوڈ

    یوسف چیم اوہانہ

    سیگیو کالفون

    ایوینتن اور

    الکانہ بوہبوت

    میکسم ہرکن

    نمرود کوہن

    متان زنگاؤکر

    ڈیوڈ کینیو

    ایٹن ہارن

    متان اینگریسٹ

    ایتان مور

    گلی برمن

    زیو برمن

    عمری میران

    ایلون اوہیل

    گائے گلبوا دلال

    روم براسلابسکی

    ایریل کونیو

  7. ایران کا مدعو کیے جانے کے باوجود غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

    ایران کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مصر میں ہونے والے امن سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ وہ اپنے لوگوں پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کو بھی مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن نہ ہی وہ اور نہ ہی ایرانی صدر ’ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں جنھوں نے ایرانی عوام پر حملہ کیا اور ہمیں دھمکیاں دی اور ہم پر پابندیاں لگائیں۔‘

    یاد رہے کہ رواں سال جون میں، اسرائیل نے ایران کے میزائلوں کے ذخیروں اور لانچنگ سائٹس پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے وسطی اسرائیل کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا۔ امریکہ نے بھی تہران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

    غزہ جنگ بندی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے عباس کا کہنا تھا کہ ’اس کے باوجود، ایران کسی بھی ایسے اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے جو غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کو ختم کرنے اور قابض افواج کی وہاں سے انخلا کو یقینی بنائے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ’خطے میں امن کے لیے ایک اہم طاقت ہے اور رہے گا۔‘

  8. تحریک لبیک کا احتجاجی مارچ: مظاہرین کو منتشر کرنے کی کارروائی کے دوران ایس ایچ او ہلاک، 17 اہلکار زخمی, احتشام شامی، صحافی

    شیخوپورہ پولیس کے ترجمان رانا یونس نے بی بی سی اُردو کو تصدیق کی ہے کہ تحریک لبیک کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیر کی علی الصبح کی گئی کارروائی کے دوران ایس ایچ او انسپیکٹر شہزاد نواز جھمٹ پیٹ میں گولی لگنے کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق انسپیکٹر شہزاد نواز ایس ایچ او تھانہ فیکٹری ایریا تعینات تھے۔

    دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران ان کے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے مسلح جتھوں کو امن و امان میں خلل کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    رانا یونس نے مزید بتایا کہ انسپیکٹر شہزاد نواز جھمٹ کی میت کو پوسٹ مارٹم کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس لائنز شیخوپورہ لایا جا رہا ہے جہاں آج دوپہر کو ان کی نماز جنازہ ادا کر دی جائے گی۔

    پولیس ترجمان کے مطابق اس آپریشن میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن کا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے جبکہ شدید زخمی ہونے والے اہلکاروں کو لاہور کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایس ایچ او کی ہلاکت اور 17 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے چھ پولیس اہلکاروں کی حالت نازک ہے۔

  9. امید ہے ایک دن افغانستان میں ایسی حکومت برسرِ اقتدار آئے گی جو افغان عوام کی حقیقی نمائندہ ہو: پاکستانی وزارتِ خارجہ

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو امید ہے ایک دن افغانستان میں ایک ایسی حکومت برسرِ اقتدار آئے گی جو افغان عوام کی حقیقی نمائندہ ہو گی۔

    دفترِ خارجہ نے 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور دیگر شدت پسند عناصر کی جانب سے ’بلاجواز جارحیت‘ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی بلا اشتعال کارروائیوں کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

    دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سرحد پر ہونے حملوں کو مؤثر طریقے سے پسپا کیا بلکہ طالبان فورسز اور اس سے منسلک دیگر کو بھی بھاری نقصان پہنچایا اور سرحد پر موجود تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تنصیبات کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران حتیٰ الامکان کوشش کی گئی کہ شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور افغانستان کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ ’مزید کسی بھی اشتعال انگیزی کا کرارا جواب دیا جائے گا۔‘

    پاکستان نے انڈیا کے دورے کے دوران عبوری افغان وزیر خارجہ کی جانب سے ’افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی‘ کی تردید کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسے بے بنیاد دعوے کر کے طالبان حکومت خطے کے امن اور استحکام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑ سکتی۔ افغان سرزمین پر شدت پسند عناصر کی موجودگی اور افغانستان میں ان کی سرگرمیاں اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹوں میں اچھی طرح سے واضح ہے۔‘

    ’دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ مقصد ہے۔ طالبان حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے بجائے اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے وعدے کو پورا کرے۔‘

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بارہا افغان سرزمین پر شدت پسند عناصر کی موجودگی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ’پاکستان طالبان کی حکومت کی جانب سے ان شدت پسند عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائیوں کی توقع کرتا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک تقریباً 40 لاکھ افغانوں کی میزبانی کی۔ ’پاکستان اپنی سرزمین پر افغان شہریوں کی موجودگی کو بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے مطابق ریگیولیٹ کرنے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ ’پاکستان توقع کرتا ہے کہ طالبان کی حکومت ذمہ داری سے کام لے گی، اپنے وعدوں کا احترام کرے گی اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے مشترکہ مقصد کے حصول میں تعمیری کردار ادا کرے گی۔‘

    دفترِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ایک دن افغان عوام آزاد ہوں گے اور وہاں پر ایک ایسی حکومت برسرِ اقتدار آئی گی جو ان کی حقیقی نمائندہ حکومت ہو گی۔

  10. مریدکے: تحریک لبیک کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز، ٹی ایل پی کا ’مظاہرین پر براہ راست فائرنگ‘ کا الزام, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو

    صوبہ پنجاب کے شہر مریدکے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پیر کی علی الصبح تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کر رہے ہیں جبکہ ٹی ایل پی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ اس موقع پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چند افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی تحریک لبیک کے اموات سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے کیونکہ مریدکے اور اُس کے اطراف میں موبائل سروس بند ہے جبکہ حکام اس بابت ردعمل دینے سے گریزاں ہیں۔

    تاہم تحریک لبیک کے آفیشل اکاؤنٹس پر شیئر کردہ ویڈیوز میں شیلنگ اور گولیاں چلائے جانے کی آوازیں سُنی جا سکتی ہیں، البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ گولیاں کس جانب سے چلائی جا رہی ہیں۔

    تحریک لبیک کے ترجمان عرفان رضا قادری کا کہنا ہے کہ ’غزہ مارچ‘ میں شامل افراد فجر کی نماز کی ادائیگی کے لیے تیاری کر رہے تھے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر اُن پر فائرنگ شروع کر دی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس سے قطع نظر ہوا کہ مارچ کے شرکا پرامن تھے اور قیادت کی طرف سے مارچ کے شرکا کو اپنا سفر جاری رکھنے کی ہدایات بھی نہیں دی گئی تھی۔

    ٹی ایل پی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ اس آپریشن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکار بھی مریدکے میں تعینات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جس کنٹینر پر پارٹی قیادت سوار ہے اس پر براہ راست شیلنگ کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب مظاہرین کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مریدکے میں تعینات ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ اور غلیلوں میں پتھروں کی مدد سے حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے جا رہے ہیں تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس قیادت کی طرف سے گولی چلانے کا حکم ہی نہیں ہے۔

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پولیس کو واضح ہدایات ہیں کہ مظاہرین کے مارچ کو مریدکے سے آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اتوار کے روز پنجاب کے پانچ اضلاع سے پولیس کے دستوں کو مریدکے پہنچایا گیا تھا جبکہ اسلام آباد پولیس کے مطابق 500 اہلکاروں پر مشتمل پولیس کے جوانوں کا دستہ بھی اتوار کو مریدکے پہنچا تھا۔

    اتنی بڑی تعداد میں اہلکاروں کو مریدکے پہنچائے جانے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ مظاہرین کو مزید آگے نہیں بڑھنا دیا جائے گا اور انھیں منتشر کرنے کے لیے آپریشن متوقع ہے۔

  11. ’میں جنگیں ختم کرنے میں ماہر ہوں، میں نے یہ نوبیل کے لیے نہیں بلکہ زندگیاں بچانے کے لیے کیا‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے لیے ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ’غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے‘ اور جنگ بندی قائم رہے گی۔

    انھوں نے مزید کہا: ’میں جنگیں ختم کرنے میں ماہر ہوں، اور امن قائم کرنے میں بھی ماہر ہوں۔‘

    ٹرمپ نے بتایا کہ ان کے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ساتھ ’بہت اچھے تعلقات‘ ہیں، جنھیں انھوں نے ’جنگی دور کا صدرِاعظم‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا ’انھوں نے بہت اچھا کام کیا۔ میرے ان سے کچھ اختلافات ضرور تھے لیکن وہ جلد ہی حل ہو گئے۔‘

    انھوں نے قطر کے حوالے سے کہا کہ ’قطر کو اب کچھ کریڈٹ ملنا چاہیے‘۔ یاد رہے کہ 2017 میں انھوں نے قطر پر دہشتگردی سے تعلقات کا الزام لگایا تھا۔ اب انھوں نے کہا: ’قطر نے جس طرح ہماری مدد کی، وہ شاندار تھا۔‘

    ٹرمپ، جو بارہا نوبیل امن انعام میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، نے غزہ تنازع کو اپنی ’آٹھویں جنگ جسے میں نے حل کیا‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا: ’میں نے یہ نوبیل کے لیے نہیں کیا، بلکہ زندگیاں بچانے کے لیے کیا۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کے بارے میں علم ہے، مگر ’اسے میں واپس آ کر دیکھوں گا۔‘

  12. دو سالہ جنگ کے بعد ایک نازک لمحہ: 48 یرغمالیوں اور 250 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع

    اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ آج ایک نازک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

    حماس کے زیرِ قبضہ 48 مغویوں کو آج دوپہر مقامی وقت کے مطابق (09:00 جی ایم ٹی) تک رہا کیا جانا ہے۔

    ان میں سے 20 افراد کے زندہ ہونے کا امکان ہے، جنھیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جائے گی اور بعد میں ان کے اہلِ خانہ سے ملایا جائے گا۔ باقی 28 افراد کی لاشیں واپس کی جائیں گی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے بعد اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ، اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے اور پھر مصری تفریحی مقام شرم الشیخ جائیں گے، جہاں وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے حوالے سے ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ اس اجلاس میں کم از کم 20 عالمی رہنما شریک ہوں گے۔

    اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اتوار کو کہا کہ اسرائیلی عوام کی بڑی تعداد ٹرمپ کا استقبال ’شکرگزاری اور دوستی کے جذبے کے ساتھ‘ کرے گی۔ بہت سے اسرائیلی شہری اس جنگ بندی معاہدے کا کریڈٹ امریکی صدر کو دیتے ہیں۔

    مغویوں کی واپسی کے بدلے میں اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے 1700 سے زائد ایسے قیدی جن پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا، رہا کیے جائیں گے۔ ان میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب، امدادی سامان سے بھرے ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی کارروائی کے باعث جن فلسطینیوں کو جنوب کی طرف بےدخل کیا گیا تھا، وہ واپس شمالی غزہ جا رہے ہیں۔ تاہم، وہاں پہنچنے پر وہ تباہی کے مناظر دیکھ رہے ہیں کیونکہ غزہ شہر ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔

  13. برطانوی وزیراعظم غزہ امن منصوبے کے اجلاس میں شرکت کے لیے مصر پہنچ گئے

    برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر آج مصر میں ہونے والے غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مصر پہنچ گئے ہیں۔

    سٹارمر چند اُن عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جو ساحلی شہر شرم الشیخ میں اس اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے گے، جس میں غزہ تنازعے کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوگی۔

    اس سے قبل ڈاوننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرِاعظم اجلاس میں اہم علاقائی ثالثوں مصر، قطر اور ترکی کا شکریہ بھی ادا کریں گے۔

    وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی خصوصی خراجِ تحسین پیش کریں گے جو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ اس اجلاس کی مشترکہ میزبانی کر رہے ہیں۔

  14. مصر میں ہونے والے ’غزہ امن سربراہی اجلاس‘ میں کون کون شرکت کرے گا؟

    مصر کے جنوبی شہر شرم الشیخ میں آج یعنی پیر کے روز ہونے والے غزہ امن سربراہی اجلاس کی تیاریوں جاری ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی ان مذاکرات کی میزبانی کریں گے، تاہم اُن کے ساتھ ساتھ ان مذاکرات میں اور کون سے عالمی رہنما اس میں شرکت کریں گے۔

    شرکت کرنے والے رہنماؤں میں برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی اور ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز شامل ہیں۔

    تاہم پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج یعنی پیر کے روز مصر کا دورہ کریں گے اور غزہ کی سنگین صورتحال کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

    ادارے کی جانب سے مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بھی اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔

    اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ بھی اس اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    انھیں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مدعو کیا ہے جو اس اجلاس کی میزبانی شرم الشیخ شہر میں کر رہے ہیں۔

  15. غزہ شہر میں پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک: ’وہ اسرائیلی فوج سے نہیں اپنے ہی لوگوں سے بھاگ رہے تھے‘

    غزہ شہر میں حماس کی سکیورٹی فورسز اور دغمش قبائل کے مسلح جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں اس علاقے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اختتام کے بعد سے ہونے والے سب سے پرتشدد تصادم میں شمار کی جا رہی ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق حماس کے نقاب پوش جنگجوؤں کا جنوبی غزہ شہر میں اردن کے زیرِ انتظام چلنے والے ہسپتال کے قریب عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق سکیورٹی یونٹس نے شہر کے اندر ایک مسلح ملیشیا کو گھیرے میں لے لیا اور اس کے ارکان کو گرفتار کرنے کے لیے بھر پور کوشش کی۔ تاہم وزارت کے مطابق سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار اس کوشش کے دوران ہلاک ہوئے۔

    مقامی طبی ذرائع کے مطابق سنیچر کے روز شروع ہونے والی اس لڑائی میں دغمش قبیلے کے 19 ارکان اور حماس کے آٹھ جنگجو ہلاک ہوئے۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ جھڑپیں تل الحوا کے مقام پر اُس وقت شروع ہوئیں کہ جب حماس کے 300 سے زائد جنگجوؤں نے ایک رہائشی عمارت پر حملہ کیا جہاں دغمش قبیلے کے مسلح افراد مورچہ زن تھے۔

    رہائشیوں نے بتایا کہ شدید فائرنگ کے دوران درجنوں خاندان خوف و ہراس میں اپنے گھروں سے فرار ہو گئے، جن میں سے بہت سے پہلے ہی جنگ کے دوران کئی بار بے گھر ہو چکے تھے۔

    ایک رہائشی نے کہا کہ ’اس بار لوگ اسرائیلی حملوں سے نہیں بھاگ رہے تھے، وہ اپنے ہی لوگوں سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔‘

    واضح رہے کہ دغمش قبیلہ غزہ شہر کا ایک بااثر اور مسلح قبیلہ ہے، جو اپنی خودمختاری اور طاقت کے لیے مشہور ہے۔ اس قبیلے کے کچھ افراد مختلف مسلح گروہوں، بشمول حماس اور القاعدہ سے منسلک تنظیموں، سے وابستہ رہے ہیں۔ دغمش قبیلے کا ماضی میں غزہ میں حماس کی حکومت کے ساتھ متعدد بار تصادم بھی ہو چکا ہے، خاص طور پر کنٹرول اور اثر و رسوخ کے معاملات پر۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ داخلہ نے کہا کہ ان کی فورسز ’علاقے میں نظم و ضبط بحال کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہیں اور خبردار کیا کہ کسی بھی مسلح سرگرمی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    فریقین نے ایک دوسرے پر جھڑپوں کے آغاز کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

  16. ہمارا مقصد ابھی حاصل نہیں ہوا لیکن یرغمالیوں کی رہائی ایک تاریخی کامیابی ہوگی: نتن یاہو

    اسرائیلی وزیاعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی ایک حالیہ تقریر کا آغاز اس بیان سے کیا کہ ’یرغمالیوں کی رہائی ایک تاریخی واقعہ ہے اور ہماری اس کامیابی کا کُچھ لوگوں کو یقین ہیں نہیں تھا وہ یہ سوچ رہے تھے کہ ہم کبھی بھی اپنے لوگوں کو واپس لانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘

    یرغمالیوں کے خاندانوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم آپ کے پیاروں کو واپس لائیں گے۔‘

    انھوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے درمیان ’بہت سے اختلافات موجود ہیں۔‘ لیکن انھوں نے یہ اُمید بھی ظاہر کی کہ اسرائیل کے عوام مستقبل میں ’ان اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جہاں جہاں ہم نے جدو جہد کی دشمن کے خلاف لڑائی کی وہاں وہاں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی۔‘ لیکن انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’ہمارا مقصد ابھی حاصل نہیں ہوا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ آگے اسرائیل کو ’بہت بڑے سکیورٹی چیلنجز‘کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    نیتن یاہو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ نے یرغمالیوں کے خاندانوں سے کئی بار ملاقات کی اور انھوں نے ان کے ’انتظار اور درد‘ کو قریب سے محسوس کیا۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم نے اپنی مختصر تقریر کا اختتام ملک کے ان شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا ’جو اس مُشکل وقت میں اُن کے ساتھ کھڑے رہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پیر کے روز ایک نئے دن کا آغاز ہوگا اور وہ دن ہم سب کے لیے بے انتہا خوشی اور اطمینان کا باعث ہوگا۔‘

  17. ٹرمپ کی مشرق وسطی کے دورے کی تیاری، اسرائیل کو پیر کی صبح تک تمام یرغمالیوں کی رہائی کی توقع

    اسرائیل توقع کر رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مشرق وسطی کے دورے دوران پیر کی صبح تک حماس کی حراست میں یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

    جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل نے عمر قید کی سزا کا سامنے کرنے والے 250 فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ساتھ غزہ سے 1,722 زیرِ حراست افراد کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے جنھیں 7 اکتوبر 2023 کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی جیل سروس نے کہا تھا کہ اس نے قیدیوں کو اوفر اور کیٹزیوٹ جیلوں میں منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ جیل حکام کے مطابق ’ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ قیدیوں کو کب رہا کیا جائے گا، لیکن یہ غزہ میں حماس کے زیر حراست 48 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد ہوگا۔

    اسرائیل کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے اہل خانہ کو بلایا گیا ہے اور جشن منانے کے خلاف متنبہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی فلاح و بہبود کی نگرانی کرنے والے کمیشن کے سربراہ رائد ابو الحموس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ فہرست میں شامل کچھ ناموں پر حیران ہیں۔

    ابو الحموس کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ کچھ کو تین اور چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست کی سزا سنائی گئی ہے۔

  18. فیض حمید، قمر باجوہ اور عمران خان نے افغانستان سے چار سے پانچ ہزار ’بندوں‘ کو پاکستان میں بسایا: وزیر دفاع خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید اور عمران خان افغانستان سے چار سے پانچ ہزار بندے لے کر آئے۔ ان کے مطابق اس کے بعد دو سال تک ان لوگوں کی سہولت کاری کی جاتی رہی ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ ’قومی اسمبلی میں سوالات ہوئے کہ آپ نے کن لوگوں کو لا کر بسا دیا ہے، یہ تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے سوات میں قتل عام کیا ہے اور انھیں ’سوات کے قصائی‘ کہا جاتا ہے۔‘

    خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں اس خطے میں ’جو جنگیں ہم نے لڑی ہیں، ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بنتا تھا۔ ہم ان کے بغیر بھی رہ سکتے تھے۔ ہم ان میں کود پڑے اور آج ان کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو باقاعدہ ضابطے میں لانا ہوگا کیونکہ یہاں سے شدت پسند، جرائم پیشہ اور ڈرگ سمگلر بھی آ جاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ غیرقانونی مقیم افغانوں کو اب واپس چلے جانا چاہیے۔

    خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے مذاکرات سے متعلق تجویز پر کہا کہ ’ایک صوبے کو وفاق کے ساتھ اپنی پالیسی میں مطابقت لانا ہو گی۔‘

  19. ہمیں گذشتہ روز مارچ روکنے کا کہا گیا مگر 24 گھنٹے بعد بھی مذاکرات کے لیے کوئی نہیں آیا: سعد رضوی کا شکوہ

    پاکستان تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی نے کہا ہے کہ انھیں کل حکومت کی طرف سے احتجاجی مارچ روکنے کا کہا گیا مگر 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا اور ابھی تک کوئی مذاکرات کے لیے واپس نہیں آیا ہے۔

    ان کے مطابق ’کچھ شخصیات نے اپنے طور پر رابطہ کیا ہے مگر حکومت کی جانب سے انھیں کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔‘

    سعد رضوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’مفتی منیب الرحمان ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور انہوں نے ہمیں مارچ ختم کرنے کو کہا تھا لیکن ہر کام کا اور معاملہ ختم کرنے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، اس بارے میں حکومت کی طرف سے ہم سے ایسی بات کہی گئی جوکہ ہمیں ناقابل قبول تھی۔‘

    ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کے لیے کھلے ہیں۔‘

    سعد رضوی نے کہا کہ ’ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے بلکہ ہم فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مارچ کرنا چاہتے ہیں اور یہ بالکل اس طرح کا ہی احتجاجی مارچ ہے جس طرح آسٹریلیا اور سوئٹرز لینڈ کے دارلحکومتوں میں ہوا ہے۔‘

    احتجاجی مارچ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم پرامن ہیں اور پرعزم ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے لوگوں کو مارا گیا ہے اور زخمی کیا گیا ہے جبکہ نو لوگوں کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ مارچ ختم کر کے واپس آ جائیں۔‘

    سعد رضوی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ’آپ کے اقدامات یہ بتاتے ہیں کہ آپ اسرائیل کو تسلم کر چکے ہیں، وعدے وعید کر چکے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اب ’آپ اسرائیل کے خلاف مضبوط آواز کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘ سعد رضوی نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کے حق سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔

    انھوں نے دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس اس احتجاجی مارچ کے لیے تحریری اجازت نامہ تک موجود ہے۔

  20. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سنیچر کی شب افغان فورسز اور شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد مارے گئے ہیں جبکہ 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
    • اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مصدقہ انٹیلی جنس اندازوں اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زیادہ طالبان اور اس سے منسلک شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
    • افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے افغانستان پر مختلف حملوں کے جواب میں کی گئی کارروائیوں میں پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوئے ہیں۔
    • پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد چمن میں واقع بابِ دوستی کو آمدورفت کے لیے تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔