آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹی ایل پی کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں، ریاست جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی: طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں اور یہ ریاستِ پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ’جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘ ادھر پنجاب پولیس نے لاہور میں واقع تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کے گھر چھاپے میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کرنسی، پرائز بانڈز، سونا اور چاندی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • ’گورنر خیبر پختونخوا کل شام چار بجے تک نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لیں‘: پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
  • فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے: شاہ عبداللہ
  • پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات پر دوسروں کے مشوروں کی ضرورت نہیں: دفترِ خارجہ کا افغان طالبان کے ٹی ایل پی سے متعلق بیان پر ردِعمل
  • ڈونلڈ ٹرمپ نوبل انعام کے اصل حقدار ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف
  • ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن معاہدے پر دستخط: ’سب لوگ خوش ہیں‘

لائیو کوریج

  1. ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی میں مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں پر افغانستان کا تعزیتی پیغام

    افغانستان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی میں مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں پر اپنی حکومت کے جانب سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو معاملات بات چیت سے حل کرنے کو کہا ہے۔

    سماجی رابطی کی سائٹ ایک سپر ایک بیان میں ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا کہ ’پاکستان میں تحریک لبیک پارٹی کی طرف سے قانونی فریم ورک کے مطابق قانونی احتجاج کے خلاف مظاہرین پر براہ راست فائرنگ اور پرتشدد حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں شہریوں کو کافی جانی اور مالی نقصان ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اس طرح کے تشدد اور معصوم شہریوں کے جانی نقصان پر گہرا دکھ ہے۔‘

    انھوں نے مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

    افغان نے کہا کہ ’ہم پاکستانی حکومت اور اس کے حکمران حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے عوام کے خلاف تشدد کی مزید کارروائیوں کو بند کریں اور بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کریں۔ ‘

  2. ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن معاہدے پر دستخط: ’سب لوگ خوش ہیں‘

    شرم الشیخ میں اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت ثالث ممالک جیسے قطر، ترکی اور مصر نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    امریکی صدر نے قطر، ترکی اور مصر کا شکریہ ادا کیا جن کے رہنماؤں نے ان کے بقول جنگ بندی میں ثالثی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ممالک ’دنیا کے سب سے طاقتور ملکوں میں سے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم معاہدے پر دستخط کریں گے اور اس کے بعد تقاریر کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ پیچھے رہیں گے تاکہ میڈیا کی غیر موجودگی میں رہنماؤں سے بات کر سکیں۔

    ٹرمپ نے ایک موقع پر کہا کہ ’کیا ہمیں دستاویزات دے سکتے ہیں، پلیز؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس لمحے تک پہنچنے میں ہمیں 3000 سال لگے۔ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں؟ اور یہ دیر پا ہوگا۔‘

    یہ فولڈر پھر مصری صدر السیسی کو دیا گیا جنھوں نے ٹرمپ کے بعد دستخط کیے۔

    ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران کہا کہ ’سب لوگ خوش ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ماضی میں بھی کئی معاہدے کیے ہیں مگر ’یہ راکٹ شِپ کی طرح اوپر گیا ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں یہ پیشگوئیاں کی گئیں کہ تیسری عالمی جنگ مشرق وسطیٰ میں شروع ہو گی مگر ان کا خیال ہے کہ ’ایسا نہیں ہوگا۔‘

    شرم الشیخ میں اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں نے ایک ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

  3. غزہ کے مستقبل پر مصر میں عالمی رہنماؤں کا اجلاس اور ٹرمپ کی السیسی سے ملاقات: ’امن معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع‘

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی ملاقات ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ دیرپا امن کے لیے السیسی کو اعتماد میں لیں گے۔ صدر السیسی نے کہا کہ وہ امن کی خاطر ہمیشہ دستیاب رہیں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ مصر نے اس حوالے سے بہت شاندار کام کیا ہے۔

    ایک مترجم کے ذریعے بات کرتے ہوئے مصر کے صدر نے ’امن کے شہر‘ میں مندوبین کا خیرمقدم کیا اور جنگ بندی کے معاہدے کو ’بے مثال کامیابی‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی صدر غزہ میں جنگ کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہ نصف صدی میں دنیا کے امن کے لیے بہت اہم دن ہے۔‘

    فتح السیسی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کی باقی تمام لاشوں کو اسرائیل واپس لانے کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی شرم الشیخ میں امن کانفرنس کا افتتاح کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امن معاہدے پر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ کب شروع ہوگا تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’یہ شروع ہو گیا ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’تمام مراحل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے ہیں‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ غزہ میں بہت زیادہ ’صفائی‘ کی ضرورت ہے۔

  4. حماس کی قید سے رہائی پانے والے 20 اسرائیلی یرغمالی گھروں کو روانہ

    حماس نے آج اسرائیل کے 20 زندہ یرغمالی رہا کر دیے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے آج واپس بھیجے گئے تمام 20 زندہ یرغمالیوں کو طبی معائنے کے لیے اسرائیلی ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام 20 یرغمالیوں کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال لایا گیا تھا۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے یرغمالیوں کا ابتدائی طبی جائزہ لیا گیا ہے ، اور اب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ مل جائیں گے اور اب ان کی مسلسل طبی دیکھ بھال ممکن ہو سکے گی۔

  5. مصر میں عالمی رہنماؤں کا اجلاس، ٹرمپ بھی شرم الشیخ پہنچ گئے

    مصر کے شہر شرم الشیخ میں 20 سے زائد عالمی رہنما جمع ہو رہے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ بھی جلد اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اس وقت صدر ٹرمپ مصر پہنچ چکے ہیں۔

    پاکستانی کے وزیر اعظم شہباز شریف، برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر، فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سمیت متعدد رہنما مصر میں موجود ہیں۔

    ٹرمپ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات کی قیادت کریں گے کیونکہ اس گروپ کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کے معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔

    حماس نے ابھی تک ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تمام حصوں پر اتفاق نہیں کیا ہے اگرچہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا عمل درآمد ہو چکا ہے۔

  6. اسرائیلی جیلوں سے 1968 فلسطینی قیدی رہا

    اسرائیلی جیل سروس کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اسرائیلی حراست سے 1968 فلسطینی قیدیوں اور قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

    حماس کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے فلسطینیوں کو اس وقت غزہ میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ تقریباً دو ہزار کے قریب فلسطینی قیدیوں کو آج رہائی ملی ہے۔

    انھیں دو گروپوں میں رہا کیا گیا۔ ایک کو اوفر جیل سے مقبوضہ مغربی کنارے کے دیگر حصوں میں منتقل کر دیا گیا۔

    دوسرے گروہ کو کیتزیوٹ جیل سے جنوبی اسرائیل میں واقع کریم شالوم منتقل کیا گیا تھا جو غزہ میں داخل ہونے والے سرحدی راستوں میں سے ایک ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو اسرائیلی جیل کے افسران پولیس کی مدد سے اپنے ساتھ لے گئے۔

  7. ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے ایک گھنٹے کے اپنے طویل خطاب میں کیا کہا؟

    صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے ایک گھنٹے سے زائد طویل خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی خوب تعریفیں کیں اور امریکہ کے اسرائیل سے تعلقات کا خصوصی ذکر کیا۔

    • پارلیمنٹ میں نتن یاہو کی عرفیت ’بی بی‘ کی بھی گونج سنائی دی۔
    • ٹرمپ کے خطاب میں صرف ایک بار کچھ دیر کا تعطل آیا جب ایک اپوزیشن کے رکن نے ایک کاغذ لہرا جس پر یہ مطالبہ درج تھا کہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرو۔
    • ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’بی بی اب آپ حالت جنگ میں نہیں ہیں۔‘ سات اکتوبر 2023 کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اسے نہیں بھلایا جا سکتا اور اب یہ دوبارہ کھبی نہیں ہو گا۔‘
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نتن یاہو سے اپنی فون کالز کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کیسے وہ مزید ہتھیاروں کا مطالبہ کر رہے تھے۔’وہ اتنے زیادہ کہ جس سے اسرائیل مضبوط اور طاقتور ہو گیا۔۔۔ یہی وہ چیز ہے جو امن کا باعث بنی۔‘
    • ٹرمپ نے کہا کہ ’اسرائیل نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو وہ کر سکتے تھے‘ اور ’اب یہ امن کا وقت ہے، پورے مشرق وسطی کے لیے‘ امن کا وقت ہے۔
    • ان کے خطاب میں اس وقت اراکین پارلیمنٹ نے تالیاں بجائیں جب انھوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا۔ بی بی سی کے نمائندے ٹام بیٹ مین کے مطابق ابھی تک اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں کہ یہ سب کیسے ہوگا۔
    • صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے صدر سے یہ بھی کہا کہ وہ نتن یاہو کو مسقبل کے بھی کسی بدعنوانی کے مقدمے میں استثنیٰ دے دیں۔
    • انھوں نے ارکان پارلیمنٹ سے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’میں اسرائیل سے محبت کرتا ہوں اور میں ہر حال میں آپ کے ساتھ ہوں۔‘
  8. ’فلسطین کو تسلیم کرو،‘ ٹرمپ کے خطاب کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ میں احتجاج کرنے والے رکن کو اجلاس سے باہر نکال دیا گیا, ٹام بیٹ مین، یروشلم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران اپوزیشن کے رکن کو احتجاج کرنے پر باہر نکال دیا ہے۔ اس رکن کے احتجاج کی وجہ سے ٹرمپ کے خطاب میں کچھ دیر تعطل آیا۔

    رکن اسبملی نے اپنے ہاتھ میں پلے کارڈ یا کاغذ اٹھا رکھا تھا جس پر درج تھا کہ فلسطین کو تسلیم کرو۔

    سپیکر امیر اوہانا نے احتجاج کرنے والے رکن کو باہر نکالنے کا حکم دیا جس پر سکیورٹی عملے نے انھیں فوری باہر نکال دیا۔

    بائیں بازو sے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی کا نام سپیکر نے اوف کاسف پکارا۔ کچھ خبروں کے مطابق اسمبلی سے دو اراکین کو باہر نکالا گیا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنا خطاب دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بہت مستعدی سے کیا گیا ہے۔

  9. یہ نئے مشرق وسطیٰ کی ’ایک تاریخی سحر‘ ہے: ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا شکریہ ادا کیا اور انھیں ’بہت نڈر اور دلیر شخص قرار‘ دیا۔

    وہاں اسرائیلی وزیر اعظم کے عرفی نام ’بی بی‘ کی بھی گونج سننے کو آئی۔

    صدر ٹرمپ نے ان عرب ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے مذاکرات میں مدد دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت عظیم فتح ہے اور انھوں نے مل کر کام کیا ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ اسرائیل کا سنہری دور ہے اور اس پورے خطے کا بھی سنہری دور ہے۔

  10. ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب، ’ہم بہت خوشی اور امید والے دن جمع ہوئے ہیں‘

    اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب کے آغاز پر پارلیمنٹ کے بارے میں تبصرہ کیا کہ یہ ’اچھی جگہ ہے، واقعی اچھی جگہ‘ ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایک بہت خوشی والے دن اور امید والے دن اکھٹے ہوئے ہیں‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’اندھیرے اور قید میں گزرے دو تکلیف دہ سالوں کے بعد 20 بہادر یرغمالی اپنے اہل خانہ کی شاندار آغوش میں واپس آ رہے ہیں۔

    مردہ یرغمالیوں کے بارے میں کہا کہ ’اٹھائیس اور قیمتی پیارے آخر کار اس مقدس مٹی میں ہمیشہ کے لئے آرام کرنے کے لیے واپس گھر آ رہے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ جنگ بند ہو گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ خطہ اب ’امن‘ میں ہے اور امید ہے کہ ’ہمیشہ کے لیے‘ ایسا ہی رہے گا۔

  11. ٹرمپ اسرائیل کو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں مدد دے سکتے ہیں: نتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’جنوری میں ہونے والے مختصر جنگ بندی کے معاہدہ صدر ٹرمپ کی وجہ سے ممکن ہو سکا تھا جس کے نتیجے میں کچھ یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

    نتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ٹرمپ کی قیادت اسرائیل کو مزید عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں مدد دے گی، کیونکہ ان کا اصرار ہے کہ اسرائیل مستقبل کے خطرات کے خلاف ’مستعد‘ رہے گا۔

  12. سہیل آفریدی کی وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بعد پہلی تقریر: ’احتجاجی سیاست کا چیمپیئن ہوں، میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں‘

    صوبہ خیبر پختونخوا کے نئے منتخب وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ احتجاجی سیاست کے ’چیمپیئن‘ ہیں اور ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

    صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بعد انھوں نے اپنی پہلی تقریر کا آغاز اس شعر سے کیا کہ ’نہیں مروں گا، اب کسی جنگ میں یہ سوچ لیا۔ میں اب کی بار عشق عمران میں مارا جاؤں گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جس طرح عمران خان نے پوری قوم کو شعور دیا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خیبرپختونخوا ’عمران خان کا ہے اور یہاں پر صرف عمران خان کی ہی چلے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کی قوم، اوورسیز پاکستانیوں اور تحریک انصاف کے کارکنان کو یقین دلاتا ہوں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ’میں نے آج سے ہی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔‘

    انھوں نے پاکستانی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا نام لیے بغیر کہا کہ ’مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میرے نام کے ساتھ آفریدی ہونے کی وجہ سے جس دن میں وزیراعلی کے لیے نامزد ہوا، پریس کانفرنسز کی گئیں۔ یہ قبائیلیوں کی تزلیل ہے۔‘

    ’یہ سمجھتے ہیں کہ قبائل صرف مرنے کے لیے، پیچھے رہنے کے لیے ہیں۔ یہ کبھی مین سٹریم میں نہیں آ سکتے۔ ان کے حقوق ان کے وسائل پر انھوں نے قبضہ رکھنا ہے۔ اس ذہنیت سے اٹھتر سال سے قبائل کا حشر نشر کر رکھا ہے۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ’ایکشن ان ایڈ سول پاور‘ کے قانون کو ختم کیا جائے گا۔

    منتخب وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’میں احتجاجی سیاست کا چیمپیئن ہوں۔ میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ گاڑیاں ہیں نہ بنگلے اور نہ اس کرسی کا لالچ۔ جس دن میرے لیڈر نے کہا تو کرسی کو لات مار دوں گا۔‘

    ’کوئی یہ نہ سوچے کہ آج میں اس منصب پر آ گیا ہوں۔۔۔ تو میں اپنے مقصد سے ہٹ جاؤں گا، یہ آپ کی بھول ہے۔ جیسا میں تھا ویسے ہی رہوں گا۔‘

    سہیل آفریدی نے منتبہ کیا کہ اگر عمران خان کو خاندان اور سیاسی جماعت کی مشاورت کے بغیر اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کیا گیا تو ’پورا پاکستان جام کر دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ملٹری آپریشن کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ ’دنیا مذاکرات کی طرف جا رہی ہے، ادھر ہمارے والے پریس کانفرنس کر کے کہتے ہیں ہم نے 14 ہزار انٹیلیجنس آپریشن کیے ہیں مگر دہشتگردی ویسی کی ویسی ہے۔ آج بھی میرے لوگ شہید ہو رہے ہیں تو ایسے آپریشن کا کیا فائدہ؟‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی لوگوں کو اعتماد میں لینا ہوگا اور افغان پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ’ملٹری اسٹیبشلمنٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ افغان پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت اور یہاں کے عوام، مقامی نمائندوں اور قبائلی مشران کو اعتماد میں لیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو کٹہرے میں لائیں گے جو ڈرون حملوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کو کالعدم قرار دیے جانے اور ان کے رہنماؤں کو فورتھ شیڈول پر ڈالنے کے خلاف نظر ثانی کا مطالبہ کریں گے۔

    دیں اثنا انھوں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف مریدکے میں پولیس آپریشن کی مذمت کی۔

    علی امین گنڈاپور کی تقریر: ’ثابت کرنے کا موقع کا کرسی بڑی ہے یا لیڈر کا حکم‘

    اس سے قبل سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی رہنمائی میں یہ جنگ جاری رہے گا۔

    صوبائی اسمبلی سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی شک ہے تو میں پھر فخر کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ اللہ نے مجھے یہ موقع دیا کہ جب مجھ پر یہ وقت آیا کہ جہاں ثابت ہونا تھا کہ کُرسی بڑی ہے یا اپنے لیڈر کا حکم بڑا ہے، اللہ نے مجھے کامیاب کیا۔ وفاداری اور عزت ہمیں اسلام اور آباؤ اجداد نے بتائی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جس دن 8 اکتوبر کو عمران خان نے حکم دیا میں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔‘

    سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’تاخیری حربے استعمال نہ کیے جائیں۔ ہماری پارٹی، ہماری مرضی، ہمارا فیصلہ، ہماری اکثریت، ہمارا لیڈر اور اس کی مرضی۔‘

  13. ٹرمپ اب تک وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے سب سے عظیم دوست ہیں، ان کا نام تاریخ میں رقم ہوگا: نتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے گذشتہ برسوں میں اسرائیل کی حمایت اور موسم گرما کے اوائل میں ایران کے ساتھ 12 روزہ تنازع کے دوران کیے گئے ’جرات مندانہ فیصلوں‘ پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

    جون میں امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔ نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کی ریاست کے اب تک کے سب سے بڑے دوست ہیں۔‘

    نتن یاہو نے ٹرمپ کی امن تجویز کو امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’میں اس امن کے لیے پرعزم ہوں، آپ اس امن کے لیے پرعزم ہیں اور ہم مل کر یہ امن حاصل کریں گے‘

    نین یاہو نے کنیسٹ یعنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کیا۔

    ٹرمپ کے کنیسٹ سے خطاب کرنے سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کو چند الفاظ کہنے کی دعوت دی گئی ہے۔

    نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’یہ دن تاریخ میں رقم ہوگا، ٹرمپ بپی ہماری قوم اور دنیا کی تاریخ میں رقم ہو جائیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس لمحے کا بہت طویل انتظار کیا ہے اور میں پوری قوم کی طرف سے ذاتی طور پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘

    اپنے خطاب میں نتن یاہو نے ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’آج یہودی کیلنڈر جنگ کے دو سال کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے۔‘

    انھوں نے ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سے کچھ کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ ان ہیروز کی وجہ سے ہماری قوم زندہ رہے گی۔ پھلتے پھولتی رہے گا اور ان کی بدولت امن قائم ہوگا۔‘

  14. حماس کی حراست سے رہا ہونے والے یرغمالیوں کی تصاویر

    حماس کی حراست سے رہا ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کو بس کے ذریعے رملہ پہنچایا جا رہا ہے۔

    مغربی کنارے میں ان یرغمالیوں کا استقبال ان کے دوست اور رشتہ دار کر رہے ہیں۔

  15. صدر ٹرمپ اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کے لیے پہنچ گئے

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خطاب کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ پہنچ چکے ہیں۔ ان کے وفد کا اسرائیلی اراکین پارلیمان نے تالیاں بجا کر استقبال کیا۔

    امریکی صدر نے بھی کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔

  16. تحریک لبیک کا احتجاج: لاہور میں وکلا اور پولیس آمنے سامنے، کراچی میں پتھراؤ کے الزام میں پانچ افراد گرفتار

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مرید کے میں تحریک لبیک کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے خلاف کراچی اور لاہور میں مظاہرے ہوئے۔

    لاہور میں تحریکِ لبیک کی ریلی کے شرکا پر شیلنگ کے خلاف لاہور کی ضلعی عدالتوں میں احتجاج کیا گیا۔

    وکلا کے ایک دھڑے نے نہ صرف حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف نعرے بازی کی بلکہ ضلعی عدالتوں میں ملزمان کو پیشی کے لیے لانے والے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

    وکلا کی جانب سے تشدد کے بعد ضلع کچہری میں موجود پولیس اہلکار وہاں سے نکل گئے۔

    دوسری جانب، کراچی کے علاقے نیو کراچی کے مختلف مقامات پر احتجاج اور پھراؤ کرنے کے الزام میں پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کا کہنا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو شیلنگ کر کے منتشر کر دیا۔

    ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کا کہنا ہے کہ نیو کراچی سندھ ہوٹل اور فورکے چورنگی کے اطراف میں صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور ٹریفک بحال کردی گئی ہے۔

    عرفان علی بلوچ کا کہنا ہے کہ پھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ کرنے کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات ہے۔

  17. حماس نے مزید 13 یرغمالیوں کو رہا کر دیا: اسرائیلی میڈیا

    اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ میں قید مزید 13 یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے اور وہ اسرائیل واہس جا رہے ہیں۔

    اس قبل اسرائیلی فوج نے صبح رہائی پانے والے کچھ یرغمالیوں کی تصاویر شائع کی تھی۔

  18. تحریک لبیک کا احتجاج: اسلام آباد-لاہور موٹر وے فیض پور، کالا شاہ اور بابو صابو کے مقام پر بند

    موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے احتجاج کے باعث ایم ٹو موٹر وے جو کہ اسلام آباد سے لاہور تک ہے، کوٹ مومن انٹرچینج کے مقام تک کھلی ہوئی ہے۔

    موٹر وے پولیس کے ترجمان یاسر محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے احتجاج کے دوران کچھ مظاہرین فیض پور انٹرچینج، کالا شاہ کاکو انٹرچینج اور بابو صابو انٹر چینج پر آ گئے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے ان مقامات پر پتھراؤ کی اطلاعات کے بعد ان انٹرچینجز کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا ہے۔

    موٹر وے پولیس کے ترجمان کے مطابق ایم ون موٹر وے جو کہ پشاور سے اسلام آباد تک ہے کھلی ہوئی ہے تاہم فی الوقت اس پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ منع ہے۔

  19. یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کے اعتراف میں اسرائیل کا ٹرمپ کو اعلیٰ ترین سول اعزاز دینے کا اعلان

    حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔

    اب سے کچھ دیر قبل ان کا طیارہ تل ابیب کے مضافات میں واقع بن گوریون ایئر پورٹ پر لینڈ کیا ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز اسرائیلی صدارتی تمغہ دیا جائے گا۔

    ٹرمپ کو یہ ایوارڈ حماس کے زیر حراست 48 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔ ان میں سے 20 یرغمالیوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

    ہرزوگ آج پارلیمنٹ میں ٹرمپ کے ساتھ اپنی میٹنگ کے دوران انھیں اس بارے میں آگاہ کریں گے۔

    یہ تمغہ امریکی صدر کو آنے والے مہینوں میں پیش کیا جائے گا۔

  20. مرید کے کی تازہ ترین صورتحال: ’سڑکیں کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن چھوٹے موٹے مظاہرے اب بھی جاری ہیں‘

    مریدکے سے مقامی صحافی جہانزیب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر میں اس وقت بھی پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور سڑکیں کلیئر کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔

    ’لوگ اکٹھا ہونا شروع ہوتے ہیں تو انھیں منتشر کر دیتی ہے، ابھی تھوڑی دیر پہلے بھی 25 سے 30 لوگ سعد رضوی کے کنٹینر کے پاس اکٹھے ہوئے تھے لیکن پولیس نے آکر انھیں منتشر کیا، آنسو گیس کے شیلز بھی چلائے اور ایک آدھ ہوائی فائر بھی کیا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد لوگ جن میں علاقہ مکین اور ٹی ایل پی کے کارکنان شامل ہیں، گلیوں میں گھس گئے۔

    ’سڑکیں کھولنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے لیکن چھوٹے موٹے مظاہرے ابھی بھی چل رہے ہیں۔‘

    جہانزیب نے بتایا کہ وہ آپریشن کے مقام کے نزدیک واقع ایک ہسپتال گئے تھے لیکن ہسپتال کو پولیس نے پوری طرح سے گھیرا ہوا ہے اور کوریج کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    جہانزیب کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے قیدیوں کو لے جانے والی چار پانچ وینز دیکھی ہیں جن میں قیدی بھی نظر آ رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ آیا وہ ٹی ایل پی کے کارکنان تھے۔