صوبہ
خیبر پختونخوا کے نئے منتخب وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ احتجاجی سیاست
کے ’چیمپیئن‘ ہیں اور ان کے پاس کھونے کے
لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
صوبائی
اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بعد انھوں نے اپنی پہلی تقریر کا آغاز اس شعر
سے کیا کہ ’نہیں مروں گا، اب کسی جنگ میں یہ سوچ لیا۔ میں اب کی بار
عشق عمران میں مارا جاؤں گا۔‘
ان کا
کہنا تھا کہ جس طرح عمران خان نے پوری قوم کو شعور دیا تو میں آپ کو یقین
دلاتا ہوں کہ خیبرپختونخوا ’عمران خان کا ہے اور یہاں پر صرف عمران خان کی ہی چلے
گی۔‘
ان کا کہنا تھا
کہ میں پاکستان کی قوم،
اوورسیز پاکستانیوں اور تحریک انصاف کے کارکنان کو یقین دلاتا ہوں کہ عمران خان کی
رہائی کے لیے ’میں نے آج سے ہی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔‘
انھوں نے پاکستانی فوج کے ترجمان ڈی
جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا نام لیے بغیر کہا کہ ’مجھے
افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میرے نام کے ساتھ آفریدی ہونے کی وجہ سے جس دن میں
وزیراعلی کے لیے نامزد ہوا، پریس کانفرنسز کی گئیں۔ یہ قبائیلیوں کی تزلیل ہے۔‘
’یہ سمجھتے ہیں کہ قبائل صرف مرنے کے
لیے، پیچھے رہنے کے لیے ہیں۔ یہ کبھی مین سٹریم میں نہیں آ سکتے۔ ان کے حقوق ان کے
وسائل پر انھوں نے قبضہ رکھنا ہے۔ اس ذہنیت سے اٹھتر سال سے قبائل کا حشر نشر کر رکھا
ہے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کابینہ کے
پہلے اجلاس میں ’ایکشن ان
ایڈ سول پاور‘ کے قانون کو ختم کیا جائے گا۔
منتخب وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے
کہا کہ ’میں احتجاجی سیاست کا چیمپیئن ہوں۔ میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ
گاڑیاں ہیں نہ بنگلے اور نہ اس کرسی کا لالچ۔ جس دن میرے لیڈر نے کہا تو کرسی کو
لات مار دوں گا۔‘
’کوئی یہ نہ سوچے کہ آج میں اس منصب
پر آ گیا ہوں۔۔۔ تو میں اپنے مقصد سے ہٹ جاؤں گا، یہ آپ کی بھول ہے۔ جیسا میں تھا
ویسے ہی رہوں گا۔‘
سہیل آفریدی نے منتبہ کیا کہ اگر عمران
خان کو خاندان اور سیاسی جماعت کی مشاورت کے بغیر اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل
کیا گیا تو ’پورا پاکستان جام کر دیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ملٹری آپریشن کبھی
بھی مسئلے کا حل نہیں۔ ’دنیا مذاکرات کی طرف جا رہی ہے، ادھر ہمارے والے پریس
کانفرنس کر کے کہتے ہیں ہم نے 14 ہزار انٹیلیجنس آپریشن کیے ہیں مگر دہشتگردی ویسی
کی ویسی ہے۔ آج بھی میرے لوگ شہید ہو رہے ہیں تو ایسے آپریشن کا کیا فائدہ؟‘
سہیل
آفریدی نے کہا کہ قبائلی لوگوں کو اعتماد میں لینا ہوگا اور افغان پالیسی پر نظر
ثانی کرنا ہوگی۔ ’ملٹری اسٹیبشلمنٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ افغان پالیسی پر نظر
ثانی کریں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت اور یہاں کے عوام، مقامی نمائندوں اور قبائلی مشران
کو اعتماد میں لیں۔‘
انھوں
نے کہا کہ ایسے لوگوں کو کٹہرے میں لائیں گے جو ڈرون حملوں کے خلاف مظاہرہ کرنے
والوں پر فائرنگ کرتے ہیں۔
انھوں
نے کہا کہ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کو کالعدم قرار دیے جانے اور ان کے رہنماؤں کو
فورتھ شیڈول پر ڈالنے کے خلاف نظر ثانی کا مطالبہ کریں گے۔
دیں اثنا انھوں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف مریدکے میں پولیس آپریشن کی مذمت کی۔
علی
امین گنڈاپور کی تقریر: ’ثابت کرنے کا موقع کا کرسی بڑی ہے یا لیڈر کا حکم‘
اس سے
قبل سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو مبارکباد
پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی رہنمائی میں یہ
جنگ جاری رہے گا۔
صوبائی
اسمبلی سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی شک ہے تو میں پھر
فخر کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ اللہ نے مجھے یہ موقع دیا کہ جب مجھ پر یہ وقت
آیا کہ جہاں ثابت ہونا تھا کہ کُرسی بڑی ہے یا اپنے لیڈر کا حکم بڑا ہے، اللہ نے
مجھے کامیاب کیا۔ وفاداری اور عزت ہمیں اسلام اور آباؤ اجداد نے بتائی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا
کہ ’جس دن 8 اکتوبر کو عمران خان نے حکم دیا میں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔‘
سابق
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’تاخیری حربے استعمال نہ کیے جائیں۔ ہماری پارٹی، ہماری مرضی،
ہمارا فیصلہ، ہماری اکثریت، ہمارا لیڈر اور اس کی مرضی۔‘